قوم ابراہیم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

قوم ابراہیم سے مراد ان کی وہ قوم ہے جس کو انہوں نے توحید کی دعوت دی، پھر ان سے مایوس ہو کر اللہ کے حکم سے انہوں نے ہجرت فرمائی۔

قرآن میں ذکر[ترمیم]

قرآن میں دو مرتبہ ذکر موجود ہے۔

  • Ra bracket.png أَلَمْ يَأْتِهِمْ نَبَأُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ قَوْمِ نُوحٍ وَعَادٍ وَثَمُودَ وَقَوْمِ إِبْرَاهِيمَ وِأَصْحَابِ مَدْيَنَ وَالْمُؤْتَفِكَاتِ أَتَتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا كَانَ اللّهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلَـكِن كَانُواْ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ Aya-70.png La bracket.png

کیا نہیں آئی ان کے پاس ان لوگوں کی خبر جو ان سے پہلے گزرے (یعنی) قوم نوح، عاد اور ثمود اور قوم ابراہیم و اہل مدین اور الٹی ہوئی بستیاں آئے ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لے کر تو اللہ ان کے اوپر ظلم کرنے والا نہیں بنا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے تھے۔

  • Ra bracket.png وَقَوْمُ إِبْرَاهِيمَ وَقَوْمُ لُوطٍ Aya-43.png La bracket.png

اور قوم ابراہیم اور قوم لوط بھی

نمرود بادشاہ[ترمیم]

قوم ابراہیم (یعنی نمرود بن کنعان اور اس کی قوم) اللہ تعالیٰ نے اس قوم سے اپنی نعمت چھین کر اس کو طرح طرح کے عذاب میں مبتلا کیا اور ایک حقیر مچھر یا چیونٹی سے ان کے بادشاہ نمرود بن کنعان کو ہلاک کر دیا اور اس کے ساتھیوں کو غارت کر دیا ۔[1]

ابراہیم کی علیحدگی[ترمیم]

قوم ابراہیم کو ہلاک نہ کیا گیا چونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ سے ان کی ہلاکت کے لیے کوئی مطالبہ نہ کیا تھا بلکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کو اور ان کی بت پرستی کو چھوڑ کر ان سے علیحدگی اختیار کرلی تھی۔[2]

عذاب کا ذکر[ترمیم]

قوم ابراہیم (علیہ السلام) دنیا سے مٹ گئی اور ایسی مٹی کہ اس کا نام و نشان تک باقی نہ رہا، اس میں سے اگر کسی کو بقا نصیب ہوا تو صرف ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے مبارک فرزندوں (اسماعیل (علیہ السلام) و اسحاق (علیہ السلام) کی اولاد ہی کو نصیب ہوا۔ قرآن میں اگرچہ اس عذاب کا ذکر نہیں کیا گیا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے نکل جانے کے بعد ان کی قوم پر آیا، لیکن اس کا شمار معذب قوموں ہی میں کیا گیا ہے ۔[3] وقوم ابراہیم “۔ اور براہیم (علیہ السلام) کی قوم کی خبر۔ کہ انہوں نے اللہ تبارک وتعالیٰ کی نافرمانی کی۔

عذاب کی کیفیت[ترمیم]

ان کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس طرح تباہ کیا کہ نمرود ابن کنعان نے ایک بہت بڑی بلڈنگ بنائی تھی اس میں الگ الگ کمرے تھے ،۔ کوئی کمرہ شراب نوشی کے لیے مخصوص تھا کوئی جوے کے لیے مخصوص تھا کوئی بے حیائی کے لیے مخصوص تھا، کوئی کسی کام کے لیے اور کوئی کسی کام کے لیے یہ سارے لوگ اس میں اکٹھے تھے اور اپنی اپنی خواہشات کو پورا کرنے میں لگے ہوئے تھے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے عذاب آیا بلڈنگ گری سب کے سب تباہ ہو گئے ۔[4] قوم ابراہیم جو بڑے بڑے جباروں پر مشتمل تھی، اسے ہلاک کرکے اللہ نے حضرت ابراہیم کو معجزانہ طور پر نجات دی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تفسیر احسن البیان سورۃ التوبہ آیت 70
  2. تفسیر فی ظلال القرآن سید قطب شہید ،الاعراف آیت 79
  3. تفسیر تفہیم القرآن مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی،الشعراء 103
  4. تفسیر ذخیرۃ الجنان سرفراز خان صفدر