مسلم بن الحجاج

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(امام مسلم سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مسلم بن حجاج
{{#if:
مسلم بن حجاج
ImamMuslim1.png
معروفیت امام مسلم
پیدائش بعد از 815نیشاپور، خراسان
(موجودہ ایران)
وفات مئی 875
رہائش نصیر آباد
(نیشاپور)
دور Islamic Golden Age
عباسی خلافت
پیشہ عالم (علم والا), Hadith compiler
مذہب اسلام
فرقہ اہل سنت
فقہ شافعی اور ijtihad
شعبۂ عمل حدیث
کارہائے نماياں صحیح مسلم

مسلم بن حجاج جو امام مسلم کے نام سے معروف ہیں، محدثین کرام میں جو بلند پایہ رکھتے ہیں وہ کسی سے مخفی نہیں۔ علمائے اسلام کا اگرچہ فیصلہ ہے کہ قرآن مجید کے بعد پہلا مرتبہ صحیح بخاری شریف کا ہے اور پھر صحیح مسلم شریف کا ، جس سے صحیح مسلم کے جامع حضرت امام مسلم کی عظمت کا کافی اندازا ہو جاتا ہے لیکن بعض علما کا خیال یہ بھی ہے کہ صحیح مسلم شریف کا درجہ اگر صحیح بخاری شریف سے بلند نہیں تو مساوی ضرور ہے کیونکہ صحیح مسلم شریف کی احادیث کافی تحقیقات کے بعد جمع کی گئی ہیں اور بعض اعتبارات سے تحقیقات میں حضرت امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کا درجہ امام بخاری سے بڑھا ہوا ہے۔ بہر نوع حضرت امام مسلم کا پایہ محدثین کرام میں اس قدر بلند ہے کہ اس درجہ پر امام بخاری کے سوا کوئی دوسرا محدث نہیں پہنچا اور ان کی کتاب صحیح مسلم شریف اس قدر بلند پایہ کتاب ہے کہ صحیح بخاری کے سوا کوئی کتاب اس کے سامنے نہیں رکھی جا سکتی۔

خاندان اور سلسلہ نسب ، پیدائش اور وفات[ترمیم]

حضرت امام مسلم کا پورا نام ابوالحسین مسلم بن الحجاج بن مسلم القشیری بن دردین تھا۔ ابولحسین آپ کی کنیت تھی اور عساکر الدین لقب تھا۔ قبیلہ بنو قشیر سے آپ تعلق رکھتے تھے جو عرب کا ایک مشہور خاندان تھا اور خراسان کا مشہور شہر نیشاپور آپ کا وطن تھا۔ حضرت امام مسلم 203ھ یا 206ھ میں باختلاف اقوال پیدا ہوئے لیکن اکثر علما اور مؤرخین کی تحقیق یہ ہے کہ آپ کا سنہ ولادت 206ھ زیادہ معتبر ہے۔ حضرت امام نووی شارح صحیح مسلم لکھتے ہیں کہ حضرت امام مسلم 206ھ میں پیدا ہوئے، 55 سال کی عمر پائی اور 24 رجب 261ھ کو اتوار کے دن شام کے وقت وفات پائی اور نیشاپور میں دفن ہوئے۔

تعلیم و تربیت[ترمیم]

حضرت امام مسلم نے والدین کی نگرانی میں بہترین تربیت حاصل کی اور اس پاکیزہ تربیت ہی کا یہ اثر تھا کہ ابتداے عمر سے آخری سانس تک آپ نے پرہیزگاری اور دینداری کی زندگی بسر کی، کبھی کسی کو اپنی زبان سے برا نہ کہا یہاں تک کہ کسی کی غیبت نہیں کی اور نہ کسی کو اپنے ہاتھ سے مارا پیٹا۔ ابتدائی تعلیم آپ نے نیشاپور میں حاصل کی۔ آپ کو اللہ تعالٰی نے غیر معمولی ذکاوت و ذہانت اور قوت حافظہ عطا کی تھی کہ بہت تھوڑے عرصہ میں آپ نے رسمی علوم و فنون کو حاصل کر لیا اور پھر احادیث نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعلیم و تحصیل کی جانب توجہ کی۔

شیوخ و تلامذہ[ترمیم]

جن سے آپ نے سماعت کی: یحیی بن یحیی التمیمی نیشاپوری، اور قتیبہ بن سعید، محمد بن عبد الوہاب الفراء، اسحاق بن راہویہ، محمد بن مہران الحمال، ابراہیم بن موسى الفراء، علی بن الجعد، احمد بن حنبل، عبید اللہ القواریری، خلف بن ہشام، سریج بن یونس، عبد اللہ بن مسلمہ القعنبی، ابو الربیع الزہرانی، عبید اللہ بن معاذ بن معاذ، احمد بن یونس وابراہیم بن المنذر وابو مصعب الزہری وغیرہم.

کثیر شخصیات نے آّ سے روایت کی ہے: الترمذی ابو الفضل احمد بن سلمہ، ابراہیم بن ابی طالب، شیخہ محمد بن عبد الوہّاب الفراء، ابن خزیمہ، ابو حاتم رازی، ابراہیم بن محمد بن سفیان، ابو عوانہ الاسفرایینی، ابو حامد الاعمشی وغیرہ۔

تصانیف[ترمیم]

امام مسلم کی سب سے مشہور ومعروف اور مقبول عام تصنیف تو یہی صحیح مسلم ہی ہے لیکن اس کے علاوہ امام مسلم رح نے اور بھی کافی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں چند تصانیف یہ ہیں

  • المسند الکبیر علی الرجا ل
  • الا سماء والکنی
  • کتاب الجامع علی الابواب
  • الجامع الکبیر
  • کتاب السیر
  • کتاب علل
  • کتاب الوجدان
  • کتاب الا قران
  • کتاب المشائخ ثوری
  • کتاب سوالا ت امام احمد بن حبنل
  • کتاب حدیث عمر وبن شعیب
  • کتاب مشائخ مالک
  • کتاب مشائخ ثوری
  • کتاب مشائخ شعبہ
  • کتاب اولادصحابہ
  • کتاب اوہام المحدثین
  • کتاب رواہ الشا مین
  • کتاب رواۃ الا عتبار
  • کتاب المخغرمین

امام مسلم نے یہ شرط لگائی ہے کہ وہ اپنی صحیح میں صرف وہ حدیث بیان کر یں گے جس کو کم ازکم دوثقہ تابعین نے دوصحابیوں سے روایت کیا ہو اور یہی شرط تمام طبقات تابعین وتبع تابعین میں ملحوظ رکھی ہے یہاں تک کہ سلسلہ اسناد ان (مسلم ) تک ختم ہو۔ دوسرے یہ کہ راویوں کے اوصاف میں صرف عدالت پر ہی اکتفاء نہیں کرتے بلکہ شرائط شھادت کو بھی پیش نظر رکھتے ہیں۔

امام مسلم کی خدادا د صلاحیتوں نے خود امام مسلم کے اساتذہ اکرام کو بھی ان کا اس قدر گرویدہ بنالیا تھا کہ اسحاق بن راہویہ جیسے امام فن بھی پکار اٹھے کہ کہ لن نعدم الخیر ماابقاک اللہ للمسلمین یعنی جب تک اللہ تعالی آپ رح کو مسلمانوں کےلیے زندہ رکھے گا، بھلا ئی ہمارے ہاتھ سے نہیں جانے پائے گی (مقدمہ فتح الملہم)

امام مسلم فرماتے ہیں کہ میں نے تین لاکھ احادیث نبویہ میں منتحب کر کے یہ کتاب صحیح مسلم تیار کی ہے.

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Ibn Rāhwayh، Isḥāq (1990), Balūshī، ʻAbd al-Ghafūr ʻAbd al-Ḥaqq Ḥusayn, ویکی نویس, Musnad Isḥāq ibn Rāhwayh (اشاعت 1st), Tawzīʻ Maktabat al-Īmān, صفحات 150–165 
  2. منهج الإمام مسلم بن الحجاج
فقہی ائمہ کرام بلحاظ ترتیب زمانی ولادت
ترتیب نام امام مکتبہ فکر سال و جائے پیدائش سال و جائے وفات تبصرہ
1 ابو حنیفہ اہل سنت 80ھ ( 699ء ) کوفہ 150ھ ( 767ء ) بغداد فقہ حنفی
2 جعفر صادق اہل تشیع 83ھ ( 702ء ) مدینہ 148ھ ( 765ء ) مدینہ فقہ جعفریہ، کتب اربعہ
3 مالک اہل سنت 93ھ ( 712ء ) مدینہ 179ھ ( 795ء ) مدینہ فقہ مالکی، موطا امام مالک
4 شافعی اہل سنت 150ھ ( 767ء ) غزہ 204ھ ( 819ء ) فسطاط فقہ شافعی
5 احمد بن حنبل اہل سنت 164ھ ( 781ء ) مرو 241ھ ( 855ء ) بغداد فقہ حنبلی ،مسند احمد بن حنبل