ابولہب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ابولہب
معلومات شخصیت
مقام پیدائش مکہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 624  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
مکہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
اولاد عتبہ بن ابی لہب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
والد عبد المطلب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
والدہ فاطمہ بنت عمرو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والدہ (P25) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی
عملی زندگی
پیشہ بیوپاری،سیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

ابو لہب قریشی سردار تھا۔ اس کا اصل نام عبد العزیٰ بن عبد المطلب اور اس کی کنیت ابو عتبہ تھی۔حسن اور چہرہ کی چمک کی وجہ سے عبدالعزیٰ کی دوسری کنیت ابولہب ہوگئی تھی (شعلہ رو) مفسرین نے کہا ہے کہ یہاں ابولہب کے لفظ سے اس کی کنیت ۔۔۔ مراد نہیں ہے ۔ جس کے ساتھ وہ مشہور تھا ۔ بلکہ اس سے اس کے دوزخی ہونے کیطرف اشارہ کرنا مقصود ہے اس کے علاوہ ذات لہب کے مناسب بھی لفظ ابولہب تھا (عبدالعزیٰ کہنا بے جوڑ تھا)۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حقیقی چچا مگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سخت دشمن تھا۔ قرآن نے اسے ابولہب (آگ کا باپ یعنی جہنمی) کا خطاب دیا۔ اس کی بیوی جمیل بنت حرب بن امیہ، ابوسفیان کی بہن تھی۔ وہ شوہر سے بھی زیادہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دشمن تھی۔ قرآن شریف کے تیسویں پارہ کی سورۃ اللھب میں ان دونوں کا ذکر ہے اور ان کے واسطے عذاب دوزخ کی خبر دی گئی ہے۔ باوجود سخت مخالفت کے بدر کی جنگ میں شریک نہ ہوا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ بیماری کی وجہ سے معذور تھا۔ تین دن کےاندر ہی عدسھ کے مرض میں مبتلا ہو کر مرگیا۔ ابولہب کا نام عبدالعزیٰ بن عبدالمطلب تھا۔

حوالہ جات[ترمیم]