اسماعیل بن سعید شالنجی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اسماعیل بن سعید شالنجی
معلومات شخصیت
تاریخ وفات سنہ 893  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Black flag.svg دولت عباسیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
فرقہ اہل سنت
فقہی مسلک حنبلی
عملی زندگی
پیشہ فقیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

اسماعیل بن سعید کنیت: ابو اسحاق، نسبت: شالنجی، جرجانی، طبری اور کسائی ہے۔ پورا نام یوں ہوگا: ابو اسحاق اسماعیل بن سعید شالنجی جرجانی طبری کسائی۔ سنہ ولادت کا ذکر نہیں ملتا ہے، سنہ وفات 230 ہجری ہے۔ احمد بن حنبل کے تلامذہ میں شمار ہوتے ہیں، امام احمد کے بہت سے مسائل ان سے منقول ہیں۔

شالنجی کی نسبت بال سے بنی اشیاء کے بیچنے کی طرف منسوب ہے۔[1]

حالات زندگی[ترمیم]

اسماعیل بن سعید اپنے وطن جرجان میں تقریباً چالیس سالوں تک حنفی مذہب پر رہے، پھر حنبلی بن گئے، شالنجی نے خود بیان کیا ہے کہ ”میں چالیس سالوں تک غلط راستے پر رہا پھر اللہ نے مجھے سیدھا راستہ دکھایا، کتنے سارے لوگوں نے مجھے چھوڑ دیا۔“[2]

پہلے وہ امام ابو حنیفہ کے مسلک کے بڑے فقیہ تھے، چنانچہ ان کے شاگرد امام محمد بن حسن شیبانی کی شاگرد تھے اور انھیں نے حنفی فقہ سیکھی، پھر حنبلی ہو گئے اور حنفی مسائل اور دیگر مسائل کے بارے میں امام احمد سے سوالات کیا کرتے تھے۔

جرجان سے ساریہ پھر سے ساریہ سے استر آباد منتقل ہو گئے۔

مسائل[ترمیم]

ابن تیمیہ امام احمد کے شاگردوں کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

”حنبل اور احمد بن فرج دونوں امام احمد سے مالک بن انس اور اہل مدینہ کے مسائل کے بارے میں سوالات کرتے تھے، اسی طرح اسحاق بن منصور اور کچھ دوسرے تلامذہ سفیان ثوری کے تعلق سے سوال کرتے تھے اور میمونی، اوزاعی کے مسائل کے بارے میں پوچھتے تھے، اور اسی طرح اسماعیل بن سعید شالنجی امام ابو حنیفہ اور ان کے تلامذہ کے مسائل کے تعلق سے سوالات کرتے تھے، چونکہ پہلے وہ حنفی فقیہ تھے بعد میں بہت سے مسائل میں اجتہاد کیا اور اہل حدیث مسلک کو ترجیح دی اور اس مسائل کے متعلق احمد بن حنبل وغیرہ سے سوالات کیا کرتے تھے اور ان مسائل کی تشریح ابراہیم بن یعقوب جوزجانی امام دمشق کیا کرتے تھے....۔“

ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں:

”اسماعیل بن سعید کے امام احمد سے مروی مسائل ابن حکم کے مسائل کے بعد کے ہیں، چونکہ ابن حکم امام احمد کے قدیم شاگرد تھے اور تقریباً ان سے بیس سال پہلے وفات پائی۔ اور اسماعیل بن سعید پہلے حنفی مذہب پر تھے، پھر اہل حدیث ہوئے اور اخیر میں امام احمد سے سوال کرنے لگے اور ان کے ساتھ سلیمان بن داؤد ہاشمی اور دوسرے علمائے اہل حدیث بھی سوالات کیا کرتے....“

ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں:

””اسماعیل بن سعید کے مسائل امام احمد بن حنبل کے بڑے اور اہم مسائل میں ہیں“ اسی طرح لکھتے ہیں: ”اور یہ مسائل بہت اہم اور بڑے مسائل ہیں“

ابو بکر خلال فرماتے ہیں:

”ان کے (اسماعیل بن سعید) کے پاس بہت سے مسائل موجود تھے، مجھے نہیں لگتا کہ امام احمد کے تلامذہ میں سے اس سے بہتر اور اس سے زیادہ مسائل کسی نے جمع کیا ہو اور اسماعیل بن سعید سے ابراہیم بن یعقوب جوزجانی نے ان مسائل کو روایت کیا اور بیان کیا ہے۔“

حوالہ جات[ترمیم]

  1. الانساب (8\28)
  2. تاريخ جرجان (141)