لالکائی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
لالکائی
(عربی میں: أبو القاسم هبة الله بن الحسن اللالكائي‎ ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
مقام پیدائش طبرستان  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 1027  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دینور  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg دولت عباسیہ  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
فرقہ اہل سنت
فقہی مسلک شافعی یا حنبلی
عملی زندگی
تلمیذ خاص خطیب بغدادی  ویکی ڈیٹا پر شاگرد (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ الٰہیات دان، فقیہ، محدث  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل فقہ، علم حدیث  ویکی ڈیٹا پر شعبۂ عمل (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

لالکائی پورا نام: ہبۃ اللہ بن حسن بن منصور طبری ہے، کنیت: ابو القاسم ہے، نسبت: رازی، آملی، طبری اور لالکائی مشہور ہے، فقہی مذہب: شافعی اور بعض کے مطابق حنبلی ہے۔[1]

اساتذہ[ترمیم]

  • عیسیٰ بن علی وزیر
  • ابو طاہر مخلص
  • جعفر بن عبد اللہ فناکی رازی
  • ابو الحسن ابن الجندی
  • علی بن محمد قصار
  • علاء بن محمد رویانی
  • ابو احمد فرضی
  • ابو حامد اسفرایینی

تلامذہ[ترمیم]

  • ابو بکر خطیب
  • محمد بن ہبۃ اللہ
  • ابو بکر احمد بن علی طریثیثی
  • مکی کرجی سلار

علما کی آرا[ترمیم]

  • ذہبی کہتے ہیں: «امام اور حافظ الحدیث تھے، اپنے زمانے میں بغداد کے مفتی تھے»
  • خطیب کہتے ہیں: «بغداد آئے تو بغداد ہی کو اپنا وطن بنا لیا، شافعی فقہ کو علی اسفرایینی کے پاس پڑھا، صاحب فہم اور حافظ الحدیث تھے، سنن میں ایک کتاب تصنیف کی، اسی طرح صحیحین کے اسما پر بھی ایک کتاب لکھی ہے، سنت کی تشریح میں بھی ان کی ایک کتاب ہے»
  • شجاع ذہلی کہتے ہیں: «بہت کم ایسی احادیث ہونگی جو انھیں یاد نہ رہ گئی ہوں»
  • خطیب کہتے ہیں: «جلد وفات ہو گئی اسی وجہ سے ان سے مروی بہت سی احادیث عام نہ ہو سکی»
  • ذہبی کہتے ہیں: «ابو بکر طریثیثی نے ان سے اپنی کتاب روایت کی ہے۔ فرماتے ہیں کہ: ہبۃ اللہ طبری کی وفات دینور میں ہوئی، کسی کام کی وجہ سے وہاں گئے تھے پھر وہیں وفات پا گئے»
  • علی بن حسین عکبری کہتے ہیں: «میں نے ہبۃ اللہ طبری کو خواب میں دیکھا، میں کہا: اللہ نے کیسا معاملہ کیا؟ فرمایا: مغفرت فرما دی، میں پوچھا کس وجہ سے؟ فرمایا: ایک چھوٹی سی بات حدیث و سنت کی وجہ سے،»

تصنیفات[ترمیم]

  • شرح اصول اعتقاد اہل السنت والجماعت (عربی زبان)

وفات[ترمیم]

سنہ 418 ہجری میں وفات پائی، سیوطی کی کتاب "تاریخ الخلفاء" میں مذکور ہے کہ عباسی خلیفہ قادر باللہ کے زمانہ میں وفات پائی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سير اعلام النبلاء، الجزء السابع عشر، ص: 419
  1. تاریخ بغداد
  2. سير الأعلام النبلاء