محدث

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

احادیث کی جانچ پڑتال اور ترتیب دینے والے عالم کو محدث کہا جاتا ہے۔

مُحَدِّث جمع مُحَدِّثِین[ترمیم]

حدیث کا علم جاننے والا، احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا راوی یا عالم، فقیہ، اخبار نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے واقف، حدیث و سنت کا ماننے والا۔

مُحْدَث جمع: مُحْدَثات[ترمیم]

نیا پیدا کیا ہوا؛ (فقہ) وہ نئی شے یا بات جس کا ثبوت نہ کتاب اللہ، نہ سنت رسولۖ اور نہ اجماع امت سے مل سکے، بدعت۔ ٹوٹا ہوا نیز وہ آدمی بے وضو ہو جائے، وہ شخص جس کا وضو کسی وجہ سے ٹوٹ جائے۔[1]

مشہور محدثین کا تعارف[ترمیم]

محدثین کی تعداد تو بلا مبالغہ لاکھوں میں ہے لیکن ان میں سے بعض حضرات ایسے ہیں[2] جنہوں نے اس فن میں اہم ترین کارنامے سر انجام دیے ہیں ان میں سے چندکا مختصر تعارف یہاں ہم تمام ائمہ کا ذکر نہیں کر رہے بلکہ صرف انہی کا تذکرہ کر رہے ہیں جن کا کام تاریخی نوعیت کا ہے۔

محمد بن اسماعیل بخاری[ترمیم]

(194-256ھ/810-870ء) آپ فن حدیث کے مشہور ترین امام ہیں اور اپنی کتاب صحیح بخاری کے لیے مشہور ہیں۔ ازبکستان کے شہر بخارامیں پیدا ہوئے۔ بہت سے شہروں سے احادیث اکٹھی کیں۔ صحیح کے علاوہ آپ نے فن رجال، تاریخ اور اخلاقیات سے متعلق کتابیں تصنیف کیں۔ معاصر علما کے تعصب کے باعث آپ کو بخارا سے نکلنا پڑا۔ سمرقند میں آپ کی وفات ہوئی۔

مسلم بن حجاج[ترمیم]

(204-261ھ/820-875ء) آپ کا تعلق ازبکستان کے شہر نیشا پور سے تھا۔ اپنے زمانے کے مشہور ترین محدثین سے احادیث حاصل کیں جن میں احمد بن حنبل اور بخاری جسے محدثین شامل تھے۔ آپ "صحیح مسلم" کے مصنف ہیں جو صحیح بخاری کے بعد حدیث کا اعلی ترین مجموعہ ہے۔

ابو عیسی ترمذی[ترمیم]

(209-279ھ/824-892ء) آپ حدیث کی مشہور کتاب جامع ترمذی کے مصنف ہیں۔ ازبکستان کے شہر ترمذ سے تعلق رکھتے تھے۔

ابوحنیفہ نعمان بن ثابت[ترمیم]

(80-150ھ/699-767ء) آپ فقہ کے مشہور امام ہیں۔ آپ کا اصل میدان قرآن اور حدیث کی بنیاد پر عملی زندگی کا لائحہ عمل تیا ر کرنا تھا۔ کوفہ سے تعلق رکھتے تھے۔ صحابی رسول سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ملاقات کے باعث آپ کا شمار تابعین میں ہوتا ہے۔ بہت بڑے تاجر بھی تھے۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگرد کے شاگرد حماد سے تعلیم حاصل کی۔ آپ کے شاگردوں میں ابویوسف اور محمد بن حسن شیبا نی کو شہرت نصیب ہوئی۔ آپ کا فقہی مسلک پورے عالم اسلام میں پھیلا ہوا ہے۔

مالک بن انس[ترمیم]

(93-179ھ/712-795ء) مدینہ کے مشہور امام ہیں۔ حدیث اور فقہ کے ماہر تھے۔ مؤطاکے مصنف ہیں جو حدیث اور فقہ کی قدیم ترین کتاب سمجھی جاتی ہے۔ آپ کو بھی بادشاہ کے نقطہ نظر سے اختلاف کرنے کے باعث تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔

عبد اللہ بن مبارک[ترمیم]

(118-181ھ/736-797ء) حدیث اور فقہ کے مشہور امام ہیں-۔ آپ نے اخلاقیات، تزکیہ نفس، جہاد اور تعمیر شخصیت سے متعلق کئی کتب لکھیں۔

سفیان بن عینیہ[ترمیم]

(107-198ھ/725-814ء) کوفہ کے رہنے والے تھے مگر مکہ میں مقیم رہے۔ آپ کا شمار اہل حجاز کے بڑے علما میں ہوتا ہے۔ امام شافعی آپ کا تقابل امام مالک سے کیا کرتے تھے۔

محمد بن ادریس شافعی[ترمیم]

(150-204ھ/767-820ء) حدیث اور فقہ کے مشہور امام ہیں۔ آپ کا تعلق فلسطین سے تھا۔ مکہ میں بچپن گزارا۔ مالک بن انس اور سفیا ن بن عینیہ کے شاگرد ہوئے۔ بغداد اور یمن میں وقت گزارا۔ آخر عمر میں سرکاری ملازمت سے استعفی دے کر مصر میں مقیم ہوئے اور قاہرہ میں وفات پائی۔

یحی بن معین[ترمیم]

(159-233ھ/775-848ء) جرح و تعدیل میں راویوں کو قابل اعتماد قرار دینے یا نہ دینے کے فن کے امام ہیں۔ بغداد کے رہنے والے تھے۔ جرح و تعدیل کے علاوہ احادیث کے جامع بھی تھے۔

احمد بن حنبل[ترمیم]

(164-241ھ/780-855ء) آپ حدیث اور فقہ کے مشہور امام ہیں-۔ آپ کا تعلق عراق کے دار الحکومت بغداد سے تھا۔ امام شافعی کے شاگرد ہوئے۔ اپنی جرات کے باعث بادشاہ متوکل نے انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنوایا۔ آپ کے شاگردوں میں بخاری و مسلم شامل تھے۔

ابن ابی حاتم رازی[ترمیم]

(240-327ھ/854-938ء) جرح و تعدیل کے مشہور امام ہیں(۔ ایران کے شہر رے سے تعلق رکھتے تھے۔ بہت سی کتابوں کے مصنف ہیں۔

احمد بن حسین البیہقی[ترمیم]

(384-458ھ/994-1066ء) حدیث کے ائمہ میں سے تھے۔ آپ کا سب سے بڑا کارنامہ "سنن الکبری" ہے جو احکام سے متعلق احادیث کے سب سے بڑے مجموعوں میں سے ایک ہے۔ آپ کا تعلق ازبکستان کے علاقے نیشا پور سے تھا۔ اس کے بعد بغداد، کوفہ اور مکہ میں بھی رہے۔

خطیب بغدادی[ترمیم]

(392-463ھ/1002-1071ء) آپ علوم حدیث کو مرتب کرنے والوں میں نہایت ہی اہمیت کے حامل ہیں۔ آپ کا تعلق کوفہ کے قریب ایک گاؤں سے تھا۔ عالم اسلام کے مختلف شہروں میں علم کی تلاش میں نکلے۔ آخر میں بغداد میں رہائش اختیار کی۔ علوم حدیث میں آپ کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔

ابن عبد البر[ترمیم]

(368-464ھ/978-1071ء) آپ کا تعلق اسپن میں قرطبہ سے تھا۔ اسماء الرجال، حدیث اور فقہ کے امام تھے۔ موطاء مالک کی بہت بڑی شرح کے مصنف ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سوانح حیات پر لکھی گئی "الاستیعاب" کے مصنف بھی آپ ہی ہیں۔

عبد الغنی المقدسی[ترمیم]

(541-600ھ/1146-1203ء) آپ کا تعلق دمشق سے ہے۔ بعد میں مصر کے شہر اسکندریہ اور ایران کے شہر اصفہان میں مقیم رہے۔ حدیث کی چھ مشہور کتابوں کے رجال پر آپ نے تحقیق کر کے ایک ضخیم کتاب "الاکمال" تصنیف کی ہے۔

ابن الاثیر[ترمیم]

(555-630ھ/1160-1230ء) عراق کے شہر موصل میں مقیم رہے۔ علوم الحدیث میں انہوں نے غیر معمولی اضافے کیے ہیں جن میں اسماء الرجال پر غیر معمولی کام شامل ہے۔ آپ کو شہرت صحابہ کرام کی زندگیوں پر لکھی گئی کتاب 'اسد الغابہ" سے حاصل ہوئی۔

جلال الدین سیوطی[ترمیم]

(849-911ھ/1445-1505ء) سینکڑ وں کتابوں کے مصنف ہیں۔ مصر کے شہر اسیوط میں پیدا ہوئے۔ آپ نے حدیث کی دستیاب تمام کتابوں کو اکٹھا کر کے جامع الکبیر تیار کی۔ علوم القرآن اور علوم الحدیث کو منظم صورت میں پیش کیا۔ بعد کے دور کے علما میں آپ کا مقام غیر معمولی ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. محدث - اردو_لغت
  2. تيسير مصطلح الحديث المؤلف: أبو حفص محمود بن أحمد بن محمود طحان النعيمي الناشر: مكتبة المعارف الکویت