محمد بن علی بن عبد اللہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(محمد بن علی سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
محمد بن علی بن عبد اللہ
أبي عبد الله محمد الكامل ذو الثنفات بن علي السجاد بن عبد الله حبر القرآن بن العباس السقاء بن سيد قريش عبد المطلب شيبة الحمد أبو الخ.png 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 671  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
حمیمہ  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 743 (71–72 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد ابوالعباس السفاح، ابو جعفر المنصور، ابرایم الامام  ویکی ڈیٹا پر اولاد (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد علی ابن عبد اللہ ابن عباس  ویکی ڈیٹا پر والد (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی

نام و نسب[ترمیم]

آپ کا نام (محمد) اور کنیت (ابو ابراہیم) ہے آپ علی بن عبد اللہ بن عباس کے سب سے بڑے بیٹے ہے آپ 62 ھ میں پیدا ھوئے آپ کی والدہ عباس بن عبد المطلب کی پوتی تھی۔

ابتدائی تعلیم[ترمیم]

آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت ماں باپ کے آغوش میں ھوئی۔ آپ نے علم حدیث اپنے والد علی بن عبد اللہ بن عباس سے حاصل کی اور علم تفسیر آپ کو دادا عبد اللہ بن عباس سے ورثہ میں ملی۔

جانشینی[ترمیم]

آپ کا شمار تابع تابعین میں ہوتا ہے۔ آپ عباسی، شیعہ اور راوندیہ کے پانچویں امام تھے۔ امام عبد اللہ ابو ہاشم علوی نے محمد بن علی کو اپنا جانشین مقرر کیا کیونکہ آپ لاولد تھے۔ محمد بن علی نے امامت پر فائز ھوتے ہی دعوت بنی عباس کا آغاز فرمایا اور مختلف مقامات پر اپنے داعی روانہ فرمائے عراق کی طرف میسرہ کو بھیجا، محمد بن خنیس، ابو عکرمتہ السراج جن کو ابو محمد صادق بھی کہتے ہے اور حبان العطاء جو ابراہیم بن سلمہ کے ماموں تھے ان سب کو خراسان بھیجا۔ یہ زمانہ عمر بن عبد العزیز کا تھا ان کی طرف سے خراسان کا حاکم جراح بن عبد اللہ حکمی تھا امام نے داعی کو روانہ کرتے وقت کو یہ ہدایت کی تھی، "میری اور میرے اہل بیت کی طرف لوگوں کو ترغیب دو اور عام طور پر اس امر کی طرف توجہ کرو کہ امام میں ہی ھوں اور جو تمھاری دعوت قبول کر لیں ان کے دستخط بھی لے لینا"

دعوتِ بنی عباس میں کامیابی[ترمیم]

109ھ میں امام محمد بن علی نے دعوتبنی عباس کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے اپنے معتبر داعی زیاد کوخراسان بھیجا اور ہدایت کی قبیلۂ یمن میں ٹھہرنا اور قبیلہ مْضَر کے ساتھ نرمی اور محبت سے پیش آنا۔ قبیلہ ابر میں ایک غالب نامی شخص ہے اس سے تعلقات نہ رکھنا کیونکہ وہ آل ابی طالب کا طرفدار ہے۔ زیاد نے مرو میں قیام کیا۔ یحییٰ بن عقیل خزاعی اور ابراہیم بن الخطاب عددی ان سے آکر ملے اس نے ان میں سرگرمی عمل کی روح پھونک دی۔ نقباء نے مضافات خراسان میں جاکر آل عباس کی فضیلت اور بنو مروان کے ظلم و تشدد حالت بیان کرنی شروع کی۔ لوگ جوق در جوق دعوت بنی عباس کے ہمنوا ہو گئے۔

امام محمد کی پیشن گوئی[ترمیم]

آپ نے فرمایا تھا ہمارے لیے تین وقت مقرر ہیں ایک ظالم یزید بن معاویہ کی موت، دوسرا ہجرت کی پہلی صدی کا خاتمہ اور تیسرا افریقا کا فتنہ اس آخری موقع ہر ہمارے داعی علی الاعلان ہمارے لیے تحریک کریں گے اور مشرق سے ہمارے انصار ایسی زبردست جمعیت کے ساتھ امنڈ آئیں گئے کہ تمام مغرب ان کے گھوڑوں سے پر ہو جائے گا اور ظالموں کے تمام خزانوں پر قبضہ کر لیں گے۔ چنانچہ آپ کی یہ پیشن گوئی حرف بحرف درست ثابت ہوئی۔

وفات[ترمیم]

امام محمد بن علی زہد و تقوٰی کے ساتھ سیاسی آدمی تھے یہی وہ بزرگ ہیں جو اپنے حسن لیاقت سے دعوت بنی عباس کو بڑے پیمانے پر بروئے کارلائے آپ کی وفات 125ھ میں ہوئی آپ نے اپنے بیٹے ابراہیم بن محمد بن علی کو اپنا جانشین مقرر کیا۔

اولاد[ترمیم]

آپ کے آٹھ بیٹے تھے ابراہیم بن محمد بن علی، ابو العباس السفاح، ابو جعفر المنصور، عیسٰی بن محمد بن علی، عبد الصمد بن محمد بن علی، صالح بن محمد بن علی، اسماعیل بن محمد بن علی اور داؤد بن محمد بن علی[1][2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تاریخ ملت جلد 2
  2. تاریخ طبری جلد 7