طالوت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
طالوت کس جگہ سے نکلا
تعارف
عہد حکومت موسی علیہ وسلم کے بعد
طالوت کے بعد داؤد علیہ السلام

طالوت کا ذکر قرآن کریم میں ایک نیک بادشاہ کے طور پر آیا ہے جو موسی علیہ السلام کے بعد پیغمبر سموئیل علیہ السلام کے وقت میں تخت نشین ہوئے اور بنی اسرائیل کو ظالموں کے ظلم سے نجات دلائی۔بائبل میں طالوت کا نام ساؤل ہے۔

قرآن میں تذکرہ طالوت[ترمیم]

قرآن میں آئے تذکرے کا خلاصہ یہ ہے کہ موسی علیہ السلام کے بعد جب کافی عرصہ گذر گیا اور بنی اسرائیل کے ایک نبی حضرت شمعون سے یا سموئیل سے بنی اسرائیل نے یہ کہا کہ ان کے لیے ایک امیر (بادشاہ) مقرر کر دے تو آپ علیہ السلام نے الله تعالٰی کا یہ فرمان سنایا کہ الله تعالٰی نے تمہارے لیے طالوت کو بادشاہ مقرر کیا ہے تو ان لوگوں نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے جب کہ وہ تو دولت مند بھی نہیں ہے۔ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ الله جس کو چاہتا ہے اپنا ملک دے دیتا ہے۔ چنانچہ جب الله تعالٰی کے فیصلے کے مطابق طالوت بادشاہ بن گئے اور اپنی فوج کے ساتھ جنگ کے لیے روانہ ہوئے تو الله تعالٰی نے فرمایا کہ الله تعالٰی ان کا ایک نہر پر امتحان لیں گے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے امتحان لیا جس میں بہت کم لوگ کامیاب ہوئے۔ کامیاب ہونے والوں کے ساتھ مل کر طالوت نے جالوت اور اس کی فوج سے جنگ کیا۔[1]

جالوت کا قتل[ترمیم]

طالوت کی فوج میں حضرت داؤد علیہ السلام بھی تھے جنھوں نے جالوت کو قتل کیا۔ اور اس طرح سے بنی اسرائیل کو ظالموں کے ظلم سے نجات ملی۔

داؤد علیہ السلام سے رشتہ[ترمیم]

طالوت نے جب جالوت سے جنگ جیت لی اور داؤد علیہ السلام کی شجاعت و ذہانت کو دیکھا تو اپنی بیٹی کا نکاح ان سے کر دیا۔ اس طرح حضرت داؤد علیہ السلام طالوت کے داماد ہوئے۔

تخت و تاج[ترمیم]

اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے طالوت کو جو بادشاہت عطا کی اس میں اپنے داماد یعنی حضرت داؤد علیہ السلام کو بھی شریک کیا اور ان کی وفات کے بعد تخت و تاج (بادشاہت) حضرت داؤد علیہ السلام کو ملی۔ جو اللہ کی مرضی سے تھا

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تفسیرِ قرطبی، پ٢، آیت ٢٤٧ تا ٢٥٢