مہر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
زمرہ جات

مہر (مَ، ہَ،رْ)ایک اسلامی اصطلاح ہے جو شادی کے وقت مرد کی طرف سے عورت کے لیے مخصوص کی جاتی ہے۔ مہر شادی کا ایک لازمی جزو ہے۔[1] حق مہر ادا نہ کرنے کی نیت سے نکاح کرنے پرحدیث میں سخت وعید ہے کہ اَیسے مرد و عورت قیامت کے روز زانی و زانیہ اُٹھیں گے [2] حضرت محمد ﷺکی ازواج اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مہر 500 درہم یا 131 تولے 4 ماشے چاندی یا 1550 گرام چاندی کے برابر مقرر ہوا تھا۔ اسی کو مہر فاطمہ بھی کہا جاتا ہے۔ فقہ حنفی کے مطابق ان کے ہاں مہر کی مقدار کم از کم 10 درہم ہے۔

مہر کے نام[ترمیم]

اس کے آتھ نام ہیں چار قرآن اور چار حدیث میں ہیں

  • صداق
  • نحلہ
  • اجر
  • فریضہ
  • مہر
  • علیقہ
  • العقر
  • الحباء

مہر کی اقسام[ترمیم]

مہر کی دو اقسام ہیں ’’مہر معجّل‘‘ اور ’’مہر مؤجل‘‘۔ ’’مہر مؤجل‘‘ اس کو کہتے ہیں جس کی ادائیگی کے لئے کوئی خاص میعاد مقرر کی گئی ہو اور جس کی ادائیگی فوراً یا عورت کے مطالبہ پر واجب ہو وہ ’’مہر معجّل‘‘ ہے۔ مہر معجّل کا مطالبہ عورت جب چاہے کر سکتی ہے، لیکن مہر مؤجل کا مطالبہ مقررہ میعاد سے پہلے کرنے کی مجاز نہیں۔ مہر کی ادائیگی کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ بلا کم و کاست زوجہ کو ادا کر دیا جائے۔ ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں عورت کا مہر شوہر کے ذمہ قرض ہے، خواہ شادی کو کتنے ہی سال ہو گئے ہوں وہ واجب الادا رہتا ہے اور اگر شوہر کا انتقال ہو جائے اور اس نے مہر ادا نہ کیا ہو تو اس کے ترکہ میں سے پہلے مہر ادا کیا جائے گا پھر ترکہ تقسیم ہوگا۔

مہر کی مقدار[ترمیم]

مہر کی مقدار کو رسول اللہ ﷺ نے مہر کی کوئی خاص مقدار معین نہیں فرمائی کیونکہ نکاح کرنے والوں کے حالات اور ان کی وسعت و استطاعت مختلف ہو سکتی ہے۔ آجکل حبِ جاہ و حب مال کی بدولت یہ فرسودہ رسم بھی رواج پا گئی ہے کہ لوگ زیادہ حق مہر مقرر کرنے کو فخر کی چیز سمجھتے ہیں جبکہ یہ جاہلیت کا فخر ہے۔ بعض اوقات لڑکی کے والدین کی جانب سے اور بعض اوقات لڑکے والوں کی جانب سے یہ کوتاہی ہوتی ہے کہ مہر مقرر کرتے وقت لڑکے کی حیثیت کا لحاظ نہیں رکھتے، بلکہ زیادہ سے زیادہ مقدار مقرر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور بسا اوقات اس میں تنازع اور جھگڑے کی شکل بھی پیدا ہو جاتی ہے بلکہ اس سے بڑھ کر بعض موقعوں پر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اسی جھگڑے میں شادیاں رک جاتی ہیں۔

مہر فاطمی[ترمیم]

ایک کوتاہی یہ بھی بعض حلقوں میں ہوتی ہے کہ وہ سوا بتیس روپے مہر کو ’’شرع محمدی(ص)‘‘ یا ’’مہر فاطمی‘‘ سمجھتے ہیں جبکہ یہ غلط ہے اور یہ مقدار مہر کی کم سے کم مقدار بھی نہیں بنتی جو امام ابو حنیفہ(رح) کے نزدیک دس درہم ﴿تقریباً دو تولے ساڑھے چار ماشے چاندی﴾ ہے۔ آنحضرت ﷺ نے اپنی صاحبزادیوں کا مہر پانچ سو درہم ﴿ یا اسکے قریب﴾ مقرر فرمایا اور آپ ﷺ کی اکثر ازواجِ مطہرات کا مہر بھی یہی تھا۔ پانچ سو درہم کی ایک سو اکتیس تولے تین ماشے﴿131 ¼ ﴾ چاندی بنتی ہے ﴿بھاؤ کی کمی بیشی کے مطابق اس مقدار میں کمی بیشی ہو سکتی ہے بہر حال 131 ¼ تولے چاندی کا حساب رکھنا چاہیئے﴾ اسی کو مہر فاطمی کہا جاتا ہے۔ حضور ﷺ کے زمانہ میں اور آپ ﷺ کے سامنے اس سے بہت کم اور بہت زیادہ بھی مہر باندھے جاتے تھے۔ حضور اکرم ﷺ کی صاحبزادیوں اور ازواجِ مطہرات والے مہر کی پابندی ضروری نہیں سمجھی جاتی تھی۔ البتہ بعض اکابر برکت کے لئے ’’مہر فاطمی‘‘ رکھا کرتے تھے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. قرآن 4,24
  2. کنز العمال،کتاب النکاح،الفصل الثالث فی الصداق