فقیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مضامین بسلسلہ

فقہ

ائمہ فقہ

امام ابو حنیفہ · امام مالک
امام شافعی · امام احمد بن حنبل
امام جعفر صادق

فقہ خمسہ

فقہ حنفی · فقہ شافعی
فقہ مالکی · فقہ حنبلی
فقہ جعفری

تقسیم بلحاظ تقلید

احناف · شوافع
مالکی · حنابلہ
مجتہدین · غیر مقلد

اقسام جائز و ناجائز

فرض <=> حرام
واجب <=> مکروہ تحریمی
سنت مؤکدہ <=> اساءت
سنت غیرمؤکدہ <=> مکروہ تنزیہی
مستحب <=> خلافِ اولی
مباح


فقیہ فقہ (سمجھ) رکھنے والے کو کہتے ہیں۔ اس کی جمع فقہا ہے۔

لغوی معنی[ترمیم]

فقہ کا اصلی لغوی معنی ہے سمجھنا۔ اور سمجھ والے کو فقیہ کہا جاتا ہے

اصولیین کی اصطلاح میں[ترمیم]

قاموس میں ہے : فقہ بکسر فاء کسی چیز کو جاننا سمجھنا۔ چونکہ (تمام علوم میں) علم دین کو فضیلت حاصل ہے‘ اس لیے فقہ کا لفظ (اصطلاح میں) علم دین کے لیے مخصوص کر لیا گیا۔ فقیہ وہ نہیں جسے صرف فقہ کی جزئیات یاد ہوں، بلکہ فقیہ سے مراد وہ شخص ہے جو مبادی یعنی (اصول) فقہ کا ماہر ہو، جسے حکم کے استخراج (استنباط) کرنے کا ملکہ (اہلیت) حاصل ہو۔ [مسلم الثبوت : 2/362] بعض نے کہا : معلوم کے ذریعے سے نامعلوم کو حاصل کرنا فقہ ہے یعنی علم استدلالی کے لیے یہ لفظ خاص ہے‘ اس صورت میں لفظ علم عام اور لفظ فقہ خاص ہوگا۔ اللہ نے فرمایا ہے : فَمَا لھآؤُلاآءِ الْقَوْمِ لاَ یَکَادُوْنَ یَفْقَھُوْنَ حَدِیْثًاان لوگوں کو کیا ہو گیا کہ بات سمجھ بھی نہیں سکتے۔ یعنی بات کے مضمون کا استنباط نہیں کرتے (بات کے مغز کو نہیں سمجھتے)۔

امام ابو حنیفہ کی تعریف[ترمیم]

امام ابو حنیفہ نے فرمایا : نفس کے ضرر رساں اور فائدہ بخش امور کو جاننا فقہ ہے (خواہ فکر و عقیدہ کے لحاظ سے ہو یا قول و عمل کے اعتبار سے۔ اصول کا علم ہو یا فروع کا) فروع دین کے علم کو خصوصیت کے ساتھ فقہ کہنا اصطلاح جدید ہے (قرن اول میں یہ خصوصیت نہیں تھی)۔[1]

فقیہ کی تعریف[ترمیم]

فقیہ وہ ہوتا ہے، جو اللہ کے احکام اور دین کے مسائل کو قرآن کی آیتوں اور روایات سے سمجھتے ہوئے ان سے استدلال کرے یعنی دلیل لائے اور جو بھی مسئلہ پیش آئے اس میں دین اور مذہب کے نظریہ کو پہچان سکے اور اسے بیان کر سکے۔ دین شناسی کے اس مقام تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ ایک شخص ایک لمبا عرصہ تک دینی علمی مراکز (جیسے حوزہ علمیہ) میں ان علوم کو حاصل کرے جو دین کے مسائل میں ماہر ہونے میں اس کی مدد کر سکیں ۔

جو اس درجہ اور مقام تک پہنچ جاتا ہے کہ اسلامی مسائل کو عقلی و نقلی استدلال کے ذریعہ سمجھ جائے، اسے مجتہد اور ” فقیہ “ کہتے ہیں اور علم اور فہم فقہ کے اس درجہ اور مرتبہ کو اجتہاد کھتے ہیں ۔

فقہ کی ضرورت[ترمیم]

فِقہ افضل ترین علوم ہے۔ حدیث شریف میں ہے سید عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ جس کے لیے بہتری چاہتا ہے اس کو دین میں فقیہ بناتا ہے، میں تقسیم کرنے والا ہوں اور اللہ تعالیٰ دینے والا(بخاری و مسلم) حدیث میں ہے ایک فقیہ شیطان پر ہزار عابدوں سے زیادہ سخت ہے۔ (ترمذی) فقه احکام دین کے علم کو کہتے ہیں، فِقہِ مُصطلَح اس کا صحیح مصداق ہے۔[2] علامہ ابن نجیم مصری فقہ کی تعریف ان الفاظ میں فرماتے ہیں: جاننا چاہیے کہ علم شریعت میں فقہ خاص قسم کی واقفیت کا نام ہے اور وہ خاص قسم کی واقفیت یہ ہے کہ قرآن وحدیث کے معانی ومطالب، ان کے اشارات وکنایات، دلالات ومضمرات اور صحیح مراد کا علم و ادراک ہو اور جس شخص کو یہ علم حاصل ہواسی کا نام فقیہ ہے۔[3]

عام طور پر ہر شخص کسی بھی امر میں اس امر کا علم رکھنے والے بلکہ اس امر کے ماہر شخص کی طرف رجوع کرتا ہے۔ مثلاً بیماری میں ڈاکٹر، مکان کی تعمیر میں انجینئر اور مستری اور مشینری کے خراب ہو جانے کی صورت میں، اس کا علم اور مہارت رکھنے والے مکینک شخص کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ سامنے کی بات ہے کہ اگر انسان خود دین میں ماہر نہ ہو اور اس کا علم نہ رکھتا ہو، تو اپنا دینی فریضہ جاننے اوراس پر عمل کرنے کے لیے فقہا کی طرف رجوع کرے اور ان سے معلوم کرے۔ شریعت کے مسائل میں شرعی دلیلوں کی بنیاد پر مجتہد کی نظر کو فتویٰ کہتے ہیں اور لوگوں کا فقہا کی طرف رجوع کرنا اور ان کے فتوے پر عمل کرنا ” تقلید “ کہلاتا ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تفسیر مظہری، قاضی ثنا ء اللہ پانی پتی، سورہ التوبۃ،آیت 122
  2. تفسیر خزائن العرفان،نعیم الدین مراد آبادی،سورہ التوبۃ،آیت122
  3. (البحرالرائق:1/16، مطبوعہ: زکریا بک ڈپو، دیوبند)