واقعہ کربلا کے اعداد و شمار

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

لاکھوں لوگ اربعین کے موقع پر حرم امام حسین، کربلا،عراق میں موجود ہیں

واقعہ کربلا، جس میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نواسے حسین ابن علی اور ان کے رشتہ دار اور غلاموں کو 10 محرم الحرام، 61ھ میں عراق کے شہر کربلا میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ بے دردی سے شہید کیا گيا۔ اس واقعہ نے آنے والی صدیوں میں اسلامی تاریخ پر دور رس اثرات مرتب کیے؛ جو ہنوز جاری ہیں۔ واقعہ کربلا کے پس منظر، عوامل اور تفصیلات میں تاریخی بنیادوں پر اہل سنت و جماعت اور اہل تشیع کے درمیان میں کئی باتوں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ لیکن اس بات پر سبھی متفق ہیں کہ یہ واقعہ 10 محرم 61ھ کو کربلا میں پیش آیا اور اس میں حسین ابن علی اور ان کے اصحاب کو قتل کیا گیا۔

فہرست

اہل کوفہ کے خطوط

مؤرخین نے مکہ میں کوفیوں کی جانب سے امام حسین کو ملنے والے خطوط کی تعداد مختلف بتائی ہے:

  1. ایک جماعت نے خطوط کی تعداد 150 لکھی ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ ہر خط ایک، دو یا چار افراد نے لکھا تھا۔[1][2][3][4][5][6][7][8][9][10][11]
  2. طبری خطوط کی تعداد 53 لکھتے ہیں۔"... فحملوا معہم نحواً من ثلاثۃ و خمسین صحیفۃ ..."[12] تا ہم بعض معاصر محققین نے لفظ "ثلاثۃ" کو "مائۃ" کی تصحیف[13] قرار دیتے ہوئے اسے بھی 150 والا قول شمار کیا ہے۔[14]
  3. بلاذری نے خطوط کی تعداد 50 بتائی ہے۔[15]
  4. محمد ابن سعد نے خطوط لکھنے والے افراد کی تعداد 18000 ذکر کی ہے۔[16]
  5. سید ابن طاؤوس لکھتے ہیں ایک دن میں 600 خطوط امام حسین کو موصول ہوئے یہاں تک کہ ان کی تعداد 12000 تک پہونچ گئی۔[17]

خطوط کی "150" تعداد حقیقت سے قریب تر ہے کیونکہ اس کے قائلین زیادہ اور نقل کرنے والے مآخذ قدیم ہیں۔ دیگر چار آراء صائب نہیں ہیں۔ لیکن یہ ہو سکتا ہے ہر خط کئی زیادہ افراد کی جانب سے ہو۔

سفیر امام کوفہ میں

امام حسین بن علی نے کوفیوں کے خطوط کے بعد مسلم بن عقیل کو اپنا سفیر بنا کر کوفہ بھیجا تا کہ وہ اہل کوفہ سے بیعت لیں۔

مسلم کی بیعت کرنے والے

مسلم بن عقیل کے ہاتھ پر امام حسین کی بیعت کرنے والے اہل کوفہ کی تعداد، تاریخی مآخذ میں مختلف، نقل ہوئی ہے:

  1. بہت سے مآخذ میں بیعت کرنے والے افراد کی تعداد 18000 بتائی گئی ہے۔[18][19][20][21][22][23][24][25][26]
  2. بعض دیگر نے تعداد 12000 ذکر کی ہے۔[27][28][29][30][31] مسعودی[32] اور سبط بن جوزی[22] نے "18 ہزار" کی تعداد کو "قول دیگر" کے عنوان سے ذکر کیا ہے۔
  3. امام باقر سے منقول روایت میں بیعت کرنے والوں کی تعداد 20000 بیان ہوئی ہے۔[33][34] لیکن بعض دیگر مآخذ میں یہی روایت 20 ہزار کی بجائے، 18 ہزار منقول ہے۔[35][36] غیاث الدین خواندمیر[37] نے بھی اسی قول کی طرف اشارہ کیا ہے۔[38]
  4. ابن اعثم اور خوارزمی کے مطابق بیعت کنندگان کی تعداد 20000 سے زائد تھی۔[39][40]
  5. ابن شہر آشوب کے بقول یہ تعداد 25000 تھی۔ انہوں نے مسلم بن عقیل کا ہانی بن عروہ کے گھر میں قیام کا واقعہ بیان کرنے کے بعد یہ تعداد لکھی ہے۔[41]
  6. ابن قتیبہ دینوری [42] اور ابن عبد ربہ[43] نے لکھا ہے کہ ان کی تعداد 30000 تھی۔
  7. ابن عساکر [44] اور ابن نما حلی نے (کسی دوسرے حوالے سے ) یہ تعداد 40000 بھی بیان کی ہے۔[45]

ایک روایت کے مطابق زید بن علی نے "سلمہ بن کہیل" کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ 80000 افراد نے ان کے جد امجد امام حسین کی بیعت کی تھی۔[46] یہ تعداد یزیدی لشکر کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے آمادگی ظاہر کرنے والوں کی تعداد کے قریب ہے۔

طبری نے ابو مخنف کے حوالے سے جو لکھا ہے کہ 18000 افراد نے مسلم بن عقیل کے ہاتھ پر بیعت کی تھی، یہ روایت زیادہ معتبر ہے کیونکہ قدیم مآخذ میں اس کی تائید ملتی ہے۔

کوفی آمادہ جنگجوؤں کی تعداد

بعض مآخذ میں منقول ہے کہ یزیدیوں کے خلاف لڑنے کے لیے تیار اور پا بہ رکاب افراد کی تعداد 100000 تھی۔[25][47][48][49][50][51][52]

قیام مسلم کا ساتھ دینے والے

ابو الفرج اصفہانی لکھتے ہیں: مسلم بن عقیل کے قیام کے وقت اہل کوفہ ان کے گرد جمع ہو نے لگے یہاں تک کہ کوفہ کے بازار اور مسجد میں سوئی پھینکنے کی جگہ تک نہ رہی۔[53]

  1. ابن سعد [54] اور ذہبی [55] لکھتے ہیں کہ مسلم کے ساتھ اٹھنے والے کوفیوں کی تعداد 4000 تھی۔ طبری نے بھی یہ قول عمار دہنی سے بحوالۂ ابو مخنف[56] اور شیخ مفید [57] نقل کیا ہے۔
  2. ابن اعثم،[58] مسعودی[59] اور خوارزمی[60] نے یہ تعداد 18000 بیان کی ہے۔
  3. ابن شہرآشوب، کے مطابق ان کی تعداد 8000 تھی۔[61]
  4. و ابن حجر عسقلانی کے بقول مسلم کے ساتھ قیام کرنے والے افراد کی تعداد 40000 تھی۔[62]

طبری کا قول، کہ حضرت مسلم کے ساتھ قیام کرنے والے 4000 تھے ـ جو اس نے ابو مخنف اور شیخ مفید سے نقل کیا ہے ـ زیادہ معتبر ہے۔

مسلم کا گھیراؤ کرنے والے

مسلم بن عقیل کی گرفتاری کے لیے کوفی پولیس کے سربراہ کے ساتھ جانے والے افراد کی تعداد کے بارے میں روایات مختلف ہیں؛ بعض مآخذ نے ان افراد کی تعداد 60 اور بعض نے 70 بتائی ہے۔[63][64][65][66][67][68] اور بعض کے مطابق ان کی تعداد 100[69] یا 300[70] تھی۔

حسینی سفر کے ایام و منازل

اصل مضمون: سفر کربلا

مدینہ تا کربلا سفر کے ایام

امام حسین کا قیام، ـ 3 شعبان 60 ھ میں یزید کی بیعت کے انکار سے 10 محرم الحرام 60 ھ عاشور کے دن آپ کی شہادت تک ـ 175 دن تک جاری رہا:

اگر سفر اسراء اور قیام شام نیز 20 صفر 61 ھ تک واپس کربلا آمد کے مجموعی کم از کم 40 دن اور واپس مدینہ پہونچنے کے 20 ایام اضافہ کیے جائیں تو قافلہ حسینی کا کل سفر کم از کم 235 دن سے زیادہ کا ہو گا۔

مکہ تا کوفہ منازل کی تعداد

امام حسین نے مکہ سے کوفہ تک 18 منزلیں طے کیں۔ ایک منزل یا منزلگاہ سے دوسری منزل تک کا فاصلہ 3 فرسخ (= 18.72 کلومیٹر) تھا۔

مکہ سے کربلا منزل بہ منزل کی تفصیل بہت سی کتب میں موجود ہے۔ جو 18 سے 40 منازل تک کے اختلاف کو پیش کرتی ہیں۔

مکہ مکرمہ سے احرام حج توڑ کر عمرہ انجام دیا اور ذوالحجہ 60 ھ میں مکہ سے امام علیہ السلام کی روانگی ہوئی۔ 1-بستان بنی عامر،

2-تنعیم (یمن میں یزیدی کارگزار بحیر بن ریسان حمیری کی طرف سے شام کی طرف بھیجے ہوئے صفایا کے منتخب جنگی غنائم کے قافلے کو اپنی تحویل میں لیا)،

3-صفاح (امام(علیہ السلام) کی فرزدق شاعر سے ملاقات)،

4-ذات العرق (امام (علیہ السلام) کی بشر بن غالب نیز عون بن عبد اللہ بن جعفر سے ملاقات)،

5-وادی عقیق،

6-غمرہ،

7-ام خرمان،

8-سلح،

9-افیعیہ،

10-معدن فزان،

11-عمق،

12-سلیلیہ،

13-مغیثہ ماوان،

14-نقرہ،

15-حاجز (امام (علیہ السلام) نے یہیں سے قیس بن مسہر کو کوفہ روانہ کیا)،

16-سمیراء،

17-توز،

18-اجفر ( یہاں امام علیہ السلام کا سامنا عبد اللہ بن مطیع عدوی سے ہوا جس نے امام علیہ السلام کو واپسی کا مشورہ دیا)،

19-خزیمیہ،

20-زرود ( اس مقام پر 9 ذی الحجہ، زہیر بن قین کا قافلہ، قافلۂ حسینی سے جا ملا اور مسلم ع اور عروہ کی شہادت کی خبر کی ملی،

21-ثعلبیہ،

22-بطان،

23-شقوق،

24-زبالہ ( اس منزل پر امام علیہ السلام کو قیس بن مسہر کی شہادت کی خبر موصول ہوئی اور نافع بن ہلال سمیت چند افراد کا قافلہ، حسینی قافلے میں شامل ہوا)،

25-بطن العقبہ (امام (علیہ السلام) کی عمرو بن لوزان سے ملاقات اور عمرو کا آپ (علیہ السلام) کو واپسی کا مشورہ)

26-عمیہ،

27-واقصہ،

28-شراف،

29-تالاب ابومسک،

30-جبل ذی حم (امام عالی مقام علیہ السلام کا حُر کے لشکرّ سے سامنا ہوا)

31-بیضہ ( اس مقام پرامام (علیہ السلام) نے اپنے اصحاب اور حر کو مشہور خطبہ دیا)،

32-مسیجد،

33-حمام،

34-مغیثہ،

35-ام قرون،

36-عذیب (کوفہ کا راستہ عذیب سے قادسیہ اور حیرہ کی جانب تھا۔ لیکن امام (علیہ السلام) نے راستہ بدل دیا اور کربلا کی طرف سے گئے)

37-قصر بنی مقاتل (امام (علیہ السلام) کی عبید اللہ بن حرّ جعفی سے ملاقات ابن حر نے امام (علیہ السلام) کی طرف سے نصرت کی دعوت رد کردی)

38-قطقطانہ،

کربلائے معلی یعنی (وادی طَفّ) آخری منزل تھی۔

دو محرم الحرام سنہ61 ہجری کو امام عالی مقام علیہ السلام اپنے اصحاب و عیال کو لیکر کربلا میں اترے۔.!!!

اصحاب امام حسین کی تعداد

مفصل مضمون: امام حسین کے اصحاب

افسوسناک امر ہے کہ امام حسین کے اصحاب کے صحیح اعداد و شمار کے تعین کے لیے کوئی بھی راستہ موجود نہیں ہے اور پہلے درجے کے ثبوت و شواہد ـ یعنی چشم دید گواہوں - نے اصحاب امام حسین کی تعداد کے بارے میں مختلف روایات بیان کی ہیں؛ نیز تاریخ و حدیث کے مآخذ میں اصحاب کے ناموں کے ثبت و ضبط کرنے میں بھی کسی جانے پہچانے قاعدے اور ضابطے کو بروئے کار نہیں لایا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ایک فرد کے نام، کنیت، والد یا والدہ کے نام، حتی کہ نسل اور قبیلے کو مد نظر رکھ کر مختلف ناموں سے متعارف کرایا گیا ہے اور بچوں اور غلاموں کو اکثر نظر انداز کیا گیا ہے۔ دیگر یہ کہ سیدالشہداء کے اصحاب کی تعداد بھی تمام مراحل میں یکساں نہیں تھی۔

چنانچہ ممکنہ حد تک واضح اعداد و شمار پیش کرنے کے لیے، اوقات اور مقامات کے لحاظ سے قیام امام حسین کے چار مراحل کو مد نظر رکھ کر روایات کا جائزہ پیش کیا جاتا ہے:

مدینہ سے ہجرت کے وقت تعداد

بہت سے مآخذ نے اس مرحلے میں امام کے ساتھیوں کی تعداد کا ذکر نہیں کیا ہے۔[71][72][73][74][75][76][77][78]

اکلوتی روایت جو تعداد بتاتی ہے شیخ صدوق نے امام صادق سے نقل کی ہے۔ جس کے مطابق مدینہ سے ہجرت کے وقت امام کے ساتھ روانہ ہونے والے افراد کی تعداد 19 تھی جن میں اہل خانہ اور اصحاب شامل تھے۔[79][80] غلاموں کی تعداد اس میں شامل نہیں ہے۔

مکہ سے کوفہ روانگی کے وقت تعداد

  1. ابن سعد کی روایت: - مکہ سے عراق روانگی کے وقت امام حسین کے ہمراہ اصحاب میں سے 60 اور اہل بیت میں سے (مردوں، خواتین اور بچوں سمیت) 19 افراد تھے۔[81]
  2. ابن عساکر اور ابن کثیر کی روایت: - دونوں نے امام کے خاندان کے افراد کی تعداد بیان کیے بغیر لکھا ہے کہ کوفہ کے 60 مرد آپ کے ہمراہ تھے۔[82][83]
  3. ابن قتیبہ دینوری اور ابن عبد ربہ کی روایت: - ان دو مؤرخین نے مسلم بن عقیل کے حوالے سے لکھا ہے کہ انہوں نے اپنی شہادت کے وقت ـ جو مکہ سے امام کی روانگی کے وقت واقع ہوئی ـ بیان کیا تھا کہ کہ 90 افراد امام کے ساتھ آ رہے ہیں جن میں مرد اور خواتین شامل ہیں۔[84][85]
  4. ابن اعثم، خوارزمی، محمد بن طلحہ، اربلی اور ابن صباغ مالکی کی روایت: - امام کی مکہ سے روانگی کے وقت آپ کے ساتھ 82 افراد تھے۔[86][87][88][89][90]
    البتہ ان مآخذ نے لکھا ہے کہ امام کے تمام ساتھیوں کی تعداد اتنی تھی، ان میں خواتین اور بچے اور افراد خاندان اور اصحاب، سب شامل تھے۔
  5. ابن کثیر کی دوسری روایت: - دیگر روایت کے ضمن میں ابن کثیر نے لکھا ہے امام کے ساتھیوں کی تعداد تقریباً 300 تھی۔[91]

ان میں کسی نے غلاموں کی تعداد نہیں بتائی۔

کربلا میں قافلہ حسینی کی نفری

اس سلسلے میں بھی مؤرخین کے اقوال مختلف ہیں؛ جیسے:

  1. 145 افراد: - عمّار دہنی نے امام باقر سے روایت کی ہے کہ کربلا میں داخلے کے وقت 145 (100 پیادے اور 45 سوار) افراد امام حسین کے ہمراہ تھے۔[92][93][94][95][96][97][98] ابن نما حلی کہتے ہیں کہ عمار دہنی کی اس روایت کا تعلق یوم عاشور سے ہے۔[99]
  2. 89 افراد: - بعض مؤرخین نے امام حسین کے ساتھ کربلا میں داخل ہونے والے افراد کی تعداد 89 یوں بیان کی ہے کہ 50 افراد امام کے اصحاب تھے، دشمن کی سپاہ سے 20 افراد آپ سے جا ملے اور 19 افراد آپ کے اپنے خاندان سے تھے۔[100][101][102] ذہبی نے اسی کتاب میں اس سے پہلے یہ بھی لکھا ہے کہ امام حسین کے ساتھ سواروں کی تعداد 32 تھی۔[103]
  3. 62 یا 72 افراد: - یعقوبی لکھتے ہیں کہ اصحاب اور خاندان امام سے مجموعی طور پر 62 یا 72 افراد آپ کے ساتھ کربلا آئے تھے۔[104]
  4. 500 افراد: - مسعودی اکلوتے مؤرخ ہیں جنہوں نے لکھا ہے کہ حُرّ ریاحی کے لشکر کے ساتھ کربلا روانہ ہوتے وقت 500 سوار اور 100 پیدل افراد امام کے ہمراہ تھے۔ ابن جوزی [105] اور مجلسی[106] نے یہ روایت مسعودی سے نقل کی ہے[107] لیکن امام کے ساتھیوں کی تعداد 500 سواروں کی بجائے 1000 سوار بیان کی ہے۔
  5. 82 افراد: - ابن شہر آشوب نے امام کے ساتھیوں کی تعداد (عاشورہ سے قبل) 82، بیان کی ہے۔[108]
  6. 70 افراد: - ابن ابار بَلَنْسی (وفات 658ھ)[109] لکھتے ہیں کہ سواروں اور پیادوں کی تعداد 70 سے زیادہ تھی۔[110]

مندرجہ بالا اور دیگر روایات سے مجموعی طور پر یہی نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ بنو ہاشم کے جوانوں اور غلاموں نیز بچوں کے علاوہ امام حسین کے ساتھیوں کی تعداد 70 سے 90 تک تھی۔

یوم عاشور اصحاب کی تعداد

  1. 72 افراد: - مشہور ترین ـ اور سب سے زیادہ نقل ہونے والے ـ قول کے مطابق امام حسین کے ساتھی 72 تھے۔ ابو مخنف نے ضحاک، کے حوالے سے لکھا ہے کہ عاشورہ کے دن امام حسین کے ساتھیوں کی تعداد (32 سوار اور 40 پیادے) 72 تھی۔[111][112] بہت سے مؤرخین اسی قول کے قائل ہوئے ہیں:[113][114][115][116][117][118][119][120][121][122][123]
  2. 100 افراد: - "حصین بن عبد الرحمن" نے "سعد بن عبید ہ" کے حوالے سے کہا ہے کہ امام حسین کی فوج عاشور کے دن 100 کے قریب تھی۔[124][125][126]
  3. 300 افراد: - طبری نے زید بن علی کے حوالے سے امام حسین کے ساتھیوں کی تعداد 300 بیان کی ہے۔[127].
  4. 70 افراد: - قاضی نعمان لکھتے ہیں کہ امام حسین کے ساتھیوں کی تعداد 70 سے کم تھی۔[128][129]
  5. 61 افراد: - مسعودی کے مطابق اصحاب امام کی تعداد 61 تھی۔[130]
  6. 114 افراد: - خوارزمی ایک روایت کے ضمن میں لکھتے ہیں کہ امام کے اصحاب کی تعداد 114 تھی۔[131][132]
  7. 145 افراد: - سبط بن جوزی لکھتے ہیں کہ یوم عاشور امام حسین کے ساتھیوں کی تعداد 145 تھی جن میں سے 45 سوار اور 100 پیادے تھے۔[133]
  8. 80 افراد: - ابن حجر کے قول کے مطابق عاشور کے دن امام حسین کے ساتھ 80 افراد تھے۔[134]

بہرصورت 72 افراد والی روایت چونکہ قدیم اور معتبر کتب میں نقل ہوئی ہے اور اس کے راوی بھی زیادہ ہیں زیادہ قابل اعتماد اور قابل قبول ہے۔ ان میں بھی بظاہر بنو ہاشم کے جوانوں، غلاموں اور بچوں کو شمار نہیں کیا گیا۔

یزیدی افواج کی نفری

لشکروں کی تعداد اور نفری

  1. 22000 افراد: - بعض مؤرخین نے دشمنان امام حسین کے سپہ سالار اور ان کی نفری 22000 افراد بیان کی ہے۔[135][136][137][138]
  2. 30000 افراد: - شیخ صدوق، امام سجاد اور امام صادق سے منقول روایات کے مطابق، عبید اللہ بن زیاد کے لشکر کی نفری 30000 بیان کرتے ہیں۔[139][140]
  3. 28000 افراد: - مسعودی نے یہ تعداد 28000 افراد نقل کی ہے۔[141]
  4. 14000 افراد: - شیعہ طبری[142] نے لکھا ہے کہ عمر بن سعد کے لشکر کی تعداد 14000 تھی۔[143]
  5. 35000 افراد: - ابن شہر آشوب پہلے یزیدی لشکر کی نفری 35000 لکھتے ہیں لیکن لشکر کی تفصیل بتاتے ہوئے، ہر حصے کے سالار اور اس کی نفری کی تفصیل بتاتے ہوئے یہ تعداد 25000 تک گھٹا دیتے ہیں۔[144]
  6. 6000 افراد: - سبط ابن جوزی نے لشکر ابن سعد کی تعداد 6000 بیان کی ہے۔[145]
  7. 20000 افراد: - ابن صباغ مالکی لکھتے ہیں کہ 6 محرم الحرام تک دشمن کی سپاہ کی تعداد 20000 تک پہنچ چکی تھی۔[146]
  8. 31000 افراد: - ابن عنبہ کے مطابق لشکر یزید کی تعداد 31000 تھی۔[147]
  9. 32000 یا 17000 افراد: - ملا حسین کاشفی نے 32000 اور نیز 17000 کی نفری نقل کی ہے۔[148]

اس سلسلے میں قابل اعتماد روایت شیخ طوسی کی ہے جس میں لشکر یزید کی تعداد 30000 بیان کی گئی ہے۔

دشمن کے مقتولین کی تعداد

شیخ صدوق (وفات 381 ھ) اور ان ہی کی پیروی کرتے ہوئے محمد بن فتال نیشابوری (وفات 508 ھ) لکھتے ہیں کہ امام حسین کے بعض ساتھیوں نے یزیدی لشکر کے متعدد افراد کو ہلاک کیا تھا:

ان اعداد و شمار کے مطابق امام حسین کے چند اصحاب کے ہاتھوں دشمن کے 225 یا 226 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ابن شہر آشوب، نے دشمن کے ہلاک ہونے والے سپاہیوں کی تعداد شیخ صدوق کی بیان کردہ تعداد سے کچھ زیادہ بیان کی ہے:

شہدائے کربلا کی تعداد

اصل مضمون: فہرست شہدائے کربلا

بعض مؤرخین نے شہدائے کربلا کی صحیح فہرست پیش کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن تحقیقی مآخذ محدود ہونے کے سبب، حقیقی اور صحیح اعداد و شمار پیش کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

کل شہداء

  1. مشہور ترین قول یہ ہے کہ شہدائے کربلا کی تعداد 72 ہے۔[156][157][158][159][160][161][162]
  2. امام باقر اور امام صادق علیہما السلام سے فضیل بن زبیر نے روایت کی ہے کہ قیام کے آغاز سے آخر تک تمام شہداء کی تعداد 106 ہے جن میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو زخمی تھے اور بعد میں شہید ہوئے ہیں: 86 اصحاب اور 20 ہاشمی،[163]
  3. ابو مخنف، زحر بن قیس کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ امام حسین کے علاوہ بقیہ شہداء کی تعداد 78 ہے۔۔۔[164][165][166][167][168][169][170][171] لیکن دیگر مؤرخین زحر بن قیس ہی کے حوالے سے شہداء کی تعداد 32،[172] 70 سوار[173] نیز 77،[174] یا 82،[175] اور 88[176] بتاتے ہیں۔
  4. ابوزید بلخی (وفات 322 ھ) اور[177] مسعودی نے شہدائے کربلا کی تعداد 87 بیان کی ہے۔[178]
  5. علامہ سید محسن امین عاملی، نے قیام عاشورہ کی ابتدا سے انتہا تک کے شہداء کی تعداد 139 لکھی ہے۔[179]
  6. شیخ شمس الدین نے اس سلسلے میں ایک تجزیاتی بحث پیش کی ہے اور شہداء کی تعداد 100 سے کچھ زیادہ بیان کی ہے۔[180]
  7. شیخ محلاتی نے ابتدائے قیام سے انتہا تک کے شہداء کی تعداد 228 بیان کی ہے۔ انہوں نے اسیران اہل بیت کی کوفہ میں موجودگی کے وقت شہید ہونے والے جان نثار عبد اللہ بن عفیف کو بھی شہدائے کربلا میں شمار کیا ہے۔[181]
  8. ایک مؤلف نے ابتدائے قیام سے انتہا تک کے شہداء کی تعداد 182 بیان کی ہے۔[182]

تاہم وہ روایات جو دلالت کرتی ہیں کہ شہدائے کربلا کی تعداد 72 ہے، قدیم مآخذ میں نقل ہوئی ہیں اور زیادہ شہرت رکھتی ہیں۔

بنو ہاشم

شہدائے کربلا میں بنو ہاشم کے شہداء کے بارے میں کافی مختلف روایات ہیں جو ان کی تعداد 9 سے 30 تک بتاتی ہے۔

مشہورترین روایت کے مطابق شہدائے بنی ہاشم کی تعداد 17 ہے۔[162][183][184][185][186][187][188][189][190][191][192] البتہ ان میں سے زیادہ تر مآخذ میں امام حسین کو شمار کیے بغیر، شہداء کی تعداد 17 بیان ہوئی ہے اور بعض اعداد و شمار ائمۂ معصومین علیہم السلام سے منقولہ مختلف روایات کے ضمن میں بیان ہوئے ہیں۔
قدیم ترین تاریخی نصوص میں شہدائے بنی ہاشم کی تعداد 20 بتائی گئی ہے اور ان میں امام حسین اور مسلم بن عقیل کے نام بھی دکھائی دیتے ہیں۔[193] نیز شیخ صدوق،[194] ابن شہر آشوب،[195] اور ابن ابی الحدید[196] نے بھی یہی اعداد و شمار پیش کیے ہیں لیکن ان میں مسلم بن عقیل کو شامل نہیں کیا۔

مزید روایات بھی ہیں جن میں یہ تعداد 9 سے 30 تک بتائی گئی ہے۔[197]

تمام متعلقہ روایات کو مد نظر رکھا جائے تو جو روایات، بنو ہاشم کے شہداء کی تعداد 17 بتاتی ہیں، زیادہ قابل قبول لگتی ہیں کیونکہ یہ روایات قدیم اور کثیر بھی ہیں اور پھر یہ تعداد ائمہ علیہم السلام سے منقولہ روایات میں بھی بیان ہوئی ہے۔

شہداء کی مائیں

شہدائے کربلا میں سے 8 شہیدوں کی مائیں کربلا میں تھیں جن کی آنکھوں کے سامنے ان کے لخت جگر مظلومانہ شہید کیے گئے:

نیز بعض روایات کے مطابق علی اکبر کی والدہ لیلی بنت ابی مرّہ بن عروہ بن مسعود ثقفی، بھی کربلا میں تھیں لیکن کربلا میں ان کی موجودگی ثابت نہیں ہے۔

قیدی بنا کر شہید کیے گئے

امام حسین کے اصحاب و انصار میں سے 2 افراد ابتدا میں یزیدی لشکر کے ہاتھوں اسیر ہوئے اور بعد میں شہید ہوئے:

  1. سوار بن منعم ہمدانی (زیارت رجبیہ میں ان کا نام "سوار بن ابی عمیر نہمی" ہے)۔
  2. موقع بن ثمامہ صیداوی (ألمُوَقَّع یا "المُرَقَّع" بن ثمامہ اسدی)۔

امام حسین کے بعد شہادت پانے والے

امام حسین کے چار اصحاب آپ کی شہادت کے بعد جام شہادت نوش کر گئے:

اپنے باپ کے سامنے شہید ہونے والے

امام حسین کے کئی اصحاب اپنے باپ کے سامنے شہید ہوئے:

حسینی فوج کا بلحاظ قبائل ڈھانچہ

ایک محقق نے 113 شہداء کی فہرست تیار کی ہے جن کا تعلق بنو ہاشم اور دوسرے قبائل سے ہے:

  1. ہاشمی اور ان کے موالی (مع مسلم بن عقیل): 26 افراد،
  2. اسدی : 7 افراد،
  3. ہَمْدانی: 14 افراد،
  4. مَذْحِجی: 8 افراد،
  5. انصاری: 7 افراد،
  6. بَجَلی اور خثعمی: 4 افراد،
  7. کندی: 5 افراد،
  8. غِفاری: 3 افراد،
  9. کلبی: 3 افراد،
  10. اَزْدی: 7 افراد،
  11. بنو عبدیان: 7 افراد،
  12. تیمی: 7 افراد،
  13. طائی: 2 افراد،
  14. تغلبی : 5 افراد،
  15. جُہَنی: 3 افراد،
  16. تمیمی: 2 افراد،
  17. متفرقہ: 3 افراد۔[198]

پہلے حملے کے شہداء

کچھ مآخذ نے لکھا ہے کہ یزیدی لشکر کے ابتدائی ظالمانہ بڑے حملے میں امام حسین کے 50 ساتھیوں نے جام شہادت نوش کیا۔[199]

جسم پر گھوڑے دوڑانے والے افراد

کچھ مآخذ میں صرف امام حسین کے بدن شریف پر گھوڑے دوڑائے جانے کا ذکر ہے لیکن اس گھٹیا اور بزدلانہ فعل میں شریک افراد کا نام نہیں لیا گیا۔[200] البتہ اکثر مآخذ نے ان کی تعداد 10 بیان کی ہے۔[201][202][203][161][204][205][206][207][208]

جسم پر لگنے والے زخم

مؤرخین نے سید الشہداء کے بدن پر لگنے والے زخموں کی تعداد بھی بیان کی ہے اور ان کے درمیان اس سلسلے میں اختلاف ہے:

  1. امام صادق سے منقول روایت کے مطابق امام حسین کے جسم مطہر پر نیزوں کے 33 اور تلواروں کے 34 زخم لگے۔[209][210][211][212][213][214] اور امام صادق ہی سے منقول دیگر روایت میں نیزوں کے 33 اور تلواروں اور تیروں کے 44 زخم بیان ہوئے ہیں۔[117][215] طبری کی روایت میں نیزوں کے 33 اور تلواروں کے 44 زخم بیان ہوئے ہیں اور ایک اور روایت میں امام صادق سے مروی ہے کہ سید الشہداء کے جسم شریف پر صرف تلواروں کے ستر گھاؤ تھے۔[216]
  2. امام باقر سے منقول ایک روایت میں زخموں کی تعداد 320 بیان ہوئی ہے۔[160][211][217][218][219] ابن شہرآشوب نے تین اور اقوال بھی لکھے ہیں: 1ـ 360 زخم؛ 2ـ 1900 زخم؛ 3ـ تیروں کے علاوہ تلواروں کے 33 زخم۔[220] اور ایک روایت میں منقول ہے کہ سید الشہداء کے جسم مطہر کو تلواروں، نیزوں اور تیروں کے 63 زخم لگے تھے۔[221][222]
  3. امام سجاد سے نقل ایک روایت میں نیزے کے زخم اور تلوار کی ضرب سے 40 جراحتیں بتائی گئی ہیں۔[223]
  4. بعض مآخذ میں منقول ہے کہ سید الشہداء کے جسم مطہر اور لباس میں تیروں، نیزوں اور تلواروں کے 110 نشانات پائے گئے۔[117][210][224][225][226][227] اسی طرح کی روایت ابن سعد نے بھی نقل کی ہے۔[228]
  5. بعض مآخذ نے تلواروں، تیروں اور پتھروں کے 120 زخم نقل کیے ہیں۔[229]
  6. ابن سعد نے 33 زخم لکھے ہیں۔[226][228] قاضی نعمان نے بھی ایسی ہی روایت نقل کی ہے۔[230]
  7. علی بن محمد عَمری اور ابن عنبہ (وفات 828 ھ) نے 70 زخم[231][232] اور ابن طاؤوس نے 72 زخم لکھے ہیں۔[233]

لگتا ہے کہ جسم مطہر کو لگنے والے زخموں کی تعداد 100 سے زائد تھی۔ جو روایات ظاہر کرتی ہیں کہ آپ کو اس قدر تیر لگے تھے کہ آپ کا جسم مطہر تیروں میں چھپا ہوا تھا، اسی رائے کی تائید کرتی ہیں۔[211][234]

کربلا میں آنے والے گھرانے

بعض معاصر قلمکاروں نے لکھا ہے کہ کربلا میں اہل بیت کے علاوہ تین شہداء کے گھرانے (اہل و عیال) بھی ساتھ تھے:[235]

  1. جنادہ بن کعب بن حرث (یا حارث) سلمانی انصاری،[236]
  2. عبداللہ بن عمیر کلبی،[237]
  3. مسلم بن عوسجہ۔

اس موضوع کے تفصیلی جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلم بن عوسجہ کے گھرانے کی کربلا آمد کا کوئی تاریخی حوالہ موجود نہیں ہے گو کہ بعض مآخذ میں ہے کہ ان کی ایک کنیز عاشور کے دن کربلا میں موجود تھی۔[238][239][240]

کربلا کے شہید صحابہ کرام

اصحاب سید الشہداء میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے کئی صحابہ بھی تھے: فضیل بن زبیر کے مطابق امام حسین کے رکاب میں شہادت پانے والے افراد میں صحابہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعداد 6،[241] اور مسعودی کے بقول 4 تھی[242] اور یہ افراد امام حسین کے اصحاب و انصار میں سے تھے اور عاشورہ کے دن کربلا میں شہید ہوئے۔ بعض معاصر مؤرخین و محققین نے صحابہ کی تعداد 5 بیان کی ہے:[243] یعنی:

  1. خود امام حسین اور امام کے علاوہ 5 صحابہ کرام
  2. انس بن حارث کاہلی،[244][245][246][247]
  3. حبیب بن مظاہر اسدی،[248]
  4. مسلم بن عوسجہ اسدی،[249]
  5. ہانی بن عروہ مرادی،[250][251][252]
  6. عبد اللہ بن يقطر حمیری[253] جو امام حسین کے رضاعی بھائی بھی تھے۔[254]

قلم کیے گئے سر

یزیدی لشکر کے ہاتھوں شہدائے کربلا کے جسموں سے جدا کیے جانے والے سروں کے تعداد کے بارے میں بھی مؤرخین کا موقف یکساں نہیں ہے:

  1. بلاذری، دینوری، طبری، شیخ مفید، خوارزمی اور ابن نما، نے سروں کی تعداد (امام حسین کے سر مبارک کو شامل کیے بغیر) 72 لکھی ہے۔۔[255][256][257][203][258][259] البتہ طبری[260] اور خوارزمی[261] نے امام حسین کے سر مبارک کے تن سے جدا ہونے کا واقعہ بیان کیا ہے اور اگلے صفحے میں لکھا ہے کہ "باقی 72 شہداء کے سر قلم کر دیے گئے"، چنانچہ ظاہر ہے کہ "باقی شہداء" سے سید الشہداء کے علاوہ دوسرے شہداء مراد ہیں اور اس کے مطابق قلم ہونے والے سروں کی مجموعی تعداد 73 بنتی ہے۔ دینوری، شیخ مفید اور ابن نما کے اقوال بھی اسی قول کی تائید کرتے ہیں کہ سروں کی تعداد 73 تھی۔
  2. دینوری نے کہا ہے کہ [257] قبائل کے درمیان سروں کی تقسیم کی تعداد کے لحاظ سے ان تقسیم شدہ سروں کی مجموعی تعداد 75 تھی اور بلاذری[256] ابو مخنف کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ شہداء (اور ان کے قلم شدہ سروں) کی تعداد 82 تھی۔
  3. سبط ابن جوزی، ہشام کلبی کا حوالہ دیتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ قلم شدہ سروں کی تعداد 92 تھی۔[262]
  4. ابن طاؤوس،[263] محمد بن ابی طالب موسوی[264] اور مجلسی[265] کے مطابق، سروں کی تعداد 78 تھی۔
  5. طبری،[266] اور ابن شہر آشوب[267] ابو مخنف اور ابن صباغ مالکی[268] کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ کوفہ میں یزید کے والی ابن زیاد کے پاس لائے جانے والے سروں کی تعداد 70 تھی۔

مندرجہ بالا اقوال میں، پہلا قول اپنے قدیم راویوں کے پیش نظر زیادہ معتبر ہے: تو قلم شدہ سروں کی تعداد 72 تھی۔

شہدائے کربلا کے سروں کی تقسیم

شہداء کے س رہائے مبارک کو لشکر یزید میں شامل قبائل میں ـ ذیل کی ترتیب سے ـ تقسیم کیا گیا:

یہ سب شہداء کے سروں کو غنیمت! کے طور لیتے تھے تا کہ انہیں ابن زیاد کو پیش کرکے انعام پائیں۔

شہید ہونے والے موالی (غلام)

فضیل بن زبیر کہتے ہیں کہ امام حسین کے 3 موالی۔[269] کربلا میں شہید ہوئے،[244] لیکن ابن سعد[270] اور طبری[271] کے مطابق ان کی تعداد 2 تھی۔ فضیل نے لکھا ہے کہ حمزہ بن عبدالمطلب کا ایک غلام بھی شہدائے کربلا میں شامل تھا۔[272]

ابن شہر آشوب اس سلسلے میں لکھتے ہیں: کہ کربلا میں امام حسین کے 10 اور امیرالمؤمنین کے 2 موالی شہید ہوئے۔[273]

سماوی کے مطابق شہید ہونے والے موالی کی تعداد 15 تھی۔[274]

زخمی ہونے والے اصحاب

الف ـ اکلوتے زخمی جو میدان جنگ سے زندہ بچ نکلے، مؤرخین کے مطابق وہ حسن بن حسن بن علی (حسن مُثَنّٰی) تھے۔[270][275][271][276][277][278]

ب ـ وہ زخمی جو بعد میں شہید ہو گئے:

  1. سوار بن حمیر جابری،[279] زیارت رجبیہ میں ان کا نام سوار بن ابی عمیر نہمی آیا ہے اور سوار بن منعم ہمدانی بھی نقل ہوا ہے۔
  2. عمرو بن عبد اللہ ہَمْدانی جنُدُعی،[280]
  3. مُرَقَّع بن ثمامہ اسدی،[281][282] لیکن طبری[283] اور بلاذری نے دوسری نقل کے ضمن میں،[284] نیز دینوری نے[285] لکھا ہے کہ مرقع کے قبیلے کے ایک فرد نے ان کے لیے امان نامہ حاصل کیا اور وہ اپنے قبیلے سے جا ملے اور ابن زیاد نے انہیں زارہ جلاء وطن کیا لیکن ان کی شہادت کی طرف اشارہ نہیں کیا۔ بعض نے موقع بن ثمامہ صیداوی نام لکھا ہے۔

اسراء اور زندہ بچ جانے والے

مرد

قمقام اور جلاء العیون میں ہے کہ کربلا میں امام زین العابدین، امام محمد باقر، حسن مثنی، مرقع ابن قمامہ اسدی اور عقبہ ابن سمعان غلام جناب بی بی رباب کے علاہ کوئی مرد باقی نہ رہا تھا۔ لیکن تاریخ کے قدیم مآخذ کی ورق گردانی سے ظاہر ہوتا ہے کہ واقعہ عاشورہ کے پسماندگان (زندہ بچ جانے والوں) میں کئی دیگر مرد بھی تھے جو حسب ذیل 17 افراد ہیں:

خواتین

ابن سعد کے مطابق، اہل بیت علیہم السلام کی 6 خواتین،[309][310] قاضی نعمان مغربی کے مطابق 4 خواتین،[311] اور ابو الفرج اصفہانی کے مطابق 3 خواتین[312] یزید کے لشکر کے ہاتھوں اسیر ہوئیں؛ جن کے نام درج ذیل ہیں:

امیرالمؤمنین علی کی بیٹیاں:

امام حسین بن علی کی بیٹیاں:

دیگر خواتین:

تین دیگر خواتین بھی اہل بیت میں تھیں۔

قیام حسینی کا ساتھ دینے والی خواتین

یزیدیوں پر اعتراض کرنے والی خواتین

پانچ خواتین نے تحریک عاشورا کے دوران سپاہ یزید کی حرکتوں پر اعتراض و احتجاج کیا:

  1. ام عبد اللہ (بنت حرّ بدی کندی، زوجۂ مالک بن نُسَیر)،[333][334] ان کے اعتراض و احتجاج کا سبب یہ تھا کہ ان کے شوہر نے امام حسین کا ایک بُرْنُس (=ٹوپی والا جبہ یا چغہ) لوٹ لیا تھا،
  2. عبداللہ بن عفیف کندی کی بیٹی، جن کے والد کو جب یزیدی سپاہیوں نے گھیر لیا تو انہوں نے اپنے والد کا ساتھ دیا اور ان کا دفاع کیا،[335][336][337]
  3. قبیلہ بکر بن وائل کی ایک خاتون، کہ جب عمر بن سعد کے لشکر نے خیام آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو لوٹنا شروع کیا تو اس نے اس عمل پر اعتراض کیا۔،[338]
  4. نوار، جو کعب بن جابر بن عمرو ازدی کی بیوی یا بیٹی تھیں اور ان کے اعتراض کا سبب یہ تھا کہ ان کے شوہر نے عمر بن سعد بن ابی وقاص کا ساتھ دیا تھا اور بریر بن خضیر ہمدانی کو شہید کیا تھا،
  5. نوار بنت مالک بن عقرب حضرمی، جو خولی بن یزید اصبحی کی زوجہ تھی۔ ان کے اعتراض کا سبب یہ تھا کہ ان کا شوہر امام حسین کا سر مبارک گھر لایا تھا اور کہہ رہا تھا کہ وہ ایسی چیز گھر لایا ہے جس میں پورے زمانے سے بے نیازی مضمر ہے[157][158]،[339][340][341]

خاتون جو شہید ہوئیں

کربلا میں ایک خاتون بھی امام حسین کے رکاب میں شہید ہوئیں۔ اس خاتون کا نام ام وہب تھا اور وہ شہید کربلا وَہْب بن وَہْب کی والدہ اور عبداللہ بن عمیر کلبی کی زوجہ تھیں۔

سفر اسیری کی منزلیں

کوفہ سے شام تک کی ان منزلوں کی تعداد 14 تھی جو اہل بیت علیہم السلام نے اسیری کی حالت میں طے کیں۔

شام میں قیام اور عزاداری کے دن

شام میں ایک مہینہ یا 45 دن تک قیام پر مبنی روایات میں کچھ زیادہ قوت نہیں ہے کیونکہ ان اقوال کے قائلین متفرد (اور تنہا) ہیں اور چونکہ خاندان معاویہ کی عورتوں نے اہل بیت علیہم السلام کی عزاداری کو دیکھا اور ان کی حقانیت کا ادراک کیا تو انہوں نے بھی پانچویں دن عزاداری کی اس مجلس میں شرکت کرنا شروع کردی چنانچہ یہی نتیجہ لیا جاسکتا ہے کہ اہل بیت علیہم السلام نے دمشق پہنچنے سے لے کر مدینہ واپس روانگی تک، شام میں 10 روز سے زیادہ قیام نہیں کیا۔

مزید دیکھیے

حوالہ جات

  1. ابن اعثم، کتاب الفتوح، ج 5، ص 29۔
  2. شیخ مفید، الارشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، ج 2، ص 38۔
  3. ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ج 4، ص 98۔
  4. ابن جوزی، المنتظم فی تاریخ الملوک و الامم، ج 5 ص327۔
  5. خوارزمی، مقتل الحسین (علیہ السلام)، ج 1، ص 283۔
  6. اربلی، کشف الغمہ، ج 2، ص 253۔
  7. محمد بن طلحہ شافعی، مطالب السؤول فی مناقب الرسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)، ج 2، ص 71۔
  8. سبط ابن جوزی، تذکرۃ الخواص من الامۃ بذکر خصائص الائمۃ (علیہم السلام)، ج 2، ص 146۔
  9. سید ابن طاؤوس، اللہوف علی قتلی الطفوف، ص 24۔
  10. ابن کثیر، البدایہ و النہایہ، ج 8، ص 162۔
  11. ابن حجر عسقلانی، تہذیب التہذیب، ج 2، ص 302۔
  12. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج 4، ص262۔
  13. تصحیف کے لغوی معنی خطا کے ہیں، تصحیف تحریف ہی کی ایک قسم ہے، جس میں لفظی اور تحریری شباہت کی وجہ سے لفظ تبدیل ہو جاتا ہے؛ فَراہیدی، العین، ج 3، ص 120۔ لفظ "صحف" کے ذیل میں۔
  14. یہ لوگ اپنی اس توجیہ کی بنیاد شیخ مفید، ابن اعثم کوفی، خوارزمی اور سبط بن جوزی کی روایت کو جو 150 خطوط بتاتی ہے قرار دیتے ہیں کہ بظاہر ان چاروں نے یہ روایت ابو مخنف سے نقل کی ہے۔ (محمد ہادی یوسفی غروی، وقعۃ الطف، ص 93۔) حالانکہ بلاذری نے تو بظاہر ابو مخنف سے روایت نقل کرتے ہوئے تعداد 50 بتائی ہے؛ جبکہ سبط بن جوزی نے جو 150 تعداد بتائی ہے، ان کا مآخذ تو ابن اسحق کی روایت ہے نہ کہ ابو مخنف کی روایت۔ (محمد ہادی یوسفی غروی، وقعۃ الطف، ص 244۔)
  15. بلاذری، انساب الاشراف، ج3، ص370۔
  16. محمد بن سعد، ترجمۃ الحسین (علیہ السلام) و مقتلہ، تحقیق سید عبد العزیز طباطبائى، فصلنامہ تراثنا، سال سوم، شماره 10، 1408 ھ، ص 174
  17. محمد بن سعد، ترجمۃ الحسین (علیہ السلام) و مقتلہ، تحقیق سید عبد العزیز طباطبائى، فصلنامہ تراثنا، سال سوم، شماره 10، 1408 ھ، ص 24، نیز ابن نما حلی نے بھی مثیر الاحزان ص 16 میں 12000 تعداد لکھی ہے۔
  18. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج4، ص275۔
  19. ابوحنیفہ دینوری، الاخبار الطوال، ص235۔
  20. شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص41۔
  21. ابن جوزی، وہی مآخذ، ج5، ص325۔
  22. ^ ا ب سبط ابن جوزی، تذکرۃ الخواص، ج2، ص141۔
  23. ابن نما حلی، مثیر الاحزان، ص21۔
  24. سید ابن طاؤوس، اللہوف علی قتلی الطفوف، ص25۔
  25. ^ ا ب ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ج3، ص299۔
  26. ابن عنبہ، عمدۃ الطالب فی انساب آل ابی طالب، ص191ـ 192۔
  27. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج4، ص259 بحوالہ از عمار دہنی۔
  28. ابن عساکر، ترجمۃ الامام الحسین(علیہ‌السلام)، ص302۔
  29. ابن شہرآشوب، مناقب آل ابی طالب، ج4، ص99۔
  30. ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ج3، ص306۔
  31. احمد بن حجر ہیتمی، الصواعق المحرقۃ فی ردّ اہل البدع و الزندقہ، ص196۔
  32. مسعودی، مروج الذہب و معادن الجوہر، ج3، ص65۔
  33. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج11، ص43۔
  34. مجلسی، بحار الانوار، ج44، ص68۔
  35. سلیم بن قیس، کتاب سلیم بن قیس الہلالی، ص188۔
  36. مجلسی، بحارالانوار، ج27، ص212۔
  37. غیاث الدین بن ہمام الدین حسینی المعروف بہ خواند میر۔
  38. تاریخ حبیب السیر فی اخبار افراد بشر، ج2، ص42۔
  39. ابن اعثم، وہی مآخذ، ج5، ص40۔
  40. خوارزمی، مقتل الحسین (علیہ‌السلام)، ج1، ص290۔
  41. ابن شہرآشوب، وہی مآخذ، ج4، ص99۔
  42. ابن قتیبہ، الامامۃ والسیاسۃ، ج2، ص8۔
  43. احمد بن محمد بن عبد ربہ اندلسی، العقد الفرید، ج4، ص354۔
  44. ابن عساکر، ترجمۃ الامام الحسین (علیہ‌السلام)، ص284۔
  45. ابن نما حلی، مثیر الاحزان، ص16۔
  46. طبری، وہی مآخذ، ج5، ص489 (سنہ 121ھ کے واقعات)۔
  47. ابن سعد، ترجمۃ الحسین ومقتلہ، ص174۔
  48. بلاذری، انساب الاشراف، ج3، ص422۔
  49. طبری، تاریخ الامم والملوک، ج4، ص294۔
  50. شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص71۔
  51. ابن نما حلی، مثیرالاحزان، ص16۔
  52. سبط ابن جوزی، تذکرۃ الخواص، ج2، ص133۔
  53. ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ص70ـ71۔
  54. ابن سعد، وہی مآخذ، ص175۔
  55. ذہبی، سیراعلام النبلاء، ج3، ص299۔
  56. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج4، ص260۔
  57. شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص52۔
  58. ابن اعثم، الفتوح، ج5، ص49۔
  59. مسعودی، مروج الذہب ومعادن الجوہر، ج3، ص68۔
  60. خوارزمی، مقتل الحسین(علیہ‌السلام)، ج1، ص297۔
  61. ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ج4، ص101۔
  62. عسقلانی، تہذیب التہذیب، ج2، ص303۔
  63. طبری، وہی مآخذ، ج4، ص279۔
  64. ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ص69۔
  65. مسعودی، مروج الذہب، ج3، ص69۔
  66. شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص57۔
  67. طبرسی، اعلام الوری باعلام الہدی، ج1، ص443۔
  68. ابن نما حلی، مثیرالاحزان، ص24۔
  69. دینوری، الاخبار الطوال، ص240۔
  70. ابن اعثم، وہی مآخذ، ج5، ص53۔
  71. دینوری، الاخبار الطوال، ص228۔
  72. طبری، تاریخ الامم والملوک، ج4، ص253۔
  73. شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص34۔
  74. ابن اعثم، وہی مآخذ، ج5، ص22۔
  75. فتال نیشابوری، روضۃ الواعظین، ص171۔
  76. طبرسی، اعلام الوری باعلام الہدی، ج1، ص435۔
  77. خوارزمی، وہی مآخذ، ج1، ص273۔
  78. سبط ابن جوزی، وہی مآخذ، ص236۔
  79. شیخ صدوق، الامالی، مجلس30، ح1، ص217۔
  80. مجلسی، بحارالانوار، ج44، ص313۔
  81. ابن سعد، وہی مآخذ، ص170۔
  82. ابن عساکر، ترجمۃ الامام الحسین(علیہ‌السلام)، ص299۔
  83. ابن کثیر، وہی مآخذ، ج8، ص178۔
  84. ابن قتیبہ دینوری، الامامۃ و السیاسہ، ج2، ص10۔
  85. ابن عبد ربہ، العقد الفرید، ج4، ص355۔
  86. ابن اعثم، وہی مآخذ، ج5، ص69۔
  87. خوارزمی، مقتل الحسین(علیہ‌السلام)، ج1، ص317۔
  88. محمد بن طلحہ شافعی، مطالب السؤول فی مناقب آل الرسول، ج2، ص73۔
  89. اربلی، کشف الغمہ، ج2، ص253۔
  90. ابن صباغ مالکی، الفصول المہمہ، ج2، ص6۔
  91. ابن کثیر، وہی مآخذ، ج6، ص259۔
  92. طبری، تاریخ الامم والملوک، ج4، ص292۔
  93. یحیی بن حسین بن اسماعیل جرجانی شجری، الامالی الخمیسیہ، ج1، ص191ـ 192۔
  94. سید ابن طاؤوس، اللہوف فی قتلی الطفوف، ص60۔
  95. ذہبی، سیر أعلام النبلاء، ج3، ص308۔
  96. ابن کثیر، وہی مآخذ، ج8، ص214۔
  97. عسقلانی، الاصابۃ فی تمییز الصحابہ، ج2، ص71۔
  98. عسقلانی، تہذیب التہذیب، ج2، ص304۔
  99. ابن نما، مثیر الاحزان، ص39۔
  100. وہی مآخذ، ص178۔
  101. ابن عساکر، وہی مآخذ، ص329۔
  102. ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ج3، ص298 و 300۔
  103. وہی مآخذ، ص177۔
  104. یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ج2، ص243۔
  105. ابن جوزی، وہی مآخذ، ج2، ص161۔
  106. مجلسی، بحارالانوار، ج45، ص74۔
  107. مسعودی، مروج الذہب، ج3، ص71۔
  108. ابن شہرآشوب، مناقب آل ابی طالب، ج4، ص107۔
  109. بَلَنسیہ، ایک علاقے اور شہر کا نام ہے جو اسپین کے مشرق میں واقع ہے اور اس وقت "ویلنشیا" (València) کہلاتا ہے۔
  110. ابن ابار، محمد بن عبد اللہ بن ابی بکر قضاعی، دُرَرَ السمط فی خبر السبط، ص104۔
  111. طبری، وہی مآخذ، ج4، ص320۔
  112. شیخ مفید، وہی مآخذ، ج2، ص95۔
  113. بلاذری، انساب الاشراف، ج3، 395۔
  114. دینوری، الاخبار الطوال، ص256۔
  115. ابن اعثم، کتاب الفتوح، ج5، ص101۔
  116. قاضی نعمان مغربی، شرح الاخبار، ج3، ص155۔
  117. ^ ا ب پ طبری، دلائل الامامہ، ص178۔
  118. فتال نیشابوری، روضۃ الواعظین، ص184۔
  119. طبرسی، اعلام الوری باعلام الہدی، ج1، ص457۔
  120. خوارزمی، مقتل الحسین(علیہ‌السلام)، ج2، ص6۔
  121. ابن جوزی، المنتظم، ج5، ص339۔
  122. عماد الدین طبری، کامل بہائی (الکامل البہائی فی السقیفہ)، ج2، ص281۔
  123. ابن کثیر، وہی مآخذ، ج8، ص192۔
  124. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج4، ص295۔
  125. بلاذری، انساب الاشراف، ج3، ص424۔
  126. شمس الدین ذہبی، تاریخ الاسلام، ج5، ص15۔
  127. شمس الدین ذہبی، ج5، ص489. (ذیل حوادث سال 121)۔
  128. قاضی نعمان مغربی، شرح الاخبار، ج3، ص154۔
  129. ابوزید احمد بن سہل بلخی، البدء والتاریخ، ج2، ص241۔
  130. مسعودی، اثبات الوصیہ، ص166۔
  131. محمد بن ابی طالب حسینی موسوی، تسلیۃ المُجالس و زینۃ المَجالس، ج2، ص275
  132. مجلسی، بحار الانوار، ج45، ص4۔
  133. تذکرۃ الخواص، ج2، ص160۔
  134. الصواعق المحرقہ، ص197۔
  135. ابن اعثم، وہی مآخذ، ج5، ص84 ـ 90 و ص101۔
  136. خوارزمی، وہی مآخذ، ج1، ص341ـ 345۔
  137. ابن عماد حنبلی، شذرات الذہب، ج1، ص67۔
  138. مجلسی، وہی مآخذ، ج44، ص386۔
  139. شیخ صدوق، الامالی، مجلس 24، ص177، ح 3 و مجلس 70، ص547، ح 10۔
  140. سید ابن طاؤوس، اللہوف، ص70۔
  141. علی بن حسین مسعودی، اثبات الوصیہ، ص166۔
  142. ابوجعفر، محمّد بن جرير بن رستم طبرى آملى مازندرانى معروف بہ طبری شیعی کتاب "دلائل الامامہ" کے مؤلف ہیں اور وہ محمد بن جریر بن یزید طبری (وفات 923 ء) کے علاوہ ہیں جو اہل سنت کے بہت معروف علما میں سے ہیں اور مشہور تفسیر اور تاریخ کے مالک ہیں۔ نیز شیعہ عالم دین محمد بن جریر طبری (وفات چوتھی صدی ہجری کی ابتدا) جو کتاب "المسترشد" کے مؤلف ہیں، سے بھی مختلف ہیں جن کو شیخ طوسی نے "کبیر" کا لقب دیا ہے۔
  143. ابو جعفر محمد بن جریر بن رستم الطبری، دلائل الامامہ، ص178۔
  144. مناقب آل ابی طالب، ج4، ص106۔
  145. تذکرۃ الخواص، ج2، ص161۔
  146. ابن صباغ مالکی، الفصول المہمہ، ص191۔
  147. عمدۃ الطالب فی أنساب آل ابی طالب، ص192۔
  148. ملاحسین کاشفی، روضۃ الشہداء، ص346۔
  149. بلاذری، وہی مآخذ، ج3، ص405۔
  150. طبری، وہی مآخذ، ج4، ص340۔
  151. بلاذری، وہی مآخذ، ج3، ص404۔
  152. طبری، وہی مآخذ، ج4، ص336۔
  153. الامالی، مجلس 30، ح1، ص223ـ226۔
  154. فتال نیشابوری، روضۃ الواعظین، ص186ـ 188۔
  155. ابن شہرآشوب، وہی مآخذ، ج4، ص109ـ114۔
  156. ابن سعد، ترجمۃ الحسین و مقتلہ، ص184۔
  157. ^ ا ب بلاذری، انساب الاشراف، ج3، ص411۔
  158. ^ ا ب طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج4، ص348۔
  159. ابوعلی مسکویہ رازی، تجارب الامم و تعاقب الہمم، ج2، ص73۔
  160. ^ ا ب طبرسی، تاج الموالید، ص31۔
  161. ^ ا ب خوارزمی، وہی مآخذ، ج2، ص44۔
  162. ^ ا ب پ ابن کثیر، وہی مآخذ، ج8، ص205۔
  163. فضیل بن زبیر کوفی اسدی، "تسمیۃ من قتل مع الحسین(علیہ‌السلام)"، بحوالہ فصلنامہ تراثنا، شمارہ 2، ص149ـ 156۔
  164. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج4، ص351۔
  165. دینوری، وہی مآخذ، ص260۔
  166. شیخ مفید، وہی مآخذ، ج2، ص118۔
  167. ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، ج18، ص445۔
  168. ابن کثیر، وہی مآخذ، ج8، ص208۔
  169. صفدی، الوافی بالوفیات، ج14، ص189۔
  170. ابن صباغ مالکی، الفصول المہمہ، ص193۔
  171. میرخواند، تاریخ روضۃ الصفا، ج5، ص2270۔
  172. ابن اعثم، وہی مآخذ، ج5، ص127۔
  173. سبط ابن جوزی، وہی مآخذ، ج2، ص193۔
  174. ابن عبد ربہ، العقد الفرید، ج4، ص328۔
  175. خوارزمی، وہی مآخذ، ج2، ص62۔
  176. ابن سعد، وہی مآخذ، ص190۔
  177. ابو زید احمد بن سہل بلخی، البدء والتاریخ، ج2، ص241۔
  178. مسعودی، مروج الذہب ومعادن الجوہر، ج3، ص72۔
  179. سید محسن امین عاملی، اعیان الشیعہ، ج1، ص610 ـ 612۔
  180. شیخ مہدی شمس الدین، انصار الحسین(علیہ‌السلام)، ص49 و 52۔
  181. ذبیح اللہ محلاتی، فرسان الہیجاء، ج2، ص154۔
  182. غلام حسین زرگری نژاد، نہضت امام حسین(علیہ‌السلام) و قیام کربلا، ص291ـ386۔
  183. ابن سعد، وہی مآخذ، ص196، ح 305۔
  184. خلیفۃ بن خیاط عصفری، تاریخ خلیفۃ بن خیاط، ص179۔
  185. سلیمان بن احمد طبرانی، المعجم الکبیر، ج3، ص104 و 119۔
  186. شیخ صدوق، کمال الدین و تمام النعمہ، ص533۔
  187. شیخ صدوق، الامالی، مجلس 87، ص694۔
  188. شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص125ـ126۔
  189. محمد بن حسن طوسی، الامالی، ص162، ح 268۔
  190. عماد الدین طبری، بشارۃ المصطفی، ص426۔
  191. خوارزمی، وہی مآخذ، ج2، ص53۔
  192. اربلی، وہی مآخذ، ج2، ص267۔
  193. تسمیۃ من قتل مع الحسین(علیہ‌السلام)، ص149ـ151۔
  194. شیخ صدوق، الخصال، ص519۔
  195. مناقب آل ابی طالب، اخذ، ج4، ص179۔
  196. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج15، ص251۔
  197. ابن ابی حاتم رازی، السیرۃ النبویہ، ص588۔
  198. محمد سماوی، اِبصار العین فی انصار الحسین(علیہ‌السلام)، ص49 اور بعد کے صفحات۔
  199. خوارزمی، وہی مآخذ، ج2، ص11۔
  200. مسعودی، مروج الذہب، ج3، ص73۔
  201. بلاذری، وہی مآخذ، ج3، ص410۔
  202. ^ ا ب طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج4، ص347۔
  203. ^ ا ب شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص113۔
  204. طبرسی، اعلام الوری ...، ج1، 470۔
  205. ابن شہرآشوب، وہی مآخذ، ج4، ص121۔
  206. سید ابن طاؤس، وہی مآخذ، ص79۔
  207. ابن نما، وہی مآخذ، ص59۔
  208. مجلسی، بحارالانوار، ج45، ص59۔
  209. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج4، ص346۔
  210. ^ ا ب خوارزمی، وہی مآخذ، ج2، ص42۔
  211. ^ ا ب پ ابن شہرآشوب، وہی مآخذ، ج4، ص120۔
  212. ابن نما، وہی مآخذ، ص58۔
  213. سید ابن طاؤوس، وہی مآخذ، ص76۔
  214. حمید بن احمد مُحَلّی، وہی مآخذ، ج1، ص212۔
  215. قاضی نعمان مغربی، وہی مآخذ، ج3، ص164۔
  216. شیخ طوسی، الامالی، ص677، ح 10۔
  217. شیخ صدوق، الامالی، مجلس 31، ح 1، ص228۔
  218. فتال نیشابوری، وہی مآخذ، ص189۔
  219. مجلسی، بحارالانوار، ج45، ص82۔
  220. (وہی مآخذ، ص120)۔
  221. شیخ کلینی، الکافی، ج6، ص452، ح 9۔
  222. مجلسی، بحارالانوار، ج45، ص92، ح 36۔
  223. قاضی نعمان مغربی، دعائم الاسلام، ج2، ص154۔
  224. قاضی نعمان، شرح الاخبار، ج3، ص164۔
  225. ابوالفرج عبد الرحمن بن جوزی، الرد علی المتعصّب العنید، ص39۔
  226. ^ ا ب ابن نما، وہی مآخذ، ص57 ـ 58۔
  227. حمید بن احمد مُحَلّی، وہی مآخذ، ج1، ص213۔
  228. ^ ا ب ابن سعد، وہی مآخذ، ص184۔
  229. مُحَلّی، وہی مآخذ، ج1، ص213۔
  230. قاضی نعمان، وہی مآخذ، ج3، ص164۔
  231. محمد بن علی عمری، المجدی فی انساب الطالبیین، ص13۔
  232. جمال الدین حسینی، عمدۃ الطالب فی أنساب آل ابی طالب، ص192۔
  233. سید بن طاؤس، وہی مآخذ، ص71۔
  234. طبرسی، اعلام الوری ...، ج1، ص469۔
  235. محمد بن طاہر سماوی، إبصار العین فی أنصار الحسین (علیہ‌السلام)، ص220ـ221۔
  236. خوارزمی، وہی مآخذ، ج2، ص25۔
  237. طبری، وہی مآخذ، ج4، ص334۔
  238. طبری، وہی مآخذ، ص332۔
  239. خوارزمی، وہی مآخذ، ج1، ص19۔
  240. مجلسی، بحار الانوار، ج45، ص20۔
  241. فضیل بن زبیر، "تسمیۃ من قتل مع الحسین (علیہ‌السلام)"، بحوالہ فصلنامہ تراثنا، ص153ـ154۔
  242. مسعودی، مروج الذہب و معادن الجوہر، ج3، ص72۔
  243. سماوی، وہی مآخذ، ص221۔
  244. ^ ا ب فضیل بن زبیر، وہی مآخذ، ص152۔
  245. شیخ طوسی، رجال الطوسی، ص21۔
  246. ابن شہر آشوب، وہی مآخذ، ج1، ص184۔
  247. محب الدین احمد بن عبد اللہ الطبری، ذخائر العقبی فی مناقب ذوی القربی، ص146۔
  248. ابن حجر، تبصیر المنتبہ، ج4، ص1296۔
  249. عبد اللہ مامقانی، تنقیح المقال، ج3، ص214۔
  250. ابن حجر عسقلانی، الاصابۃ فی تمییز الصحابہ، ج6، ص445، ش 9051۔
  251. خواند میر، تاریخ حبیب السیر فی اخبار افراد البشر، ج2، ص43۔
  252. مامقانی، وہی مآخذ، ج3، ص288۔
  253. ابن حجر، وہی مآخذ، ج5، ص8۔
  254. سماوی، ابصار العین ص93۔
  255. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج4، ص349۔
  256. ^ ا ب بلاذری، وہی مآخذ، ج3، ص412۔
  257. ^ ا ب پ دینوری، وہی مآخذ، ص259۔
  258. خوارزمی، وہی مآخذ، ج2، ص45۔
  259. ابن نما، وہی مآخذ، ص65۔
  260. طبری، وہی مآخذ، ص348۔
  261. خوارزمی، وہی مآخذ، ص44۔
  262. سبط ابن جوزی، تذکرۃ الخواص، ص256۔
  263. سید ابن طاؤس، وہی مآخذ، ص85۔
  264. تسلیۃ المجالس و زینۃ المجالس، ج2، ص331۔
  265. مجلسی، بحار الانوار، ج45، ص62۔
  266. طبری، تاریخ الامم والملوک، ج4، ص358۔
  267. ابن شہرآشوب، مناقب آل ابی طالب، ج4، ص121۔
  268. ابن صباغ مالکی، الفصول المہمہ، ص198۔
  269. موالی جمع ہے مولی کی، مولٰی کے متضاد معنی ہیں: مثلا سرور و آقا کو مولٰی کہا جاتا ہے جیسا کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا: من کنت مولاہ فہذا علی مولاہ؛ جس کا میں مولٰی (مولا) ہوں یہ علی بھی اس کے مولٰی ہیں۔ نیز بندہ، غلام اور مطیع کو بھی مولٰی کہا جاتا ہے۔ مولا "ولاء" سے مشتق ہے جس کے معنی پیوند اور قرابت کے ہیں چنانچہ اس کے معانی مختلف ہیں۔ وہ بھی مولا ہے جو حامی ہے اور وہ بھی مولا ہے جو حمایت یافتہ ہے۔ اس ولاء کے ایک معنی ولائے عتق کے ہیں؛ وہ افراد جو پہلے کبھی غلام تھے اور بعد میں آزاد ہوجاتے تھے انہیں اور ان کی اولاد کو موالی کہا جاتا تھا (یہاں بھی موالی سے یہی مراد ہے)۔ جیسا کہ آزاد کرنے والے کو بھی مولٰی کہا جاتا ہے۔ کلمہ مولٰی کے دو متضاد معنی۔
  270. ^ ا ب پ ابن سعد، وہی مآخذ، ص186۔
  271. ^ ا ب طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج4، ص359۔
  272. فضیل بن زبیر، وہی مآخذ۔
  273. ابن شہرآشوب، وہی مآخذ، ج4، 122۔
  274. سماوی، وہی مآخذ، ص221ـ222۔
  275. فضیل بن زبیر، وہی مآخذ، ص150۔
  276. ابن حبان، الثقات، ج2، ص310۔
  277. ^ ا ب پ ت ٹ ابوالفرج اصفہانی، وہی مآخذ، ص79۔
  278. ابن شہرآشوب، وہی مآخذ، ج4، ص122؛ وہ لکھتے ہیں کہ ان کا ہاتھ کٹ گیا تھا۔
  279. فضیل بن زبیر، وہی مآخذ، ص156 و محلّی، الحدائق الوردیہ، ج1، ص212۔
  280. فضیل بن زبیر، وہی مآخذ و محلی، وہی مآخذ۔
  281. بلاذری نے انہیں مرقع بن قمامہ بن خویلد لکھا ہے: انساب الاشراف، ج11، ص183۔
  282. ابن کثیر نے مرقع بن یمانہ لکھا ہے:وہی مآخذ، ج8، ص205۔
  283. وہی مآخذ، ج4، ص347۔
  284. وہی مآخذ، ج3، ص411۔
  285. الاخبار الطوال، ص259۔
  286. دینوری، الاخبار الطوال، ص259۔
  287. و ابن کثیر، وہی مآخذ، ج8، ص212۔
  288. ^ ا ب بلاذری، وہی مآخذ، ج3، ص411۔
  289. ابن عبد ربہ‌اندلسی، العقد الفرید، ج4، ص360۔
  290. ^ ا ب سید ابن طاؤس، وہی مآخذ، ص86۔
  291. طبری، تاریخ الامم والملوک، ج4، ص353 و 359۔
  292. ابن حبان، وہی مآخذ، ج2، ص310۔
  293. خوارزمی، وہی مآخذ، ج2، ص41۔
  294. ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، ج45، ص484۔
  295. سبط ابن جوزی، تذکرۃ الخواص، ج2، ص178۔
  296. الارشاد، ج2، ص26۔
  297. فضیل بن زبیر، وہی مآخذ، ص150 و 157۔
  298. ابوالصلاح حلبی، تقریب المعارف، ص252۔
  299. ابن قتیبہ دینوری، الامامۃ و السیاسہ، ج2، ص8۔
  300. ^ ا ب قاضی نعمان مغربی، وہی مآخذ، ج3، ص198۔
  301. ابن سعد، وہی مآخذ، ص187 و ذہبی، وہی مآخذ، ج3، ص303۔
  302. قاضی نعمان مغربی، وہی مآخذ، ج3، ص197۔
  303. ^ ا ب ابن سعد، وہی مآخذ۔
  304. ابن عساکر، وہی مآخذ، ج54، ص226۔
  305. و ذہبی، وہی مآخذ، ج3، ص303۔
  306. طبری، وہی مآخذ، ج4، ص321۔
  307. ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، ج14، ص223۔
  308. شیخ صدوق، کمال الدین و تمام النعمہ، ص546۔
  309. ^ ا ب پ ت ٹ ابن سعد، وہی مآخذ، ص187۔
  310. ذہبی، وہی مآخذ، ج3، ص303۔
  311. قاضی نعمان، شرح الاخبار، ج3، ص198ـ 199۔
  312. ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ص79۔
  313. شیخ صدوق، الامالی، مجلس 31، ص229۔
  314. شیخ صدوق، الامالی، ص231۔
  315. قاضی نعمان مغربی، شرح الاخبار، ج3، ص198۔
  316. طبرانی، المعجم الکبیر، ج3، 104۔
  317. قاضی نعمان مغربی، وہی مآخذ، ص198۔
  318. شیخ صدوق، الامالی، ص228۔
  319. ابن سعد، وہی مآخذ؛ ابوالفرج اصفہانی، وہی مآخذ، ص79۔
  320. طبرانی، وہی مآخذ، ص104۔
  321. قاضی نعمان مغربی، وہی مآخذ، ص199۔
  322. شیخ صدوق، وہی مآخذ، ص230۔
  323. طبرسی، الاحتجاج، ج2، ص27۔
  324. خوارزمی، وہی مآخذ، ج2، ص105۔
  325. ابن نما، وہی مآخذ، ص67۔
  326. سید ابن طاؤس، وہی مآخذ، ص88۔
  327. طبری، تاریخ الامم والملوک، ج4، ص263۔
  328. طبری، وہی مآخذ، ص277ـ278۔
  329. بلاذری، وہی مآخذ، ج3، ص378ـ379۔
  330. ابن نما، وہی مآخذ، ص66۔
  331. سید ابن طاؤس، وہی مآخذ، ص190۔
  332. مجلسی، بحارالانوار، ج45، ص108۔
  333. طبری، وہی مآخذ، ج4، ص342۔
  334. ابن نما، وہی مآخذ، ص57۔
  335. ابن نما، وہی مآخذ، ص73۔
  336. سید ابن طاؤس، وہی مآخذ، ص205۔
  337. مجلسی، بحارالانوار، ج45، ص120۔
  338. ابن نما، وہی مآخذ، ص58 و سید ابن طاؤس، ص180۔
  339. خوارزمی، وہی مآخذ، ج2، ص114۔
  340. ابن نما، وہی مآخذ، ص65ـ66۔
  341. ابن کثیر، وہی مآخذ، ج8، ص206۔
  342. ابن اعثم، کتاب الفتوح، ج5، ص133۔
  343. شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص122۔
  344. طبرسی، اعلام الوری ...، ج1، ص475۔
  345. ابن سعد، وہی مآخذ، ص192۔
  346. طبری، وہی مآخذ، ج4، ص353۔
  347. خوارزمی، وہی مآخذ، ج2، ص81۔
  348. ابن عساکر، ترجمۃ الامام الحسین(علیہ‌السلام)، ص338۔
  349. سبط ابن جوزی، وہی مآخذ، ج2، ص199۔
  350. ابن کثیر، البدایۃ و النہایہ، ج8، ص212۔
  351. محمد باقر مجلسی، جلاء العیون، ص405۔
  352. ابوحنیفہ نعمان بن محمد تمیمی مغربی، شرح الاخبار فی فضائل الائمۃ الاطہار، ج3، ص269۔
  353. سید بن طاؤوس، الاقبال بالأعمال، ج3، ص101۔
  354. طبری، الکامل للبہائی فی السقیفہ، ج2، ص302۔
  355. مجلسی، بحار الانوار، ج45، ص196۔
  356. مجلسی، جلاء العیون، ص409۔

مآخذ

  • ابن اَبّار، محمد بن عبد اللہ بن ابی بکر قضاعی، دُرَرَ السمط فی خبر السبط، تحقیق عزالدین عمر موسی، چاپ اول: بیروت، دارالغرب الاسلامی، 1407ھ۔
  • ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، تحقیق محمد ابوالفضل ابراہیم، بیروت، داراحیاء الکتب العربیہ، 1378 ھ۔
  • ابن اعثم، ابو محمد أحمد، الکوفی الکندی، کتاب الفتوح، تحقیق علی شیری، بیروت، دارالاضواء، 1411 ھ۔
  • ابن جوزی، ابو الفرج عبد الرحمن علی بن محمد، المنتظم فی تاریخ الملوک و الامم، بیروت، دارالکتب العلمیہ، 1412ھ۔
  • ابن حجر عسقلانی، الاصابہ فی تمییز الصحابہ، تحقیق شیخ عادل احمد عبد الموجود و شیخ علی محمد معوض، چاپ اول: بیروت، دارالکتب العلمیہ، 1415 ھ۔
  • ابن حجر عسقلانی، تبصیر المنتبہ، قاہرہ، دارالقومیۃ العربیہ۔
  • ابن حجر عسقلانی، تہذیب التہذیب، چاپ اول: بیروت، دارالفکر، 1404 ھ۔
  • ابن سعد، «ترجمۃ الحسین و مقتلہ»، تحقیق سید عبد العزیز طباطبایی، فصلنامہ تراثنا، سال سوم، شمارہ 10، 1408 ھ۔
  • ابن شہرآشوب، مناقب آل ابی طالب، تحقیق یوسف بقاعی، بیروت، افست دارالاضواء، 1421ھ۔
  • ابن صباغ مالکی، الفصول المہمہ، تہران، مؤسسۃ الاعلمی، [بے تا]۔
  • ابن عبد ربہ، احمد بن محمد، العقد الفرید، تحقیق علی شیری، چاپ اول: بیروت، داراحیاء التراث العربی، 1409 ھ۔
  • ابن عبد ربہ، العقد الفرید، مطبعۃ اللجنۃ التألیف و الترجمۃ و النشر، 1365 ھ۔
  • ابن عبد البرّ قرطبی، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، تحقیق شیخ عادل احمد عبد الموجود و شیخ علی محمد معوض، چاپ اول: بیروت، دارالکتب العلمیہ، 1415 ھ۔
  • ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، تحقیق علی شیری، بیروت، دارالفکر، 1415 ھ۔
  • ابن عساکر، ترجمۃ الامام الحسین، تحقیق محمد باقر محمودی، قم، مجمع احیاء الثقافۃ الاسلامیہ، 1414 ھ۔
  • ابن عنبہ، سید جمال الدین احمد بن علی حسنی، عمدۃ الطالب فی أنساب آل ابی طالب، تصحیح محمد حسن آل طالقانی، نجف، مطبعۃ الحیدریہ، 1380ھ۔
  • ابن قتیبہ دینوری، الامامۃ و السیاسہ، تحقیق علی شیری، بیروت، دارالاضواء، 1410ھ۔
  • ابن کثیر دمشقی، ابوالفداء اسماعیل، البدایۃ و النہایہ، تحقیق علی شیری، بیروت، داراحیاء التراث العربی، 1408ھ۔
  • ابن نما حلی، مثیرالأحزان، نجف، مطبعۃ الحیدریہ، 1369 ھ۔
  • ابوالصلاح حلبی، تقریب المعارف، تحقیق فارس تبریزیان حسون، [بے جا]، محقق، 1375ہجری شمسی۔
  • ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، قم، مؤسسہ دارالکتاب، 1385 ھ۔
  • ابوحنیفہ دینوری، الاخبار الطوال، تحقیق عبد المنعم عامر، قاہرہ، داراحیاء الکتب العربیہ، 1960 عیسوی۔
  • اربلی، علی بن عیسی بن ابی الفتح، کشف الغمۃ فی معرفۃ الائمہ، بیروت، دارالأضواء، 1405 ھ۔
  • ازدی غامدی کوفی، ابومخنف لوط بن یحیی، وقعۃ الطف، تحقیق محمد ہادی یوسفی غروی، چاپ سوم: قم، مؤسسۃ النشر الاسلامی، 1417 ھ۔
  • باعونی، محمد بن احمد، جواہر المطالب فی مناقب الامام علی بن ابی طالب، تحقیق محمد باقر محمودی، قم، مجمع احیاء الثقافۃ الاسلامیہ، 1415 ھ۔
  • بلاذری، احمد بن یحیی جابر، انساب الاشراف، تحقیق سہیل زکار و ریاض زرکلی، بیروت، دارالفکر، 1417 ھ۔
  • بلخی، ابوزید احمد بن سہل، البدء والتاریخ، بیروت، دارالکتب العلمیہ، 1417ھ۔
  • تستری، شیخ محمدتقی، قاموس الرجال، قم، مؤسسۃ النشر الاسلامی۔
  • تمیمی بستی، محمد بن حبّان بن احمد، الثقات، چاپ اول: [بے جا]، مؤسسۃ الکتب الثقافیہ، 1393 ھ۔
  • تمیمی مغربی، ابوحنیفہ نعمان بن محمد، شرح الأخبار فی فضائل الائمۃ الاطہار، تحقیق سید محمد حسینی جلالی، قم، مؤسسۃ النشر الاسلامی، [بے تا]۔
  • جرجانی شجری، یحیی بن حسین بن اسماعیل، الامالی الخمیسیہ، بیروت، عالم الکتب۔
  • جعفریان، رسول، تأملی در نہضت عاشورا، چاپ دوم: قم، انصاریان، 1381ہجری شمسی۔
  • حسینی موسوی، محمد بن ابی طالب، تسلیۃ المُجالس و زینۃ المَجالس، تحقیق فارس حسّون، چاپ اول: قم، مؤسسۃ المعارف الاسلامیہ، 1418ھ۔
  • حلی، رضی الدین علی بن یوسف مطہر، العدد القویہ، تحقیق سید مہدی رجائی، چاپ اول: قم، مکتبہ آیت اللہ المرعشی النجفی، 1408ھ۔
  • خوارزمی، موفق بن احمد، مقتل الحسین، تحقیق محمد طاہر سماوی، قم، دارانوار الہدی، 1418 ھ۔
  • خواند میر، غیاث الدین بن ہمام الدین حسینی، تاریخ حبیب السیر فی اخبار افراد بشر، تہران، انتشارات کتابخانہ خیام، 1333۔
  • دولابی، محمد بن احمد، الذریۃ الطاہرہ، تحقیق سعد مبارک حسن، کویت، دارالسلفیہ، 1407 ھ۔
  • ذہبی، سیر اعلام النبلاء، بیروت، مؤسسۃ الرسالہ، 1413ھ۔
  • ذہبی، شمس الدین، تاریخ الاسلام، تحقیق عمر عبد السلام تدمُری، چاپ دوم: بیروت، دارالکتاب العربی، 1418ھ۔
  • زرگری نژاد، غلام حسین، نہضت امام حسین و قیام کربلا، چاپ اول: تہران، 1383ہجری شمسی۔
  • سبط ابن جوزی، تذکرۃ الخواص من الامۃ بذکر خصائص الائمہ، تحقیق حسین تقی زادہ، چاپ اول: [بے جا]، مرکز الطباعۃ و النشر للمجمع العالمی لأہل البیت، 1426 ھ۔
  • سبط ابن جوزی، تذکرۃ الخواص، سید صادق بحرالعلوم کے مقدمہ کے ساتھ، تہران، مکتبۃ نینوی الحدیثہ، [بے تا]۔
  • سپہر، محمد تقی، ناسخ التواریخ، چاپ سوم: تہران، کتابفروشی اسلامیہ، 1368 ہجری شمسی۔
  • سلیم بن قیس، کتاب سلیم بن قیس الہلالی، تحقیق محمد باقر انصاری زنجانی، [بے جا، بے نا، بے تا]۔
  • سماوی، محمد بن طاہر، اِبصار العین فی اَنصار الحسین، تحقیق محمد جعفر سماوی، قم، مرکز الدراسات الاسلامیۃ لحرس الثورہ، 1377 ہجری شمسی۔
  • سید ابن طاؤوس، الاقبال بالاعمال الحسنۃ فیما یعمل مرۃ فی السنہ، تحقیق جواد قیومی اصفہانی، [بے جا]، مکتب الاعلام الاسلامی، 1416 ھ۔
  • سید ابن طاؤوس، الملہوف علی قتلی الطفوف، تحقیق فارس حسّون، چاپ چہارم: تہران، دارالاسوہ، 1383 ہجری شمسی۔
  • شافعی، محمد بن طلحہ، کفایۃ الطالب فی مناقب امیرالمؤمنین، تحقیق محمد ہادی امینی، تہران دار احیاء تراث اہل البیت، 1404 ھ۔
  • شافعی، محمد بن طلحہ، مطالب السؤول فی مناقب الرسول، تحقیق ماجد بن احمد العطیہ، بیروت، مؤسسۃام القری، 1420 ھ۔
  • شمس الدین، محمد مہدی، انصار الحسین، چاپ دوم:[بے جا]، الدار الاسلامیہ، 1401 ھ۔
  • شیخ صدوق، الأمالی، تحقیق مؤسسۃ البعثہ، چاپ اول: قم، مؤسسۃ البعثہ، 1417 ھ۔
  • شیخ صدوق، الخصال، تصحیح علی اکبر غفاری، قم، منشورات جماعۃ المدرسین، 1362 ہجری شمسی۔
  • شیخ صدوق، عیون أخبار الرضا، تحقیق شیخ حسین اعلمی، بیروت، مؤسسۃ الاعلمی للمطبوعات، 1404 ھ۔
  • شیخ صدوق، کمال الدین و تمام النعمہ، تصحیح علی اکبر غفاری، قم، مؤسسۃ النشر الاسلامی، 1405ھ۔
  • شیخ طوسی، الامالی، تحقیق مؤسسۃ البعثہ، چاپ اول: قم، دارالثقافہ، 1414 ھ۔
  • شیخ طوسی، رجال الطوسی، تحقیق جواد قیومی، قم، مؤسسۃ النشر الاسلامی، 1415 ھ۔
  • شیخ کلینی، الکافی، تحقیق علی اکبر غفاری، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، 1363 ہجری شمسی۔
  • شیخ مفید، الارشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، تحقیق مؤسسۃ آل البیت لاحیاء التراث، قم، دارالمفید، 1413 ھ۔
  • شیخ مفید، مسارّ الشیعہ، (چاپ شدہ در جلد 7 مؤلفات شیخ مفید)، تحقیق مہدی نجف، چاپ دوم: بیروت، دارالمفید، 1414ھ۔
  • صفدی، صلاح الدین خلیل بن أیبک، الوافی بالوفیات، بیروت، المعہد المانی۔
  • طبرانی، سلیمان بن احمد، المعجم الکبیر، تحقیق حمدی عبد المجید سلفی، چاپ دوم: قاہرہ، مکتبۃ ابن تیمیہ، [بے تا]۔
  • طبرسی، ابومنصور احمدبن علی بن ابی طالب، الاحتجاج، سید محمّد باقر خرسان، نجف، دارالنعمان، 1386 ھ۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، إعلام الوری بأعلام الہدی، چاپ اول: قم، مؤسسۃ آل البیت لاحیاء التراث، 1417ھ۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، تاج الموالید، قم، مکتبۃ آیۃ اللہ مرعشی نجفی، 1406ھ۔
  • طبری، ابوجعفر محمد بن جریر، تاریخ الامم و الملوک، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، 1409 ھ۔
  • طبری، عماد الدین حسن بن علی، کامل بہائی (الکامل البہائی فی السقیفہ)، تہران، مکتبۃ المصطفوی، [بے تا]۔
  • طبری، عماد الدین، بشارۃ المصطفی، تحقیق جواد قیومی اصفہانی، چاپ اول: قم، مؤسسۃ النشر الاسلامی، 1420 ھ۔
  • طبری، محب الدین احمد بن عبد اللہ، ذخائر العقبی فی مناقب ذوی القربی، قاہرہ، مکتبۃ القدسی، 1356ھ۔
  • طبری، محمد بن جریر بن رستم، دلائل الامامہ، تحقیق مؤسسۃ البعثہ، چاپ اول: قم، مؤسسۃ البعثہ، 1413 ھ۔
  • طوسی، محمد بن حسن، مصباح المتہجّد و سلاح المتعبّد، چاپ اول: بیروت، مؤسسۃ فقہ الشیعہ، 1411 ھ۔
  • عاملی، سید محسن امین، اعیان الشیعہ، بیروت، دارالتعارف للمطبوعات، 1406 ھ۔
  • عصفری، خلیفۃ بن خیاط، تاریخ خلیفۃ بن خیاط، تحقیق سہیل زکار، بیروت، دارالفکر، 1414ھ۔
  • عمری، علی بن محمد، المجدی فی انساب الطالبیین، چاپ اول: قم، مکتبۃ آیۃ اللہ مرعشی نجفی، 1409 ھ۔
  • خلیل بن احمد الفراہیدی، ترتیب کتاب العین، تحقیق مہدی المخزومی،ابراہیم سامرائی؛ تصحیح اسعد الطبیب، ناشر: سازمان اوقاف و امور خیریہ،انتشارات اسوہ، چاپ اول، قم، 1414ھ۔
  • قزوینی، زکریا محمد بن محمود، عجائب المخلوقات و غرائب الموجودات، چاپ شدہ در حاشیہ کتاب حیاۃ الحیوان دمیری، [بے جا، بے نا، بے تا]۔
  • کاشفی، ملاحسین، روضۃ الشہداء، قم، نوید اسلام، 1381 ہجری شمسی۔
  • کفعمی، تقی الدین ابراہیم بن علی، المصباح، قم، منشورات الشریف الرضی و زاہدی۔
  • کوفی اسدی، فضیل بن زبیر بن عمر بن درہم، «تسمیۃ من قتل مع الحسین»، تحقیق سید محمد رضا حسینی جلالی، فصلنامہ تراثنا، شمارہ 2، 1406ھ۔
  • مامقانی، عبد اللہ، تنقیح المقال، تہران، انتشارات جہان، [بے تا]۔
  • مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، چاپ دوم: بیروت، مؤسسۃ الوفاء، 1403ھ۔
  • مجلسی، محمد باقر، جلاء العیون، چاپ اول: تہران، رشیدی، 1362 ہجری شمسی۔
  • محلاتی، ذبیح اللہ، فرسان الہیجاء، چاپ دوم: تہران، مرکز نشر کتاب، 1390ھ۔
  • مُحَلّی، حمید بن احمد، الحدائق الوردیہ فی مناقب ائمۃ الزیدیہ، تحقیق مرتضی بن زید محطوری حسنی، چاپ اول: صنعاء، مکتبۃ بدر، 1423ھ۔
  • مسعودی، علی بن حسین، اثبات الوصیہ، قم، انتشارات انصاریان، 1417 ھ۔
  • مسعودی، مروج الذہب و معادن الجوہر، تحقیق سعید محمد لحّام، بیروت، دارالفکر، 1421 ھ۔
  • مسکویہ رازی، ابوعلی، تجارب الامم وتعاقب الہمم، تحقیق ابوالقاسم امامی، چاپ اول: تہران، سروش، 1366 ہجری شمسی۔
  • مشہدی، المزار الکبیر، تحقیق جواد قیومی اصفہانی، چاپ اول: قم، مؤسسۃ النشر الاسلامی، 1419 ھ۔
  • معلوف، لوئیس، المنجد فی الاعلام، چاپ دوازدہم: بیروت، افست دارالمشرق، [بے تا]۔
  • مغربی، قاضی نعمان، دعائم الاسلام، تحقیق آصف بن علی اصغر فیضی، قاہرہ، دارالمعارف، 1383 ھ۔
  • موسوی خویی، ابوالقاسم، معجم رجال الحدیث و تفصیل طبقات الرواہ، چاپ پنجم: [بے جا، بے نا ]، 1413 ھ۔
  • میر خواند، تاریخ روضۃ الصفا، تصحیح جمشید کیان فر، چاپ اول: تہران، اساطیر، 1380ہجری شمسی۔
  • نویری، شہاب الدین احمد بن عبد الوہّاب، نہایۃ الارب فی فنون الادب، قاہرہ، مکتبۃ العربیہ، 1395 ھ۔
  • نیشابوری، محمد بن فتال، روضۃ الواعظین، تحقیق سید محمد مہدی خرسان، قم، منشورات الشریف الرضی، [بے تا]۔
  • ہادی بن ابراہیم وزیر، نہایۃ التنویہ فی ازہاق التمویہ، تحقیق احمد بن درہم ابن عبد اللہ حوریہ و ابراہیم بن مجد الدین بن محمد مؤیدی، چاپ اول: یمن، منشورات مرکز اہل البیت للدراسات الاسلامیہ، 1421 ھ۔
  • ہیتمی، احمد بن حجر، الصواعق المحرقۃ فی ردّ اہل البدع و الزندقہ، تعلیق عبد الوہاب عبد اللطیف، چاپ دوم: قاہرہ، مکتبۃ القاہرہ، 1385ھ۔
  • یوسفی غروی، محمدہادی، وقعۃ الطف، چاپ سوم: قم، مؤسسۃ النشر الاسلامی، 1417 ھ۔

بیرونی روابط