ابو اسحاق جوزجانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابو اسحاق جوزجانی
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 796  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات سنہ 872 (75–76 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
فرقہ اہل سنت
فقہی مسلک حنبلی
عملی زندگی
پیشہ محدث  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

ابو اسحاق ابراہیم بن یعقوب بن اسحاق سعدی جوزجانی حدیث کے مشہور راوی علما میں شمار ہوتے ہیں۔

طلب علم اور اساتذہ[ترمیم]

جوزجانی ایک ایسے زمانے میں تھے جس میں حدیث کا علم اپنے عروج پر تھا، روایات اور راویوں کی کثرت کا زمانہ تھا، چنانچہ کبار علما و ائمہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا، مثلاً: احمد بن حنبل، یحییٰ بن معین، علی بن مدینی، مسدد بن مسرہد، اسحاق بن راہویہ، اسحاق بن منصور کوسج، سعید بن منصور، یزید بن ہارون، زید بن حباب عکلی اور ابو نعیم فضل بن دکین وغیرہ۔

تلامذہ[ترمیم]

ابو داؤد سجستانی، ابو عیسی ترمذی، ابو عبد الرحمن نسائی، ابو حاتم رازی، ابو زرعہ رازی، ابراہیم بن عبد الرحمن بن دحیم دمشقی، ابو زرعہ دمشقی، ابو جعفر محمد جریر طبری، ابو بشر محمد بن احمد دولابی اور دوسرے کبار علما و محدثین اور ائمہ سے آپ سے علم حاصل کیا۔

علمی مقام[ترمیم]

ابو اسحاق جوزجانی بلند علمی مقام پر فائز تھے، بہت سے ائمہ علما نے آپ کی تعریف کی ہے۔ ابو بکر خلال فرماتے ہیں: «ابراہیم بن یعقوب بہت عظیم تھے، احمد بن حنبل ان سے خط کتابت کرتے تھے اور ان کا بہت احترام کرتے تھے، بہت سے علما و مشائخ سے آپ سے سماعت کی ہے، ان کے پاس ابو عبد اللہ کے مسائل کے دو حصے ہیں»۔ نسائی کہتے ہیں: « ثقہ ہیں»۔ دار قطنی فرماتے ہیں: « ایک مدت تک (طلب علم کی خاطر) مکہ میں قیام کیا اور اسی طرح ایک مدت تک بصرہ اور رملہ میں قیام کیا،حافظ، مصنف اور ثقہ تھے»۔ سجزی کہتے ہیں: «میں حاکم سے جوزجانی کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا: ثقہ اور معتمد ہیں»۔ ابن کثیر کہتے ہیں: «دمشق کے خطیب، امام اور وہاں کے بڑے عالم تھے، ان کی بہت سی مشہور تصنیفات ہیں، جس میں علوم اور مفید چیزیں بھری ہیں»۔[1]

تالیفات[ترمیم]

  • مسائل الامام احمد۔
  • امارات النبوہ۔
  • احوال الرجال۔
  • التاريخ۔
  • کتاب "المترجم"

وفات[ترمیم]

ابو سعید بن یونس فرماتے ہیں: " ابو اسحاق سنہ 245 ہجری میں مصر تشریف لائے اور ان کی وفات دمشق میں سنہ 256ھ میں ہوئی"۔ ابو دحداح احمد بن محمد بن اسماعیل تمیمی کہتے ہیں کہ: " وفات جمعہ کے دن ذی قعدہ کے مہینہ میں سنہ 259 ہجری میں ہوئی"۔ [2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. دراسة موجزة عن الإمام الجوزجاني وتابه أحوال الرجال الجمعية العلمية السعودية للسنة وعلومها. وصل لهذا المسار في 4 نوفمبر 2015
  2. الجوزجاني المتبة الشاملة. وصل لهذا المسار في 4 نوفمبر 2015 نسخہ محفوظہ 30 يوليو 2017 در وے بیک مشین