عداس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

عداس ایک جوان عیسائی غلام تھا جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عہد میں طائف میں رہتا تھا، طائف مکہ کے جنوب میں واقع ایک پہاڑی علاقہ ہے۔ وہ طائف کے مغربی ّصوبے سے اس وقت کے نئے دین اسلام سے بہرہ مند ہونے والہ پہلا شخص تھا۔ وہ اصلاً نینوا کا رہنے والا تھا۔جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم طائف کے لوگوں کو دعوت اسلام دینے گئے اور ان لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بچے لگادیے جو آپ پر پتھر پھینکتے تھے جس کی وجہ سے آپ لہو لوہان ہوگئے۔ آپ کے ساتھ آپ کے غلام زید بن حارثہ بھی تھے۔ زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے آپ پر بیہوشی طاری ہوئی تو زید نے آپ کو اپنے کندھےپر اٹھایا اور دوڑ لگا دی، سامنے ایک باغ تھا اس میں داخل ہو کر ایک انگور کی بیل کے نیچے آپ کو لٹا دیا۔ یہ باغ عتبہ بن ربیعہ کا تھا۔ وہ سامنے بیٹھا دیکھا رہا تھا۔ اگر آپ کا سخت دشمن تھا لیکن آپ کی حالت کو دیکھ کر کہنے لگا۔ ہائے طائف والو تم نے محمد کے ساتھ کیا کردیا۔ اور پھر اس نے اپنے غلام عداس کو ایک پلیٹ میں انگور ڈال کر دیے اور کہا وہ سامنے اس شخص کو دے دو اور اسے کہنا تمہیں رشتہ داری کی قسم انہیں کھا لینا واپس نہ لوٹانا۔ جب عداس نے وہ انگور آپ کو پیش کیے تو آپ نے بسم اللہ کہہ کر انگور اٹھایا تو عداس نے حیرانی سےکہا یہ کلمہ تو یہاں کے لوگ نہیں بولتے؟ آپ نے پوچھا تو کہاں کا ہے؟ عداس نے کہا میں نینوا کا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا میرے بھائی یونس علیہ السلام کے شہر کا؟ عداس نے کہا آپ انہیں کیسے جانتے ہیں؟ آپ نے فرمایا وہ اللہ کے نبی تھے اور میں بھی اللہ کا نبی ہوں۔ یہ سن کر عداس نے آپ کے ہاتھ اور پیشانی کو بوسہ دیا اور مسلمان ہوگیا۔

مزید دیکھئے[ترمیم]