اہل تشیع

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
بسم الله الرحمن الرحیم
170بك

مضامین بسلسلہ اہل تشیع:
اہل تشیع
کوئی جوان نہیں سوائے علی کے اور کوئی تلوار نہیں سوائے ذو الفقار کے

اہل تشیع یا شیعہ (عربی: شيعة) اسلام کا دوسرابڑا فرقہ ہے۔ اہل تشیع رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد فقط حضرت علی بن ابی طالب کی امامت کے قائل ہیں اور صرف انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جانشین اور پہلا معصوم امام مانتے ہیں۔ شیعہ یا اہل تشیع نظریہ خلافت کو تسلیم نہیں کرتے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعوت ذوالعشیرہ اور خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کو اپنا جانشین مقرر کر دیا تھا۔ دعوت ذوالعشیرہ کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ

"جو میری مدد کرے گا وہ میرا وزیر، میرا وصی اور خلیفہ ہوگا"۔[1][2][3]

تینوں دفعہ حضرت علی علیہ السلام کھڑے ہوئے اور کہا کہ

اگرچہ میں چھوٹا ہوں اور میری ٹانگیں کمزور ہیں مگر میں آپ کی مدد کروں گا۔

تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ

"اے علی تم دنیا اور آخرت میں میرے وزیر اور وصی ہو"۔
[1][2][4]

اس کے علاوہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے بعد غدیر خم کے علاقے میں ایک خطبہ میں فرمایا کہ
"جس کا میں مولا ہوں اس کے علی مولا ہیں"۔[5][6]

شیعہ کی آبادی کل مسلم آبادی کا 13-10 % فیصد ہے۔حوالہ درکار؟{مسلمانوں بلاخص اہل تشیع کی آبادی کے بارے میں کوئی یقینی اعداد و شمار میسر نہیں ہے ۔ مذکورہ اعداد و شمار موجودہ اکثر منابع کے مطابق ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں بعض دیگر اعداد و شمار اہل تشیع کی آباد کو مسلم آبادی کا 23 فیصد تک بتاتے ہیں۔ }[7]

شیعہ کا لفظی مفہوم

عربی زبان میں شیعہ کا لفظ دو معنی رکھتا ہے۔ پہلا کسی بات پر متفق ہونا اور دوسرا کسی شخص کا ساتھ دینا یا اس کی پیروی کرنا۔ قرآن میں کئی جگوں پر یہ لفظ اس طرح سے آیا ہے جیسے سورہ قصص کی آیت 15 میں حضرت موسی کے پیروان کو شیعہ موسی کہا گیا ہے اور شیعہ فرعون کے بارے میں بھی آیا ہے۔ [8] اور دو اور جگہوں پر ابراہیم کو شیعہ نوح کہا گیا ہے۔[9]

اسلام کی تاریخ میں شیعہ کا لفظ کسی شخص کے پیروان کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ جیسا کہ حضرت امام علی اور حضرت امیر معاویہرضي الله عنه.png کے اختلافات کے زمانے میں ان کے حامیوں کو بالترتیب شیعان علی ابن ابو طالب اور شیعان معاویہ بن ابو سفیان کہا جاتا تھاحوالہ درکار؟۔ صرف لفظ شیعہ اگر بغیر تخصیص کے استعمال کیا جائے تو مراد شیعانِ علی ابن ابو طالب ہوتی ہے، وہ گروہ جو ہر اختلاف میں حضرت علی ابن ابی طالب کا حامی تھا اور جو ان کی امامت بلا فصل کا عقیدہ رکھتا ہے۔

مکاتب فکر

اثنا عشری

اثنا عشریہ (یعنی بارہ امام) ، اہل تشیع (یعنی شیعہ) کا سب سے بڑہ گروہ ماننا جاتا ہے۔ قریبا 80 فیصد شیعہ اثنا عشریہ اہل تشیع ہیں۔ ایران، آذربائجان، لبنان، عراق، اور بحرین میں ان کی اکثریت ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے ممالک میں بھی ہیں۔ پاکستان میں اہل سنت کے بعد اثنا عشریہ اہل تشیع کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔

اثنا عشریہ کی اصطلاح ان بارہ معصوم اماموں کی طرف اشارہ کرتی ہے جن کا سلسلہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا زاد اور داماد امام علی بن ابی طالب سے شروع ہوتا۔ یہ خلافت پر یقین نہیں رکھتے اور ان کا نظریہ نظام امامت ہے۔ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد ان کے جانشین بارہ معصوم امام ہیں بلا فصل جانشین امام علی بن ابی طالب علیہ السلام ہیں اور کل بارہ امام ہیں۔ جن کا تذکرہ تمام مکاتب اسلام کی احادیث میں آتا ہے۔ تمام مسلمان ان آئمہ کو اللہ کے نیک بندے مانتے ہیں۔ تاہم اثنا عشریہ اہل تشیع ان آئمہ پر خاص اعتقاد یعنی عصمت کی وجہ سے خصوصی شہرت رکھتے ہیں۔ ان بارہ آئمہ کے نام یہ ہیں:

اثنا عشریہ اہل تشیع اور دوسرے مسلمانوں میں ان کے وجود کے دور اور ظہور کے طریقوں کے بارے میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔

اسماعیلی

چھٹے امام جعفر صادق کی وفات پر اہل تشیع کے دو گروہ ہو گئے۔ جس گروہ نے ان کے بیٹے اسماعیل کو ، جو کہ والد کی حیات میں ہی وفات پا گئے تھے ، اگلا امام مانا وہ اسماعیلی کہلائے۔ اس گروہ کے عقیدے کے مطابق اسماعیل بن جعفر ان کے ساتویں امام ہیں۔ ان کا امامت کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔

جس گروہ نے حضرت موسی کاظم کو اگلا امام مانا وہ اثنا عشری کہلائے کیونکہ یہ بارہ اماموں کو مانتے ہیں۔

زیدیہ

زیدیہ شیعہ یا زیدی شیعہ، اہل تشیع کا ایک فرقہ ہے جس میں حضرت امام سجاد یا زین العابدین کی امامت تک اثنا عشریہ اہل تشیع سے اتفاق پایا جاتا ہے۔ یہ فرقہ امام زین العابدین کے بعد امام محمد باقر کی بجائے ان کے بھائی امام زید بن علی زین العابدین کی امامت کے قائل ہیں۔

یمن میں ان کی اکثریت ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے ممالک میں بھی ہیں۔ وہ آئمہ جن کو زیدی معصوم سمجھتے ہیں:

  • حضرت امام علی علیہ السلام
  • حضرت امام حسن علیہ السلام
  • حضرت امام حسین علیہ السلام

ان کے بعد زیدی شیعوں میں کوئی بھی ایسا فاطمی سید خواہ وہ امام حسن کے نسل سے ہوں یا امام حسین کے نسل سے امامت کا دعوی کر سکتا ہے۔زیدی شیعوں کے نزدیک پنجتن پاک کے علاوہ کوئی امام معصوم نہیں،کیونکہ ان حضرات کی عصمت قرآن سے ثابت ہے۔ زیدیوں میں امامت کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ یہ فرقہ اثنا عشری کی طرح امامت، توحید، نبوت اور معاد کے عقائد رکھتے ہیں تاہم ان کے آئمہ امام زین العابدین کے بعد اثنا عشری شیعوں سے مختلف ہیں۔لیکن یہ فرقہ اثنا عشری کے اماموں کی بھی عزت کرتے ہیں اور ان کو "امام علم" مانتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ زیدی کتابوں میں امام باقر،امام جعفر صادق اور امام عسکری وغیرہ سے بھی روایات مروی ہیں۔

کیسانیہ فرقہ

”کیسانیہ“ ایک ایسے فرقہ کا نام ہے جو پہلی صدی ہجری کے پچاس سال بعد شیعوں کے درمیان پیدا ہوا اور تقریباًایک صدی تک چلتا رہا پھر بالکل ختم ہو گیا۔ کیونکہ اس کے بہت سے عقائد و نظریات کو باقی فرقوں نے رد کر دیا۔

یہ گروہ جناب ”محمد حنفیہ“ (حضرت علی کے بیٹے) کی امامت کا عقیدہ رکھتا تھا اور انہیں امیر المومنین کہتا تھا اور امام حسن اور امام حسین کے بعد چوتھا امام گمان کرتا تھا۔ ”محمد حنفیہ “حضرت امیر المومنین کے فرزند ارجمند تھے اور حضرت کی ان پر خاص توجہ ہوا کرتی تھی ان کی شہرت ”حنفیہ“اس جہت سے ہے کہ ان کی ماں ”خولہ“ کا تعلق ”بنی حنیفہ“ کے قبیلہ سے تھا امیر المومنین نے انہیں آزاد کیا تھا پھر اپنے ساتھ عقد نکاح پڑھا۔

اہل تشیع کے منابع

آبادیات

ممالک جہاں 100,000 سے زیادہ شیعہ آبادی ہے[11][12]
ملک شیعہ آبادی[11][12] مسلمان آبادی میں شیعہ بلحاظ فیصد[11][12] عالمی شیعہ آبادی کا فیصد[11][12] کم از کم کے اندازہ/دعوا زیادہ سے زیادہ اندازہ/دعوا
ایران &1000000000006600000000066,000,000 – 70,000,000 &1000000000000009000000090–95 &1000000000000003700000030–35
بھارت &1000000000001600000000040,000,000 – 50,000,000 &1000000000000001100000025–31 &1000000000000000900000022–25 40,000,000[13] – 50,000,000.[14]
پاکستان &1000000000001700000000020,000,000 – 30,000,000 &100000000000000110000005–20 &1000000000000001100000010-15 43,250,000[15] – 57,666,666[16][17]
نائ‏جریا &1000000000000399900000020,000,000-25,000,000 &1000000000000000400000010-15 &1000000000000000100000010-12 22-25 million[18]سانچہ:Fv
عراق &1000000000001900000000019,000,000 – 22,000,000 &1000000000000006500000065–67 &1000000000000001100000010–12
یمن &100000000000080000000008,000,000 – 10,000,000 &1000000000000003500000035–40 &100000000000000050000005
ترکی &100000000000070000000007,000,000 – 11,000,000 &1000000000000001100000010–15 &100000000000000040000004–6
آذرب‏ئجان &100000000000050000000005,000,000 – 7,000,000 &1000000000000006500000065–75 &100000000000000030000003-4 85% کل آبادی کا[19]
افغانستان &100000000000030000000003,000,000 – 4,000,000 &1000000000000001100000010–15 &10000000000000001000000<2 15–19% کل آبادی کا[20]
سوریہ &100000000000030000000003,000,000 – 3,500,000 &1000000000000001200000010-13 &10000000000000001000000<2
سعودی عرب &100000000000020000000003,000,000 – 4,000,000 &1000000000000001500000010–20 &10000000000000001000000<1
لبنان &100000000000010000000001,000,000 – 1,600,000[21] &1000000000000003000000030-35[22][23][24] &10000000000000000000000<1 Estimated, no official census.[25]
تنزانیہ &10000000000001999000000<2,000,000 &10000000000000009000000<10 &10000000000000000000000<1
انڈونیشیا &100000000000010000000001,000,000 &100000000000000000000000.5 &10000000000000000000000<1
کویت &10000000000000500000000360,000 – 480,000 &1000000000000003000000030-35[26][27] &10000000000000000000000<1 30%-35% of 1.2m Muslims (citizen only)[26][27]
جرمنی &10000000000000400000000400,000 – 600,000 &1000000000000001100000010–15 &10000000000000000000000<1
بحرین &10000000000000400000000850,000 – 900,000 &1000000000000006600000065–70 &10000000000000000000000<1 100,000 (66%[28] of شہری آبادی) 200,000 (70%[29] شہری آبادی)
تاجکستان &10000000000000400000000400,000 &100000000000000070000007 &10000000000000000000000<1
متحدہ عرب امارات &10000000000000300000000300,000 – 400,000 &1000000000000001000000010 &10000000000000000000000<1
امریکا &10000000000000200000000200,000 – 400,000 &1000000000000001100000010–15 &10000000000000000000000<1
عمان &10000000000000100000000100,000 – 300,000 &100000000000000050000005–10 &10000000000000000000000<1 948,750[30]
انگلینڈ &10000000000000100000000100,000 – 300,000 &1000000000000001100000010–15 &10000000000000000000000<1
قطر &10000000000000100000000100,000 &1000000000000001000000010 &10000000000000000000000<1
بوسنیا &1000000000000003000000030,000 &100000000000000030000003 &10000000000000000000000<1
براعظموں کے خاکے میں شیعہ مسلمانوں کے پیروکاروں کی دنیا کی کل آبادی کا تناسب:
       امریکا 0.6 %
       یورپ 4.4 %
       افریقا 0.8 %
       ایشیا 94 %

حوالہ جات

  1. ^ 1.0 1.1 طبرى، محمد بن جرير، تاريخ الامم و الملوك، بيروت، دار القاموس الحديث، (بى تا) ج 2، ص 217/
  2. ^ 2.0 2.1 ابن اثير الكامل فى التاریخ، بيروت، دار صادر، 1399ھ، ج 2، ص 63/
  3. ابن ابى الحديد المعتزلی، شرح نہج البلاغہ، تحقيق: محمد ابوالفضل ابراہيم، چاپ اول، قاہرہ، دار احیاء الكتب العربیہ، 1378 ه.ق، ج 13،ص 211/
  4. ابن ابى الحديد المعتزلی، شرح نہج البلاغہ، تحقيق: محمد ابوالفضل ابراہيم، چاپ اول، قاہرہ، دار احیاء الكتب العربیہ، 1378 ه.ق، ج 13،ص 211/
  5. ترمذی، الجامع الصحیح، 6 : 79، ابواب المناقب، رقم : 3713
  6. احمد بن حنبل، فضائل الصحابۃ 2 : 569، رقم : 959
  7. سید مصطفی قزوینی، تحقیق ہایی درباره شیعہ، صفحه 4.
  8. القران الکریم
  9. http://www.searchtruth.com/chapter_display.php?chapter=37&translator=17& mac=&show_arabic=1
  10. محمدرضا مظفر، اصول الفقہ، ج ۲، ص ۱۱۵ محمدرضا مظفر، اصول الفقہ، ج ۲، ص ۱۱۸ ابوالقاسم علیدوست، فقہ و عقل، قبسات ۱۳۷۹، شماره ۱۵ و ۱۶ محمدرضا مظفر، اصول الفقہ، ج ۲، ص ۱۱۳-۱۱۴ محمدرضا مظفر، اصول الفقہ، ج ۲، ص ۱۱۵ محمدرضا مظفر، اصول الفقہ، ج ۱، ص ۱۸۸-۱۸۹
  11. ^ 11.0 11.1 11.2 11.3 خطا در حوالہ: حوالہ بنام PRC کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا ().
  12. ^ 12.0 12.1 12.2 12.3 خطا در حوالہ: حوالہ بنام mgmpPRC کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا ().
  13. "Shia women too can initiate divorce". The Times of India. 6 November 2006. http://timesofindia.indiatimes.com/city/lucknow/Shia-women-too-can-initiate-divorce/articleshow/334804.cms۔ اخذ کردہ بتاریخ 2010-06-21. 
  14. "30,000 Indian Shia Muslims Ready to Fight Isis 'Bare Handed' in Iraq". International Business Times UK. 
  15. "CIA – The World Factbook". Cia.gov. اخذ کردہ بتاریخ 2011-05-04. 
  16. "Violence Against Pakistani Shias Continues Unnoticed | International News". Islamic Insights. اخذ کردہ بتاریخ 2011-05-04. 
  17. Taliban kills Shia school children in Pakistan
  18. "‘No Settlement with Iran Yet’". This Day. 16 November 2010. Archived from the original on 2013-05-28. https://web.archive.org/web/20130528050955/http://www.thisdaylive.com/articles/-no-settlement-with-iran-yet-/74044/. 
  19. "Religion". Administrative Department of the President of the Republic of Azerbaijan – Presidential Library. اخذ کردہ بتاریخ 22 February 2015. 
  20. خطا در حوالہ: حوالہ بنام lcweb2.loc.gov کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا ().
  21. Hazran, Yusri. The Shiite Community in Lebanon: From Marginalization to Ascendancy, Brandeis University
  22. Hassan, Farzana. Prophecy and the Fundamentalist Quest, page 158
  23. Corstange, Daniel M. Institutions and Ethnic politics in Lebanon and Yemen, page 53
  24. Dagher, Carole H. Bring Down the Walls: Lebanon's Post-War Challenge, page 70
  25. Growth of the world's urban and rural population:n1920-2000, Page 81. United Nations. Dept. of Economic and Social Affairs
  26. ^ 26.0 26.1 خطا در حوالہ: حوالہ بنام irfr2012 کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا ().
  27. ^ 27.0 27.1 خطا در حوالہ: حوالہ بنام ssi کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا ().
  28. http://www.fco.gov.uk/en/travel-and-living-abroad/travel-advice-by-country/country-profile/middle-east-north-africa/bahrain/
  29. "Why Bahrain blew up". New York Post. 2011-02-17. اخذ کردہ بتاریخ 2011-02-22. 
  30. Top 15 Countries with Highest Proportion of Shiites in the Population, 7 July 1999

*