اہل بیت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

اہلِ بیت عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی "گھر والے" کے ہیں۔ انہیں پنج تن پاک بھی کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کفار سے مباہلہ کرنے کے لیے نکلے تو یہی حضرات آپ کے ساتھ تھے۔ ایک دفعہ آپ نے ان حضرات کو اپنی چادر میں لے کر فرمایا (اے اللہ ، یہ میرے اہل بیت ہیں۔)

اہل بیت میں شامل شخصیات

شیعہ نکتہ نظر سے

شیعہ نکتہ نظر سے اہل بیت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صاحبزادی فاطمۃ الزھراء رضی اللہ عنہا، آپ کے چچا زاد اور داماد حضرت علی اور ان کے صاحبزادے حضرت امام امام حسن رضی اللہ عنہ اورحضرت امام حسین رضی اللہ عنہ شامل ہیں۔ یہ تمام افراد اصحاب کساء کے نام سے بھی مشہور ہیں۔

اہلسنت نکتہ نظر سے

اہلسنت کے نکتہ نظر سے اہل بیت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج مطہرات، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صاحبزادی فاطمۃ الزھراء رضی اللہ عنہا، آپ کے چچا زاد اور داماد حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے صاحبزادے حضرت امام امام حسن رضی اللہ عنہ اورحضرت امام حسین رضی اللہ عنہ شامل ہیں۔

بعض سنی علماء خلافت عباسیہ کے بانی حضرت عباس بن عبدالمطلب کی اولاد کو بھی اہل بیت میں شمار کرتے ہیں۔

امام سیوطی کے مطابق

امام سیوطی نے جلالین میں اھل بیت سے مراد سارے اھل بیت اللہ لی ہے ،کیونکہ ان کے لئے بیت اللہ بناتے وقت دو نبیوں نے دعا فرمائی تھی ! وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (127) رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِن ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا ۖ إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ (128) رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ (ای فی اھل البیت )رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (129)

احادیثِ نبوی

رسول کے اہلبیت

ام المومنین ام سلمہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم نے علی ، فاطمہ ، حسن اور حسین کو جمع فرما کر ان کو اپنی چادر میں لے لیا اور فرمایا: پروردگار! یہ میرے اہلبیت ہیں۔ (طبرانی؛ العجم الکبیر ج 3 - طبری جامع البیان فی تفسیر القراآن ج 22)

رسول کی محبت

انس بن مالک فرماتے ہیں نبی اکرم سے عرض کیا گیا: آپ کو اہلبیت میں سے سب سے زیادہ کس سے محبت ہے ؟ آپ نے فرمایا حسن اور حسین سے۔ (ترمذی - ابولمناقب - درالسحابة فی مناقب القرابة و الصحابة)

اہل بیت

اہلِ بیت عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی "گھر والے" کے ہیں۔ انہیں پنج تن پاک بھی کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کفار سے مباہلہ کرنے کے لیے نکلے تو یہی حضرات آپ کے ساتھ تھے۔ ایک دفعہ آپ نے ان حضرات کو اپنی چادر میں لے کر فرمایا (اے اللہ ، یہ میرے اہل بیت ہیں۔)

  • اہل تشیع یا شیعہ (عربی: شيعة) اہل سنت کے بعد مسلمانوں کا دوسرا سب سے بڑا فرقہ ہے۔ اہل تشیع رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد فقط حضرت علی کی امامت کا قائل ہیں اور صرف انھیں رسول اللہ کا جانشین مانتے ہیں۔ شیعہ یا اہل تشیع پہلے تین خلفاء کی خلافت کو تسلیم نہیں کرتے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ رسول اللہ نے دعوت ذوالعشیرہ اور خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر حضرت علی کو اپنا جانشین مقرر کر دیا تھا۔ دعوت ذوالعشیرہ کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ "جو میری مدد کرے گا وہ میرا وزیر میرا وصی اور خلیفہ ہوگا"۔ تینوں دفعہ امام علی علیہ السلام کھڑے ہوئے اور کہا کہ اگرچہ میں چھوٹا ہوں اور میری ٹانگیں کمزور ہیں مگر میں آپ کی مدد کروں گا۔ تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ "اے علی تم دنیا اور آخرت میں میرے وزیر اور وصی ہو"۔ اس کے علاوہ حضور نے حجۃ الوداع کے بعد غدیر خم کے علاقے میں ایک خطبہ میں فرمایا کہ "جس کا میں مولا ہوں اس کے علی مولا ہیں"
  • عربی زبان میں شیعہ کا لفظ دو معنی رکھتا ہے۔ پہلا کسی بات پر متفق ہونا اور دوسرا کسی شخص کا ساتھ دینا یا اس کی پیروی کرنا۔ قرآن میں کئی جگوں پر یہ لفظ اس طرح سے آیا ہے جیسے سورہ قصص کی آیت 15 میں حضرت موسی کے پیروان کو شیعہ موسی کہا گیا ہے اور دو اور جگہوں پر ابراہیم کو شیعہ نوح کہا گیا ہے۔ اسلام کی تاریخ میں شیعہ کا لفظ کسی شخص کے پیروان کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ جیسا کہ حضرت علی اور حضرت امیر معاویہ کے اختلافات کے زمانے میں ان کے حامیوں کو بالترتیب شیعان علی ابن ابو طالب اور شیعان معاویہ بن ابو سفیان کہا جاتا تھا[حوالہ درکار]۔ صرف لفظ شیعہ اگر بغیر تخصیص کے استعمال کیا جائے تو مراد شیعانِ علی ابن ابو طالب ہوتی ہے، وہ گروہ جو اس اختلاف میں حضرت علی ابن ابی طالب کا حامی تھا اور جو ان کی امامت کا عقیدہ رکھتا ہے
  • ۔شیعہ عقائد کے مطابق شیعیت کا آغاز پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور حیات میں اس وقت ہوا جب پہلی بار حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آیہ [اولئک هم خیر البریه] کے تفسیر میں علی سے خطاب کرکے کہا "تو اور ترے شیعان قیامت کے دن سرخرو ہونگے اور خدا بھی تو اور تیرے شیعوں سے راضی ہوگا۔ اس وقت صحابہ میں سے چار لوگوں کو حضرت علی کا شیعہ کہا جاتا تھا: سلمان فارسی ، ابوذر غفاری ، مقداد بن اسود اور عمار بن یاسر[ح

ذیلی فرقے

اثنا عشری

اثناعشریہ(یعنی بارہ امام)،اہل تشیع (یعنی شیعہ) کا سب سے بڑہ گروہ ماننا جاتا ہے۔ قریبا 80 فیصد شیعہ اثنا عشریہ اہل تشیع ہیں۔ ایران، آذربائجان، لبنان، عراق، اور بحرین میں ان کی اکثریت ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے ممالک میں بھی ہیں۔ پاکستان میں اہل سنت کے بعد اثنا عشریہ اہل تشیع کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔ اثنا عشریہ کی اصطلاح بارہ ائمہ کی طرف اشارہ کرتی ہے جن کا سلسلہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا زاد اور داماد علی علیہ السلام سے شروع ہوتا۔ یہ خلافت پر یقین نہیں رکھتے اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد ان کے جانشین امام علی علیہ السلام ہیں اور کل بارہ امام ہیں جن کا تذکرہ احدیث میں آتا ہے۔ کم و بیش تمام مسلمان ان ائمہ کو اللہ کے نیک بندے مانتے ہیں تاہم اثنا عشریہ اہل تشیع ان ائمہ پر اعتقاد کے معاملہ خصوصی شہرت رکھتے ہیں۔ ان بارہ ائمہ کے نام یہ ہیں:

  1. علی
  2. حسن
  3. حسین
  4. زین العابدین
  5. محمد باقر
  6. جعفر صادق
  7. موسی کاظم
  8. علی رضا
  9. محمد تقی
  10. علی نقی
  11. حسن عسکری
  12. امام مہدی
اثنا عشریہ

اہل تشیع اور دوسرے مسلمانوں میں ان کے وجود کے دور اور ظہور کے طریقوں کے بارے میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔

اسماعیلی

چھٹے امام جعفر صادق کی وفات پر اہل تشیع کے گروہ ہو گئے۔ جس گروہ نے ان کے بیٹے اسماعیل کو ، جو والد کی حیات میں ہی وفات پا گئے تھے ، اگلا امام مانا وہ اسماعیلی کہلائے۔ اس گروہ کے عقیدے کے مطابق اسماعیل بن جعفر ان کے آخری امام ہیں۔

جس گروہ نے حضرت موسی کاظم علیہ السلام کو اگلا امام مانا وہ اثنا عشری کہلائے کیونکہ یہ بارہ اماموں کو مانتے ہیں۔

زید

شیعہ نکتہ نظر سے

  • شیعہ نکتہ نظر سے اہل بیت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صاحبزادی فاطمۃ الزھراء رضی اللہ عنہا، آپ کے چچا زاد اور داماد حضرت علی اور ان کے صاحبزادے حضرت امام امام حسن رضی اللہ عنہ اورحضرت امام حسین رضی اللہ عنہ شامل ہیں۔ یہ تمام افراد اصحاب کساء کے نام سے بھی مشہور ہیں
  • ام المومنین ام سلمہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم نے علی ، فاطمہ ، حسن اور حسین کو جمع فرما کر ان کو اپنی چادر میں لے لیا اور فرمایا: پروردگار! یہ میرے اہلبیت ہیں۔ (طبرانی؛ العجم الکبیر ج 3 - طبری جامع البیان فی تفسیر القراآن ج 22)
  • ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ نبی اکرم نے فرمایا : حسن اور حسین جننتی جوانوںکے سردار ہیں ۔ ( حاکم ؛ امستدرک ج 3 - سیوطی ؛ الدرالمنثور )
  • انس بن مالک فرماتے ہیں نبی اکرم سے عرض کیا گیا: آپ کو اہلبیت میں سے سب سے زیادہ کس سے محبت ہے ؟ آپ نے فرمایا حسن اور حسین سے۔ (ترمذی - ابولمناقب - درالسحابة فی مناقب القرابة و الصحابة)
  • عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے :نبی اکرم نے فرمایا جس نے حسن و حسین سے دشمنی رکھی اُس نے مجھ سے دشمنی رکھی ۔ (ابن عدی ، الکامل )
  • قرآن کی ایک آیت نازل ہوئی (سورہ الاحزاب آیت 33) جسے آیت تطہیر کہا جاتا ہے۔ اس روایت کو بے شمار علما نے اس آیت کی تفسیر کے ذیل میں بھی نقل کیا ہے۔ آیت کا ترجمہ ہے کہ خدا نے ارادہ کر لیا ہے کہ آپ لوگوں سے رجس کو دور رکھے اے اہل بیت اور آپ کو پاک و پاکیزہ رکھے۔ یہ روایت صحیح مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی اسی طرح منقول ہے جس میں انہوں نے یمنی چادر کی جگہ اونٹ کے بالوں سے تیار کردہ سیاہ چادر کا ذکر کیا ہے

حدیث کساء

  • حدیث کساء (حديث الكساء) حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک مشہور حدیث ہے جس کی مستند روایات بے شمار کتابوں میں موجود ہیں۔ یہ حدیث حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے روایت کی ہے اور بے شمار لوگوں نے اسے مزید روایت کیا ہے جن میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نمایاں ہیں۔ یہ حدیث صحیح مسلم، صحیح ترمذی، مسند احمد بن حنبل، تفسیر طبری، طبرانی، خصائص نسائی اور دیگر کتابوں میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ اسے ابن حبان، حافظ ابن حجر عسقلانی اور ابن تیمیہ وغیرہ نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے۔ یہ حدیث قرآن کی ایک آیت کی وجہ نزول بھی بتاتی ہے جسے آیہ تطہیر کہتے ہیں۔ تمام حوالوں کی فہرست نیچے درج کی جائے گی۔

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا سے روایت کی ہے کہ ایک دن حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی بیٹی حضرت فاطمہ کے گھر تشریف لائے۔ وہ ایک بڑی یمنی چادر اوڑھ کر آرام فرمانے لگے۔حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے روایت کی ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح نورانی تھا۔ تھوڑی دیر میں نواسہ رسول حضرت حسن بن علی گھر آئے تو انہوں نے اپنی والدہ سے کہا کہ مجھے اپنے نانا رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔ بعد میں انہوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سلام کیا۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جواب دیا اور انہیں اپنے ساتھ چادر اوڑھا دی۔ کچھ دیر بعد رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دوسرے نواسے حضرت حسین بن علی آئے۔ انہوں نے بھی نانا کی موجودگی محسوس کی سلام کیا اور چادر اوڑھ لی۔ کچھ دیر کے بعد حضرت علی ابن ابوطالب کرم اللہ وجہہ تشریف لائے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سلام کیا جنہوں نے انہیں اپنے ساتھ چادر اوڑھا دی۔ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا فرماتی ہیں کہ میں بھی اجازت لے کر چادر میں داخل ہو گئی۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چادر پکڑی اور دائیں ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ اے خدا یہ ہیں میرے اہل بیت ہیں، یہ میرے خاص لوگ ہیں، ان کا گوشت میرا گوشت اور ان کا خون میرا خون ہے۔ جو انہیں ستائے وہ مجھے ستاتا ہے اور جو انہیں رنجیدہ کرے وہ مجھے رنجیدہ کرتا ہے۔ جو ان سے لڑے میں بھی ان سے لڑوں گا اور جو ان سے صلح کرے میں ان سے صلح کروں گا۔ میں ان کے دشمن کا دشمن اور ان کے دوست کا دوست ہوں کیونکہ وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔ پس اے خدا تو اپنی عنائتیں اور اپنی برکتیں اور اپنی رحمتیں اور اپنی بخشش اور اپنی خوشنودی میرے لیے اور ان کے لیے قرار دے۔ ان سے رجس کو دور رکھ اور ان کو پاک کر بہت ہی پاک

فرقہ کے لفظی معنی

فرقہ کا لفظ فرق سے بنا ہے جس کے معنی مختلف یا الگ کرنے یا تمیز کرنے کے ہوتے ہیں ، مگر جب بات مذہب کی ہو تو اس سے مراد اختلاف ، قطع یا منحرف کی لی جاتی ہے یعنی کسی ایک مذہب میں اسکے ماننے والوں میں ایسے گروہ واقع ہونا کہ جن میں آپس میں متعدد یا چند امور یا ارکان یا خیالات میں (واقعتاً یا مجازاً) اختلاف پایا جاتا ہو اور وہ ایک دوسرے سے انحراف رکھتے ہوں ، اس مذہب کے فرقے کہلاتے ہیں اور یہ عمل فرقہ بندی کہلاتا ہے۔ فرقہ کی جمع ؛ فرقے یا فرقات کی جاتی ہے

بیرونی روابط

اہلسنت روابط:

شیعہ روابط: