بیعت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
زمرہ جات

لغوی معنی[ترمیم]

دینی و دنیاوی امور میں شریعت کی پیروی کرنے کے لیے کسی کو رہبر و رہنما ماننے اور اس کے کہنے پر عمل کرنے کا عہد (بیشتر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر)۔[1]

اصطلاحی معنی[ترمیم]

دینی اصطلاح۔ کسی پیغمبر، ولی یا صاحب نسبت بزرگ کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر اپنے گناہوں سے تائب ہونا اور اس بزرگ کی اطاعت کا اقرار کرنا۔

حقیقت ِبیعت[ترمیم]

بیعت جو کہ اپنے اندر بیع کا معنی لئے ہوئے ہے شیخ کے ہاتھ بک جانا ہے۔ جس میں اپنے کو شیخ کے ہاتھ احکام ظاہرہ و باطنہ کے التزام کے واسطے گویا بیچ دیا۔ جس کی حقیقت یہ ہے کہ طالب کو اپنے شیخ پر پورا اعتقاد اور کلی اعتماد ہو کہ یہ میرا خیر خواہ ہے جو مشورہ دے گا وہ میرے لئے نہایت نافع ہو گا ۔اس پر پورا اطمینان ہو۔اس کی تجویز و تشخیص میں دخل نہ دے ۔یوں یقین رکھے کہ دنیا بھر میں میری جستجو اور میری تلاش میں میرے نفع کے لئے اس سے بڑھ کر کوئی نہیں۔اس کو اصطلاح تصوف میں وحدتِ مطلب کہا جاتا ہے ۔ اس کے بغیر بیعت ہونا نافع نہیں ۔کیونکہ اصلاح نفس کے لئے شیخ سے مناسبت شرط ہے اور مناسبت کی پہچان یہی ہے کہ اس کی تعظیم اور قول و فعل اور حال پر قلب میں اعتراض نہ ہو ۔بالفرض اگر قلب میں اعتراض آئے تواس سے رنجیدہ ہو ،اورگھٹن محسوس کرے ۔عوام کے لئے بیعت کی صورت البتہ نافع ہوتی ہے ۔بیعت سے ان کے قلب پر ایک عظمت اور شان ،شیخ کی طاری ہو جاتی ہے ۔جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کے قول کو با وقعت سمجھ کر اس پر عمل کرنے کے لئے مجبور ہو جاتا ہے۔خواص کے لئے کچھ مدت کے بعد بیعت نافع ہوتی ہے ۔بیعت سے جانبین میں ایک خلوص اور تعلق پیدا ہو جاتا ہے۔ شیخ سمجھنے لگتا ہے کہ یہ ہمارا ہے اور ُمریدسمجھتا ہے کہ یہ ہمارے ہیں۔ ڈانواں ڈول حالت نہیں رہتی ۔[2]

سنت نبوی[ترمیم]

رسول اللہ ہر اس شخص سے جو داخل اسلام ہوتا بیعت لیا کرتے ۔ اور اس سے بُرے اعمال کے ترک اور اچھے کاموں کے کرنے کا عہد لیتے تھے۔ طریقہ بیعت اپنی ظاہری صورت کے ساتھ ایک معنویت بھی رکھتا ہے۔ جسے تصوف کی زبان میں رابطہ یا نسبت کہتے ہیں۔ یہ ایک روحانی قوت ہوتی ہے اور خاموشی کے ساتھ نسبت سے نسبت لینے والے کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔ اس روحانی قوت کا ایک اور نام بھی ہے جسے قوت افادہ یا افاضہ کہتے ہیں۔ یہ قوت اس وقت تک اپنا اثر نہیں دکھاسکتی جب تک نسبت لینے والے میں قوت استفادہ(حصول منفعت، بہرہ وری، فائدہ اٹھانا، نفع پانا)یا استفاضہ ( فیض پانا یا طلب کرنا)موجود نہ ہو۔

دور صحابہ[ترمیم]

خلفائے راشدین کے دور تک ہر مسلمان کا فرض تھا کہ وہ خلیفہ وقت کی بیعت کرے۔ جب خلافت کی جگہ امارت نے لی تو بزرگوں نے لوگوں سے احکام الہٰی کی تعمیل کے لیے بیعت لینا شروع کر دی۔ اس کے علاوہ امیر بھی جب برسراقتدار آتے تو عوام سے بیعت لیتے۔ اسلام میں آج کل بیعت درج ذیل سلسلوں میں لی جاتی ہے۔