مؤمن آل‌ فرعون

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

رجل مومن کون تھا؟ ائمہ تفسیر میں سے مقاتل اور سدی نے فرمایا کہ یہ فرعون کا چچا زاد بھائی تھا اور یہی وہ شخص تھا کہ جس نے اس وقت جبکہ قبطی کے قتل کے واقعہ میں فرعون کے دربار میں علیہ الصلاۃ والسلام کے قتل کی سازش کی شہر کے کنارے سے آکر حضرت موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام کو خبر دی تھی اور یہ مشورہ بھی دیا تھا کہ آپ فوراً مصر سے باہر چلے جائیں، جس کا واقعہ سورۃ قصص میں بیان فرمایا وَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ يَسْعَى ۔
اس رجل مومن کا کیا نام تھا؟ اس رجل مومن کے نام میں اختلاف ہے، مفسرین نے اس کا نام حبیب بتایا ہے مگر صحیح یہ ہے کہ حبیب اس شخص کا نام ہے جس کا قصہ سورۃ یٰسین میں آیا ہے اور بعض نے اس کا نام یشمعان بتایا ہے، سہیلی نے اس نام کو کو اصح قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اس کا نام حزقیل بتایا ہے، ثعلبی نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ سے یہی قول نقل کیا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا صدیقین چند ہیں، ایک حبیب نجار جس کا قصہ سورۃ یٰسین میں ہے دوسرا مومن آل فرعون، تیسرے ابوبکر صدیق اور یہ ان میں افضل ہیں (قرطبی، معارف) خلاصہ التفاسیر جلد چہارم میں فتح محمد تائب رحمہ اللہ تعالیٰ صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ اس مرد مومن کا نام حزقیل تھا، ان کا پیشہ نجاری تھا، ان ہی نے حضرت موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام کے لیے صندوق بنایا تھا، جس میں حضرت موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام کی والدہ نے ان کو بند کرکے دریا میں ڈالدیا تھا اور یہ شخص آل فرعون سے تھا، مصلحتاً اپنے ایمان کو مخفی رکھتا تھا، ان کو بھی جادوگروں کے ساتھ سولی دیدی گئی تھی۔[1]
وقال رجل مومن بعض مفسرین نے ذکر کیا ہے اس آدمی کا نام حبیب تھا ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا نام شمعان تھا۔ سہیلی نے کہا : یہ سب سے صحیح قول ہے، تاریخ طبری میں ہے اس کا نام فیر تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا نام حزقیل تھا، ثعلبی نے یہ قول ابن عباس اور اکثر علما سے ذکر کیا ہے۔ زمحشرمی نے کہا : اس کا حبیب شا شمعان تھا ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا نام خربیل یا جزبیل تھا۔ یہ اختلاف ہے کہ وہ قبطی تھا یا اسرائیلی تھا۔ حسن بصری اور دوسرے علما نے کہا : یہ قبطی تھا ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ فرعون کا چچا زاد تھا یہ سدی کا قول ہے کہا : یہ وہی شخص تھا جو موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ بچا تھا اسی وجہ سے فرمایا : من اٰل فرعون یہ وہ شحص ہے جو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں مراد ہے ’’ وَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ يَسْعَى ‘‘ (القصص : 20) یہ مقاتل کا قول ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : آل فرعون میں اس کے، فرعون کی بیوی اور جس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ڈرایا تھا کوئی اور ایمان نہیں لایا تھا اس نے کہا تھا : سردار تمہیں قتل کرنے کے مشورے کر رہے ہیں۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تفسیر جلالین،جلال الدین سیوطی
  2. االجامع لأحكام القرآن تفسير القرطبی،مؤلف: أبو عبد الله محمد بن أحمد بن أبي بكر بن فرح الأنصاري الخزرجي شمس الدين القرطبی،ناشر: دار الكتب المصریہ القاہرہ