مؤتفکات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

مؤتفکات (الٹی ہوئی بستیاں) وہ بستیاں جن کو ان کے رہنے والوں سمیت پلٹ دیا، یہ قوم لوط علیہ السلام کے اجڑے ہوئے، برباد شدہ شہرہیں،

الٹی ہوئی بستیاں[ترمیم]

مئوتفکۃ کے لغوی معنی اوندھی ہونے والی بستیاں، یہ چند بستیاں متصل متصل تھیں ان کا مرکزی مقام سدوم یا سندوم تھا، یہی وہی مقام ہے جہاں اس وقت بحرمیت واقع ہے، ان بستی والوں کی طرف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے حضرت لوط (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا تھا، نافرمانی اور بےحیائی کے اعمال کی سزا میں ان بستیوں کو حضرت جبرئیل نے الٹ دیا تھا اور اوپر سے ان کے اوپر پتھروں کی بارش کردی تھی۔ [1]

قرآن میں ذکر[ترمیم]

قرآن میں اس کا ذکر تین مقامات پر آیا Ra bracket.png أَلَمْ يَأْتِهِمْ نَبَأُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ قَوْمِ نُوحٍ وَعَادٍ وَثَمُودَ وَقَوْمِ إِبْرَاهِيمَ وِأَصْحَابِ مَدْيَنَ وَالْمُؤْتَفِكَاتِ أَتَتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا كَانَ اللّهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلَـكِن كَانُواْ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ Aya-70.png La bracket.png
Ra bracket.png وَالْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوَى Aya-53.png La bracket.png
Ra bracket.png وَجَاء فِرْعَوْنُ وَمَن قَبْلَهُ وَالْمُؤْتَفِكَاتُ بِالْخَاطِئَةِ Aya-9.png La bracket.png

برباد کرنے والی ہوائیں[ترمیم]

بعض اہل علم کا گمان یہ ہے کہ موتفکات سے مراد وہ ہَوائیں ہیں جو زمین کو بالکل تل پٹ کردیتی ہیں۔ قوم لوط پر بھی اللہ تعالیٰ نے غبار انگیز ہوا بھیجی جو تند ہو کر بالآخر حاصب یعنی کنکر پتھر برسانی والی طوفانی ہوا بن گئی۔ اس سے اول تو ان کے اوپر کنکروں اور پتھروں کی بارش ہوئی، پھر اس نے اس قدر شدت اختیار کرلی کہ اس کے زور سے ان کے مکانات بھی الٹ گئے۔ عذاب کی شدت کے اظہار کے لیے ان دونوں آراء میں کوئی اختلاف نہیں۔ کہنا صرف یہ ہے کہ قوم لوط پر ایسا ہولناک عذاب آیا جس نے ان کی بستیاں الٹ ڈالیں۔ اور پھر یہ ہوا کہ ان بستیوں کے اوپر وہ چیز چھا گئی اور اس نے انھیں ڈھانک دیا جو چیز چھا گئی۔ عربی اسلوب میں یہ انتہائی غیظ و غضب کی علامت بھی ہے اور عذاب کی شدت کی بھی۔ اور اگر اسے امرواقع کا بیان سمجھا جائے تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ان پر بحرمردار کا پانی پھیل گیا۔ اور آج بھی وہ بستیاں ماہرینِ ارض کے خیال کے مطابق اس پانی کے نیچے مدفون ہیں۔ اور اس پانی نے اس طرح ان بستیوں کو ڈھانک لیا کہ ان کا نشان تک نظر نہیں آتا۔[2]

پانچ بستیاں[ترمیم]

طبری نے محمد بن کعب قرظی سے یہ نقل کیا ہے : وہ پانچ بستیاں تھیں صبعہ، صعرہ، عمرہ، دوما اور سدوم سب سے بڑی بستی تھی۔ [3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تفسیر جلالین جلال الدین السیوطی
  2. تفسیرروح القرآن، ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
  3. : الجامع لاحكام القرآن ( تفسير القرطبی) مؤلف: ابو عبد الله محمد بن احمد بن ابوبكر شمس الدين القرطبی ،ناشر: دار الكتب المصریہ القاہرة