خدا کے نام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

خدا کے نام ہر مذہب میں اور ہر زبان میں الگ الگ ہیں، خدا کی صفات تو عام طور پر ایک جیسی ہی ملتی ہیں، کہ وہ خالق ہے، مالک، ہے رز‍ق دینے والا، گناہ معاف کرنے والا، رحم کرنے والا اور دعا سننے والا۔ پھر بھی مختلف مذاہب میں خدا کی کچھ خصوصیات الگ ہیں دوسرے مذہب سے، جس وجہ سے اس مذہب میں خدا کا کچھ ناموں کا مطلب وہ نہیں ہوتا جو باقی مذہب میں ملتا ہے۔ جیسے مسیحیت میں صلیبی موت کے عقیدے نے مسیح کو اکلوتا، بیٹا، روح القدس کا نام دیا کيا ہے۔ جبکہ اسلام میں خدا کے ناموں میں واحد ہے، جس کا معنی ہے کہ وہ صرف ایک ہے، اس کا کوئی بیٹا نہیں۔ مسیحیت، یہودیت میں خدا کو یہوداہ، ایلوہیم، ایل، وہ، میں جو ہوں سو میں ہوں، جیسے نام بھی دیے گئے۔ زبانوں کے فرق سے انسانوں نے اس مالک الملک ہستی کو کہیں اﷲ، کہیں ایشور، کہیں گاڈ، کہیں یہوواہ، کہیں اہور امزدا، کہیں زیوس، کہیں یزداں، کہیں آمن، کہیں پانکو اور کہیں تاؤ کا نام دیا۔ دنیا بھر کے مذہب میں مختلف زبانوں میں اس ہستی کے لیے بیسیوں نام پائے جاتے ہیں۔

اسلام میں اسمائِے الہٰیہ[ترمیم]

اللہ[ترمیم]

مسلمان خدا کے لیے اللہ کا نام استعمال کرتے ہیں، اللہ عربی زبان کا لفظ ہے۔ مسلمان اللہ کو تمام جہانوں کا خالق، مالک اور رب مانتے ہیں۔ اسلام میں اللہ کی ذات کے ساتھ جو خصوصیات منسلک ہیں ان سے توحیدیت کا اظہار ہوتا ہے اور شرک و کفر کی نفی کی جاتی ہے۔ یہ نام قرآن میں کئی مقامات پر خدا کے لیے آیا ہے۔

تصاویر[ترمیم]

نام خدا اللہ مسلمانوں کی ثقافت کا حصہ ہے، مساجد، مزارات، جامعات، کتب، ٹوپیاں، قبروں کے کتبات، گھروں کے آرائشی سامان وغیرہ پر لفظ اللہ کو مختلف انداز میں لکھا جاتا ہے، جیسے خطاطی کہا جاتا ہے۔

اللہ نام مختلف زبانوں میں لکھا ہوا

ننانوے نام[ترمیم]

اللہ کے ذاتی نام 'اللہ' کے علاوہ اللہ کے ننانوے صفاتی نام مشہور ہیں۔ انہیں أسماء الله الحسنى کہا جاتا ہے۔ ان میں سے بیشتر قرآن میں موجود ہیں اگرچہ قرآن میں ننانوے کی تعداد مذکور نہیں مگر یہ ارشاد ہے کہ :

هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۖ هُوَ الرَّحْمَٰنُ الرَّحِيمُ /هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ ۚ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ/هُوَ اللَّهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ ۖ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ ۚ يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

”وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، غائب اور ظاہر ہر چیز کا جاننے والا، وہی رحمٰن اور رحیم ہے_وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ بادشاہ ہے نہایت مقدس، سراسر سلامتی، امن دینے والا، نگہبان، سب پر غالب، اپنا حکم بزور نافذ کرنے والا، اور بڑا ہی ہو کر رہنے والا پاک ہے اللہ اُس شرک سے جو لوگ کر رہے ہیں_وہ اللہ ہی ہے جو تخلیق کا منصوبہ بنانے والا اور اس کو نافذ کرنے والا اور اس کے مطابق صورت گری کرنے والا ہے اس کے لیے بہترین نام ہیں ہر چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہے اُس کی تسبیح کر رہی ہے، اور وہ زبردست اور حکیم ہے_ [1]

عموما روایات میں اللہ کے جو 99 صفاتی نام اسمائے الہٰیہ بتائے جاتے ہیں، ان کا اردو ترجمہ بھی درج کیا جا رہا ہے۔

شمار نام ترجمہ
1 الرحمن بڑی رحمت والا
2 الرحيم نہائت مہربان
3 الملك حقیقی بادشاہ
4 القدوس نہائت مقدس اور پاک
5 السلام جس کی ذاتی صفت سلامتی ہے
6 المؤمن امن و امان عطا کرنے والا
7 المهيمن پوری نگہبانی کرنے والا
8 العزيز غلبہ اور عزت والا، جو سب پر غالب ہے
9 الجبار صاحب جبروت، ساری مخلوق اس کے زیرِ تصرف ہے
10 المتكبر کبریائی اور بڑائی اس کا حق ہے
11 الخالق پیدا فرمانے والا
12 البارئ ٹھیک بنانے والا
13 المصور صورت گری کرنے والا
14 الغفار گناہوں کا بہت زیادہ بخشنے والا
15 القهار سب پر پوری طرح غالب، جس کے سامنے سب مغلوب اور عاجز ہیں
16 الوهاب بغیر کسی منفعت کے خوب عطا کرنے والا
17 الرزاق سب کو روزی دینے والا
18 الفتاح سب کے لیے رحمت و رزق کے دروازے کھولنے والا
19 العليم سب کچھ جاننے والا
20 القابض تنگی کرنے والا
21 الباسط فراخی کرنے والا
22 الخافض پست کرنے والا
23 الرافع بلند کرنے والا
24 المعز عزت دینے والا
25 المذل ذلت دینے والا
26 السميع سب کچھ سننے والا
27 البصير سب کچھ دیکھنے والا
28 الحكم فیصلہ کرنے والا
29 العدل سراپا عدل و انصاف
30 اللطيف لطافت اور لطف و کرم جس کی ذاتی صفت ہے
31 الخبير ہر بات سے با خبر
32 الحليم نہائت بردبار
33 العظيم بڑی عظمت والا، سب سے بزرگ و برتر
34 الغفور بہت بخشنے والا
35 الشكور حسنِ عمل کی قدر کرنے والا، بہتر سے بہتر جزا دینے والا
36 العلي سب سے بالا
37 الكبير سب سے بڑا
38 الحفيظ سب کا نگہبان
39 المقيت سب کو سامانِ حیات فراہم کرنے والا
40 الحسيب سب کے لیے کفایت کرنے والا
41 الجليل عظیم القدر
42 الكريم صاحبِ کرم
43 الرقيب نگہدار اور محافظ
44 المجيب قبول کرنے والا
45 الواسع وسعت رکھنے والا
46 الحكيم سب کام حکمت سے کرنے والا
47 الودود اپنے بندوں کو چاہنے والا
48 المجيد بزرگی والا
49 الباعث اٹھانے والا، موت کے بعد مردوں کو زندہ کرنے والا
50 الشهيد حاضر، جو سب کچھ دیکھتا اور جانتا ہے
51 الحق جس کی ذات و وجود اصلاً حق ہے
52 الوكيل کارسازِ حقیقی
53 القوى صاحبِ قوت
54 المتين بہت مضبوط
55 الولى سرپرست و مددگار
56 الحميد مستحقِ حمد و ستائش
57 المحصى سب مخلوقات کے بارے میں پوری معلومات رکھنے والا
58 المبدئ پہلا وجود بخشنے والا
59 المعيد دوبارہ زندگی دینے والا
60 المحيى زندگی بخشنے والا
61 المميت موت دینے والا
62 الحي زندہ و جاوید، زندگی جس کی ذاتی صفت ہے
63 القيوم خود قائم رہنے والا، سب مخلوق کو اپنی مشیئت کے مطابق قائم رکھنے والا
64 الواجد سب کچھ اپنے پاس رکھنے والا
65 الماجد بزرگی اور عظمت والا
66 الواحد ایک اپنی ذات میں
67 الاحد اپنی صفات میں یکتا
68 الصمد سب سے بے نیاز اور سب اس کے محتاج
69 القادر قدرت والا
70 المقتدر سب پر کامل اقتدار رکھنے والا
71 المقدم جسے چاہے آگے کر دینے والا
72 المؤخر جسے چاہے پیچھے کر دینے والا
73 الأول سب سے پہلے وجود رکھنے والا
74 الأخر سب کے بعد وجود رکھنے والا
75 الظاهر بالکل آشکار
76 الباطن بالکل مخفی
77 الوالي مالک و کارساز
78 المتعالي بہت بلند و بالا
79 البر بڑا محسن
80 التواب توبہ کی توفیق دینے والا، توبہ قبول کرنے والا
81 المنتقم مجرمین کو کیفرِ کردار کو پہنچانے والا
82 العفو بہت معافی دینے والا
83 الرؤوف بہت مہربان
84 مالك الملك سارے جہاں کا مالک
85 ذو الجلال و الإكرام صاحبِ جلال اور بہت کرم فرمانے والا جس کے جلال سے بندے ہمیشہ خائف ہوں اور جس کے کرم کی بندے ہمیشہ امید رکھیں
86 المقسط حقدار کو حق عطا کرنے والا، عادل و منصف
87 الجامع ساری مخلوقات کو قیامت کے دن یکجا کرنے والا
88 الغنى خود بے نیاز جس کو کسی سے کوئی حاجت نہیں
89 المغنى اپنی عطا کے ذریعے بندوں کو بے نیاز کرنے والا
90 المانع روک دینے والا
91 الضار اپنی حکمت اور مشیئت کے تحت ضرر پہنچانے والا
92 النافع نفع پہنچانے والا
93 النور سراپا نور
94 الهادي ہدائت دینے والا
95 البديع بغیر مثالِ سابق کے مخلوق کا پیدا کرنے والا
96 الباقي ہمیشہ رہنے والا، جسے کبھی فنا نہیں
97 الوارث سب کے فنا ہونے کے بعد باقی رہنے والا
98 الرشيد صاحبِ رشد و حکمت جس کا ہر فعل درست ہے
99 الصبور بڑا صابر کہ بندوں کی بڑی سے بڑی نافرمانیاں دیکھتا ہے اور فوراً عذاب بھیج کر تہس نہس نہیں کرتا

قرآن میں اضافی اسمائِے الہٰیہ[ترمیم]

مسلمانوں میں اسمائے الہٰیہ کی ایک تعداد 99 مشہور ہے۔ لیکن اس کے علاوہ بھی قرآن مجید اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کردہ احادیث میں دیگر بہت سے نام بھی ملتے ہیں۔

”اور سارے بہترین نام اﷲ کے لیے ہی ہیں پس اسے انہی سے پکارو اور چھوڑ دو ان لوگوں کو جو اس کے ناموں میں شک کرتے ہیں۔ عنقریب ہم ان سے (اُس کا) بدلہ لیں گے، جو کچھ وہ کرتے تھے“۔[2]

ایسے کچھ نام ذیل میں ہیں۔

شمار نام ترجمہ ماخذ مع حوالہ
1 رَبِّ پروردگار الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔[3]
2 کافی کفایت کرنے والا أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ ۔[4]
3 رفیع الدرجات بلند و بالا درجے والا رَفِيعُ الدَّرَجَاتِ ۔[5]
4 حافظ حفاظت کرنے والا فَاللَّهُ خَيْرٌ حَافِظًا ۔[6]
5 مبین ظاہر کرنے والا أَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِينُ۔[7]
6 قدیر طاقتور، قدرت والا إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ قَدِيرٌ ۔[8]
7 کفیل کفالت کرنے والا، ضامن وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللَّهَ عَلَيْكُمْ كَفِيلًا ۔[9]
8 شاکر رضامند، قدرشناس فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ ۔[10]
9 اکرام کرم والا، بزرگی والا اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ ۔[11]
10 اعلیٰ اونچا، اعلیٰ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى ۔[12]
11 خلاق تخلیق کرنے والا سبَلَى وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ ۔[13]
12 مولیٰ ساتھی، مالک ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ ۔[14]
13 نصیر مددگار وَكَفَى بِاللَّهِ نَصِيرًا ۔[15]
14 الہٰ معبود أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ ۔[16]
15 علام الغیوب غیب کا علم رکھنے والا إِنَّكَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ ۔[17]
16 قاہر غالب إوَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ ۔[18]
17 غافر چھپانے والا غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ ذِي الطَّوْلِ ۔[19]
18 فاطر پیدا کرنے والا الْحَمْدُ لِلَّهِ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۔[20]
19 ملیک مالک، بادشاہ فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ ۔[21]
20 الحفی مہربان سَأَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّي إِنَّهُ كَانَ بِي حَفِيًا ۔[22]
21 محیط احاطہ کرنے والا أَلَا إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ مُحِيطٌ۔[23]
22 مستعان مدد کرنے والا وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ۔[24]
23 غالب غلبہ والا وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ۔[25]
24 شدید العقاب سخت عذاب دینے والا غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ ذِي الطَّوْلِ ۔[26]
25 قابل قبول کرنے والا غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ ذِي الطَّوْلِ ۔[26]
26 اصدق/صادق سچا وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ ۔[27]
27 جاعل بنانے والا إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً ۔[28]
28 اعلم جاننے والا قُلْ أَأَنْتُمْ أَعْلَمُ أَمِ اللَّه ۔[29]
29 اسرع جلدی کرنے والا وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ ۔[30]
30 عاصم بچانے والا لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ ۔[31]
31 عالم جاننے والا عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۔[32]
32 فالق نکالنے والا إِنَّ اللَّهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوَى ۔[33]
33 موہن کمزور کرنے والا وَأَنَّ اللَّهَ مُوهِنُ كَيْدِ الْكَافِرِينَ۔[34]
34 کاشف کھولنے والا فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ ۔[35]
35 راد ہٹانے والا فَلَا رَادَّ لِفَضْلِهِ ۔[35]
36 یدبر الامر تدبیرکرنے والا وَمَنْ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ ۚ فَسَيَقُولُونَ اللَّه۔[36]
37 اٰخذ پکڑنے والا مَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا ۔[37]
38 قریب نزدیک إِنَّ رَبِّي قَرِيبٌ مُجِيبٌ۔[38]
39 واق بچانے والا وَمَا لَهُمْ مِنَ اللَّهِ مِنْ وَاقٍ۔[39]
40 قائم قائم، موجود أَفَمَنْ هُوَ قَائِمٌ عَلَى كُلِّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ ۔[40]
41 مرشد ہدایت دینے والا أمَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ وَلِيًا مُرْشِدًا۔[41]
42 اقرب قریب تر وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ۔[42]
43 حاسب حساب لینے والا وَكَفَى بِنَا حَاسِبِينَ۔[43]
44 متم پورا کرنے والا وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ ۔[44]
45 ممسک بند کرنے والا مَا يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا ۔[45]
46 ذوالعقاب بدلہ لینے والا إِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةٍ وَذُو عِقَابٍ أَلِيمٍ۔[46]
47 ذوالمغفرۃ مغفرت والا إِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةٍ وَذُو عِقَابٍ أَلِيمٍ۔[46]
48 ذوالفضل فضل والا وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ۔[47]
49 ذوالرحمۃ رحمت والا وَرَبُّكَ الْغَنِيُّ ذُو الرَّحْمَةِ ۔[48]
50 ذوالعرش عرش والا رَفِيعُ الدَّرَجَاتِ ذُو الْعَرْشِ ۔[49]
51 ذوالانتقام بدلہ لینے والا وَاللَّهُ عَزِيزٌ ذُو انْتِقَامٍ ۔[50]
52 ذوالقوۃ قوت والا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ۔[51]
53 ذی الطول دولت والا غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ ذِي الطَّوْلِ ۔[26]
54 ذی المعارج درجات والا مِنَ اللَّهِ ذِي الْمَعَارِجِ۔[52]
55 اکبر/ کبیر بہت بڑا عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ ۔[53]

احادیث میں اسمائِے الہٰیہ[ترمیم]

اوپر دئے گئے اللہ کے معروف ننانوئے نام رسول اللہﷺ کی اس حدیث سے ماخذ ہیں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی احادیث میں مزید سینکڑوں اسمائے الہٰیہ ملتے ہیں۔ مثلاً اَلْحَیِیُّ، السِّتِّیْرُ، الْحَنَّانُ، الْمَنَّانُ، الْمُسْتَعَانُ، العلام، المحسن، الجمیل، المولی، النصیرالسید، المسعر، الطیب، الوتر، الکریم، الاکرم، الشافی، الاعلی، المبین، العالم، غافرالذنب، قابل التوب، شدیدالعقاب، ذی الطول، الجواد، الطیف، الرفیق، اھل التقوی، اھل المغفر، خیرالحافظ، خیر الراحمین، نعم المولی، نعم النصیر، نعم الماھدون، الظاھر، المبارک، فعال لما یرید، ذوالعرش المجید، القریب، القائم، الاعز، السبوحالقاھر، الغالب، الکافی، الصالح، مقلب القلوب۔ وغیرہ۔۔۔۔ اُن میں سے چند اسمائے الہٰیہ یہاں پیش کیے جا رہے ہیں جو طبرانی، ترمذی، بخاری، مسلم، ابن ماجہ، ابن حیان، ابن خزیمہ، حاکم، صادق، حافظ ابن حجر اور دیگر روایت کردہ احادیث میں مذکور ہیں۔

شمار نام ترجمہ ماخذ مع حوالہ
1 الجميل خوبصورت إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ۔ اللہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔[54][55][56][57]
2 الوتر طاق، اکیلا وَإِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ۔ اللہ وتر (اکیلا) ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔[58][59][60][61][62]
3 المعطي عطا کرنے والا وَاللَّهُ الْمُعْطِي وَأَنَا الْقَاسِمُ۔ اللہ عطاکرنے والا ہے اور میں تقسیم کرنے والا ہوں۔[63]۔[64][65]
4 المسعّر نرخ (ویلیو) مقرر کرنے والا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمُسَعِّرُ الْقَابِضُ، الْبَاسِطُ، الرَّازِقُ ،

۔ بلاشبہ اللہ ہی نرخ مقرر کرنے والا ہے، وہی تنگی کرنے والا، وسعت دینے والا، روزی رساں ہے۔[66][67][68]

5 الستّیر/الستّار پردہ پوشی کرنے والا إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَلِيمٌ حَيِيٌّ سِتِّيرٌ يُحِبُّ الْحَيَاءَ وَالسَّتْرَ

اللہ انتہائی حیاء والا اور پردہ پوش ہے، حیاء اور پردہ پوشی کو پسند کرتا ہے۔[69][70][71]

6 الدھر زمانہ۔ وقت يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ يَسُبُّ الدَّهْرَ، وَأَنَا الدَّهْرُ

تم زمانے کو برا مت کہو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ خود زمانہ ہے۔[72][73][74] (نوٹ: بعض علما اسے اسماء میں شمار نہیں کرتے)۔

7 المحسن احسان کرنے والا فَإِنَّ اللَّهَ مُحْسِنٌ يُحِبُّ الإِحْسَانَ

اللہ احسان کرنے والاہے اور احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔[75][76][77]

8 مقلب القلوب دلوں کو پھيرنے والا يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ، ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ۔

اے دلوں کو پھيرنے والے ميرے دل کو اپنے دين پرثابت قدم رکھ۔[78][79][80][81] اور مزید دیکھیے [82]

9 الحییُ حیا والا إِنَّ اللَّهَ حَيِيٌّ كَرِيمٌ يَسْتَحْيِي إِذَا رَفَعَ الرَّجُلُ إِلَيْهِ يَدَيْهِ أَنْ يَرُدَّهُمَا صِفْرًا خَائِبَتَيْنِ۔

بلاشبہ تمہارا رب بہت حیا والا اور سخی ہے۔ بندہ جب اس کی طرف اپنے ہاتھ اٹھاتا ہے تو اسے حیا آتی ہے کہ انہیں خالی لوٹا دے۔[83][84][85]

10 الحنان شفقت کرنے والا إِنَّ عَبْدًا فِي جَهَنَّمَ لَيُنَادِي أَلْفَ سَنَةٍ : يَا حَنَّانُ، يَا مَنَّانُ، قَالَ : فَيَقُولُ اللَّهُ لِجِبْرِيلَ : اذْهَبْ فَأْتِنِي بِعَبْدِي هَذَا۔

ایک بندہ جہنم میں ہزار سال تک فریاد کرتے ہوئے کہے گا، یاحنان یا منان، تو اللہ جبرائیل کو حکم دیں گے جا میرے اس بندے کو میرے پاس لے کر آ۔...[86][87][88]

10 الذي نفسي بيده وہ ذات جس کے ہاتھ میں میری جان ہے إإذا هلك قيصر فلا قيصر بعده، وإذا هلك كسرى فلا كسرى بعده، والذي نفسي بيده لتنفقن كنوزهما في سبيل الله۔

جب قیصر ہلاک ہو جائے گا تو پھر اس کے بعد کوئی قیصر نہیں پیدا ہو گا اور جب کسریٰ ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں پیدا ہو گا اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم ان کے خزانے اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے۔...[89][90]

قدیم انبیائے کرام کے بیان کردہ اسمائِے الہٰیہ[ترمیم]

تحقیق کے مطابق حضرت آدم کے بعد سریانی زبان میں اﷲ کے لیے جو اسم منسوب کیا وہ دیوہ، کا لیوہ تھا۔ حضرت نوح کے زمانے میں اﷲ کو پہچاننے کے لیے جو اسم استعمال ہوتا تھا وہ اﷲ اور الاﷲ کے ہم معنی تھا پھر حضرت نوح کے بعد تمخاہ اور تمخیا اپنالیا گیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام سے صدیوں پہلے اﷲ اور الاﷲ کو اسمِ الٰہی قرار دیا گیا۔ فونیقی زبان میں خدا کو ایلون (Elon یا Elion) کہتے تھے۔ جو اِمتداد زمانہ کے باعث اہرامک میں الہٰ، آشوری میں ایلو اور عبرانی میں ایل (عبرانی: אל) میں تبدیل ہو گیا۔ حضرت ابراہیم نے ایل کو اسمِ الٰہی فرمایا۔

توریت میں اسمائِے الہٰیہ[ترمیم]

یہووا، عبرانی رسم الخط میں

توریت میں سب سے زیادہ جو اسم استعمال ہوا ہے وہ ایلوہم اور یہووا ہے۔ توریت میں یہووا 6823 مرتبہ اور ایلوہم 156 مرتبہ آیا ہے اور کئی بار یہووا ایلوہم ایک ساتھ بھی ملتا ہے۔ یہوواہ کے لغوی معنی ”وہ رب“ یا ”وہ ذات“ کے ہیں۔ عربی میں یہ لفظ یاہُوَ یعنی ”وہ“ اور لفظ ایلوہ عربی میں اﷲ کی صورت اختیار کرگیا۔ توریت میں درج عبرانی زبان کے کئی اسمائے الہٰیہ عربی میں منتقل ہوئے جیسے شلوم (سلام) اور اُخُد (احد)، علیون (اعلیٰ)، حئ (الحئ)، ماکوم (قیوم)، ملیکنو (مالک)، مالک یا مالکم (مالک الملک) توریت میں ایک نام ادونائی (میرے رب) بھی آیا ہے جو کنعانی لفظ ”ادو“ سے ماخذ ہے جس کے معنی ہیں رب۔ اس کے علاوہ حضرت موسیٰ نے ایل الوہی اسرائیل (اسرائیل کا خدا)، بعل (مالک)، زِلگوسر (ربِ عرشِ عظیم) جبکہ حضرت ایوب نے ایلوہا اور حضرت دانیال نے الٰہ کو اسم الٰہی قرار دیا۔ توریت میں اس کے علاوہ جو اسمائے الہٰیہ درج ہیں ہم یہاں آپ کے سامنے اُن کے معنی کے ساتھ پیش کر رہے ہیں۔ ایل علیون (رب الاعلیٰ)، ایل شیدائی (قادر المطلق)، ایل حئی (الحئی)، ماکوم (قے وم)، ایل اولام (الآخر)، ایل روئی (البصیر)، ایل جبرُ (القدیر)، ادونائی (ربّی)، یہوواہ تزیوت (رب الافواج، رب العالمین)، شلوم (سلام)، ایموت (الحق)، اوینو (رب)، ملیکنو (الملک)، راع (المھیمن اور المقیت)، مالک یا مالِکم (مالک الملک) اس کے علاوہ اہیا اسراہیا (وہ میں ہوں)، نِسی (سایہ فگن)، رافا (شفیع)، جیراہ (وہاب)۔

شمار نام عبرانی انگریزی ترجمہ ماخذ مع حوالہ
1 یهوواہ יְהֹוָה Jehovah وہ ذات، خداوند پِھر خُدا نے مُوسیٰ سے کہا مَیں خُداوند ہُوں۔ اور مَیں اب رہا م اور اِضحا ق اور یعقُوب کو خُدایِ قادِرِ مُطلق کے طَور پر دِکھائی دِیا لیکن اپنے یہوواہ نام سے اُن پر ظاہِر نہ ہُؤا۔[91]
2 ایلوهم אֱלֹהִים Elohim خُدا خُدا نے اِبتدا میں زمِین و آسمان کو پَیدا کِیا۔۔[92]
3 ایل אל el خُدا اَے زبردست! تُو شرارت پر کیوں فخر کرتا ہے؟ خُدا کی شفقت دائِمی ہے۔[93]
4 علیون עליון Elyon خُدا تعالیٰ، اعلیٰ اور اُن کو یاد آیا کہ خُدا اُن کی چٹان۔ اور حق تعالیٰ اُن کا فِدیہ دینے والا ہے۔[94]
5 ایلوها אֱלוֹהַּ Eloah خُدا اَیسے آدمی کو روشنی کیوں مِلتی ہے جِس کی راہ چُھپی ہے اور جِسے خُدا نے ہر طرف سے بند کر دِیا ہے؟۔[95]
6 ایل شدّائی אֵל שַׁדָּי El Shaddai خُدائے قادر مطلق، شدید اور مَیں اب رہا م اور اِضحا ق اور یعقُوب کو خُدایِ قادِرِ مُطلق کے طَور پر دِکھائی دِیا لیکن اپنے یہوواہ نام سے اُن پر ظاہِر نہ ہُؤا۔[96]
6 ایل روئی אֵל רֳאִי El Roi بصیر، دیکھنے والا اور ہاجرہ نے خُداوند کا جِس نے اُس سے باتیں کِیں اتاا یل روئی نام رکھّایعنی اَے خُدا تُو بصیر ہے ۔[97]
7 شلوم שָׁלוֹם Shalom سلام، سلامتی والا تب جِدعو ن نے وہاں خُداوند کے لِئے مذبح بنایا اور اُس کا نام یہووا ہ سلوم رکھّا۔[98]
8 اهیا اشر اهیا אֶהְיֶה אֲשֶׁר אֶהְיֶה Ehyeh-Asher-Ehyeh وہ میں ہوں خُدا نے مُوسیٰ سے کہا مَیں جو ہُوں سو مَیں ہُوں۔ سو تُو بنی اِسرائیل سے یُوں کہنا کہ مَیں جو ہُوں نے مُجھے تُمہارے پاس بھیجا ہے۔[99]
9 ادونائی אֲדֹנָי Adonai میرے رب اَے خُداوند ہمارے رب!تیرا نام تمام زمِین پر کَیسابزُرگ ہے؟۔[100]

مَیں نے خُداوند سے کہا ہے تُو ہی رب ہے۔ تیرے سِوا میری بھلائی نہیں۔[101]

10 ایل احد אֵל אֶחָד El Echad ایک خدا، یکتا،احد سُن اَے اِسرائیل ! خُداوند ہمارا خُدا ایک ہی خُداوند ہے۔[102]
11 هاشم הַשֵּׁם HaShem وہ نام، پاک نام اگر تُو اُس شرِیعت کی اُن سب باتوں پر جو اِس کِتاب میں لِکھی ہیں اِحتیاط رکھ کر اِس طرح عمل نہ کرے کہ تُجھ کو خُداوند اپنے خُدا کے جلالی اور مُہِیب نامکا خَوف ہو۔۔۔۔[103] اور اِسرائیلی عَورت کے بیٹے نے پاک نام پر کُفربکا۔[104]
12 بعلی בַּעְלִי ba'l مالک اور خُداوند فرماتا ہے تب وہ مُجھے اِیشی کہے گی اور پِھر بعلی نہ کہے گی۔[105]
13 اله الٰهن אֱלָהּ אֱלָהִין Elah Elahin معبُودوں کا معبُود بادشاہ نے دانی ایل سے کہا فی الحقِیقت تیرا خُدا معبُودوں کا معبُود اور بادشاہوں کا خُداوند اور بھیدوں کا کھولنے والا ہے کیونکہ تُو اِس راز کو کھول سکا۔[106]
14 ایل جبر אֵל, גִּבּוֹר El ha-Gibbor جبار، خدائے قادر ایک بقِیّہ یعنی یعقُو ب کا بقِیّہ خُدایئ قادِر کی طرف پِھرے گا۔[107]
15 عزز و جبور עִזּוּז וְגִבּוֹר Izuz ve-gibor عزیز و جبار، قادر و قوی، طاقتور یہ جلال کا بادشاہ کَون ہے؟ خُداوند جو قوِی اورقادِر ہے۔ خُداوند جو جنگ میں زورآور ہے۔[108]
16 ایل ها کوود אֵל-הַכָּבוֹד El hakavod خدائے ذوالجلال خُداوند کی آواز بادلوں پر ہے۔ خُدایِ ذُوالجلال گرجتا ہے ۔۔[109]
17 ایل عولام אֵל עוֹלָם El Olam ابدی خدا،ہمیشہ ہمیشہ سے تب اب رہام نے بیرسبع میں جھاؤ کا ایک درخت لگایا اور وہاں اُس نے خُداوند سے جو ابدی خُدا ہے دُعا کی۔[110]
18 ایل ها نیمان אֵל הַנֶּאֱמָן El hanne'eman وعدہ وفا،وفادار سو جان لے کہ خُداوند تیرا خُدا وُہی خُدا ہے۔ وہ وفادار خُدا ہے اور جو اُس سے مُحبّت رکھتے اور اُس کے حُکموں کو مانتے ہیں اُن کے ساتھ ہزار پُشت تک وہ اپنے عہد کو قائِم رکھتا اور اُن پر رحم کرتا ہے۔۔[111]
19 تزیوت/الصباووت יְהוָה צְבָאוֹת jehovah Tzevaot رب الافواج اور داؤُد نے اُس فِلستی سے کہا کہ تُو تلوار بھالا اور برچھی لِئے ہُوئے میرے پاس آتا ہے پر مَیں ربُّ الافواج کے نام سے جو اِسرا ئیل کے لشکروں کا خُدا ہے جِس کی تُو نے فضِیحت کی ہے تیرے پاس آتا ہُوں۔[112]
20 قدّوس קְדוֹשׁ Kidosh قدوس، پاک ہمارا فِدیہ دینے والے کا نام ربُّ الافواج یعنی ا ِسرائیل کا قُدُّوس ہے۔[113]
21 یهوواہ نسّی יְהוָה נִסִּי Jehovah-Nissi خدائے سایہ فگن اور مُوسیٰ نے ایک قُربان گاہ بنائی اور اُس کا نام یہوواہ نِسّی رکھّا۔[114]
22 یهوواہ رافا יְהוָה, רֹפְאֶ Jehovah Rapha خداوند شافع کہ اگر تُو دِل لگا کر خُداوند اپنے خُدا کی بات سُنے اور وہی کام کرے جو اُس کی نظر میں بھلا ہے اور اُس کے حُکموں کو مانے اور اُس کے آئِین پر عمل کرے تو مَیں اُن بیمارِیوں میں سے جو مَیں نے مِصریوں پر بھیجیں تُجھ پر کوئی نہ بھیجُوں گا کیونکہ مَیں خُداوند تیرا شافی ہُوں۔[115]
23 ایل مسِتّار אֵל מִסְתַּתֵּר el mistater پوشیدہ/ ستّار اَے اِسرائیل کے خُدا! اَے نجات دینے والے!

یقِیناًتُو پوشِیدہ خُدا ہے۔[116]

24 ایل صدیق אֵל-צַדִּיק El Tsaddik سچّا/ صادق سو میرے سِوا کوئی خُدا نہیں ہے۔ صادِقُ القَول اور نجات دینے والا خُدامیرے سِوا کوئی نہیں۔[117]
25 ایل ایموت אֵל אֱמֶת El Emeth سچّائی کا خدا، الحقّ مَیں اپنی رُوح تیرے ہاتھ میں سَونپتا ہُوں۔ اَے خُداوند! سچّائی کے خُدا! تُو نے میرا فِدیہ دِیا ہے۔[118]
26 ایل دعیوت אֵל דֵּעוֹת El De'ot علم کا خدا،خُدائے علِیم اِس قدر غرُور سے اَور باتیں نہ کرو اور بڑا بول تُمہارے مُنہ سے نہ نِکلے، کیونکہ خُداوند خُدائے علِیم ہے اور اعمال کا تولنے والا۔[119]
27 ایل ها جدول אֵל הַגָּדֹל El Haggadol عظیم، بزرگوار کیونکہ خُداوند تُمہارا خُدا اِلہٰوں کا اِلہٰ خُداوندوں کا خُداوند ہے۔ وہ بزُرگوار اور قادِر اور مُہِیب خُدا ہے جو طرفداری نہیں کرتا اور نہ رِشوت لیتا ہے۔[120]
28 هنورا הַנּוֹרָא Hanora مہیب، پر ہیبت اور مَیں نے خُداوند اپنے خُدا سے دُعا کی اور اِقرار کِیا اور کہا کہ اَے خُداوندِ عظِیم اور مُہِیب خُدا تُو اپنے فرماں بردار مُحبّت رکھنے والوں کے لِئے اپنے عہد و رحم کو قائِم رکھتا ہے۔[121]
29 ایل حنون אֵל-חַנּוּן El-channun حنان، شفقت کرنے والا مَیں جانتا تھاکہ تُو رحِیم و کرِیم خُدا ہے جو قہر کرنے میں دھِیمااور شفقت میں غنی ہے اور عذاب نازِل کرنے سے باز رہتاہے۔[122]
30 ایل رحوم אֵל רַחוּם El-Rachum رحیم ،رحم کرنے والا کیونکہ خُداوند تیرا خُدا رحیم خُدا ہے۔ وہ تُجھ کو نہ تو چھوڑے گا اور نہ ہلاک کرے گا اور نہ اُس عہد کو بُھولے گا جِس کی قَسم اُس نے تیرے باپ دادا سے کھائی۔[123]
31 ایل قنّا אֵל קַנָּא El-Kanno غیُور ،غیرت والا کیونکہ تُجھ کو کِسی دُوسرے معبُود کی پرستِش نہیں کرنی ہو گی اِس لِئے کہ خُداوند جِس کا نام غیُور ہے وہ خُدائے غیُور ہے بھی۔[124]

تُو اُن کے آگے سِجدہ نہ کرنا اور نہ اُن کی عِبادت کرنا کیونکہ مَیں خُداوند تیرا خُدا غیُور خُدا ہُوں۔[125]

32 یهوواه راعی יְהוָה רֹעִי Jehovah Ro'i نگراں، المہیمن المقیت، نگہبان خُداوند میرا چَوپان ہے۔ مُجھے کمی نہ ہو گی۔[126]
33 یهوواه یریٰ יְהוָה יִרְאֶה Jehovah Jireh الظاہر، نظر آنے والا اور اب رہام نے اُس مقام کا نام یہوواہ یِری رکھّا چُنانچہ آج تک یہ کہاوت ہے کہ خُداوند کے پہاڑ پر ظاہر ہوگا۔۔[127]
34 ناصرحسد נֹצֵר חֶסֶד Notser Chesed بخشنے والا، فضل کرنے والا ہزاروں پر فضل کرنے والا۔ گُناہ اور تقصِیر اور خطا کا بخشنے والا۔[128]

انجیل میں اسمائِے الہٰیہ[ترمیم]

مسیح جن کو اسلامی دنیا عیٰسی علیہ السلام کے نام سے نبی مانتی ہے، انہوں نے اور ان کے حواریوں نے انجیل میں خدا کو کئی ناموں سے پکارا ہے۔ سب سے زیادہ جو نام انجیل میں ملتا ہے، وہ ہے تھیوس (جس کے معنی وہی ہیں جو ایل کے ہیں یعنی خدا) اور دوسرا اِسم کوریوس Kuriou جس کے وہی معنی ہیں جو یہوواہ کے ہیں یعنی ”وہ“ اس کے علاوہ انجیل میں موجود چند یونانی زبان کے اسمائے الہٰیہ یہ ہیں۔

شمار نام یونانی انگریزی ترجمہ ماخذ مع حوالہ
1 ایلی ἠλὶ Eli الٰہی، میرے خدا یِسُو ع نے بڑی آواز سے چِلاّ کر کہا ایلی۔ ایلی ۔ لَما شَبقتَنِی؟ یعنی اَے میرے خُدا! اَے میرے خُدا! تُو نے مُجھے کیوں چھوڑ دِیا؟۔۔[129]
2 تهیی Θεέ Thee میرے خدا یِسُو ع نے بڑی آواز سے چِلاّ کر کہا ایلی۔ ایلی۔ لَما شَبقتَنِی؟ یعنی اَے میرے خُدا! اَے میرے خُدا! تُو نے مُجھے کیوں چھوڑ دِیا؟۔۔[130]
3 تهیون θεόν theon خُدا مُبارک ہیں وہ جو پاک دِل ہیں۔ کیونکہ وہ خُدا کو دیکھیں گے۔۔[131]
4 تهیوس Θεός theos خُدا دیکھو ایک کنواری حامِلہ ہو گی اور بیٹاجنے گی اور اُس کا نام عِمّا نُوایل ر کھیں گے جِس کا ترجمہ ہے خُدا ہمارے ساتھ۔۔[132]
5 کوریوس Κύριος Kurios خُداوند، مالک، آقا ایک ہی خُداوند ہے۔ جِس خُدا نے دُنیا اور اُس کی سب چِیزوں کو پَیدا کِیا وہ آسمان اور زمِین کا مالِک ہو کر ہاتھ کے بنائے ہُوئے مندروں میں نہیں رہتا۔[133]—نوٹ: بائبل میں بعض مقامات پر یہ صفت عیسیٰ مسیح کے لیے بھی استعمال ہوئی ہے۔ اور عام چیزوں کے مالک اور آقا کے لیے بھی۔
6 کوریو Κύριο/ Κυρίου Kyriō / Kyriou خُداوند، مالک، آقا اگر ہم جِیتے ہیں تو خُداوند کے واسطے جِیتے ہیں اور اگر مَرتے ہیں تو خُداوند کے واسطے مَرتے ہیں۔ پس ہم جِئیں یا مَریں خُداوند ہی کے ہیں۔۔[134]
7 کوریون تن تهیون Κύριον τὸν θεόν Kyrion ton theon خُداوند اپنا خدا یِسُو ع نے اُس سے کہا اَے شَیطان دُور ہو کیونکہ لِکھاہے کہ تُو خُداوند اپنے خُدا کو سِجدہ کر اور صِرف اُسی کی عبادت کر۔[135]
8 ہائس εἷς heis احد، ایک، یکتا

ایک ہی خُداوند ہے۔ ایک ہی اِیمان۔ ایک ہی بپتِسمہ۔[136] یِسُو ع نے جواب دِیا کہ اوّل یہ ہے اَے اِسرا ئیل سُن۔ خُداوند ہمارا خُدا ایک ہی خُداوند ہے۔[137]

9 پاتیرس /فادر Πάτερ Pater پیدا کرنے والا، باپ

اُس وقت یِسُو ع نے کہا اَے باپ آسمان اور زمِین کے خُداوند مَیں تیری حمد کرتا ہُوں کہ تُو نے یہ باتیں داناؤں اور عقلمندوں سے چُھپائِیں اور بچّوں پر ظاہِر کِیں۔[138]

10 نیوما Πνεῦμά Pneuma رُوح

اور خُداوند رُوح ہے اور جہاں کہِیں خُداوند کا رُوح ہے وہاں آزادی ہے۔[139]

11 اگاپے ἀγάπη agapē محبت

جو مُحبّت نہیں رکھتا وہ خُدا کو نہیں جانتا کیونکہ خُدا مُحبّت ہے۔[140] خُدا مُحبّت ہے اور جو مُحبّت میں قائِم رہتا ہے وہ خُدا میں قائِم رہتا ہے اور خُدا اُس میں قائِم رہتا ہے۔[141]

12 اگانوسٹو Agnosto Ἀγνώστῳ انجان، پاک، مبرّا

مَیں نے سَیر کرتے اور تُمہارے معبُودوں پر غَور کرتے وقت ایک اَیسی قُربان گاہ بھی پائی جِس پر لِکھا تھا کہ نامعلُوم خُدا کے لِئے۔ پس جِس کو تُم بغَیر معلُوم کِئے پُوجتے ہو مَیں تُم کو اُسی کی خبر دیتا ہُوں۔[142]

13 الفا -اومیگا Alpha-Omega Ἄλφα-Ὦ االفا، ا َوّل۔ اومیگا، آخِر

خُداوند خُدا جو ہے اور جو تھا اور جو آنے والا ہے یعنی قادِرِ مُطلق فرماتا ہے کہ مَیں الفا اور اومیگا ہُوں۔[143]

14 پروٹوس -اِسکا ٹوس prōtos-eschatos πρῶτος-ἔσχατος اَوّل،آخِر، مقدم موخر، البادی المدبر

مَیں الفااور اومیگا۔ اَوّل و آخِر ۔ اِبتدا و اِنتہا ہُوں۔[144]

15 آرکے۔ ٹیلوس archē-telos ἀρχὴ-τέλος ابتدا۔ انتہا

پِھر اُس نے مُجھ سے کہا یہ باتیں پُوری ہو گئیِیں۔ مَیں الفااور اومیگا یعنی اِبتدا اور اِنتِہا ہُوں۔ مَیں پیاسے کو آبِ حیات کے چشمہ سے مُفت پِلاؤُں گا۔[145]

16 پینٹو کریٹر Pantokratōr Παντοκράτωρ قادر المطلق

اور یہ کہا کہ اَے خُداوند خُدا۔ قادِرِ مُطلِق! جو ہے اور جو تھا۔ ہم تیرا شُکر کرتے ہیں کیونکہ تُو نے اپنی بڑی قُدرت کو ہاتھ میں لے کر بادشاہی کی۔[146] آواز سُنی کہ ہلّلُویاہ! اِس لِئے کہ خُداوند ہمارا خُدا قادِرِ مُطلِق بادشاہی کرتا ہے۔[147]

17 حجیوس Hagios Ἅγιος قدّوس، پاک

اور رات دِن بغَیر آرام لِئے یہ کہتے رہتے ہیں کہ قدُّ وس۔ قدُّوس۔ قدُّوس ۔ خُداوند خُدا قادِرِ مُطلق جو تھا اور جو ہے اور جو آنے والا ہے۔[148]

18 ال اتھینوس alēthinos ἀληθινός سچا، برحق

اَے مالِک! اَے قدُّوس و برحق! تُو کب تک اِنصاف نہ کرے گا اور زمِین کے رہنے والوں سے ہمارے خُون کا بدلہ نہ لے گا؟۔[149]

19 بسلیوس تن عطنون Basileus tōn ethnōn Βασιλεὺς τῶν ἐθνῶν· قوموں کا بادشاہ، ازلی بادشاہ

اَے خُداوند خُدا ! قادِرِ مُطلق! تیرے کام بڑے اور عجِیب ہیں۔ اَے ازلی بادشاہ! تیری راہیں راست اور درُست ہیں۔[150]

20 اہنیوس تھیو aiōniou Theou αἰωνίου Θεοῦ ابدی خدا، خدائے ازلی

مگر اِس وقت ظاہِر ہو کر خُدایِ اَزلی کے حُکم کے مُطابِق نبِیوں کی کِتابوں کے ذرِیعہ سے سب قَوموں کو بتایا گیا تاکہ وہ اِیمان کے تابِع ہو جائیں۔[151]

ہندومت میں اسمائِے الہٰیہ[ترمیم]

اوم،ہندو مذہب کی رو سے وشنو اور شو اور برہما کا مقدس نام

اہل ہند کو کرشن جی نے ایشور کے ہزار نام بتائے ہیں۔مہا بھارت کے انوشاسنہ پروا باب میں ایشور کے الہامی ناموں کا ذکر تفصیل سے ملتا ہے۔ اسے ہندی میں وِشنو سہستر نمہ (ہندی: विष्णु सहस्त्र नाम) یعنی وشنو کے ہزار نام کہتے ہیں۔ یہ نام مہا بھارت کے اس باب میں ایک سو آٹھ چھندو (جملوں) پر مشتمل ہیں۔

مہا بھارت کے مطابق مشہور یودھا بھیشم، جو كروكشیتر کی لڑائی میں موت کے بستر پر تھے تو انہوں نے بھگوان وشنو کے یہ ہزار نام يدھشٹر کو بتائے تھے۔

”ایشور کے ہزار نام اس کی خوبیوں اور صفات پر مبنی ہیں جو اُس کے بندے پکارتے ہیں۔ آج میں دنیا کی بہبود کے لیے اُنہیں بیان کرتا ہوں۔ وہ کائنات کی ہر شئے میں ہے۔ ہر جگہ موجود ہے۔ قربانیوں کا مالک، سنبھالنے والا، زندہ (الحئی) اور قائم (قیوم)، خیر خواہ، مالک اور سب سے عظیم، وہ نجات کا اعلیٰ مقام ہے، لازوال روح ہے، وہ نظر رکھتا ہے، دل کے بھید جانتا ہے، وہ راہِ ہدایت ہے اور راہ دکھانے والوں کا رب ہے“۔[152]

یہ ہر نام بھگوان وشنو کی ان گنت عظمت اور قوت کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ ہندو مذہب کے سب سے مقدس اور عام طور پر جاپ کرنے والے نام ہیں۔ جن میں سے چند ایک یہ ہیں۔

ہندومت میں بھی ایشور (یعنی اﷲ) کے کئی صفاتی نام ہیں۔ جن میں تین صفت اوّلین ہیں ایک برھما (خالق)، وشنو (رب) اور شیو (قہّار) برھما (خالق) کے ناموں میں یہ نام ہیں:

شمار نام سنسکرت انگریزی ترجمہ
1 ایشور ईश्वर Ishwara مخلوقات کا مختار و مالک
2 برہما ब्रह्मा Brahma خالق
3 وِشنوُ विष्णु Vishnu ہر جگہ موجود،
4 شیوا शिव Shiva ہمیشہ پاک
5 پرماتما परमात्मा Paramatma عظیم روح، اعلیٰ و برتر ذات
6 پربھُو प्रभु Prabhu حاکم اعلی، رب تعالیٰ
7 بُھوت بھويٰ بھوَت پربھُو भूतभव्यभवत्प्रभुः Bhootabhavya-bhavat-prabhuh ماضی، حال اور مستقبل کے رب
8 بُھوت کِرت भूतकृत Bhoota-krit تمام مخلوقات کا خالق
9 بُھوت بھِرت भूतभृत Bhoota-bhrit تمام مخلوقات کی آبیاری کرنے والا
10 بھوا भाव Bhava مطلق وجود
11 بھُوتاتما भूतात्मा Bhootaatma جس سے کُل کائنات و کُل مخلوق کی روح ہے
12 بھوت بھاون भूतभावन Bhootabhavana کُل کائنات و کُل مخلوق کی پرورش کرنے والا
13 مكتاناں پرم گتيے मुक्तानां परमागतिः Muktanam Parama Gatih آزادی (مُکتی ) کے احاطے (سلسلہ)کی انتہا
14 اوئیہ अव्ययः Avyayah جو ہمیشہ ایک سا رہے
15 پُرشاہ पुरुषः Purushah جو ہر ایک (اجسام)کے اندر ہے
16 شاکشی साक्षिणे Sakshi ہر چیز کا گواہ، شاہد
17 شیتر گیاہ क्षेत्रज्ञः Kshetragyah زمین (میدان جنگ) کا علم رکھنے والا
18 اکشرا अक्षर Akshara غیر زوال پزیر، لایزال
19 یوگاہ योगः Yogah یوگ (باطنی اتحاد) کے ذریعے احساس کرنے والا
20 یوگ ویدھم نیتا योगविदां नेता Yoga-vidaam Neta یوگ (باطنی اتحاد) جاننے والوں کا راہبر
27 پردھان پرُشیسور प्रधानपुरुषेश्वर Pradhana-Purusheshwara فطرت اور مخلوق کا رب
22 پرُشوتم पुरुषोत्तम Purushottama مختارِ کُل، سب سے بڑا منتظم
23 سروَ सर्व Sarwa ہر شے، وحدت الوجود
24 شروَ शर्व Sharva ہر شے کا خاتمہ کرنے والا
25 ستھانُو स्थाणु Sthanu جسے ہٹایا نہ جاسکے، قوی، عزیز
25 بھُوتندی भूतादि Bhootadi جس نے مخلوقات کو تیار کیا
26 نِردھویایہ निधिरव्यय Nidhiravyaya ان مٹ خزانہ، لازوال دولت
27 اپرمییا अप्रमेय Aprameya قواعد و ضوابط (کی پابندیوں) اور وضع قطع (صورت)سے پاک
28 بھاون भावन Bhavana اپنے بندوں کے لیے سب کچھ کرنے والا
29 بھَرت भर्ता Bharta دنیا کا فرمانروا
30 سمبھَو सम्भव Sambhava جس کے لیے سب کچھ ممکن ہے
31 پربھَو प्रभव Prabhava جس سے سب چیزیں پیدا ہوئیں
32 پُوت آتما पूतात्मा Pootatma ایک انتہائی پاک ذات والا
33 وِشوَم विश्वम् Vishvam جو کائنات کی ہر شے میں سمایا ہے
34 سویم بھُو स्वयम्भू Swayambhu خود ظاہر ہونے والا، خُدا
35 شمبھُو शम्भु Shambhu خوشیاں بنانے والا
36 دھاتا धाता Dhata حمایت کرنے والا، حامی
37 ودھاتا विधाता Vidhata عمل اور اُن کے نتائج بنانے والا
38 ہرشیکیش हृषीकेश Hrishikesha حواس (احساسات) کا مالک، حافظ، اولیٰ الباب
3 وِشنٹ کار वषट्कार Vashatkara جس کے لیے قربانی، چڑھاوا، نذر دعائیں ہیں
40 سرشٹا सृष्टा Srishta تخلیق کرنے والا، مصور
41 پرجاپتی प्रजापति Prajapati لوگوں کا مالک
42 گوندم پتی गोविदांपति Prajapati لوگوں کا مالک
43 مدینی پتی मेदिनीपति Medinipati زمین کا مالک
44 واسو دیو वासुदेव Vasudeva دولت کا مالک، المغنی
45 ایشان ईशान Ishana سب پر حکومت کرنے والا


سکھ مت میں اسمائِے الہٰیہ[ترمیم]

سکھ مذہب میں خدا کے تصور کے حوالے سے مول منترا سکھوں کے بنیادی عقائد کا مجموعہ اور اس کو ان کی مذہبی کتاب گروگرنتھ صاحب کے شروع میں بیان کیا سری گرنتھ صاحب کی جلد اول "جپُ جی کا پہلا" منتر اس طرح ہے۔

ੴ ਸਤਿ ਨਾਮੁ ਕਰਤਾ ਪੁਰਖੁ ਨਿਰਭਉ ਨਿਰਵੈਰੁ ਅਕਾਲ ਮੂਰਤਿ ਅਜੂਨੀ ਸੈਭੰ ਗੁਰ ਪ੍ਰਸਾਦਿ ॥

  • اک اوعنکار سَتِ نام، کرتا پرکھ، نِر بھَو، نِرویر - اکال مورتِ، اجونی، سَیبھن، گُر پرساد۔

صرف ایک خدا کا وجود ہے۔ جو حقیقتا پیدا کرنے والا ہے وہ خوف اور نفرت سے عاری ہے، جسے موت نہیں، وہ کسی سے پیدا نہیں ہوا۔ وہ خود سے وجود رکھنے والا عظیم اور رحیم ہے۔[153]

سکھ مت میں ایک ہی رب اعلی ہے۔ وہ ایک غیر واضح اور مبہم صورت میں موجود ہے۔ جس کے ایک اونکار (یا اومکارا )کہاجاتا ہے۔ سکھ مت کی کتاب گرنتھ میں بابا گرونانک فرماتے ہیں :

  • ”خدا کے ناموں پر غور کرو اور دوسروں کو بتاؤ۔ اس پر توجہ دو اور اس کی کھوج کرو، اس پر زندگی گزارو اور نجات حاصل کرو، اصل جوہر اور ابدی ہستی رب کا نام ہے۔ نانک کہتا ہے کہ خود کو بے ساختہ اس پر وقف کردو اور رب کی حمدوثناءکے گیت گاؤ“۔(آدگرنتھ، گوری سکھنمی 19، م5، صفحہ 289)

سکھ مت میں مزید ملتا ہے ۔

  • وہ ایک ہے اگر تم اسے نام دینا چاہتے ہوتو اسے سیتہ (دائمی حق )کہو وہ فاعل ہے۔ ہر شے میں جاری و ساری ہے۔ خوف اور بغض سے پاک ہے۔ اس کی ہستی پر وقت کا اثر نہیں۔ (گرنتھ صاحب انگلش ترجمہ جلد دیباچہ صفحہ 2/بحوالہ سکھ مت اور توحید )
  • سکھ مت میں اومکارا کے کئی صفات بیان کیے جاتے ہیں۔

کرتار( خالق)، صاحب(بادشاہ)، اکال(ابدی)، سنت نام (پاک نام)، پروردگار(محبت سے پرورش کرنے والا)،رحیم( رحم کرنے والا(، کریم( خیر خواہ)۔ سکھ مذہب میں ایک خدا کے لیے واہے گرو (ایک سچا خدا ) کے الفاظ بھی آتے ہیں۔ سکھ مت میں ایک اور منتر جو گوروگو بند سنگھ جپ جی میں فرماتے ہیں (سکھوں کے یہاں گوروگوبند سنگھ کے جپ جی کی وہی اہمیت ہے جو گورو نانک کے جیپوجی کی ہے )

  • خدا ایک ہی ہے۔ ستیہ ہے ‘عظیم ہے داتا ہے۔۔۔۔ اس کا کوئی چکر نہیں ہے۔ کوئی نشان نہیں ہے۔ کوئی رنگ نہیں۔ کوئی ذات اور سلسلہ نسب نہیں۔
شمار نام گورمکھی انگریزی ترجمہ
1 اک اونکار ੴ / ਇੱਕ ਓਅੰਕਾਰ Ik Onkar ایک ابدی حقیقت
2 ست ِنام ਸਤਿ ਨਾਮੁ satinaam سچا نام، سچا پکارا جانے والا، ابدی نام
3 کرتا پوُرکھ ਕਰਤਾ ਪੁਰਖੁ karataa purakh عدم سے پیدا کرنے والا ہے
4 نِربھَؤ ਨਿਰਭਉ Nirabho بے خوف
5 نِرویر ਨਿਰਵੈਰੁ Niravair نفرت و دشمنی سے عاری
6 اکال مُورت ਅਕਾਲ ਮੂਰਤਿ Akaal Moorath ابدی ذات، وہ ہستی جسے موت نہیں
7 اجُوانی ਅਜੂਨੀ Ajoonee لم یلد، پیدا ہونے سے پاک، جنم کے بغیر
8 سیبھنگ ਸੈਭੰ Saibhan خود روشن ہونے والا
9 گرُو پرساد ਗੁਰ ਪ੍ਰਸਾਦਿ guru prasaad مہربان مالک
10 سچا صاحب ਸਾਚਾ ਸਾਹਿਬੁ Saachaa Saahib سچا مالک
11 ویپرواہو ਵੇਪਰਵਾਹੁ Vaeparavaahu بے پروا، صمد
12 وگسے ਵਿਗਸੈ Vigasai بے فکر، پریشانیوں سے پاک
13 نرنجن ਨਿਰੰਜਨੁ Niranjan عیوب سے پاک
14 واہِ گرُو ਵਾਹਿਗੁਰੂ Waheguru بہترین استاد
15 نرنکار ਨਿਰੰਕਾਰ Nirankaar شکل و صورت سے پاک

زرتشتیت میں اسمائِے الہٰیہ[ترمیم]

پارسی مذہب کے بانی زرتشت نے خالق کائنات کو اہر مزد کے نام سے پُکارا ہے۔ اہورا کے معنی مالک اور مزدا کے معنی دانا ہیں یعنی ”دانا مالک“۔ زرتشت کی کتاب یاسنا (یسن)میں خدا کی جو صفات بیان کی گئی ہیں وہ یہ ہیں:

stûtô garô vahmêñg ahurâi mazdâi ashâicâ vahishtâi dademahicâ cîshmahicâ âcâ âvaêdayamahî. vohû xshathrem tôi mazdâ ahurâ apaêmâ vîspâ ýavê, huxshathrastû-nê nâ-vâ nâirî-vâ xshaêtâ ubôyô anghvô hâtãm hudâstemâ

  • ستوتو گارو واہمنگ اہورائی مزدائی اشائچا واہشتائی دادم مہیچا شماہے چہ اچہ اوائد یمہی۔ وہو شتہرم توئی مزدا اہورا اپیما وسپا یاوے ہشتھرستو نے ناوا ناری وائے اُبویو انگھو ہاتم ہُدا ستیما

(ترجمہ: حمد و ثنائے مدح خدائے دانا (اہور مزدا) کے لیے جو بہتر راہ دکھانے والا ہے۔ ہماری خدمات ہماری نسبت ہمارا اقرار تیرے لیے ہے۔ اور تیری اچھی سلطنت میں اے خدا (اہورمزدا) ہمیں ہمیشہ کے لیے داخل کر دے۔ تُو ہی ہمارا حقیقی بادشاہ ہے۔ ہمارا ہر مرد اور ہر عورت تیری ہی عبادت (اطاعت) کرتا ہے کیونکہ تُو بہت مہربان ہے تمام عالمین کے لیے۔) [154]

زرتشت کی کتاب دساتیر میں خدا کی جو صفات بیان کی گئی ہیں وہ یہ ہیں

  • وہ ایک ہے، اس کا کوئی ہمسرنہیں، نہ اس کی ابتدا ہے اور نہ ہی انتہا، نہ اس کا کوئی باپ ہے نہ ہی کوئی بیٹا، نہ کوئی بیوی ہے اور نہ ہی اولاد ہے۔ وہ بے جسم اور بے شکل ہے۔ نہ آنکھ اس کا احاطہ کرسکتی ہے۔ نہ ہی فکری قوت سے اسے تصور میں لایا جاسکتا ہے۔ وہ ان سب سے بڑھ کر ہے جن کے متعلق ہم سوچ سکتے ہیں۔ وہ ہم سے زیادہ ہمارے نزدیک ہے۔

اس کے علاوہ سمیرام اسپ ہاسیمرا ہردار (خدا ایک ہے اور اس کی احدیت ذاتی ہے)، ہمتا ندارد (اس کا کوئی ہم پلہ نہیں)، ہیچ چیز باونما ند (وہ بے مثال ہے)، ہستی وہمر (ہر شے کو ہست کرنے والا)، امپیر شاد (لافانی)، وہومیتو (عقلِ کُل)، خشاوریا (نعمتوں کا مالک)، اشاد ہست (حقیقت اعلیٰ)، ارمائتی (دین دار)، ہورواتاد (قوی)، چوک (پاک)، ہرمزد (روح اعلیٰ)، دادا (منصف)، پرورتار (محافظ) اور نیزان (سب سے قوی) نام مشہور ہیں۔ آوستا،گتھا اور یسن کے مطابق اہورمزدا کی کئی ایک صفات ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں: خالق، بہت قوت،بہت عظمت والا، داتا ”ہدائی”، سخی”سپینٹا”

اوستائی زبان میں اہر مزد کے علاوہ ان کے لیے اہرمزد کے کئی نام ملتے ہیں جن میں 101 مشہور ہیں۔ جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

شمار نام انگریزی ترجمہ شمار نام انگریزی ترجمہ
1 اہور مزدا Ahura Mazda دانا مطلق، عقلمند آقا 2 یزداں Yazad عبادت کے لائق
3 هروسپ توان Harvesp-tawan ہر شے پر قادر 2 آُبده Harvesp-Agah سب باتوں کو جاننے والا
5 هروسپ خدا Harvesp-Khoda ہر شے کا رب 6 آُبده Harvesp-Agah پیدائش سے مبرّا
7 ابی انجام Abi-Anjam اختتام سے مبرّا 8 بنشت Bun-e-stiha تخلیق کی بنیاد کرنے والا
9 فراخ تنہه Frakhtan-taih بے انتہا برکت والا 10 جمغ Jamaga سب سے بالاتر
11 فرجه تره Prajatarah سب سے برتر 12 تام آُفیچ Tum-afik پاک سے بھی پاک تر
13 اُبره ونده Abaravand سب سے الگ 14 پرواندا Paravandeh سب سے جُڑا
15 ان ایاپ An-ayafeh جس تک کسی کی رسائی نہیں 16 هم ایاپ Hama-Ayafeh جو سب تک رسائی رکھتا ہے
17 آدُرو Adro سب سے نیک 18 گیرا Gira دستگیر، سب پر دسترس رکھنے والا
19 اُچم A-ehem اسباب سے مبرا، صمد 20 چمنا Chamana مسبب الاسباب
21 ناشا Nasha انصاف والا 22 پرورا Parwara پروردگار، پالنے والا
23 واسنا Vasna ہر جگہ موجود 24 هروسپ توم Harvastum وجودِ کُل
25 ادوای Advay یکتا، واحد 26 پیروزگر Firozgar فاتح
27 خداوند Khudawand خداوند، خود آنے والا 28 اهو Ahu حاکم مطلق

چینی مذاہب میں اسمائِے الہٰیہ[ترمیم]

چین کے سب سے با اثر مذاہب دو ہیں کنفیوشس مت اور تاؤ مت .... لیکن ان دونوں مذاہب کے بارے میں بھی خیال کیا جاتا ہے کہ ابتداءمیں یہ کوئی باقاعدہ مذہب نہیں تھا بلکہ اخلاقیات کا ایک ضابطہ تھا جس نے رفتہ رفتہ مذہب کی صو رت اختیار کر لی۔ کنفیوشش مت اور تاؤ مت کی ہیت مذہب سے زیادہ اخلاقی فلسفہ کی ہے اس لے اس میں خدا کا تصور موجود نہیں۔ البتہ ایک خالق اور مالک ہستی کا تصور ہمیشہ سے ہی چین میں موجود ہے۔ قدیم چین کے لوگ کثرت پسند تھے اور اپنے اجداد کی ارواح کی پرستش کرتے تھے یا پھر مظاہرفطرت چاند سورج وغیرہ کی۔ کائنات کی تخلیق کے بنیادی اصول کی وضاحت کے لیے قدیم چینی مفکرین نے ین اور یانگ کے تصورات کا استعمال کیا۔ ین فطرت کی منفی قوت اور یانگ فطرت کی مثبت قوت کو کہا جاتا ہے۔

سب سے پہلے خالق ہستی کے لیے تیان 天 یعنی آسمان کا لفظ استعمال کیا جاتا تھا، اُس وقت اسے دوسرے قدرتی مظاہر کی طرح بطور آسمان ہی پوجا جاتا تھا۔ بعد میں شینگ سلطنت 1600 قبل مسیح کی قدیم ترین تحاریر میں خدا کے لیے شنگ ٹی 上帝 (یا شنگ ڈی) کا نام ملتا ہے جس کے معنی حاکمِ اعلیٰ کے ہیں۔ زھو سلطنت (1000 قبل مسیح) کے عہد میں چینی مذاہب میں ایک نام پانکُو یا پانگُو 盘古 (قدیم وجود) بھی ملتا ہے، جسے کائنات کی اولین ہستی اور سب چیزوں کا خالق کہا جاتا ہے۔

چوتھی صدی قبل مسیح میں شنگ ڈی کے ساتھ ساتھ تیان لفظ بھی استعمال ہونے لگا۔ اس دور کے چینی فلسفی موزی لکھتے ہیں:

”میں جانتا ہوں، تیان (آسمان)انسان سے بے انتہا محبت کرتا ہے، بغیر کسی وجہ کے۔ تیان (آسمان) ہی سورج کو حکم دیتا ہے اور چاند، اور ستاروں کو کہ روشن ہوں اور ان کی را ہنمائی کے لیے۔ تیان (آسمان) ہی موسموں کا حکم دیتا ہے ، بہار، خزاں، سرما، اور گرما کو ، کہ بدل بدل کر آئے۔ تیان (آسمان) ہی نازل کرتا ہے، برف، کہر، بارش، اور شبنم ، پانچ اناج اور سن اور ریشم اگانے کے لیے۔ تاکہ لوگ استعمال کریں اور ان سے لطف اندوز ہوسکیں۔ تیان (آسمان) ہی نے پہاڑیوں اور دریا ، گھاٹیوں اور وادیوں کو قائم کیا اور اور انسان کی خدمت بہت سی چیزوں کا اہتمام کیا جو اچھی بھی ہیں اور بری بھی۔[155]“۔

پہلی صدی عیسوی میں یہ مان للیا گیا کہ تیان اور شنگ ڈی ایک ہی ہستی کے دو نام ہیں اس دور کے چینی مفکر اور کنفیوشش مت کے اسکالر زینگ ژوان Zheng Xuan لکھتے ہیں ‘‘شنگ ٹی دراصل تیان کا ہی دوسرا نام ہے۔’’ [156]

چینی مذاہب میں کنفیوشش مت، تاؤ مت اور بدھ مت کی تحریروں کی تشریحات سے بعض اصطلاحات کو تبدیل کرکے خدا کے لیے استعمال کیا گیا۔ جن میں زیادہ تر میں تیان یعنی آسمان لفظ سے مرکب کیے گئے، مثلاً ہوانگ تیان شنگ ڈی 玄天上帝(شہنشاہِ آسمان خداوند)، ژوان تیان شنگ ڈی 玄天上帝(گہرے آسمانوں والا خدا)، شینگ تیان (عظیم آسمان )۔ اس کے علاوہ تیان شین (آسمانی خدا)اور تیان ژیان (لازوال) بھی شامل ہیں لیکن یہ لفظ شین انگریزی god کا متبادل ہے جو عموماً دیوتاؤں یا ایک سے زیادہ کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، جبکہ واحد خدا God کے لیے ڈی帝 کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔

چین میں جب باہر سے دوسرے مذاہب داخل ہوئے اور کئی چینی لوگوں اسلام، مسیحیت، یہودیت اور دیگر مذاہب کو اپنایا تو ان مذاہب کے خدا کا تصور اور نام بھی انہوں نے اپنی زبان میں ڈال لیا۔ تقریبا 635ء میں چین میں فارس کے نسطوری مسیحیوں نے مسیحیت کا پر چار کیا جسے انہوں نے جِنگ جیاؤ 景教 (روشن تعلیمات ) کا نام دیا۔ خدا کے لیے انہوں نے زھین زھو真主 (سچا مالک) اور تیان زھو 天主(آسمانی مالک ) کا نام استعمال کیا۔ تیان زھو (آسمانی مالک ) کا نام بعد میں کیتھولک مسیحیوں نے بھی استعمال کیا جبکہ پروٹسٹن مسیحیوں نے شنگ ڈی (حاکم اعلیٰ ) کے لفظ کو ہی اپنایا۔ اسلام کی آمد پر چینی مسلمانوں نے زھین زھو真主 (سچا مالک) کا لفظ ہی استعمال کیا ساتھ ہی لفظ اللہ کے لیے متبادل لفظ اَین لا安拉 (پُرامن سہارا) اور لفظ خدا کے لیے متبادل لفظ ہُودا 湖大(عظیم جھیل ) استعمال آج بھی شمالی چین کے مسلم آبادیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔

شمار نام چینی انگریزی ترجمہ
1 تیان Tian آسمان، اعلٰی
2 شنگ ٹی 上帝 Shang-ti حاکمِ اعلٰی، رب تعالٰی
3 تیان زھو 天主 Tianzhu آسمان کا مالک، رب السموٰت
4 ڈی di خداوند،
5 شین shen اعلیٰ رُوح، خدا، دیوتا
6 زھین زھو 真主 Zhenzhu سچا مالک
7 اَین لا 安拉 Anla پُرامن سہارا،
8 ہُودا 湖大 huda عظیم جھیل
9 تائی ڈی 太帝 tai di عظیم خدا، برتر خدا،
10 زھی شینگ زھی 至上者 Zhishang zhe عظیم ترین ہستی، اعلٰی ہستی
11 پانگُو 盘古 Pangu قدیم وجود، المقدم، الاول
12 ہوانگ تیان شنگ ڈی 玄天上帝 Huang Tian Shangdi شہنشاہِ آسمان خداوند
13 ژوان تیان شنگ ڈی 玄天上帝 Xuan Tian Shangdi گہرے آسمانوں والا خدا
14 تیان ژیان 天线 tianxian لازوال
15 شینگ تیان 上天 shangtian عظیم آسمان
16 تیان شین 天神 tianshen آسمانی خدا
17 لاؤ تیان یے 老天爷 laotianye قدیم آسمانی مالک، قدیم آسمانی باپ
17 پُوسا 菩萨 Pusa لفظی ترجمہ: روشن ضمیر، واقف آگاہ، العلیم۔ (بُدھااور خدا دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے)

جاپانی مذاہب میں اسمائِے الہٰیہ[ترمیم]

شنتو مت جاپان کا ایک اہم ترین مذہب ہے۔ شنتو چینی زبان کا لفظ (شین تو 神道) ہے جس کے معانی خدا کا راستہ کے ہے۔ شین جو دراصل خدا کے لیے استعمال ہونے والی چینی اصطلاح ہے، اسی لفظ کو جاپانی میں کامی بھی کہا جاتا ہے۔ شنتو مذہب کا باقاعدہ آغاز تین سو سال قبل مسیح میں ہوا۔ شنتو مت میں ارواحیت اور قدرتی مظاہر کی پرستش کا خاصہ عمل دخل ہے۔ اس میں کامی کی عبادت کی جاتی ہے، کامیかみ کو عام طور پر لفظ خدا کا ترجمہ سمجھ کر استعمال کیا جاتا ہے لیکن یہ اسلامی تصور خدا سے قدرے مختلف اور تقریباً وحدت الوجود کی طرح ہے۔ اس کی بنیادی تعلیمات کے مطابق انسان خدا کی مرضی سے فرار حاصل نہیں کر سکتا، خدا کامی عظیم روح ہے، جو مقدس ہے اور قابل عبادت ہے اور قدرتی طور پر ہر شے میں موجود ہے، ہر جاندار و بے جان مقدس چیز کامی کا درجہ پاجاتی ہے۔

انگریزی سے اخذ لفظ God کے متبادل کے لیے جاپانی لفظ گاڈ ゴッド استمال کیا جاتا ہے۔

شمار نام جاپانی انگریزی ترجمہ
1 کامی かみ kami عظیم روح
2 گاڈ ゴッド Goddo خدا (لفظی ترجمہ:جو دماغ میں خون کی طرح بہتا ہے)
3 شین رے 心霊 Shinrei روح القلب
3 شِنجو شا 至上者 Shijo-sha بالادست ہستی، اعلی ترین ہستی

دیگر مذاہب اور زبانوں میں اسمائِے الہٰیہ[ترمیم]

دنیا کے دیگر ممالک اور زبانوں میں خدا کو جن ناموں سے پکارا جاتا ہے وہ یہ ہیں۔ فارسی میں خدا (خود آنے والا)، انگریزی میں God، سائوتھ افریقہ اور ہالینڈ میں Got، جرمن میں Gott، ڈینش، سویڈش اور ناروے میں Gudd، پرتگالی میں Deus، فرنچ میں Dieu، اٹلی میں Dio، اسپینی میں Dies، اسکاٹِش اور آئرش میں Dia، ویلش میں Duw، ایتھوپیا میں املاک، زرتشت نے اہورا مزدا (دانا مالک) کو اسمِ الٰہی قرار دیا۔ اس کے علاوہ یزداں، ہرمزد، پرورتار اور کئی اسم الہٰیہ کا بھی ذکر کیا ہے۔ چین میں پانکو، بدھ مت میں ایسانا اور ٹاؤمت میں ٹاؤ، شنٹوازم میں کامی، کنفیوشس ازم میں شنگٹی ہے۔

دنیا کا کوئی بھی شخص جب بھی کبھی خدا کو پکارے گا تو اُسے اپنی مادری زبان میں ہی پکارے گا۔ عربی بولنے والا اﷲ کہے گا، فارسی اور اردو جاننے والا خدا، ہندی ایشور، عبرانی الوہم، ڈچ، ہنگری اور انگریز اسے God کہہ کر پکاریں گے، اسپرانتو زبان میں اِسی واحد اور یکتا ہستی کے لیے دی Di کے الفاظ ہیں، نارویجن، ڈینش اور سویڈش میں گڈ Gud، اٹالین میں دایو Dio، لاطینی اور اسپینی میں Deus اور Dios، فرنچ میں ڈیو Dieu، جرمن میں گٹGott، فینش میں جمالہ، جاپانی میں کامی، پالی میں ایسانا، چینی میں پانکو، ایتھوپیائی میں املاک، اس کے علاوہ ٹائو، یزداں، اہورمزدا، ایل، الہ، زیوس، یہواہ کے الفاظ بھی اسی خالقِ کائنات کے لیے ہی مختص ہیں۔

صوفیا کرام اور اولیاء ﷲ کے بیان کردہ اسمائِے الہٰیہ[ترمیم]

مسلمان صوفیا کرام، اولیاء ﷲ اور بزرگانِ دین نے بھی ﷲ کو کئی ناموں سے پکارا ہے، مثلاً سیدنا جعفر صادق نے منعم (نعمت عطا کرنے والا)، منان (احسان کرنے والا)، وتر (ایک یگانہ)، نعم المولیٰ (سچا ساتھی)، فرد (یکتا)، فعال لمایرید (جو چاہتا ہے وہ کر سکتا ہے)، سریع (جلدی کرنے والا)، متفضل (بزرگی والا) اور معین (اعانت کرنے والا) کو بطور اسمِ الٰہی تحریر کیا۔ شیخ ابن عربی، عبد الکریم اور الجبلی نے الاعماءکو اسم الٰہی کہا غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی نے سرو بالا (محبوب)، سلطان (بادشاہ)، صدرِ جنت (جنت کا مالک)، رفیق (دوست)، مونس (ساتھی)، بے چوں (بے مثال)، جملہ منم (سب کچھ میں ہی ہوں)، جزمن یک ذرّہ نیست (میرے بغیر ایک ذرّہ نہیں)، پے دائی (ظاہر)، پنہاں (باطن)کے الفاظ بطور اسمِ الٰہی پیش کیے۔ خواجہ معین الدین چشتی نے خدا (خود آنے والا)، ہستئ مطلق(آزاد ہستی) جبکہ مولانا جلال الدین رومی نے بادشاہِ حقیقی، مصلحی (صلاح کرنے والا)، سلطانِ سخن (کلام کا بادشاہ)، خورشید (نور، آفتاب)، لایزال (لازوال)، یکے (اکیلا)، محی عظم رمیم (مردہ ہڈیوں میں جان ڈالنے والا) کو بطور اسمائے الہٰیہ تحریر فرمایا۔

بابا بلھے شاہ نے پنجابی اور فارسی زبان کے الفاظ شوہ (خدا)، وہیا (وہی)، لاانتہا، ہمہ دان(سب جاننے والا)، قادر مطلق (ہر شے پر قادر)، بے چون (بے مادہ)، نر وید (خداوند)، اِکلا (اکیلا)، اِک، احد (ایک)، سوہنا یار (پیارا ساتھی) کو اﷲتعالیٰ کے صفاتی ناموں کے طورپر استعمال کیا شاہ عبد اللطیف بھٹائی نے سندھی زبان کے الفاظ راول (محبوب)، ڈاٹر (داتا)، سجن (پیارا)، ھِک (ایک)، جوڑیاں جوڑ جہان (خالق کائنات)، دھڑیں(دینے والا)، صاحب (مالک) کے ذریعے خدا کو مخاطب کیا حضرت شاہ ولی اﷲ نے توریت میں درج اسم الٰہی ”اہیا اشراہیا“ کو بھی اپنی کتاب میں تحریر فرمایا اور اس کے معنی ”الحئ القیوم“ بتائے ہیں حضرت بابا فرید نے اپنے اشعار میں اﷲ اور رب کے ساتھ سائیں (خدا، محبوب)، شَوہ (مالک)، ننڈھڑا (صمد)، وڈ (بڑا)، صاحب سچے (سچا مالک)، صاحب سدا (مہربان مالک)، کھسم (مالک، رب)، دھنی (مالک)، کنت (رب) کو بھی بطور اسمِ الٰہی بیان کیا ہے شہنشاہ ہفت اقلیم حضرت بابا تاج الدین ناگپوری نے بھی اﷲتعالیٰ کے کئی اسم اپنے ہندی اشعار میں بیان فرمائے ہیں۔ بابا تاج الدین شاعری میں اپنا تخلص ”داس ملوکا“ کرتے تھے۔ داس کے معنی بندہ اور ملوکا کے معنی خدا کے ہیں۔ ملوکا کے علاوہ بابا تاج الدین نے داتا (پرورش کرنے والا)، رام (خدا)، پربھو (عبادت کے لائق) اور کرتا (قادر کریم) کو بھی اپنی شاعری میں ﷲ کے صفاتی نام کے بطور استعمال کیا ہے عظیم روحانی سائنس دان ابدال حق حضور قلندر بابا اولیائ نے اپنی شہرئہ آفاق تصنیف ”لوح وقلم“ میں 134 اسمائے الہٰیہ تحریر فرمائے ہیں، جن میں سے چند ہم یہاں نقل کر رہے ہیں، یہ وہ اسماءہیں جو معروف 99 اسماءکے علاوہ ہیں عدیل (انصاف کرنے والا)، معبود (عبادت کے لائق)، راشد (رہنما)، منعم (نعمت عطا کرنے والا)، شافی (شفا دینے والا)، کلیم (گفتگو کرنے والا)، خلیل (دوست)، نذیر (ڈرانے والا)، بشیر (خوشخبری دینے والا)، ناصر (مدد کرنے والا)، مختار(اختیار دینے والا)، قاسم (بانٹنے والا)، محسن (احسان کرنے والا)، مشیر (مشورہ دینے والا)، واقع (قائم)، وقیع (بھاری بھرکم)، امین (امانت دار)، جواد (سخی، فیاض)، طیب (پاکیزہ)، طاہر (مقدس)، کامل (غیر ناقص)، صبوح (پاک)، محمود (قابلِ تعریف)، حامد (تعریف کرنے والا) اور شاہد (حاضر)

معروف روحانی اسکالر اور اﷲ کے دوست حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی نے اﷲ کو لاانتہا لامحدود، لازوال ہستی، نگراں ذات، محیطِ کُل، غیبُ الغیب، دوست، وجودِ مدرک، ماوراءُ لماوراء، حقیقت، وراءُ الوراء، حقیقت مطلقہ، غیر متغیر ہستی، ماوراء الماورائی ہستی کے ناموں سے پکارا ہے۔

شمار نام ترجمہ اقتباس حوالہ
1 سائیں بزرگ، صاحبِ حیثیت دیکھ فریدا جو تھِیا: سکّر ہوئی وِس

سائیں باجھوں آپنے ویدن کہیئے کِس

جب زندگی کی ساری مٹھاس بھی زہر میں بدل گئی ہو تب بھی بابا فرید

سوائے خدا کے کسی اور کی طرف منہ نہ کرتے[157]

2 شوہ محبوب اول آخر آپ نوں جاناں؛ نہ کوئی دوجا ہور پچھاناں

میتھوں ہور نہ کوئی سیاناں ؛ بلھّا شوہ کیہڑا ہے کون بلھّا کیہ جاناں میں کون

اول بھی تو ہے اور آخر بھی تو ہے، ایک تیرے ے سوا میں کسی کو نہیں جانتا،

نہ ہی مجھے تیرے ے سوا کوئی سمجھدار لگتا ہے، بلھے شاہ کون کس کا محبوب ہے، بلھے شاہ کیا جانوں میں کون ہوں۔[158]

3 وہیا وہی، جس دے عشق پہنائے سانوں ساوے تے سُوہے

جاں میں ماری ہے اڈی مل پئیا ہے وہیئا

تیرے عشق نچایا کر تھیا تھیا

جس کے عشق نے مجھے سرخ و سبز لباس پہنایا،

جیسے ہی میں نے اڑان بھری میں نے اس کو پالیا،

تیرے عشق نے مجھے نچایا کرکے تھیا تھیا۔[159]

4 بے چون بے مادہ، شکل صورت سے پاک واہ خالق بے چون پکارن چوں کیتی جس ظاہر

رنگا رنگ پیدائش اس دی انت حسابوں باہر

واہ رے خالق جو بے شکل بے مادہ ہے، اس نے مادہ اور شکل کو خلق کیا

رنگا رنگ مخلوقات اس کی، جس کی تعداد حسابوں سے باہر ہے۔ ۔[160]

5 اِکل اکیلا، واحد چل چل گئیاں پنچھیاں جنھیں وسائے تِل

سر بھریا بھی چلسی ٹہکے کنول اِکل

چلے گئے وہ پرندے، جنہوں نے بسائے تھے تالاب

یہ تالاب بھی سوکھ جائے کا رہ جائے گا شان دکھاتا کنول اکیلا ۔[161]

6 سوہنا یار پیارا ساتھی، محبوب سوہنے یار باجھوں میڈی نہیں سردی

تانگھ آوے ودھدی سک آوے چڑھدی

پیارے ساتھی کے بغیر میرا گزارا نہیں ہو رہا

انتظاربھی دم بدم اورذوق و شوق بھی بڑھ رہا ہے ۔[162]

7 ننڈھڑا بے نیاز، صمد جے جاناں تِل تھورڑے سنبھل بُک بھریں

جے جاناں شَوہ ننڈھڑا تھوڑا مان کریں

اگر جانتا کہ تِل (زندگی) تھوڑے ہیں، سنبھل کر پیالہ بھرتا

اگر جانتا کہ خدا بے نیاز ہے، تو تھوڑا اور کی مانگ کرتا ۔[163]

8 صاحِب سچّا اصل مالک، سچا مالک چِنت کھٹولا، وان دُکھ، بِرہ وِچھاون لیف

ایہہ ہمارا جیونا، تُوں صاحِب سچّے ویکھ

فکر کی چارپائی، دکھوں کی بان اوپر سے فراق کی رضائی

یہی ہماری زندگی ہے، تو سچے مالک دیکھ ۔[164]

9 کنت مالک، محبوب، خدا کَون سو اکھّر، کَون گُن، کَون سو منیا منت

کَون سو ویسو ہَوں کِری جِت وَس آوے کنت

کون سے الفاظ، کون سی خوبی، کون سا موتی و منتر، کون سا بھیس (لباس) میں اپناؤں جس سے میرا محبوب خدا قابو میں آجائے۔[165]
10 دھنی مالک، رب ِک پِھکّا نہ گالائیں، سبھناں میں سچّا دھنی

ہیاؤ نہ کہیں ٹھاہیں، مانک سبھ امَولویں

کسی سے ایک لفظ بھی روکھا نہ بولنا کیونکہ سب میں سچا رب بستا ہے کسی کا بھی دل نہ توڑنا کیونکہ یہ (دل) ایسے موتی ہیں جن کا کوئی مُول نہیں ۔[166]

ایسی ہستی جس کی کوئی حد نہ ہو، جس کی کوئی مثال نہ ہو، ظاہر و باطن کی کوئی شے اس سے مشابہ نہیں، سب اُس کے محتاج ہیں، اُسے کسی کی احتیاج نہیں، دنیا کی ساری زبانوں کے سارے الفاظ مل کر بھی اُس ہستی کا احاطہ نہیں کرسکتے ایسی لازوال ہستی کو سمجھنے اور اُس کا عرفان حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ محدود طرزِفکر کے دائرے سے باہر نکل کر سوچا جائے۔

مذکورہ بیانات کے مطالعہ کے بعد یہ حقیقت ہمارے ذہن پر منکشف ہوتی ہے کہ بالفرض اگر ہم ﷲ کی لامحدود صفات کا تذکرہ کرتے ہیں تو اِس لامحدودیت کے تذکرے سے بھی ہماری محدودیت ہی اُجاگر ہوتی ہے۔ فی الواقع انسان کا شعور اس قابل ہی نہیں ہے کہ وہ ﷲ تعالیٰ کی صفات کا احاطہ کرسکے۔ انسان کی لامحدود نگاہ بھی اﷲ کے سامنے محدود ہے۔ انسان کا اﷲ کو پہچاننا فقط اُس کی اپنی استعداد کی حد تک ہے۔ ﷲ تعالیٰ آخری الہامی کتاب قرآن پاک میں ارشاد فرماتے ہیں:

”اور اگر یوں ہو کہ زمین کے جتنے درخت ہیں (سب کے سب) قلم بن جائیں اور سمندر (کا تمام پانی) سیاہی ہو اور اس کے بعد سات سمندر مزید (سیاہی بن جائیں) تو خدا کی باتیں (یعنی اُس کی صفات) ختم نہ ہوں گی۔[167]

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سورۂ الحشر (59): آیت 22 تا 23
  2. سورۂ الاعراف(7): آیت 180
  3. سورۂ الفاتحہ(1): آیت 1
  4. سورۂ الزمر(39): آیت 36
  5. سورۂ المومن (40):آیت15
  6. سورہ یوسف(12): آیت64
  7. سورۂ النور(24): آیت25
  8. سورۂالنحل (16):آیت70
  9. سورۂالنحل (16):آیت 91 .
  10. سورۂالبقرہ(2): آیت158 .
  11. سورۂ العلق(96): آیت3.
  12. سورۂالاعلیٰ(87): آیت1
  13. سورۂیٰس (36): آیت81 .
  14. سورۂالانعام (6): آیت62 .
  15. سورۂالنساء(4): آیت45 .
  16. سورۂالکہف(18):آیت110 .
  17. سورۂالمائدہ(5): آیت109 .
  18. سورۂالانعام (6):آیت18 .
  19. سورۂالمومن (40): آیت3.
  20. سورۂفاطر(35): آیت1 .
  21. سورۂالقمر (54): آیت55 .
  22. سورہ مریم(19): آیت47 .
  23. سورہ حم السجدہ(41): آیت54 .
  24. سورہ یوسف(12): آیت18 .
  25. سورہ یوسف(12):آیت21 .
  26. ^ 26.0 26.1 26.2 سورۂالمومن (40):آیت3 .
  27. سورۂالنساء(4): آیت87 .
  28. سورۂالبقرہ(2): آیت30 .
  29. سورۂالبقرہ(2): آیت140 .
  30. سورۂالانعام(6): آیت62 .
  31. سورہ ہود(11): آیت43 .
  32. سورۂالانعام (6): آیت73.
  33. سورۂالانعام (6): آیت95 .
  34. سورۂالانفال (8): آیت18 .
  35. ^ 35.0 35.1 سورہ یونس (10): آیت107 .
  36. سورہ یونس (10): آیت31 .
  37. سورہ یونس (10): آیت56 .
  38. سورہ یونس (10): آیت61 .
  39. سورۂالرعد (10): آیت34 .
  40. سورۂالرعد (10): آیت33 .
  41. سورۂالکہف (18): آیت17 .
  42. سورہ ق (50): آیت16 .
  43. سورۂالانبیاء (21): آیت47 .
  44. سورۂالصف(61):آیت8 .
  45. سورۂفاطر(35):آیت2 .
  46. ^ 46.0 46.1 سورۂحم السجدہ(41): آیت43 .
  47. سورۂالبقرہ(2): آیت105 .
  48. سورۂالانعام(6): آیت133 .
  49. سورۂالمومن (40):آیت15 .
  50. سورۂآل عمران (3): آیت4 .
  51. سورۂالذاریات(51): آیت58 .
  52. سورۂالمعارج(70): آیت3 .
  53. سورۂالرعد (13): آیت3 .
  54. صحیح مسلم |۔ از: امام مسلم۔ كتاب الایمان۔ باب تحریم الکبر وبیانہ۔ حدیث: 134
  55. المعجم الاوسط |۔ از: امام طبرانی۔ باب العین، من اسمہ : عبد الرحمٰن۔ حدیث: 4808
  56. المستدرك على الصحيحين۔ از: امام محمد بن عبد اللہ الحاکم نیشاپوری۔ کتاب الایمان، حدیث: 67
  57. صحیح ابن حبان۔ از: ابن حبان۔ كتاب الزينة والتطييب، ذكر ما يستحب للمرء تحسين ثيابه۔ حدیث: 5582
  58. صحیح بخاری |۔ از: امام بخاری۔ كتاب الدعوات۔ باب للہ مائة اسم غير واحد۔ حدیث: 5958
  59. صحیح مسلم |۔ از: امام مسلم۔ كتاب الذکر و الدعاء والتوبہ والاستغفار۔ باب في أسماء اللہ تعالى۔ حدیث: 4841
  60. سنن ابی داؤد |۔ از: ابو داؤد۔ كتاب الوتر ۔باب استحباب الوتر۔ حدیث: 1209
  61. سنن نسائی الصغریٰ |۔ از: احمد بن شعیب النسائی۔ كتاب قيام الليل وتطوع النهار، باب الأمر بالوتر۔ حدیث: 1665
  62. سنن ابن ماجہ۔ از: ابن ماجہ۔ كتاب إقامة الصلاة والسنة فيها، باب ما جاء في الوتر۔ حدیث: 1159
  63. صحیح بخاری |۔ از: امام بخاری۔ الفرض الخمس۔ باب الدلیل على أن الخمس لنوائب۔ حدیث: 2900
  64. صحیح بخاری |۔ از: امام بخاری۔ کتاب العلم۔ باب من یرد اللہ بہ خیرا ، حدیث: 70
  65. تاریخ دمشق |۔ از: ابن عساكر۔ حرف الف۔ ذكر من اسمہ أحمد ومحمد والحاشر والمقفى والعاقب۔ باب ذكر معرفة كنیتہ ونہیہ أن یجمع بینہا وبین اسمہ۔ حدیث: 1407
  66. سنن ابی داؤد |۔ از: ابو داؤد۔ كتاب الاجارة ۔باب فی التسعیر حدیث: 2997
  67. سنن ابن ماجہ۔ از: ابن ماجہ۔ كتاب التجارت ،باب من کره ان یسعر۔ حدیث: 2191
  68. جامع ترمذی |۔ از: امام ترمذی۔ كتاب البیوع۔ باب ما جاء فی التسعیر۔ حدیث: 1231
  69. سنن ابی داؤد |۔ از: ابو داؤد۔ كتاب الحمام ۔باب النہی عن التعری۔ حدیث: 3499
  70. سنن نسائی الصغریٰ |۔ از: احمد بن شعیب النسائی۔ كتاب الغسل و تیمم، باب الاستتار عند الاغتسال ۔حدیث: 403
  71. السنن الكبرى البہیقی |۔ از: امام بیہقی۔ جماع أبواب الاستطابة، باب فضل المحدث۔حدیث: 884
  72. صحیح بخاری |۔ از: امام بخاری۔ كتاب التوحید۔ باب کلام الرب حدیث: 6961
  73. صحیح مسلم |۔ از: امام مسلم۔ كتاب الالفاظ من الادب ۔باب النہی عن سب الدھر۔حدیث: 4173
  74. سنن ابی داؤد |۔ از: ابو داؤد۔ كتاب الادب ۔باب فی الرجل یسب الدھر۔ حدیث: 4592
  75. المعجم الاوسط |۔ از: امام طبرانی۔ باب المیم، من اسمہ : محمد۔ حدیث: 5884
  76. مصنف عبد الرزاق |۔ از: امام عبد الرزاق۔ کتاب المناسک، باب سنة الذبح۔ حدیث: 8377
  77. الدیات |۔ از: ابن ابی عاصم۔ باب إذا دفع القاتل إلى أولیاء المقتول۔ حدیث: 185
  78. جامع ترمذی |۔ از: امام ترمذی۔ كتاب القدر۔ باب ما جاء أن القلوب بین أصبعی الرحمٰن۔ حدیث: 2066
  79. سنن نسائی الکبریٰ |۔ از: احمد بن شعیب النسائی۔ كتاب النعوت۔ باب علام الغیوب 7431
  80. المستدرك على الصحيحين۔ از: امام محمد بن عبد اللہ الحاکم نیشاپوری۔ کتاب الدعا و التکبیر والتہلیل، حدیث: 1860
  81. مسند احمد۔ از: امام احمد بن حنبل۔ مسند العشرہ المبشرین، مسند انس بن مالک حدیث: 11883
  82. صحیح بخاری |۔ از: امام بخاری۔ كتاب القدر ۔باب یحول بین المرء و قلبہ۔ حدیث: 6155
  83. جامع ترمذی |۔ از: امام ترمذی۔ كتاب الدعوات۔ باب فی دعا النبیﷺ۔ حدیث: 3508
  84. سنن ابن ماجہ۔ از: ابن ماجہ۔ كتاب الدعا۔ باب رفع الیدین فی الدعا۔حدیث: 3863
  85. سنن ابی داؤد |۔ از: ابو داؤد۔ كتاب الوتر ۔باب الدعا۔ حدیث: 1275
  86. مسند احمد۔ از: امام احمد بن حنبل۔ مسند العشرہ المبشرین۔ باقي مسند المكثرين من الصحابة، مسند انس بن مالک۔ حدیث: 13158۔ بحوالہ تفسیر ابن کثیر، سورۂ مریم آیت 12
  87. شعب الايمان۔ از: امام بیہقی۔ الثامن من شعب الايمان باب فی حشر الناس، حدیث: 299
  88. مسند ابی یعلی۔ از: ابی یعلی موصلی۔ بقیہ مسند انس، ابو عمران الجونی عن انس۔ حدیث: 4151
  89. صحیح بخاری۔ از: امام بخاری۔ کتاب الایمان و النذور۔ باب کیف کانت یمین النبیﷺ حدیث:6168
  90. صحیح مسلم۔ از: امام مسلم۔ کتاب الفتن۔ باب لاتقوم الساعۃ حتی یمر الرجل۔ حدیث:5200
  91. عہد نامہ قدیم۔۔ خروج۔ باب:6،آیت:2۔3
  92. عہد نامہ قدیم۔۔ پیدائش۔ باب:1،آیت:1
  93. عہد نامہ قدیم۔۔ زبور۔ باب:52،آیت:1
  94. عہد نامہ قدیم۔۔ زبور۔ باب:78،آیت:35
  95. عہد نامہ قدیم۔۔ ایوب۔ باب:3،آیت:23
  96. عہد نامہ قدیم۔۔ خروج۔ باب:6،آیت:4
  97. عہد نامہ قدیم۔۔ پیدائش۔ باب:16،آیت:13
  98. عہد نامہ قدیم۔۔ قضاۃ۔ باب:6،آیت:24
  99. عہد نامہ قدیم۔۔ خروج۔ باب:3،آیت:14
  100. عہد نامہ قدیم۔۔ زبور۔ باب:8،آیت:9
  101. عہد نامہ قدیم۔۔ زبور۔ باب:16،آیت:2
  102. عہد نامہ قدیم۔۔ استثنا۔ باب:6،آیت:4
  103. عہد نامہ قدیم۔۔ استثنا۔ باب:28،آیت:58
  104. عہد نامہ قدیم۔۔ احبار۔ باب:24،آیت:11
  105. عہد نامہ قدیم۔۔ ہوسیع۔ باب:2،آیت:16
  106. عہد نامہ قدیم۔۔ دانی ایل۔ باب:2،آیت:47
  107. عہد نامہ قدیم۔۔ یسعیاہ۔ باب:10،آیت:21
  108. عہد نامہ قدیم۔۔ زبور۔ باب:28،آیت:8
  109. عہد نامہ قدیم۔۔ زبور۔ باب:29،آیت:3
  110. عہد نامہ قدیم۔۔ پیدائش۔ باب:21،آیت:33
  111. عہد نامہ قدیم۔۔ استثنا۔ باب:7،آیت:9
  112. عہد نامہ قدیم۔۔ سموئیل۔1۔ باب:7،آیت:45
  113. عہد نامہ قدیم۔۔ یسعیاہ۔ باب:47،آیت:4
  114. عہد نامہ قدیم۔۔ خروج۔ باب:17،آیت:25
  115. عہد نامہ قدیم۔۔ خروج۔ باب:15،آیت:26
  116. عہد نامہ قدیم۔۔ یسعیاہ۔ باب:45،آیت:15
  117. عہد نامہ قدیم۔۔ یسعیاہ۔ باب:45،آیت:21
  118. عہد نامہ قدیم۔۔ زبور۔ باب:31،آیت:5
  119. عہد نامہ قدیم۔۔ سموئیل۔1۔ باب:2،آیت:3
  120. عہد نامہ قدیم۔۔ استثنا۔ باب:10،آیت:17
  121. عہد نامہ قدیم۔۔ دانی ایل۔ باب:9،آیت:14
  122. عہد نامہ قدیم۔۔ یوناہ۔ باب:4،آیت:2
  123. عہد نامہ قدیم۔۔ استثنا۔ باب:4،آیت:31
  124. عہد نامہ قدیم۔۔ خروج۔ باب:34،آیت:14
  125. عہد نامہ قدیم۔۔ خروج۔ باب:20،آیت:4
  126. عہد نامہ قدیم۔۔ زبور۔ باب:23،آیت:1
  127. عہد نامہ قدیم۔۔ پیدائش۔ باب:22،آیت:14
  128. عہد نامہ قدیم۔۔ خروج۔ باب:34،آیت:7
  129. عہد نامہ جدید۔۔ متی۔باب:27،آیت:46
  130. عہد نامہ جدید۔۔ متی۔ باب:27،آیت:46
  131. عہد نامہ جدید۔۔ متی۔ باب:8،آیت:8
  132. عہد نامہ جدید۔۔ متی۔ باب:1،آیت:23
  133. عہد نامہ جدید۔۔ اعمال۔ باب:17،آیت:24
  134. عہد نامہ جدید۔۔ رومیوں۔ باب:14،آیت:8
  135. عہد نامہ جدید۔۔ متی۔ باب:4،آیت:10
  136. عہد نامہ جدید۔۔افسیوں۔ باب:4،آیت:5
  137. عہد نامہ جدید۔۔ مرقس۔ باب:12،آیت:29
  138. عہد نامہ جدید۔۔ متی۔ باب:11،آیت:25
  139. عہد نامہ جدید۔۔ 2 کرنتھیوں۔ باب:3،آیت:17
  140. عہد نامہ جدید۔۔1یوحنا۔ باب:4،آیت:8
  141. عہد نامہ جدید۔۔1یوحنا۔ باب:4،آیت:16
  142. عہد نامہ جدید۔۔ اعمال۔ باب:17،آیت:23
  143. عہد نامہ جدید۔۔مکاشفہ۔ باب:1،آیت:8
  144. عہد نامہ جدید۔۔مکاشفہ۔ باب:22،آیت:13
  145. عہد نامہ جدید۔۔مکاشفہ۔ باب:21،آیت:6
  146. عہد نامہ جدید۔۔مکاشفہ۔ باب:11،آیت:17
  147. عہد نامہ جدید۔۔مکاشفہ۔ باب:19،آیت:6
  148. عہد نامہ جدید۔۔مکاشفہ۔ باب:4،آیت:8
  149. عہد نامہ جدید۔۔مکاشفہ۔ باب:6،آیت:10
  150. عہد نامہ جدید۔۔مکاشفہ۔ باب:15،آیت:3
  151. عہد نامہ جدید۔۔ رومیوں۔ باب:16،آیت:26
  152. مہا بھارت۔ کتاب:13(انوشاسن پُروا)۔باب:149
  153. سری گرنتھ صاحب از گورونانک۔ جیپُ جی، انگ:1
  154. یسن:41
  155. دی ورکس آف موزی The Works of Motze، کنفیوشش پبلشنگ کمپنی، تائیپی، صفحہ 290
  156. Lung Ch’uan Kwei T’ai Lang, Shih Chi Hui Chu K’ao Cheng, Taipei, Han Ching Wen Hua Enterprise Co. Ltd., p. 497, 1983.
  157. کلام بابا فرید : بیت 10
  158. کافیاں بابا بلھے شاہ : کافی 19
  159. کافیاں بابا بلھے شاہ : کافی 21
  160. سیف الملوک، میاں محمد بخش :ورقہ 170 : شعر 1371
  161. کلام بابا فرید :بیت 65
  162. کلام خواجہ غلام فرید :بیت 236
  163. کلام بابا فرید :بیت 4
  164. کلام بابا فرید :بیت 35
  165. کلام بابا فرید :بیت 126
  166. کلام بابا فرید :بیت 129
  167. سورہ لقمان (31): آیت 27