اسحاق بن احمد علثی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اسحاق بن احمد علثی
معلومات شخصیت
تاریخ وفات سنہ 1236 اور سنہ 1237  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
فرقہ اہل سنت
فقہی مسلک حنبلی
عملی زندگی
پیشہ عالم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

اسحاق بن احمد بن محمد بن غانم علثی، ساتویں صدی ہجری کے اعلام حنابلہ میں سے ہیں، نہایت نیک، متقی، زاہد، فقیہ اور عالم تھے، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بہت سختی سے کیا کرتے تھے، اس معاملہ میں اللہ کے علاوہ کسی سے خوف نہیں کھاتے تھے اور نہ ہی کسی کی ملامت کی پروا کرتے تھے، ابو الفتح بن شاتیل، ابن کلیب اور ابن اخضر سے علم حاصل کیا تھا۔

منکرات پر نکیر[ترمیم]

اسحاق بن احمد علثی نے عباسی حکمراں الناصر لدین اللہ کے غلط فیصلوں پر خوب نکیر کیا کرتے تھے، ببانگ دہل حق کا اعلان کرتے تھے۔

  • ناصح الدین بن الحنبلی کہتے ہیں ہیں: «وہ ان دنوں عراق کے شیخ ہیں، فقہا، فقرا اور دوسروں کے مقابلہ میں سب سے زیادہ مضبوطی سے منکرات پر نکیر کرنے والے ہیں، جبکہ دوسرے حضرات رخصت پر عمل کرتے رہتے»۔
  • منذری کہتے ہیں: «کہا جاتا ہے کہ ان کے زمانہ میں ان سے زیادہ منکرات پر نکیر کرنے والا کوئی نہیں تھا، اسی وجہ سے انھیں ایک مدت تک قید کا سامنا کرنا پڑا تھا»۔
  • ابن رجب کہتے ہیں: «انھوں نے بہت سے خطوط اور رسائل اعیان مملکت کو لکھا تھا جس میں منکرات پر نکیر اور نصائح تھیں، میں نے دیکھا تھا کہ انھوں نے ایک کتاب بغداد عباسی حکمراں کی خدمت میں بھیجا تھا، اسی طرح علی بن ادریس زاہد جو عبد القادر جیلانی کے شاگرد تھے انھیں بھی ایک طویل رسالہ بھیجا تھا جس میں رقص، سماع اور مبالغہ وغیرہ پر نکیر کی تھی»۔ اسی طرح کئی اور رسائل اور خطوط ہیں جن کو مختلف حضرات کی خدمت میں بھیجا تھا۔
  • امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے سلسلہ میں اسحاق علثی کا قول ہے: «ہمارے اصحاب ہر جگہ ہر آن حق بلند کرتے رہتے ہیں چاہے انھیں تلواروں سے مارا جائے، وہ اللہ کے معاملہ میں کسی ملامت کی پروا نہیں کرتے ہیں اور نہ ہی کسی بد اخلاق کی بداخلاقی اور کسی جھوٹے کے جھوٹ سے متاثر ہو سکتے ہیں، انھوں نے دنیا اور دنیا کی چیزوں کو آخرت کے بدلہ چھوڑ دیا ہے، آخرت کا بدلہ معلوم اور معروف ہے»۔[1]

ابن جوزی کو خط[ترمیم]

ایک طویل خط ابو الفرج بن جوزی کو بھیجا تھا جس میں ان کی بعض ان باتوں پر نکیر کی تھی جس میں اہل تاویل کی طرف رجحان ظاہر ہو رہا تھا۔[2] (اردو ترجمہ میں خلاصہ پیش ہے)

اللہ کے بندے اسحاق بن احمد علثی کی جانب سے اللہ کے بندے ابن الجوزی کی خدمت میں !

اللہ ہم سب کی حق بات کے قبول کرنے کے انکار سے حفاظت فرمائے، اللہ ہم سب کو سلف صالحین کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے، سنت مطہرہ کی بصارت دے، نبوی ارشادات کی اتباع سے ہمیں محروم نہ فرمائے، شریعت محمدیہ میں بدعت سے ہماری حفاظت فرمائے۔۔۔۔! بدعات کی دین میں چنداں ضرورت نہیں ہے، رسول اللہ نے ہمیں صاف ستھرے طریقہ پر چھوڑا ہے، اللہ نے ہمارے لیے دین کو کامل و مکمل کر دیا ہے اور مبتدعین کی آرا سے ہمیں بے نیاز کر دیا ہے، چنانچہ اللہ کی کتاب میں اور رسول اللہ کی سنے میں سب کچھ موجود ہے جو بھی اس کی خواہش کرے۔۔۔۔۔۔ اللہ ہمیں سلیم اعتقاد نصیب فرمائے اور ہمیں اپنی توفیق سے محروم نہ رکھے، چونکہ جب بندہ توفیق خداوندی سے محروم ہو جاتا ہے تو اسے کوئی علم نفع نہیں پہنچا سکتا، اپنی قدر کی توفیق عطا فرمائے، صراط مستقیم کی ہدایت دے، اللہ کی ذات عالی کے علاوہ کوئی طاقت و قدرت نہیں ہے، ہر عالم سے بڑا علم والا موجود ہے، تمام تعریفیں اسی اللہ کو سزاوار ہیں جس کی ذات پاک ہے، اور درود سلام ہو اس کے رسول پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! یہ بات کسی سے مخفی نہیں ہے کہ دین نصیحت و خیرخواہی کا نام ہے، کتنی قلمیں مڑ گئیں، کتنے قدم لڑکھڑا گئے اور کتنے متکلمین پھسل گئے، لیکن وہ علوم کا احاطہ نہیں کر سکتے، اللہ نے کتنی سچی بات ارشاد فرمائی ہے: "بعض لوگ لاعلمی میں اللہ کے متعلق بلا کسی ہدایت اور بلا کسی روشن کتاب کے مجادلہ کرتے ہیں"۔ اسحاق بن احمد علثی

وفات[ترمیم]

سنہ 634ھ میں وفات پائی۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. نبذة مختصرة عن الحنابلة وتاريخهم الإسلام سؤال وجواب. وصل لهذا المسار في 26 مارس 2016 نسخہ محفوظہ 14 سبتمبر 2016 در وے بیک مشین
  2. الذيل على طبقات الحنابلة » وفيات المائة السابعة » إِسْحَاق بْن أَحْمَد بْن مُحَمَّد بْن غانم العلثي موسوعة الحديث. وصل لهذا المسار في 26 مارس 2016
  3. "معجم مصنفات الحنابلة - 9"۔ گوگل بکس۔ اسلام کتب۔