اسلامی فلسفہ ازدواج

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

شادی کا فلسفہ[ترمیم]

امام الہند مولانا "ابوالکلام آزاد " کا ایک خط جو انہوں نے ایک عزیز کو شادی کے موقع پر لکھا جس میں شادی کے فلسفہ پر اسلامی نقطہ نظر سے مدبرانہ اور فاضلانہ طور پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ۔ ۔

ملاحظہ فرمائیں :

عزیزی! تمھارا خط پڑھ کر مجھے خوشی ہوئی،تعلیم کی تکمیل کے بعد اب تمہیں زندگی کی وہ منزل پیش آ گئی ہے جہاں سے انسان کی شخصی ذمہ داریوں کا ایک نیا دور شروع ہوتا ہے یعنی تمھاری شادی ہو رہی ہے میرے لیے ممکن نہیں کہ اس موقع پر شریک ہو سکوں  لیکن یقین کرو کہ میری دل کی دعائیں تمھارے ساتھ ہیں اپنی جگہ اپنی دعائیں تمھارے پاس بھیج رہا ہوں۔

اللہ تعالی اس تقریب کو برکت وسعادت کا موجب بنائے اور تمھاری یہ نئی زندگی ہر اعتبار سے کامیاب ہو۔

میں اس موقع پر تمھیں یاد دلاؤں گا کہ بحثیت مسلمان تمھیں چاہیے۔۔۔ازدواجی زندگی یعنی شادی کی زندگی کا وہ تصور اپنے

سامنے رکھو جو قرآن حکیم نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے

وَ مِنۡ اٰیٰتِہٖۤ  اَنۡ خَلَقَ لَکُمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ اَزۡوَاجًا لِّتَسۡکُنُوۡۤا اِلَیۡہَا وَ جَعَلَ بَیۡنَکُمۡ  مَّوَدَّۃً  وَّ رَحۡمَۃً ؕ اِنَّ  فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ  لِّقَوۡمٍ  یَّتَفَکَّرُوۡنَ (21)الروم

خدا کی حکمت کی نشانیوں میں ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے تمھارے لیے تم ہی میں سے جوڑے پیدا کر دیے ہیں یعنی مرد کے لیے عورت اور عورت کےلیے مرد لیکن خدا نے ایسا کیوں کیا؟

اس لیے کہ تمھاری زندگی میں تین چیزیں پیدا ہو جائیں جن تین چیزوں کے بغیر تم ایک مطمئن اور خوش حال زندگی حاصل نہیں کر سکتے وہ تین چیزیں یہ ہیں : سکون مودت رحمت لتسکنو الیھا وجعل بینکم مودۃ و رحمۃ ۔

"سکون"عربی زبان میں ٹھراؤ اور جماؤ کو کہتے ہیں مطلب یہ ہوا کہ تمھاری زندگی میں ایسا ٹھراؤ اور جماؤ پیدا ہو جائے کہ زندگی کی پریشانیاں اور بے چینیاں اسے ہلا نہ سکیں۔

"مودت" سے مقصود محبت ہے قرآن کہتا ہے کہ ازدواجی زندگی کی تمام تر بنیاد محبت پر ہے شوہر بیوی سے اور بیوی شوہر سے اس لیے رشتہ جوڑتی ہے  تا کہ ان کی ملی جلی زندگی کی ساری تاریکیاں محبت کی روشنی سے منور ہو جائیں ۔

لیکن محبت کا یہ رشتہ پائیدار نہیں ہو سکتا اگر رحمت کا سورج ہمارے دلوں پر نہ چمکے رحمت سے مراد یہ ہے کہ شوہر اور بیوی نہ صرف ایک دوسرے سے محبت کریں بلکہ ہمیشہ ایک دوسرے کی غلطیاں اور خطائیں بخش دیں  اور ایک دوسرے کی کمزوریاں نظرانداز کرنے کےلیے اپنے دلوں کو تیار رکھیں

"رحمت کا جذبہ خود غرضانہ محبت کو فیاضانہ محبت کی شکل دیتا ہے" ایک خود غرضانہ محبت کرنے والا صرف اپنی ہی ہستی کو سامنے رکھتا ہے لیکن رحیمانہ محبت کرنے والا اپنی ہستی کو بھول جاتا ہے اور دوسرے کی ہستی کو مقدم رکھتا ہے ۔ رحمت ہمیشہ اس سے تقاضا کرے گی کہ دوسرے کی کمزوریوں پر رحم کرے غلطیاں، خطائیں بخش دے ۔ غصہ ، غضب اور انتقام کی پرچھائیاں بھی اپنے دل پر نہ پڑنے دے۔

میری دلی آرزو ہے کہ خدا تعالی تم دونوں کو توفیق دے کہ اپنی ازدواجی زندگی کو اول دن سے اسی رنگ میں شروع کرو جس رنگ میں قرآن کی مقدس تعلیم نے اس معاملہ کو دیکھا ہے اور نوع انسان کے آگے رکھا ہے۔

                                    والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

                                               ابوالکلام آزاد

شریعت اسلامی میں شادی مرد اور عورت میں باضابطہ بندھن کا نام ہے۔

شادی کی اقسام[ترمیم]

شادی میں احتیاطیں[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]