طائف

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
طائف
الطائف من جبل الهدى1.jpg 

Ta'if, Saudi Arabia locator map.png  نقشہ

انتظامی تقسیم
ملک Flag of Saudi Arabia.svg سعودی عرب  ویکی ڈیٹا پر ملک (P17) کی خاصیت میں تبدیلی کریں[1]
تقسیم اعلیٰ المکہ علاقہ  ویکی ڈیٹا پر انتظامی تقسیم میں مقام (P131) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جغرافیائی خصوصیات
متناسقات 21°16′00″N 40°25′00″E / 21.266666666667°N 40.416666666667°E / 21.266666666667; 40.416666666667  ویکی ڈیٹا پر متناسقاتی مقام (P625) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رقبہ 321 مربع کلومیٹر  ویکی ڈیٹا پر رقبہ (P2046) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بلندی 1879 میٹر  ویکی ڈیٹا پر سطح سمندر سے بلندی (P2044) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مزید معلومات
اوقات مشرقی افریقہ وقت  ویکی ڈیٹا پر منطقہ وقت (P421) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رمزِ ڈاک
21944  ویکی ڈیٹا پر ڈاک رمز (P281) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
باضابطہ ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر باضابطہ ویب سائٹ (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جیو رمز {{#اگرخطا:107968  ویکی ڈیٹا پر جیونیمز شناخت (P1566) کی خاصیت میں تبدیلی کریں|}}
نحوی غلطی
طائف میں ایک خوبصورت مسجد کا منظر

طائف (عربی: الطائف) سعودی عرب کے صوبہ مکہ کا ایک شہر ہے جو مکۃ المکرمہ کے نزدیک واقع ہے۔ یہ سطح سمندر سے 1,700 میٹر (5,600 فٹ) کی بلندی پر واقع ہے۔ طائف کا موسم خوشگوار ہے اس لیے سعودی حکومت کے بیشتر عمال گرمیوں میں طائف منتقل ہو جاتے ہیں۔ اس کی آبادی ساڑھے پانچ لاکھ کے قریب ہے۔ اس کے انگور اور شہد مشہور ہے۔ اس شہر کا تذکرہ اسلامی تاریخ میں بھی آتا ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تبلیغ کے لیے طائف کا سفر کیا تھا لیکن طائف کے لوگوں نے ان سے برا سلوک کیا اور پتھر برسائے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نعلین مبارک لہولہان ہو گئے۔

تاریخ[ترمیم]

چھٹی صدی عیسوی میں اس علاقہ میں بنو ثقیف کا قبیلہ رہتا تھا۔ شہر کے اردگرد دیوار تھی اور لوگ بت پرست تھے۔ ان لوگوں نے کعبہ پر حملہ کے وقت ابرہہ کا ساتھ دیا تھا۔ 620ء میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے طائف کا سفر کیا جو اسلامی تاریخ کا ایک مشہور واقعہ ہے۔ 631ء میں غزوہ تبوک کے وقت مسلمان بہت طاقتور ہو چکے تھے اور طائف والوں نے محسوس کیا کہ وہ اکیلے رہ گئے ہیں اس لیے انہوں نے وفود کو مکہ بھیج کر اسلام قبول کرنے کا اعلان کر دیا۔ عرصہ بعد حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم بن ابی العاص اور مروان بن حکم کو ان کی کچھ حرکتوں کی بنا پر مدینہ منورہ سے شہر بدر کر دیا اور طائف بھیج دیا جہاں سے ان دونوں کو حضرت عثمان کے دور تک واپس آنے کی اجازت نہ ملی۔ طائف پر کافی صدیوں تک عربوں کی حکمرانی رہی مگر اسے 1517ء میں شریف مکہ نے عثمانی سلطان سلیم اول کے حوالے کر دیا۔ 1802ء میں نجدی افواج نے اسے فتح کر لیا جن کا تعلق آل سعود سے تھا مگر 1813ء میں عثمانی سلطان محمود دوم نے اسے واپس حاصل کر لیا۔ 1916ء میں شریف مکہ نے اس پر قبضہ کیا۔ مگر کچھ ہی عرصہ بعد شریف مکہ حسین بن علی اور نجد کے حکمران عبدالعزیز السعود میں اس شہر پر جھگڑا رہا حتیٰ کہ 1926ء میں طائف عبد العزیز السعود کے بادشاہ بننے پر اس کے قبضہ میں آیا اور سعودی عرب کا حصہ بنا۔

طائف میں پیدا ہونے والے اصحاب[ترمیم]

اصحاب جنہوں نے طائف میں سکونت اختیار کی[ترمیم]

متعلقہ مضامین[ترمیم]

  1.   ویکی ڈیٹا پر جیونیمز شناخت (P1566) کی خاصیت میں تبدیلی کریں"صفحہ طائف في GeoNames ID"۔ GeoNames ID۔ اخذ شدہ بتاریخ 5 دسمبر 2019۔