روح القدس (اسلام)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

اسلام میں روح القدس سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہیں۔ قرآن پاک کی سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر87 میں یہ فرمایا گيا ہے اورالبتہ تحقیق ہم نے عیسی بن مریم کوروشن دلیلیں دیں اور روح القدس سے ان کی تائيدکروائی۔

شیخ شنقیطی رحمہ اللہ تعالی اللہ تعالی کےفرمان ‘‘‘اور روح القدس سے ان کی تائيدکروائی‘‘‘ کے بارہ میں کہتے ہیں صحیح بات یہ ہے کہ اس سے مراد جبریل علیہ السلام ہی ہیں ، اوراس کی دلیل اللہ تعالی کایہ فرمان ہے ‘‘‘پھرہم نے اس کے پاس اپنی روح جبریل علیہ السلام کوبھیجا ‘‘‘۔ [1]

ابن ابی حاتم نے احمد بن سنان سے بیان کیا ہے کہ ہمیں ابوالزعراء نے بتایا کہ عبداللہ نے فرمایا ، روح القدس جبریل علیہ السلام ہیں ، پھر کہنے لگے اور محمد بن کعب القرظی اورقتادہ اورعطیہ العوفی اور سدی اور ربیع بن انس رحمہ اللہ تعالی سے بھی یہی روایت ہے ۔

اوپربیان کیے گۓ اقوال سے بھی اس کی تائيد ہوتی ہے اور اس کی تائید صحیح بخاری ومسلم کی اس حدیث سے ہوتی ہے :

ابو سلمۃ بن عبدالرحمن بن عوف نے حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ تعالی سے سنا کہ وہ ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے گواہی طلب کررہے تھے میں آپ کواللہ تعالی کی قسم دے کرپوچھتاہوں کہ کیا آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا کہ اے حسان رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جواب دے ، اور انہوں نے یہ بھی کہا : اے اللہ روح القدس کے ساتھ اس کی تائيد فرما، تو ابوھریرہ رضی اللہ تعالی نے کہا جی ہاں ۔[2] شیخ الاسلام ابن تیمیہ کا قول ہے :

جمہور علماء کا کہنا ہے کہ اس سے مراد جبریل علیہ السلام ہی ہیں ، بیشک اللہ تعالی نے ان کا نام روح الامین اور روح القدس اور جبریل بھی رکھا ہے [3] ۔

اور اس کے متعلق ایک فصل بناتے ہوۓ فرماتے ہیں : روح القدس کے بارے میں فصل : اللہ تبارک وتعالی کا فرمان ہے

اے عیسی بن مریم اپنے اوپراور اپنی والدہ پرمیری نعمتوں کویاد کرو جب میں نے تجھے روح القدس کے ساتھ تائيد کروائی

تو بلاشک وشبہ اللہ تعالی نے عیسی بن مریم علیہ السلام کی تائید روح القدس کے ساتھ کی جیسا کہ اس آیت میں ذکر ہوا اورسورۃ البقرۃ میں اللہ تبارک وتعالی کا فرمان ہے :

اور البتہ تحقیق ہم نے عیسی بن مریم کوروشن دلیلیں دیں اور روح القدس سے ان کی تائيد کروائی

اوراللہ سبحانہ وتعالی کاارشاد ہے :

یہ رسول ہیں جن میں سے ہم نے بعض کوبعض پر فضیلت دی ہے ، ان میں سے بعض وہ ہیں جن سے اللہ تعالی نے کلام فرمائ اوربعض کے درجات بلند فرماۓ ، اور ہم نے عیسی بن مریم ( علیہ السلام ) کومعجزات عطا فرماۓ اور روح القدس سے ان کی تائيد کی

اور روح القدس کے ساتھ تائيد صرف عیسی بن مریم علیہ السلام کے ساتھ ہی خاص نہيں بلکہ ان کےعلاوہ دوسروں کی تائید ہوئ اور ان کا ذکر بھی ہوا ہے ، داود علیہ السلام کوبھی کہا گیا کہ روحک القدس لاتنزع منی ، اورہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان بن ثابت رضي اللہ تعالی عنہ کے لیے فرمایا تھا : اے اللہ حسان کی روح القدس کےساتھ تائید فرما ، اور دوسری روایت کے لفظ ہیں کہ " جب تک تو اللہ تعالی کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کادفاع کرتا رہےگا روح القدس تیرے ساتھ ہے " یہ دونوں الفاظ صحیح میں ہیں ۔

اور نصاری کے ہاں یہ ہے کہ حواریوں میں روح القدس حلول کرگئ اور اسی طرح ان کے ہاں روح القدس سب انبیاء کے پاس آیا ، اور اللہ تبارک وتعالی نے سورۃ النحل میں ارشاد فرمایا ہے :

کہہ دیجۓ ! کہ اسے آپ کے رب کی طرف سے روح القدس ( جبریل ) حق کے ساتھ لے کرآۓ ہیں تاکہ ایمان والوں کواللہ تعالی استقامت عطا فرماۓ اورمسلمانوں کی راہنمائ اور بشارت ہوجاۓ ۔

اور ایک جگہ اللہ تعالی نے فرمایا :

اسے آپ کے دل پر روح الامین ( جبریل علیہ السلام ) نے اتارا ہے

۔

اور فرمان باری تعالی ہے :

کہہ دیجۓ ! جو جبریل (علیہ السلام ) کا دشمن ہے کیونکہ جبریل نے اسے آپ کے دل پر اللہ تعالی کے حکم سے اتارا ہے

۔

تو اس یہ ظاہر ہوا کہ یہاں پر روح القدس سے مراد جبریل علیہ السلام ہیں ، وہ ( شیخ الاسلام ) کہتے ہيں کہ :

کسی سے نے بھی یہ نہیں کہا کہ اس سے اللہ تعالی کی زندگی مراد ہے اور نہ ہی اس پرالفاظ ہی دلالت کرتے ہیں اور نہ ہی اس معنی میں استعمال ہوۓ ہيں ، [4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. القرآن: مریم آیت 17
  2. التفسیر المسبور داکٹر حکمت بشیر ( 1 / 192 - 193 ) ۔
  3. دقائق التفسیر ( ج 1 ص 310 )
  4. دقائق التفسیر ( ج 2 ص 92 ) ۔