عمرۃ القضا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

عمرۃ القضاء چونکہ حدیبیہ کے صلح نامہ میں ایک شق یہ بھی تھی کہ آئندہ سال حضور ﷺ مکہ آکر عمرہ ادا کریں گے اور تین دن مکہ میں ٹھہریں گے۔ اس دفعہ کے مطابق ماہ ذوالقعدہ 7ہجری میں آپ ﷺ نے عمرہ ادا کرنے کے لئے مکہ روانہ ہونے کاعزم فرمایا اور اعلان کرا دیا کہ جو لوگ گزشتہ سال حدیبیہ میں شریک تھے وہ سب میرے ساتھ چلیں۔ چنانچہ بجز ان لوگوں کے جو جنگ خیبر میں شہید یا وفات پاچکے تھے سب نے یہ سعادت حاصل کی۔
حضورﷺکو چونکہ کفارمکہ پر بھروسا نہیں تھا کہ وہ اپنے عہد کو پورا کریں گے اس لئے آپ ﷺ جنگ کی پوری تیاری کے ساتھ روانہ ہوئے۔ بوقت روانگی ابو رہم غفاری کو آپ ﷺ نے مدینہ پر حاکم بنا دیا اور دو ہزار مسلمانوں کے ساتھ جن میں ایک سوگھوڑوں پر سوار تھے آپ ﷺ مکہ کے لئے روانہ ہوئے۔ ساٹھ اونٹ قربانی کے لئے ساتھ تھے۔ جب کفارمکہ کو خبر لگی کہ حضورﷺہتھیاروں اور سامان جنگ کے ساتھ مکہ آرہے ہیں تو وہ بہت گھبرائے اور انہوں نے چند آدمیوں کو صورت حال کی تحقیقات کے لئے مرالظہران تک بھیجا۔محمد بن مسلمہ جو اسپ سواروں کے افسر تھے قریش کے قاصدوں نے ان سے ملاقات کی۔ انہوں نے اطمینان دلایا کہ نبی ﷺ صلح نامہ کی شرط کے مطابق بغیر ہتھیار کے مکہ میں داخل ہوں گے یہ سن کر کفارقریش مطمئن ہوگئے۔
چنانچہ حضور ﷺ جب مقام یاجج میں پہنچے جو مکہ سے آٹھ میل دور ہے تو تمام ہتھیاروں کو اس جگہ رکھ دیا اور بشیر بن سعد کی ماتحتی میں چند صحابہ کرام کو ان ہتھیاروں کی حفاظت کے لئے متعین فرما دیا ۔ اور اپنے ساتھ ایک تلوار کے سوا کوئی ہتھیار نہیں رکھا اور صحابہ کرام کے مجمع کے ساتھ لبیک پڑھتے ہوئے حرم کی طرف بڑھے جب رسول اکرم ﷺ خاص حرم کعبہ میں داخل ہوئے تو کچھ کفارقریش مارے جلن کے اس منظر کی تاب نہ لاسکے اور پہاڑوں پر چلے گئے۔ مگر کچھ کفار اپنے دارالندوہ(کمیٹی گھر) کے پاس کھڑے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر بادهٔ توحید و رسالت سے مست ہونے والے مسلمانوں کے طواف کا نظارہ کرنے لگے اور آپس میں کہنے لگے کہ یہ مسلمان بھلا کیا طواف کریں گے؟ ان کو تو بھوک اور مدینہ کے بخار نے کچل کر رکھ دیا ہے۔ حضور ﷺنے مسجد حرام میں پہنچ کر اضطباع کرلیا۔ یعنی چادر کو اس طرح اوڑھ لیا کہ آپ کا داہنا شانہ اور بازو کھل گیا اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ خدا اس پر اپنی رحمت نازل فرمائے جو ان کفار کے سامنے اپنی قوت کا اظہار کرے۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے اصحاب کے ساتھ شروع کے تین پھیروں میں شانوں کو ہلا ہلاکر اور خوب اکڑتے ہوئے چل کر طواف کیا۔ اس کو عربی زبان میں رمل کہتے ہیں۔ چنانچہ یہ سنت آج تک باقی ہے اور قیامت تک باقی رہے گی کہ ہر طواف کعبہ کرنے والا شروع طواف کے تین پھیروں میں رمل کرتا ہے۔[1][2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. بخاری ج1 ص 218 باب کیف کان بدء الرمل
  2. سیرتِ مصطفی مؤلف عبد المصطفیٰ اعظمی ،صفحہ 397، ناشر مکتبۃ المدینہ باب المد ینہ کراچی