ابولہب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

قریشی سردار۔ اصل نام عبد العزیٰ بن عبد المطلب۔حسن اور چہرہ کی چمک کی وجہ سے عبدالعزیٰ کی کنیت ابولہب ہوگئی تھی (شعلہ رو) اس جگہ کنیت اسلئے ذکر کی کہ نام کا ذکر قبیح تھا اور دوزخی ہونے کی وجہ سے اس کی کنیت کا لغوی معنی اس کے حال کے مناسب تھا (گویا ابولہب کا لغوی ترجمہ دوزخی ہوگیا) اس کے علاوہ ذات لہب کے مناسب بھی لفظ ابولہب تھا (عبدالعزیٰ کہنا بے جوڑ تھا)۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حقیقی چچا مگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سخت دشمن تھا۔ قران نے اسے ابولہب (آگ کا باپ یعنی جہنمی) کا خطاب دیا۔ اس کی بیوی جمیل بنت حرب بن امیہ، ابوسفیان کی بہن تھی۔ وہ شوہر سے بھی زیادہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دشمن تھی۔ قرآن شریف کے تیسویں پارہ کی سورۃ اللھب میں ان دونوں کا ذکر ہے اور ان کے واسطے عذاب دوزخ کی خبر دی گئی ہے۔ باوجود سخت مخالفت کے بدر کی جنگ میں شریک نہ ہوا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ بیماری کی وجہ سے معذور تھا۔ تین دن کےاندر ہی عدسھ کے مرض میں مبتلا ہو کر مرگیا۔ ابولہب کا نام عبدالعزیٰ بن عبدالمطلب تھا۔ مقاتل نے کہا :

حوالہ جات[ترمیم]