عداس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حضرت عداس ؓ
معلومات شخصیت

حضرت عداس ؓ اہل کتاب صحابی رسول تھے۔

نام ونسب[ترمیم]

عداس نام تھا، شیبہ بن ربیعہ کے غلام تھے، نینوا کے مشہور مقام موصل کے کسی گاؤں کے رہنے والے تھے [1] مذہباً عیسائی تھے، جب رسول اللہ صلی لالہ علیہ وسلم اہلِ طائف کواسلام کی دعوت دینے کے لیے طائف تشریف لے گئے اور ان لوگوں نے آپ کے ساتھ بدسلوکی کی اور آپ وہاں سے واپس ہوئے توراستہ میں شیبہ اور عتبہ نے جوآپ کی یہ حالت دیکھ رہے تھے، عداس رضی اللہ عنہ کو انگور کے کچھ خوشے دے کرآپ کے پاس بھیجا، جب عداس رضی اللہ عنہ آپ کے پاس انگور لائے توآپ نے بسم اللہ فرمایا اورلے لیا۔ عداس رضی اللہ عنہ نے تعجب سے کہا کہ یہ توایک نیا طرزِ کلام سُن رہا ہوں، آپ نے فرمایا کہ کہاں کے رہنے والے ہو؟ عداس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نینوا کا رہنے والا ہوں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاں کے حضرت یونس علیہ السلام رہنے والے تھے، عداس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آ پ کوکیسے معلوم ہوا کہ یونس علیہ السلام کون ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ وہ بھی نبی تھے اور میں بھی نبی ہوں۔ [2]

اسلام[ترمیم]

عداس رضی اللہ عنہ نے نبوت کے یہ آثار وصفات دیکھ کر آپ کے دستِ مبارک اور پیروں کا بوسہ لیا اور کہہ اُٹھے: أَشْهَدُ أَنَّكَ عَبْدَ اللهِ وَرَسُوْلُهُ۔ [3] ترجمہ:میں گواہی دیتا ہوں کہ بیشک آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ شیبہ وعتبہ دور سے حضرت عداس رضی اللہ عنہ کی یہ کیفیت دیکھ رہے تھے، جب وہ واپس ہوئے تو انھوں نے کہا کہ تم نے دست بوسی کیوں کی؟ حضرت عداس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ دنیا کے بہترین شخص ہیں، یہ سُن کران دونوں نے کہا کہ کہیں وہ تمھیں تمہارے دین سے برگشتہ نہ کر دیں، تمہارا دین ان کے دین سے بہتر ہے۔ [4]

پختہ ایمان[ترمیم]

بدر کے روز جب دونوں طرف سے جنگ کی تیاریاں ہورہی تھیں توحضرت عداس رضی اللہ عنہ ایک ٹیلہ پربیٹھ گئے، جب شیبہ اور ربیعہ ادھر سے گذرے توآپ نے ان دونوں کا پیر تھام لیا اور فرمایا کہ خدا کی قسم! تم لوگ نبی سے لڑنے کے لیے جا رہے ہو، تم لوگوں کا بچ کرواپس آنا بہت مشکل ہے، حضرت عداس رضی اللہ عنہ کوان دونوں سے ایک گونہ تعلق تھا، اس لیے بہت کچھ سمجھایا مگروہ نہ مانے توآپ الگ غمگین ہوکر بیٹھ گئے۔ (زرقانی نے یہ تمام واقعات تفصیل سے لکھے ہیں اور اصابہ میں بھی یہ واقعات مذکور ہیں [5] زندگی کے دوسرے واقعات کا ذکر رجال کی کتابوں میں نہیں ملتا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

  1. (اصابہ:2/466)
  2. (اسدالغابہ:3/390، ایک روایت میں ہے کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم، فرمایا۔ زرقانی:356)
  3. (اصابہ:2/466)
  4. (البدایہ، جلد:3)
  5. (زرقانی:1/358۔ اصابہ:2/366))