عبد الغنی مقدسی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عبد الغنی مقدسی
Maqdisi-2.PNG
 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1146  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جمعان  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 1 دسمبر 1203 (56–57 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قاہرہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
فرقہ اہل سنت و جماعت
فقہی مسلک حنبلی
عارضہ قریبی بصارت  ویکی ڈیٹا پر (P1050) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ عالم،  حافظ قرآن،  محدث،  فقیہ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی[1]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں الکمال فی اسماء الرجال  ویکی ڈیٹا پر (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مؤثر ابن قدامہ،  شيخ عبدالقادر جيلانی،  ابو طاہر سلفی  ویکی ڈیٹا پر (P737) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

عبد الغنی مقدسی، پورا نام اور نسب: حافظ تقی الدین ابو محمد عبد الغنی بن عبد الواحد بن علی بن سرور بن رافع بن حسن بن جعفر بن ابراہیم المقتول بن اسماعیل بن امیر جعفر سید اغر بن ابراہیم اعرابی بن ابو جعفر محمد رئیس جواد بن علی زینبی بن عبد اللہ بحر الجود بن جعفر طیار بن ابی طالب، مقدسی جماعیلی ہے۔ مشہور کتاب "عمدۃ الاحکام" کے مصنف ہیں، بیت المقدس کے خطہ نابلس میں جماعیل کے اندر سنہ 541 ہجری میں پیدا ہوئے، لیکن جلد ہی وہاں سے مع اہل خانہ دمشق منتقل ہو گئے۔[2]

حلیہ[ترمیم]

ضیا کہتے ہیں: «بالکل سفید رنگ نہیں تھا، بلکہ کچھ گندمی مائل تھا، بال خوبصورت تھے، داڑھی گھنی تھی، پیشانی چوڑی تھی، قد لمبا تھا، چہرے سے نور جھلکتا تھا، زیادہ رونے، لکھنے اور پڑھنے کی وجہ سے بینائی کمزور ہو گئی تھی۔»[3][4]

علمی زندگی[ترمیم]

عبد الغنی مقدسی ابتدا ہی میں طلب علم میں مشغول ہو گئے تھے، چنانچہ اپنے علاقہ کے کبار علما اور شیوخ سے علم حاصل کیا، دمشق کے شیوخ اور علما کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا، ان سے فقہ اور دوسرے علوم کو حاصل کیا۔

اساتذہ[ترمیم]

  • محمد بن احمد بن قدامہ مقدسی
  • ابو المکارم بن ہلال
  • سلمان بن علی رحبی
  • ابو عبد اللہ محمد بن حمزہ قرشی

پھر سنہ 561 ہجری میں بغداد گئے، وہاں شیخ عبد القادر جیلی (کیلانی) کے پاس قیام کیا، بغداد میں تقریباً 4 سال تک قیام کیا، وہاں حدیث اور فقہ میں مشغول رہے، پھر سنہ 565 میں دمشق واپس آ گئے، پھر جلد ہی مصر چلے گئے، 566 میں اسکندریہ گئے اور ایک عرصہ تک حافظ ابو طاہر سلفی کی خدمت میں رہے، پھر سنہ 570 میں بھی حافظ سلفی کی خدمت میں تشریف لے گئے، پھر اصفہان تشریف لے گئے اور وہاں ایک مدت تک قیام کیا۔

علما کی آرا[ترمیم]

  • علامہ ذہبی کہتے ہیں: «امام، عالم، حافظ کبیر، متقی عابد، سلف کے پیروکار اور متبع سنت تھے»
  • ابن جوزی کہتے ہیں: « عبد الغنی مقدسی متقی، زاہد اور عابد تھے، روزانہ تین سو رکعات نمازیں پڑھتے، پابندی سے قیام اللیل کرتے، سال میں روزے رکھتے، بہت سخی تھے کوئی چیز جمع کر کے نہیں رکھتے تھے، یتیموں اور بیواؤں کو خفیہ صدقہ کیا کرتے تھے، نئے کپڑے کے مقابلہ میں پرانا پیوند لگا کپڑا پہنتے تھے، کثرت مطالعہ اور کثرت بکا کی وجہ سے بینائی کمزور ہو گئی تھی، علم حدیث اور حفظ حدیث میں اپنے زمانہ میں یکتا تھے»
  • ابن نجار کہتے ہیں: «بہت زیادہ احادیث انھیں حفظ تھیں، حدیث میں ان کی بہت سی بہترین تصنیفات ہیں، حافظہ کمال تھا، حدیث کو اس کے اصول و علل، صحت و ضعف، ناسخ و منسوخ اور غریب و حسن، نیز حدیث اور اس کے معانی کا فہم اور فقہ، اس کے روات کے ناموں اور ان کے احوال کا علم سب کچھ اچھی طرح حاصل تھا»
  • عبد العزیز بن عبد الملک شیبانی کہتے ہیں: «میں نے یعقوب کندی کو فرماتے ہوئے سنا کہ "دار قطنی کے بعد حافظ عبد الغنی جیسا کوئی نہیں ہوا» کندی کہتے ہیں: «ان کے جیسا حافظ الحدیث نہیں دیکھا گیا»
  • ابن العماد حنبلی کہتے ہیں: « حفظ حدیث متن اور سند دونوں میں اس کے فنون پر مہارت کے ساتھ منتہیٰ تھے، ساتھ ساتھ تقوی، عبادت، سلف کی پیروی، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں اپنی مثال آپ تھے»
  • موفق الدین کہتے ہیں: «عبد الغنی مقدسی علم و عمل کے جامع تھے، بچپن میں اور طلب علم میں میرے دوست تھے، ہم اچھے کاموں میں ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے تھے، اللہ نے انھیں اہل بدعت کی اذیت اور ان کی عداوت میں مبتلا کرکے کمال فضیلت عطا فرمایا، اسی طرح اخیر عمر تک علم اور کثرت مطالعہ کتب میں بہت فوقیت دی»[3]

تصنیفات[ترمیم]

حافظ مقدسی صاحب تصانیف کثیرہ تھے، حدیث میں ان کی بہت سی تالیفات ہیں، عبد اللہ بصیری نے لکھا ہے کہ حافظ عبد الغنی مقدسی نے 50 کتابیں تالیف کی ہے۔

چند مشہور کتابوں کے نام درج ذیل ہیں:

  1. عمدۃ الاحکام
  2. الکمال فی اسماء الرجال
  3. المصباح فی عیون الاحادیث الصحاح
  4. نہایۃ المراد من کلام خیر العباد
  5. تحفۃ الطالبین فی الجہاد و المجاہدین
  6. محنۃ الامام احمد
  7. اعتقاد الامام الشافعی
  8. مناقب الصحابہ
  9. النصیحۃ فی الادرعیۃ الصحیحۃ
  10. الترغیب فی الدعاء والحث علیہ
  11. الثانی من فضائل عمر بن الخطاب
  12. حدیث الافک
  13. مختصر سیرۃ الرسول و اصحابہ العشرہ

وفات[ترمیم]

ان کے بیٹے ابو موسیٰ بن عبد الغنی مقدسی کہتے ہیں: «میرے والد ربیع الاول سنہ 600 ہجری میں سخت بیمار ہوئے، حتی کہ کلام و قیام سے عاجز ہو گئے، مرض سولہ دن تک بہت سخت رہا»۔ پھر جلد ہی مقدسی دوشنبہ کے روز 23 ربیع الاول سنہ 600 ہجری میں وفات پا گئے، اس وقت ان کی عمر 59 سال تھی اور مصر کے مقبرہ قرافہ میں مدفون ہوئے، وفات کے وقت مصر ہی میں سکونت پزیر تھے، عقائد کے تعلق سے کچھ آزمائشوں کی وجہ سے شام سے مصر آگئے تھے۔[5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb145130831 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — مصنف: Bibliothèque nationale de France — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. سير أعلام النبلاء للذهبي : 21/443 – 471
  3. ^ ا ب الحافظ عبدالغني المقدسي (حياته وشجاعته ومحنه المتتالية)ملتقى الخطباء آرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ khutabaa.com [Error: unknown archive URL]
  4. كتاب سير أعلام النبلاء الطبقة الثانية والثلاثون عبد الغنيالمكتبة الإسلامية آرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ library.islamweb.net [Error: unknown archive URL]
  5. البداية والنهاية لابن كثير 13/39