عبد الملک میمونی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عبد الملک میمونی
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 797  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
الرقہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 887 (89–90 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
الرقہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Black flag.svg دولت عباسیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
فرقہ اہل سنت
فقہی مسلک حنبلی
والد میمون بن مہران  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
استاذ احمد بن حنبل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں استاد (P1066) ویکی ڈیٹا پر
تلمیذ خاص احمد بن شعیب النسائی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شاگرد (P802) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ محدث،  فقیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان عربی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل فقہ،  علم حدیث  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

عبد الملک بن عبد الحمید بن میمون بن مہران میمونی رقی، ابو الحسن کنیت ہے، عالم، محدث اور فقیہ تھے، امام احمد بن حنبل کے شاگرد تھے، کبار ائمہ میں شمار ہوتا ہے، ان کے دادا میمون بن مہران رقی جزیرۃ العرب کے شیخ مانے جاتے تھے۔[1][2]

اساتذہ[ترمیم]

  • اسحاق بن یوسف ازرق
  • حجاج بن محمد
  • محمد بن عبید طنافسی
  • روح بن عبادہ
  • مکی بن ابراہیم
  • عبد اللہ قعنبی[2]

تلامذہ[ترمیم]

  • امام نسائی
  • ابو عوانہ اسفرائینی
  • ابو بکر بن زیاد نیساپوری
  • ابو علی محمد بن سعید حرانی
  • محمد بن منذر شکر
  • ابراہیم بن محمد بن متویہ [2]

علما کی آرا[ترمیم]

ذہبی لکھتے ہیں : «عبد الملک میمونی رقہ کے بڑے عالم اور اس زمانے کے مفتی تھے»۔[2]

ابو بکر خلال فرماتے ہیں: « عبد الملک میمونی امام احمد کے جلیل القدر تلامذہ میں سے تھے، وفات کے وقت ان کی عمر سو سال سے کم تھی، زبردست فقہ کے مالک تھے، امام احمد ان کا خوب احترام کیا کرتے تھے، ان کے ساتھ الگ انداز سے پیش آتے تھے۔

میمونی نے مجھ سے کہا: میں ان (امام احمد) کے ساتھ مستقل سنہ 250 سے تقریباً 27 سالوں تک رہا ہوں، پھر اس کے بعد بھی وقتاً فوقتاً حاضر ہوتا رہتا تھا، امام احمد مجھے زیادہ سوال کرنے کی وجہ سے ابن جریج سے مثال دیا کرتے تھے اور مجھ سے کہتے کہ میں تمھارا دوسروں سے زیادہ خیال رکھتا ہوں، امام احمد کے بہت سے مسائل تقریباً سولہ 16 اجزاء میں ان کے پاس موجود تھے، دو جز تو کافی بڑے تھے»۔[3]

وفات[ترمیم]

ربیع الاوّل کے مہینہ میں سنہ 274 ہجری میں وفات پائی۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. أَبُو الْحَسَنِ الْمَيْمُونِيُّ - جامع شروح السنة
  2. ^ ا ب پ ت سير أعلام النبلاء للذهبي 13/ 89
  3. ^ ا ب طبقات الحنابلة، لابن أبي يعلى 2/ 92