حلالہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

حلالہ کا مفہوم[ترمیم]

جب کوئی عورت تین طلاقوں کے بعد دوسری جگہ نکاح کرے اور پھر وہ شخص حقوق زوجیت ادا کرنے کے بعد اپنی مرضی سے اسے طلاق دیدےتو اب عدت گذارنے کے بعد پہلے خاوند سے نکاح کرنا جائز ہو گا کیونکہ دوسرے خاوند کےنکاح میں آنا اور اس کا حقوق زوجیت ادا کرنا اس عورت کو پہلے خاوند کیلئے حلال کر دیتا ہےاس لئے اس عمل کو حلالہ یا تحلیل کہا جاتا ہے

تین صورتیں[ترمیم]

(1)ایک عورت کو طلاق دی گئی عدت گذارنے کے بعد کسی دوسرے شخص سے نکاح کرے یہ دوسرا شخص حق زوجیت کے بعد اپنی مرضی سے طلاق دے دوسری عدت کے بعد پہلے خاوند کے لیےحلال ہو گی یہ حلالہ کیا نہیں جاتا ہو گیاہے اس کے جائز ہونے پر تمام آئمہ کا اتفاق ہے (2)ایک شخص نے طلاق دی عدت گذارنے کے بعد بغیر کسی شرط دوسرے شخص سے نکاح کرے لیکن اس شخص کے دل میں یہ ارادہ ہو کہ پہلا خاوند اسے واپس لینا چاہتا ہے بچے چھوٹے ہیں انہیں سنبھالنے والا کوئی نہیں میں نکاح کر کے چھوڑ دونگا تاکہ اجڑا گھر آباد ہو ایسی صورت میں فقہ مالکی کےمطابق یہ سرے سے نکاح شمار ہی نہ ہوگا۔ فقہ شافعی کے مطابق اس نیت سے نکاح کرناصحیح ہوگااگرچہ اس کی کچھ شرائط ہیں۔ فقہ حنبلی کے مطابق یہ نکاح باطل ہے حلالہ کی شرط رکھنا یا حلالہ کی نیت کرنا برابر ہیں۔ فقہ حنفی کےمطابق نکاح صحیح ہےاگر پہلے خاوند اور بیوی کے درمیان صلح کرانا مقصود ہو تو باعث ثواب ہے اگر یہ مقصد شہوت پوری کرنا یا طلاق دینا ہو تو مکروہ تحریمی اور اس عمل میں شریک لوگ گناہگار ہونگے۔لیکن نکاح صحیح اور پہلے خاوند کیلئے حلال ہو جائیگی ۔اگر اجرت مقرر کرتا ہے تو یہ عمل حرام اور اجرت مقرر کرنےوالالعنت کا مستحق ہے (3)مطلقہ سے نکاح کرتے وقت یہ شرط رکھی کہ جماع کے بعد طلاق دیگا تاکہ پہلے خاوند سے نکاح کرلے یہ طریقہ تمام آئمہ کے نزدیک حرام ہے۔البتہ امام شافعی امام مالک امام حنبل کے نزدیک عورت پہلے خاوند کے لیے حلال نہیں ہوتی جبکہ امام ابو حنیفہ کے نزدیک عمل حرام ہے لیکن پہلے خاوند سے نکاح کےیلئے عورت جائز ہو جاتی ہے [1] کسی چیز کو شرعا جائز بنا لینا۔ حلال بنا لینا۔ اسلام میں پہلے عرب میں یہ دستور تھا کہ اگر کوئی شخص بیوی کو طلاق دے دیتا اور پھر اس سے شادی کرنا چاہتا تو جب تک وہ کسی دوسرے شخص س عقد کرکے طلاق نہ پاتی ، پہلے شوہر سے نکاح نہیں کر سکتی تھی۔ اسلام نے اس طریقہ کوباقی رکھا تاکہ لوگ آسانی سے بیویوں کو طلاق نہ دے سکیں۔ مگر تین طلاق دینے کی صورت میں ، ایک اور دو طلاق دینے کی صورت میں یہ حکم نہیں ہے۔ جو لوگ اپنی بیویوں کو تین مغلظہ طلاقیں دے دیتے ہیں وہ اگر اس عورت سے پھر نکاح کرنا چاہیں تو پہلے وہ عورت کسی سے نکاح کرے پھر اس سےطلاق لے کر پہلے شوہر سے نکاح کرسکتی ہے۔ اور اس کے لیے حلال ہے۔

لعنت کا مستحق[ترمیم]

احادیث میں حلالہ کرنے والوں کی سخت مذمت آئی ہے۔ کہ جو شخص حلالہ کرتا ہے اور جس کے لیے حلالہ کیا جاتا ہے ، ان دونوں پر خدا کی لعنت۔ عمر فاروق ایسے لوگوں کو زانیوں کے برابر سمجھتے تھے۔ کیونکہ ایسے شخص کا مقصد وہ نہیں ہوتا جو شارع نے نکاح سے مراد لیا ہے۔
"حدیث میں محلل یعنی وہ دوسرا شوہر جو نکاح جیسے اہم سنجیدہ اور مقدس معاہدہ کو پہلے شوہر کی خاطر ایک کھیل اور تفریح کی چیز بنائے دیتا ہے۔ اور محلل لہ یعنی وہ پہلا شوہر جس کی خاطر معاہدہ نکاح کی اہمیت، سنجیدگی وتقدیس خاک میں ملائی جارہی ہے، ان دونوں پر لعنت آئی ہے۔ اور اکثر فقہاء کے ہاں یہ نکاح، نکاح فاسد کے حکم میں آتا ہے۔ حنفیہ کے ہاں ایسا نکاح منعقد ہوجائے گا۔ یعنی اس کا نفاذ قانونی ہوجائے گا، اگرچہ اس سے گناہ عائد ہوگا"[2]
بعض ائمہ نے اسے حلال قرار دیا ہے اور بعض نے حرام ، مگر جن لوگوں نے اسے حلال قرار دیا ہے وہ بھی اسے اچھا نہیں کہتے ۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تحقیق حلالہ محمد صدیق ہزاروی،صفحہ 7،کرمانوالہ بک شاپ
  2. تفسیر ماجدی عبدالماجد دریا آبادی،سورۃ البقرہ،آیت230