آل لوط

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

آل لوط سے مراد لوط علیہ السلام کی قوم نہیں بلکہ ان کے رفقا و پیروکار ہیں، جن میں ان کی بیوی جو ایمان نہ لائی وہ بھی شامل نہیں۔[1]

قرآن میں ذکر[ترمیم]

آل لوظ کا ذکر قرآن میں چار مرتبہ آیا ہے۔

  • سورۂ حجر آیت 59:Ra bracket.png إِلاَّ آلَ لُوطٍ إِنَّا لَمُنَجُّوهُمْ أَجْمَعِينَ Aya-59.png La bracket.png
  • سورۂ حجر آیت 61: Ra bracket.png فَلَمَّا جَاء آلَ لُوطٍ الْمُرْسَلُونَ Aya-61.png La bracket.png
  • سورہ نمل آیت 56: Ra bracket.png فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَن قَالُوا أَخْرِجُوا آلَ لُوطٍ مِّن قَرْيَتِكُمْ إِنَّهُمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ Aya-56.png La bracket.png
  • سورہ قمر آیت 34: Ra bracket.png إِنَّا أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ حَاصِبًا إِلَّا آلَ لُوطٍ نَّجَّيْنَاهُم بِسَحَرٍ Aya-34.png La bracket.png

آل لوط سے مقصود[ترمیم]

آل لوط سے مراد حضرت لوط علیہ السلام کے گھر والے بھی ہیں اور آپ کے ایماندار پیروکار بھی ۔[2]

  • علامہ آلوسی فرماتے ہیں
المراد بآل لوط ہو عليه السلام ومن تبع دينه كما يراد من بني آدم آدم وبنوه۔[3]

آل لوط سے مراد لوط (علیہ السلام) اور وہ سب ہیں جنھوں نے آپ کے دین کو قبول کیا جیسے بنی آدم سے مراد آدم (علیہ السلام) اور ان کی نسل تمام ہے۔

آل کے خاص معنی[ترمیم]

آل بیوی بچوں سب کو کہا جاتا ہے متبعین بھی آل میں داخل ہیں کیونکہ لوط (علیہ السلام) کی مومن اولاد اور سب متبعین کو نجات ملی لیکن آل لوط سے مراد حضرت لوط کے اہل میں سے جو مومن تھے۔ جس میں خود حضرت لوط علیہ الصلا ۃ و السلام اور ان پر ایمان لانے والے لوگ ہیں جن میں حضرت لوط علیہ الصلاۃ و السلام کی بیوی شامل نہیں، کیونکہ وہ مومنہ نہیں تھی، البتہ لوط علیہ الصلاۃ و السلام کی دوبیٹیاں ان کے ساتھ جن کو نجات دی گئی۔[4]

اولاد معنوی[ترمیم]

آل لوط سے یہاں پر مراد حضرت لوط کی صرف صلبی اولاد نہیں بلکہ آپ کی معنوی اولاد بھی اس میں داخل ہے، یعنی آپ کے اتباع اور پیروکار کہ ان سب ہی کو اس نجات سے سرفراز فرمایا گیا۔[5]
ان کی تابعداری اور ان کے دین کے پیروکار ہی صرف آل لوط میں شمار ہوتے ہیں۔ آل لوط سے مراد ان پر ایمان لانے والے تھے، اسی لیے لوط (علیہ السلام) کی بیوی کے بارے میں فورًا ہی کہا گیا کہ وہ کافروں کے ساتھ رہ جائے گی اور ضرور ہلاک کی جائے گی، اس لیے کہ وہ ایمان نہیں لائی تھی۔[6]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سید قاسم محمود۔ شاہکار انسائیکلوپیڈیا قرآنیات۔ لاہور: شاہکار بک فاؤنڈیشن۔ صفحہ 154۔
  2. تفسیر صفوۃ التفاسیر ،تفسیرالمراغی
  3. روح المعانی فی تفسير القرآن العظيم والسبع المثانی ومؤلف: شهاب الدين محمود بن عبد الله الحسينی الألوسی و ناشر: دار الكتب العلمیہ - بيروت
  4. تفسیر جلالین، جلال الدین سیوطی، سورہ القمر آیت33
  5. تفسیر مدنی، مولانا اسحاق مدنی، سورۃ القمر
  6. تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن، محمد لقمان سلفی،سورۃ الحجر57