مالک بن انس
ابو عبد اللہ مالک بن انس بن مالک بن ابی عامر اصبحی حمیری مدنی (93ھ – 179ھ / 711ء – 795ء)[9][10] ایک عظیم مسلمان فقیہ اور محدث تھے۔ وہ اہلِ سنت والجماعت کے چار ائمہ میں دوسرے امام شمار ہوتے ہیں اور فقہِ اسلامی کے مالکی مذہب کے بانی ہیں۔ وہ اپنے وسیع علم، حدیثِ نبوی کے مضبوط حافظے اور اس میں انتہائی احتیاط و تحقیق کے لیے مشہور تھے۔ ان کی شخصیت صبر، ذہانت، وقار اور اعلیٰ اخلاق کی حامل تھی۔ بہت سے علما نے ان کی تعریف کی، جن میں امام شافعی کا یہ قول خاص طور پر معروف ہے: "جب علما کا ذکر کیا جائے تو مالک ستارہ ہیں اور تابعین کے بعد اللہ کی مخلوق پر اس کی حجت ہیں۔" ان کی مشہور تصنیف موطأ امام مالک حدیث کی ابتدائی اور معتبر ترین کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ امام شافعی نے کہا: "کتاب اللہ کے بعد موطأ مالک سے زیادہ صحیح کوئی کتاب نہیں۔" امام مالک اپنے فقہی فتاویٰ میں متعدد مصادر پر اعتماد کرتے تھے، جن میں قرآن کریم ، سنت نبوی ، اجماع، اہلِ مدینہ کا عمل ، قیاس ، مصالح مرسلہ، استحسان ، عرف و عادات، سد ذرائع اور استصحاب شامل ہیں۔
امام مالک 93ھ میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے اور ایک ایسے گھر میں پرورش پائی جو علم حدیث، احادیث کی تحقیق اور صحابہ کرام کی خبروں اور ان کے فتاویٰ کو پڑھنے اور پڑھانے والا تھا۔امام صاحب نے اپنی زندگی کے آغاز میں قرآن پاک حفظ کیا، پھر حدیث نبوی حفظ کرنے اور فقہ سیکھنے کی طرف متوجہ ہوئے۔ مدینہ کے فقیہ ابن ہرمز نے آپ کے ساتھ تعلیم حاصل کرتے ہوئے سات سال گزارے، آپ نے علم حدیث اپنے وقت کے نامور محدثین نافع مولیٰ ابن عمر اور ابن شہاب زہری جیسوں سے سیکھا۔دین کے تمام علوم و فنون اور فتاویٰ کا مطالعہ مکمل ہونے کے بعد اور جب ستر شیوخ نے ان کی گواہی دی کہ وہ اس کے لائق ہیں، تو آپ نے مسجد نبوی میں بیٹھ کر درس و تدریس اور فتویٰ کا کام جاری کیا۔ اور احادیث نبوی کا احترام اور ان کی تعظیم کا خصوصی خیال رکھتے تھے اور آپ عموماً نیا لباس زیب تن فرماتے تھے۔آپ اپنے فتوے میں غلطی نہ کرنے کے لیے محتاط رہتے تھے اور اکثر کہتے تھے، "میں نہیں جانتا" اور وہ کہتے: "میں صرف انسان ہوں اور انسان سے غلطیاں ہوتی ہیں۔ لہٰذا میری رائے کو دیکھیں جو قرآن و سنت سے متفق ہو اسے لے لو اور جو قرآن و سنت سے متفق نہ ہو اسے چھوڑ دو۔سنہ 179ھ میں امام مالک 22 دن تک بیمار رہے پھر وفات پاگئے اور مدینہ منورہ کے امیر عبد اللہ بن محمد بن ابراہیم نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور آپ کو بقیع الغرقد میں دفن کر دیا گیا۔
نام و نسب
[ترمیم]- ابو عبد اللہ مالک بن انس بن مالک بن ابی عامر اور آپ کا نام نافع بن عمرو بن حارث بن غیمان بن خثیل بن عمرو بن حارث ذی اصبح بن مالک بن زید بن قیس بن صیفی بن حمیر الاصغر بن سبا الاصغر بن کعب کہف الظلم بن زید بن سہل بن عمرو بن قیس بن معاویہ بن جشم بن عبد شمس بن وائل بن غوث بن قطن بن عریب بن زہیر بن ایمن بن ہمیسع بن حمیر بن سبا۔[11][12][13][14][15][16][17][18]
- آپ کی والدہ "عالیہ بنت شریک بن عبد الرحمٰن بن شریک ازدیہ اور ازد قحطانی عرب کے مشہور قبیلوں میں سے ایک ہے، وہ ازد بن غوث بن نبات بن مالک بن زید بن کہلان بن سبا بن یشجب بن یثرب بن قحطان اور ان کے شوہر انس کا تعلق یمن کے عربوں سے ہے۔[19][20]
- ان کے دادا مالک بن ابی عامر اصبحی حمیری بڑے تابعین اور جلیل القدر علما میں سے تھے۔ انھوں نے عمر بن خطاب ، عثمان بن عفان ، طلحہ بن عبید اللہ ، عائشہ ام المؤمنین ، ابو ہریرہ ، حسان بن ثابت اور عقیل بن ابی طالب سے روایت کی۔ وہ ان چار افراد میں شامل تھے جنھوں نے عثمان بن عفان کو رات کے وقت ان کی قبر تک پہنچایا، انھیں غسل دیا اور دفن کیا۔ روایت ہے کہ عثمان نے انھیں افریقہ کی مہم پر بھیجا جہاں انھوں نے فتح حاصل کی اور وہ ان لوگوں میں بھی شامل تھے جو مصاحف کی تدوین کے وقت حضرت عثمان کے ساتھ لکھنے کا کام کرتے تھے۔ خلیفہ عمر بن عبد العزیز بھی ان سے مشورہ لیا کرتے تھے۔ ان کا انتقال 94ھ میں ہوا۔ [21][22]
- ان کے پردادا ابو عامر نافع بن عمرو اصبحی حمیری کے بارے میں مختلف آراء ملتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ صحابی تھے۔ قاضی بکر بن علاء قشیری کے مطابق:"ابو عامر، ابو مالک کے دادا، رسول اللہ کے صحابہ میں سے تھے اور بدر کے سوا تمام غزوات میں شریک ہوئے۔ ان کے بیٹے مالک (جو امام مالک کے دادا ہیں) بڑے تابعین میں سے تھے، کنیت ابو انس تھی اور انھوں نے عمر ، طلحہ ، عائشہ، ابو ہریرہ اور حسان بن ثابت سے روایت کی۔ وہ ان چار افراد میں شامل تھے جنھوں نے عثمان کو رات کے وقت ان کی قبر تک پہنچایا اور انھیں کفن دیا۔" ایک دوسری روایت کے مطابق ابو عامر نبی کریم کی وفات کے بعد مدینہ آئے، اس لیے انھیں تابعی مخضرم کہا جاتا ہے۔ جبکہ تیسری روایت یہ ہے کہ وہ نہ صحابی تھے اور نہ مدینہ آئے، بلکہ ان کے بیٹے مالک مدینہ آئے تھے۔ ابن عبد البر کے مطابق: "مالک بن ابی عامر یمن سے مدینہ آئے، جہاں انھوں نے بنی تیم بن مرہ کے بعض حکام کے خلاف شکایت کی اور ان سے معاہدہ کر لیا۔"[23][24][25]
- امام مالک کے چار بچے تھے: یحییٰ، محمد، حماد اور فاطمہ (جنھیں ام ابیہا یا ام البنین بھی کہا جاتا تھا)۔ [26]
ولادتِ باسعادت
[ترمیم]امام مالک کی پیدائش کے سال کے بارے میں علما کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض نے کہا کہ وہ 90ھ میں پیدا ہوئے، بعض کے مطابق 93 ہجری، بعض نے 94ھ ، بعض نے 95ھ ، بعض نے 96ھ اور بعض نے 98ھ بتایا ہے۔ [27] تاہم اکثر علما اس بات پر متفق ہیں کہ امام مالک 93ھ میں، خلیفہ ولید بن عبد الملک کے دور میں پیدا ہوئے۔ روایت میں آتا ہے کہ امام مالک نے خود فرمایا: “میری پیدائش 93ھ میں ہوئی۔” امام مالک کی جائے پیدائش مدینہ منورہ بتائی جاتی ہے، تاہم بعض روایات کے مطابق وہ ذی المروہ میں پیدا ہوئے، جو وادی القریٰ میں تیماء اور خیبر کے درمیان ایک بستی ہے۔[28][29] .[30]
نشو و نما (ابتدائی زندگی)
[ترمیم]امام مالک ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوئے جو علمِ حدیث اور آثار کے ساتھ گہرا تعلق رکھتا تھا اور ایک ایسی فضا میں پرورش پائی جہاں حدیث اور صحابہ کے آثار کا چرچا عام تھا۔ ان کا گھر بھی علمِ حدیث، آثار اور صحابہ کے اقوال و فتاویٰ کے مطالعے میں مشغول رہتا تھا۔ ان کے دادا مالک بن ابی عامر بڑے تابعین اور جلیل القدر علما میں شمار ہوتے تھے اور انھوں نے کئی صحابہ سے روایت کی تھی۔ جبکہ ان کے والد انس حدیث میں زیادہ مشغول نہ تھے، یہاں تک کہ امام مالک سے ان کے والد کے حوالے سے صرف ایک ہی روایت منقول ہے اور اس کی نسبت بھی مشکوک سمجھی جاتی ہے۔ اس لحاظ سے انس علمِ حدیث میں نمایاں حیثیت نہیں رکھتے تھے۔ تاہم، اگر والد کا علمی مقام زیادہ نمایاں نہ بھی ہو، تو ان کے چچاؤں اور دادا کا علمی مرتبہ کافی تھا کہ یہ خاندان علم و فضل کے اعتبار سے معروف شمار ہو۔ اسی طرح امام مالک کے بھائی نضر بن انس بھی اہلِ علم کی صحبت اختیار کرتے، ان سے علم حاصل کرتے اور ان کے حلقوں میں حاضر رہتے تھے۔ [31]
امام مالک نے اپنی زندگی کے ابتدائی دور میں قرآنِ کریم حفظ کیا، جیسا کہ اکثر اسلامی گھرانوں میں بچوں کی دینی تربیت کا یہی طریقہ ہوتا ہے۔ قرآن حفظ کرنے کے بعد انھوں نے علمِ حدیث کی طرف توجہ کی۔ اس سلسلے میں انھیں اپنے ماحول سے ترغیب ملی اور مدینہ کی علمی فضا نے انھیں مزید ابھارا اور حوصلہ دیا۔ اسی وجہ سے انھوں نے اپنے گھر والوں سے خواہش ظاہر کی کہ وہ علما کی مجالس میں جائیں تاکہ علم حاصل کریں اور اسے لکھیں۔ انھوں نے اپنی والدہ سے کہا کہ وہ علم سیکھنے کے لیے جانا چاہتے ہیں۔ ان کی والدہ نے انھیں بہترین لباس پہنایا، عمامہ باندھا اور کہا: "اب جاؤ اور علم لکھو۔" وہ اکثر یہ بھی کہتی تھیں: "ربیعہ کے پاس جاؤ اور ان کے علم سے پہلے ان کے ادب سے سیکھو۔"[32][33][34]
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اپنی والدہ کی اسی ترغیب کے نتیجے میں امام مالک پہلی مرتبہ ربیعہ بن فروخ کی مجلس میں بیٹھے اور کم عمری ہی میں اپنی استطاعت کے مطابق ان سے فقہِ رائے حاصل کی۔ وہ بچپن ہی سے اس بات کا خاص اہتمام کرتے تھے کہ جو کچھ لکھتے اسے یاد بھی کریں۔ یہاں تک کہ درس سننے اور اسے لکھنے کے بعد درختوں کے سائے میں جا کر اسے دہراتے اور یاد کرتے تھے۔ ان کی بہن نے ایک بار انھیں اسی حالت میں دیکھا تو اپنے والد سے اس کا ذکر کیا۔ اس پر انھوں نے کہا: "بیٹی! یہ رسول اللہ کی احادیث یاد کر رہا ہے۔"[35]
امام مالک نے کم عمری ہی میں علما کی صحبت اختیار کر لی تھی۔ وہ ایک فقیہ اور عالم کے ساتھ خاص طور پر وابستہ ہو گئے تھے۔ خود امام مالک بیان کرتے ہیں: "میرا ایک بھائی تھا جو عمر میں ابن شہاب کے برابر تھا۔ ایک دن ہمارے والد نے ہم دونوں سے ایک مسئلہ پوچھا، تو میرے بھائی نے درست جواب دیا اور میں غلطی کر گیا۔ اس پر میرے والد نے مجھ سے کہا: ‘تمھیں کبوتروں نے علم حاصل کرنے سے غافل کر دیا ہے!’ (کیونکہ ابتدائی زندگی میں وہ کبوتروں کی پرورش میں مشغول رہتے تھے)۔" اس بات پر مجھے غصہ آیا اور میں ابن ہرمز کی صحبت میں یکسو ہو گیا۔ میں نے سات سال (اور ایک روایت میں آٹھ سال) تک صرف انہی سے علم حاصل کیا اور کسی اور کے پاس نہ گیا۔ میں اپنی آستین میں کھجوریں رکھتا اور بچوں کو دیتا اور کہتا: "اگر کوئی شیخ کے بارے میں پوچھے تو کہہ دینا کہ وہ مصروف ہیں۔" ایک دن ابن ہرمز نے اپنی باندی سے پوچھا: "دروازے پر کون ہے؟" اس نے دیکھا تو وہاں صرف امام مالک تھے۔ واپس آ کر اس نے کہا: "وہاں تو صرف ایک گورا سا لڑکا ہے۔" ابن ہرمز نے کہا: "اسے بلاؤ، یہی لوگوں کا عالم ہے۔" امام مالک بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے ابن ہرمز کے دروازے پر بیٹھنے کے لیے ایک بھرا ہوا تکیہ (گدا) بنا رکھا تھا تاکہ وہاں کے پتھروں کی ٹھنڈک سے بچ سکیں۔ وہ کہتے تھے: "میں صبح سویرے ابن ہرمز کے پاس جاتا اور رات تک ان کے گھر سے نہیں نکلتا تھا۔"[36][37] .[38][39]
امام مالک کے زمانے میں مدینہ منورہ علم کا ایک بڑا مرکز تھا، کیونکہ وہاں تابعین کی بڑی تعداد موجود تھی۔ امام مالک نے ابن ہرمز کی ایسی صحبت اختیار کی کہ اس دوران کسی اور کے ساتھ اختلاط نہ کیا، پھر بعد میں دوسرے علما سے بھی علم حاصل کرنا شروع کیا جبکہ اپنے پہلے استاد کی مجلس بھی جاری رکھی۔ اسی دوران انھیں نافع مولیٰ ابن عمر میں اپنی علمی طلب کی تکمیل نظر آئی، چنانچہ وہ ابن ہرمز کے ساتھ ساتھ ان کی مجلس میں بھی بیٹھنے لگے اور ان سے بہت سا علم حاصل کیا۔ امام مالک بیان کرتے ہیں: "میں دوپہر کے وقت نافع کے پاس آتا اور درخت کا سایہ بھی مجھ پر نہیں ہوتا تھا، میں ان کے نکلنے کا انتظار کرتا رہتا۔ جب وہ باہر آتے تو کچھ دیر انھیں چھوڑ دیتا گویا میں نے انھیں دیکھا ہی نہیں، پھر آہستہ سے قریب جا کر سلام کرتا اور دوبارہ ہٹ جاتا۔ یہاں تک کہ جب وہ اندر جاتے تو میں ان سے پوچھتا: ‘ابن عمر نے فلاں مسئلے میں کیا فرمایا؟’ وہ مجھے جواب دیتے، پھر میں ہٹ جاتا اور ان کی طبیعت میں کچھ سختی بھی تھی۔"[40][41][42]
امام مالک نے ابن شہاب زہری سے علم حاصل کیا۔ امام مالک کہتے ہیں: ابن شہاب زہری ہمارے پاس تشریف لائے، ہم ان کے پاس گئے، ہمارے ساتھ ربیعہ بھی تھے۔ انھوں نے ہمیں چالیس سے کچھ زیادہ احادیث بیان کیں۔ پھر ہم اگلے دن دوبارہ ان کے پاس گئے تو انھوں نے فرمایا: “کوئی کتاب دیکھ لو تاکہ میں دوبارہ حدیث بیان کروں، کیا تم نے وہ احادیث یاد رکھیں جو میں نے کل بیان کی تھیں؟” ربیعہ نے کہا: “یہاں ایک شخص ہے جو آپ کی کل کی بیان کردہ باتوں کی تردید کر سکتا ہے۔” انھوں نے پوچھا: “وہ کون ہے؟” کہا گیا: “ابن ابی عامر”۔ انھوں نے کہا: “اسے بلاؤ۔” پھر میں نے ان کے سامنے وہی چالیس احادیث دہرائیں، تو الزہری نے کہا: “میں نہیں سمجھتا تھا کہ میرے علاوہ کوئی اور بھی یہ سب یاد رکھ سکتا ہے۔” [43][44] امام مالک شروع ہی سے حدیثِ نبوی کے انتہائی احترام کے قائل تھے۔ وہ حدیث صرف سکون اور وقار کی حالت میں لیتے تھے تاکہ صحیح طور پر یاد رہے۔ وہ کھڑے ہو کر حدیث نہیں سنتے تھے اور نہ بے چینی یا اضطراب کی حالت میں روایت لیتے تھے، تاکہ کوئی چیز ضائع نہ ہو۔ اسی طرح امام مالک علم حاصل کرنے میں مالی تنگی برداشت کرنے سے بھی نہیں گھبراتے تھے۔ ابن قاسم کہتے ہیں کہ علم کی طلب میں امام مالک نے اپنے گھر کی چھت تک توڑ دی اور اس کی لکڑی بھی بیچ دی، پھر بعد میں اللہ نے ان کے لیے دنیا میں وسعت پیدا کر دی۔ [45] .[46]
امام مالک کا درس و افتاء کے لیے بیٹھنا
[ترمیم]![]() بسلسلہ مضامین: |
اہم شخصیات
|
تعطیلات ومناسبات
|
جب امام مالک کی آثار (احادیث و روایات) اور فتویٰ دینے کی تعلیم مکمل ہو گئی تو انھوں نے مسجد نبوی میں درس و افتاء کے لیے ایک مستقل مجلس قائم کی۔ اس مقام پر جب ان کے دل میں درس و فتویٰ دینے کی خواہش پیدا ہوئی تو انھوں نے اپنی حالت بیان کرتے ہوئے فرمایا: “ہر وہ شخص جو مسجد میں بیٹھ کر حدیث اور فتویٰ دینا چاہے، وہ فوراً نہیں بیٹھ سکتا، یہاں تک کہ مسجد کے اہلِ صلاح، اہلِ فضل اور معتبر لوگ اس سے مشورہ کریں۔ اگر وہ اسے اس کے لیے اہل سمجھیں تو وہ بیٹھے۔ میں اس وقت تک نہیں بیٹھا جب تک ستر شیوخِ علم نے میری اس بات کی گواہی نہ دی کہ میں اس کام کے قابل ہوں۔”[47][48][49] امام مالک نے مسجد نبوی میں درس و افتاء اس وقت شروع کیا جب ان کی عقل پختہ اور فکر مکمل طور پر نکھر چکی تھی اور اس وقت ان کے بعض اساتذہ بھی حیات تھے۔ تاہم مصادر میں اس بات کی کوئی قطعی عمر بیان نہیں کی گئی کہ وہ کس عمر میں فتویٰ دینے کے لیے بیٹھے۔ [50]
امام مالک مسجد نبوی میں بیٹھ کر اپنے شاگردوں کو فتوے دیتے اور حدیث نبوی بیان کرتے تھے۔ ان کی مجلس مسجد نبوی میں اس جگہ تھی جہاں عمر بن خطاب مشورہ، حکومت اور عدالتی فیصلوں کے لیے بیٹھا کرتے تھے۔ امام مالک نے اس جگہ کو اختیار کر کے حضرت عمر کے طرزِ عمل سے اثر لیا، جیسے وہ اپنے فتاویٰ اور فیصلوں میں بھی انھی کے طریقے سے متاثر تھے۔ یہ وہی جگہ تھی جہاں نبی کریم ﷺ اعتکاف کے دوران اپنا بستر رکھا کرتے تھے۔ اور ابن سعد کی روایت میں آتا ہے: “امام مالک کی مجلس مسجدِ رسول ﷺ میں عمر کے دروازے کے سامنے، قبر اور منبر کے درمیان تھی۔” اسی طرح امام مالک نے اپنے رہنے کے لیے بھی اسی نسبت کو اختیار کیا اور عبد اللہ بن مسعود کے گھر میں سکونت اختیار کی تاکہ ان کے علمی اور روحانی طریقے کی پیروی کر سکیں۔ [51][52]
امام مالک کے درس کی کیفیت
[ترمیم]ابتداً امام مالک کا درس مسجدِ نبوی میں ہوا کرتا تھا، لیکن بعد میں وہ اپنے گھر میں درس دینے لگے۔ اس کی وجہ ان کی ایک بیماری تھی جسے وہ ظاہر نہیں کرتے تھے۔ وہ سلس البول (پیشاب کے تسلسل کی بیماری) میں مبتلا تھے، لیکن انھوں نے یہ بات اپنی زندگی میں کسی پر ظاہر نہیں کی، حتیٰ کہ اپنی وفات کے دن اس کا ذکر کیا۔ امام مالک نے فرمایا: “اگر میں آخری دن نہ ہوتا تو میں یہ بات تمھیں نہ بتاتا۔ میری بیماری سلس البول ہے۔ مجھے یہ ناپسند تھا کہ میں مسجدِ رسول اللہ ﷺ بغیر وضو کے جاؤں اور یہ بھی ناپسند تھا کہ میں اپنی تکلیف بیان کر کے اپنے رب کے سامنے شکوہ کروں۔” [53]
امام مالک اپنے درس میں وقار، سکون اور سنجیدگی کو لازمی قرار دیتے تھے اور فضول گفتگو اور غیر مناسب باتوں سے مکمل اجتناب کرتے تھے۔ وہ اسے طالبِ علم کے لیے ضروری سمجھتے تھے۔[54] روایت ہے کہ انھوں نے اپنے بھائی کے بعض بچوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: “اس علم کو سیکھو جس کے ذریعے تمھیں سکون، بردباری اور وقار حاصل ہو۔”[55][56] وہ فرمایا کرتے تھے: “علم حاصل کرنے والے پر لازم ہے کہ اس میں وقار، سکون اور خشیت ہو اور وہ اپنے سے پہلے گزرنے والوں کے آثار کی پیروی کرے۔ اہلِ علم کے لیے مناسب نہیں کہ وہ مزاح میں مشغول ہوں، خاص طور پر جب وہ علم کا ذکر کر رہے ہوں۔” اور وہ یہ بھی فرمایا کرتے تھے: “عالم کے آداب میں سے ہے کہ وہ صرف تبسم کرے، باقاعدہ قہقہہ نہ لگائے۔” الواقدی نے ان کے درس کے بارے میں کہا: “ان کی مجلس وقار اور علم کی مجلس تھی۔ وہ باوقار اور باعظمت شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی مجلس میں نہ جھگڑا ہوتا تھا، نہ شور و غل اور نہ آواز بلند کی جاتی تھی۔ جب ان سے کوئی سوال کیا جاتا تو وہ جواب دیتے مگر یہ نہیں پوچھتے تھے کہ یہ سوال کہاں سے آیا ہے۔”[57][58][59][60][61]

امام مالک کے شاگرد مطرف ان کے اس حال کو بیان کرتے ہیں جب ان کا درس ان کے گھر منتقل ہو گیا۔ وہ کہتے ہیں: جب لوگ امام مالک کے پاس آتے تو ان کی باندی باہر آ کر ان سے پوچھتی: “شیخ فرماتے ہیں، آپ حدیث سننا چاہتے ہیں یا مسائل؟” اگر وہ کہتے کہ مسائل پوچھنے ہیں تو امام مالک باہر آ کر انھیں فتویٰ دیتے۔ اور اگر وہ کہتے کہ حدیث سننی ہے تو وہ فرماتے: “بیٹھ جاؤ”، پھر وہ اندر غسل خانے میں جاتے، غسل کرتے، خوشبو لگاتے، نئے کپڑے پہنتے، عمامہ باندھتے اور ان کے لیے خاص نشست (منصہ) بچھائی جاتی۔ پھر وہ نہایت وقار اور خشوع کے ساتھ باہر آتے، خوشبو سے معطر ہوتے اور عود جلایا جاتا رہتا یہاں تک کہ حدیثِ رسول ﷺ کی مجلس مکمل ہو جاتی۔ [62][63] عبد اللہ بن مبارک کہتے ہیں: میں امام مالک کے پاس موجود تھا جب وہ ہمیں حدیثِ رسول ﷺ بیان کر رہے تھے کہ اچانک انھیں بچھو نے سولہ مرتبہ ڈسا۔ امام مالک کا رنگ بدل گیا اور وہ زرد پڑ گئے، مگر انھوں نے حدیثِ رسول ﷺ کو قطع نہیں کیا۔ جب مجلس ختم ہوئی اور لوگ چلے گئے تو میں نے عرض کیا: “اے ابو عبد اللہ! آج میں نے آپ سے ایک عجیب بات دیکھی ہے۔” انھوں نے فرمایا: “ہاں، میں نے یہ صبر صرف رسول اللہ ﷺ کی حدیث کی تعظیم کی وجہ سے کیا ہے۔” [64]
امام مالک اپنی فتویٰ دینے میں سخت احتیاط کرتے تھے کہ کہیں غلطی نہ ہو جائے۔ وہ اپنی جواب کی ابتدا اکثر ان الفاظ سے کرتے: “ما شاء اللہ، لا قوة إلا بالله”۔ وہ بہت زیادہ “لا أدری” (میں نہیں جانتا) کہنے والے تھے اور اکثر اپنے فتوے کے بعد یہ بھی کہتے: “ہم صرف گمان ہی کرتے ہیں اور ہم یقین رکھنے والے نہیں ہیں۔” عبد الرحمٰن بن مہدی بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص امام مالک کے پاس ایک مسئلہ لے کر آیا اور بتایا کہ اسے اس مسئلے کے لیے مغرب سے چھ ماہ کا سفر طے کر کے بھیجا گیا ہے۔ امام مالک نے فرمایا: “جس نے تمھیں بھیجا ہے اسے کہہ دو کہ مجھے اس کا علم نہیں ہے۔” اس شخص نے پوچھا: “پھر اس کا علم کس کے پاس ہے؟” انھوں نے فرمایا: “جس کو اللہ نے علم دیا ہے۔”[65][66] معن بن عيسى کہتے ہیں: میں نے امام مالک کو یہ فرماتے سنا: “میں بھی ایک انسان ہوں، غلطی بھی کرتا ہوں اور درست بھی۔ میرے رائے کو دیکھو، جو کتاب و سنت کے مطابق ہو اسے قبول کر لو اور جو اس کے خلاف ہو اسے چھوڑ دو۔” امام مالک دین میں بحث و جدال سے سخت منع کرتے تھے اور فرماتے تھے: “دین میں جھگڑا اور بحث علم کے نور کو دل سے ختم کر دیتی ہے۔” ایک مرتبہ انھوں نے کچھ لوگوں کو اپنے پاس بحث کرتے دیکھا تو وہ کھڑے ہو گئے، اپنا چادر جھاڑی اور فرمایا: “تم تو گویا جنگ میں ہو۔”[67] [68]
ذریعہ معاش
[ترمیم]کتبِ مناقب اور خبریں امام مالک کے ذریعہ معاش کے ذرائع کو واضح طور پر بیان نہیں کرتیں، لیکن کچھ مختلف خبریں ہیں جو ان کے رزق کے بارے میں کچھ معلومات فراہم کرتی ہیں۔ غالباً امام مالک تجارت کرتے تھے، کیونکہ ان کے شاگرد ابن القاسم نے کہا: "امام مالک کے پاس چار سو دینار تھے جن سے وہ تجارت کرتے اور انھی سے ان کی روزمرہ کی زندگی چلتی تھی۔"
امام مالک خلفاء سے تحائف قبول کرتے تھے اور ان کے لیے ان تحائف کو لینے میں کوئی شک نہیں تھا، حالانکہ وہ دوسروں سے لینے میں احتیاط کرتے تھے۔ جب ان سے سلاطین سے تحائف لینے کے بارے میں سوال کیا گیا تو امام مالک نے فرمایا: "خلفاء سے تو کوئی شک نہیں، یعنی ان سے لینا جائز ہے، لیکن جو ان سے کم ہوں، ان سے لینے میں کچھ احتیاط ہے۔" یہ بھی روایت ہے کہ خلیفہ ہارون الرشید نے امام مالک کو تین ہزار دینار دیے، تو لوگوں نے ان سے پوچھا: "یا ابا عبد اللہ، آپ تین ہزار دینار امیر المؤمنین سے کیسے لے سکتے ہیں؟" امام مالک نے جواب دیا: "اگر وہ امامِ عدل ہوں اور اہلِ مروت کے ساتھ انصاف کریں تو مجھے اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔" امام مالک کے نزدیک یہ تحائف اس لیے جائز تھے کیونکہ وہ اہلِ مروت کے ساتھ انصاف کا حصہ سمجھتے تھے۔[69][70]
امام مالک کی فقہ اور اصولِ مذہب
[ترمیم]امام مالک کے پاس فقہ کے وہ مخصوص اصول، جنھیں بعد کے ادوار میں باقاعدہ “اصولِ فقہ” کہا جاتا ہے، اس مفہوم میں مدون اور مرتب شکل میں موجود نہیں تھے۔ نہ ان کے براہِ راست شاگردوں نے ان سے کوئی ایسا منظم اصولی منہج نقل کیا جسے الگ نظریاتی نظام کہا جا سکے۔ البتہ ان کے شاگردوں اور بعد کے فقہا نے امام مالک کے فتاویٰ اور فقہی آراء کا گہرا مطالعہ کر کے ان سے وہ اصول اخذ کیے جن پر ان کا فقہ قائم تھا۔ اس طرح رفتہ رفتہ مالکی فقہ کے اصول مرتب ہوئے۔ مالکی مذہب کے بنیادی اصول یہ شمار کیے جاتے ہیں: قرآنِ کریم، سنتِ نبوی ، اجماع ، اہلِ مدینہ کا عمل ، قیاس، مصالح مرسلہ، استحسان، عرف و عادات، سدّ ذرائع اور استصحاب۔ [71][72]
امام مالک کی آزمائش (محنہ)
[ترمیم]
امام مالک فتنوں، بغاوتوں اور حکمرانوں کے خلاف تحریکوں سے ہمیشہ دور رہتے تھے اور ان میں حصہ لینے سے اجتناب کرتے تھے۔ اس کے باوجود عباسی دور میں خلیفہ ابو جعفر المنصور کے زمانے میں انھیں ایک سخت آزمائش کا سامنا کرنا پڑا۔ مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ محنہ ان پر پیش آیا اور اکثر روایات کے مطابق یہ واقعہ 146 ہجری میں پیش آیا، جبکہ بعض نے 147 ہجری بھی بتایا ہے۔ اس دوران امام مالک کو کوڑوں کی سزا دی گئی اور ان کا ہاتھ اتنی شدت سے کھینچا گیا کہ ان کے کندھے متاثر ہو گئے۔ اس واقعے کی مختلف وجوہات بیان کی گئی ہیں، جن میں سب سے مشہور یہ ہے کہ امام مالک ایک حدیث بیان کرتے تھے: “مجبور کیے گئے شخص پر طلاق واقع نہیں ہوتی۔” فتنہ پھیلانے والوں نے اس حدیث کو بنیاد بنا کر ابو جعفر المنصور کی بیعت کو باطل قرار دینے کی کوشش کی، خصوصاً اس وقت جب مدینہ میں محمد بن عبد اللہ بن حسن نفس زكيہ کی بغاوت جاری تھی۔ اسی وجہ سے امام مالک کو اس حدیث کے بیان کرنے سے روکا گیا، لیکن جب کسی نے انھیں عوام کے سامنے اس حدیث کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے اسے بیان کر دیا، جس کے نتیجے میں انھیں سزا دی گئی۔ [73][74][75]
امام مالک پر یہ آزمائش نازل کرنے والا مدینہ کا والی جعفر بن سليمان تھا اور یہ واقعہ ابو جعفر المنصور کے علم میں آئے بغیر پیش آیا۔ یہ محنہ دراصل محمد النفس الزکیہ کے قتل (145 ہجری) کے بعد ہوا، یعنی اس وقت جب فتنہ تقریباً ختم ہو چکا تھا۔ تاہم ایک دوسری روایت یہ بھی بیان کرتی ہے کہ ابو جعفر المنصور نے ہی حدیث کے بیان سے روکا تھا اور اسی نے کسی کو امام مالک کے پاس بھیجا تاکہ وہ ان کی گفتگو سن کر رپورٹ کرے اور پھر ان سے وہی حدیث بیان کرائی گئی۔
مدینہ کے لوگوں نے جب اپنے فقیہ اور امام پر یہ سختی دیکھی تو وہ بنی عباس اور ان کے حکمرانوں سے سخت ناراض ہو گئے، خصوصاً اس وجہ سے کہ امام مالک اس معاملے میں مظلوم تھے۔ انھوں نے نہ فتنہ بھڑکایا، نہ بغاوت کی، نہ فتویٰ کی حد سے تجاوز کیا۔ محنہ کے بعد بھی امام مالک اپنے درس و تدریس پر قائم رہے، نہ کسی فساد کی دعوت دی اور نہ کسی تحریک میں شامل ہوئے، بلکہ اپنے علمی طریقے پر بدستور قائم رہے۔ اس واقعے نے عوام میں حکمرانوں کے خلاف مزید ناراضی پیدا کی اور خود حکمران بھی اپنے کیے پر ندامت محسوس کرنے لگے۔ اسی وجہ سے جب ابو جعفر المنصور حج کے لیے حجاز آیا تو اس نے امام مالک کے پاس معذرت کے لیے پیغام بھیجا۔ [76]
جب میں ابو جعفر المنصور کے پاس گیا اور اس نے مجھے پہلے ہی حکم دیا تھا کہ موسمِ حج میں اس کے پاس آؤ، تو اس نے کہا: “اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے اس کام کا حکم نہیں دیا تھا اور نہ مجھے اس کا علم تھا۔ اہلِ حرمین ہمیشہ خیر میں رہتے ہیں جب تک تم ان کے درمیان موجود رہو۔ میں تمھیں ان کے لیے عذاب سے امان سمجھتا ہوں۔ اللہ نے تمھارے ذریعے ان سے ایک بڑی سختی دور کر دی ہے۔ کیونکہ وہ فتنوں کی طرف سب سے زیادہ جلدی مائل ہونے والے لوگ ہیں۔ میں نے (جعفر بن سلیمان کے بارے میں) حکم دیا تھا کہ اسے مدینہ سے عراق اونٹ کی کجاوہ پر لایا جائے، اس کی قید کو تنگ کیا جائے اور اس کی توہین میں سختی کی جائے اور میں ضرور اسے اس سزا سے کئی گنا زیادہ سزا دوں گا جو تم نے اسے دی تھی۔” میں نے کہا: “اللہ امیر المؤمنین کو عافیت دے اور اس کا ٹھکانا عزت والا کرے، میں نے اسے معاف کر دیا ہے کیونکہ وہ رسول اللہ ﷺ سے قرابت رکھتا ہے اور آپ سے بھی تعلق رکھتا ہے۔” اس پر خلیفہ نے کہا: “اللہ تمھیں معاف کرے اور تم سے صلہ رحمی کرے۔”[77]
حدیث کی سنہری سند
[ترمیم]امام مالک رحمۃ اللّٰہ علیہ کے راویوں کا سلسلہ سب سے زیادہ مستند سمجھا جاتا تھا اور اسے سلسلتہ الذہب یا "راویوں کا سنہری سلسلہ" کہا جاتا تھا جس میں محمد بخاری سمیت مشہور تمام محدثین نے فرمایا تھا۔[78] روایت کی سنہری زنجیر (یعنی جسے تمام محدثین سب سے زیادہ مستند سند سمجھتے ہیں) امام مالک کی سند پر مشتمل ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ ، نافع مولیٰ ابن عمر رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں، ابن عمر رضی اللہ عنہ براہ راست محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے روایت کر رہے ہیں۔اس کو روایات کی سنہری سند کہا جاتا ہے۔[79] یہ سند محدثین کے نزدیک سب سے زیادہ معتبر، قوی اور بے غبار اسناد میں سے شمار ہوتی ہے۔
علم الٰہیات
[ترمیم]عبد الغنی الدقر کے مطابق امام مالک علم الٰہیات کے مباحث سے سب سے زیادہ فاصلے پر تھے، مگر وہ انہی مباحث کی باریکیاں اور نکات میں سب سے زیادہ مہارت رکھتے تھے، بغیر اس کے کہ وہ ان کے نظریات کو قبول کرتے۔ دوسری جانب، جی۔ ایف۔ حداد کہتے ہیں کہ مالک علم الٰہیات سے مکمل طور پر کنارہ نہیں کشید کرتے تھے؛ بلکہ وہ اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ امام مالک نے علم الٰہیات کے ماہر، ابن حرموظ کے زیرِ تربیت، تیرہ سے سولہ سال تک محنت و غور کے ساتھ تعلیم حاصل کی۔ واللہ اعلم [82]
بشریات
[ترمیم]الہیات کے میدان میں امام مالک کی منفرد خدمات خاص طور پر یہ ہے کہ وہ بشریت کے سخت مخالف تھے، [82]] اور خدا کی صفات کا موازنہ کرنا مضحکہ خیز سمجھتے تھے، جو "انسانی تصویر" میں دی گئی تھیں جیسے کہ خدا کے "ہاتھ" یا "آنکھیں" انسان کی آنکھوں کے ساتھ تشبیہ دینا وغیرہ۔[82] مثال کے طور پر، جب ایک شخص نے امام مالک رحمہ اللّٰہ علیہ سے قرآن مجید کی آیت:
اَلرَّحۡمٰنُ عَلَی الۡعَرۡشِ اسۡتَوٰی سورہ طہ آیت﴿5﴾
وہ بڑی رحمت والا عرش پر استواء فرمائے ہوئے ہے ۔
کے معنی کے بارے میں پوچھا، "رحمن نے اپنے آپ کو عرش پر قائم کیا" "امام مالک پر کسی چیز نے اتنا اثر نہیں کیا جتنا کہ اس آدمی کے سوال نے ،" اور فقیہ نے بڑے جوش سے جواب دیا: " اس کا 'کیسا' ناقابل فہم ہے ، اس کا 'قیام' حصہ معلوم ہے ، اس پر ایمان لانا فرض ہے اور اس کے بارے میں پوچھنا بدعت ہے۔(تمام اہل سنت مسلمانوں کا عقیدہ بھی یہی ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ عرش پر جلوہ فرما ہے جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے۔)۔" [83][84]
ایمان کی فطرت
[ترمیم]جب امام مالک رحمہ اللہ علیہ سے ایمان کی نوعیت کے بارے میں پوچھا گیا تو امام مالک نے اس کی تعریف "گفتار اور اعمال" (قولون وعمل) سے کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امام مالک رحمہ اللّٰہ علیہ ایمان اور اعمال کی علیحدگی کے سخت خلاف تھے۔[85]
تصوف
[ترمیم]کئی ابتدائی روایات کی بنیاد پر، یہ واضح ہے کہ امام مالک رحمہ اللہ نے ابتدائی صوفیوں اور ان کے طریقوں کو بہت زیادہ اہمیت دی تھی۔[86]مزید یہ کہ امام مالک صوفیانہ علم کی "باطنی سائنس" ('علم الباطن) کو فقہ کی "ظاہری سائنس" کے ساتھ ملانے کے مضبوط حامی تھے۔[86]مثال کے طور پر، بارہویں صدی کے مشہور مالکی فقیہ اور جج قاضی عیاض ، جس کی جزیرہ نما آئبیرین والے ان کی ایک بزرگ کے طور پر تعظیم کرتے تھے، انھوں نے ایک روایت بیان کی جس میں ایک شخص نے امام مالک سے "باطنی سائنس میں کسی چیز کے بارے میں" پوچھا، جس پر امام مالک نے جواب دیا: "واقعی۔ باطنی سائنس کو ان کے سوا کوئی نہیں جانتا جو ظاہری علوم کو جانتا ہے، جب وہ ظاہری سائنس کو جانتا ہے اور اسے عملی جامہ پہناتا ہے تو خدا اس کے لیے باطنی علوم کو کھول دیتا ہے - اور یہ اس کے دل کے کھلنے اور اس کی روشنی کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔ "[87] اگرچہ چند روایات یہ بتاتی ہیں کہ امام مالک، اگرچہ مجموعی طور پر تصوف کے مخالف نہیں تھے، تاہم اس کے باوجود گروہی ذکر کے خاص طور پر مخالف تھے، اس طرح کی روایات کو ان کے سلسلہ میں منکر یا "ضعیف" قرار دیا گیا ہے۔ [88] مزید برآں، یہ استدلال کیا گیا ہے کہ ان خبروں میں سے کوئی بھی جن میں سے تمام قریب میں ہونے والے گروپ ذکر کی ایک مثال کے بارے میں بتائے جانے پر ملک کے ناپسندیدہ تفریح کا تعلق ہے - واضح طور پر اس عمل کی کسی قسم کی ناپسندیدگی کو ظاہر کرتا ہے، بلکہ "کچھ" کی تنقید کے طور پر کام کرتا ہے۔ وہ لوگ جو اپنے زمانے میں صوفیوں کے لیے گذرے ہیں جنھوں نے بظاہر مقدس قانون کی کچھ زیادتیوں یا خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا ہے۔" چونکہ ان کی نشریات کی دونوں زنجیریں کمزور ہیں اور ان کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی ہیں جو امام مالک کی دوسری جگہوں پر ہے، روایات کو رد کیا جاتا ہے۔ بہت سے علما، اگرچہ تصوف کے آخری دور کے ناقدین کبھی کبھار اپنے موقف کی تائید میں ان کا حوالہ دیتے ہیں امام مالک اس کی نفعی کرتے ہیں ۔[88] .[88]
محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی سنت
[ترمیم]امام مالک رحمہ اللہ علیہ محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی کو ہر مسلمان کے لیے اہم سمجھتے تھے۔ روایت ہے کہ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: "محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی سنت نوح علیہ السلام کی کشتی کی طرح ہے، جو اس پر سوار ہوا وہ نجات پا گیا اور جو اس سے دور رہا وہ ہلاک ہو گیا۔"[89]
اختلاف رائے
[ترمیم]امام مالک رحمہ اللہ کی زندگی کے احوال سے پتہ چلتا ہے کہ عالم امام مالک نے علمائے کرام کے درمیان اختلاف رائے کو خدا کی طرف سے اسلامی برادری کے لیے رحمت قرار دیا تھا۔[90] یہاں تک کہ "امام مالک کے زمانے میں بھی ایسے لوگ موجود تھے جنھوں نے ایک متفقہ مذہب اور سنی مکاتب فکر کے درمیان تمام اختلافات کو دور کرنے کے خیال کو آگے بڑھایا،"اس کے ساتھ "متواتر تین خلفاء" نے "امام مالک رحمہ اللہ کے مکتب کو پورے ملک پر مسلط کرنے کی کوشش کی۔ اپنے وقت کی اسلامی دنیا پر، لیکن "امام مالک نے ہر بار اس کی اجازت دینے سے انکار کر دیا... آپ کے نزدیک فقہا کے درمیان اختلاف رائے" لوگوں کے لیے "رحمت" ہے۔[91] جب دوسرے عباسی خلیفہ المنصور نے امام مالک سے کہا: "میں اس علم کو یکجا کرنا چاہتا ہوں، میں فوج کے سربراہوں اور حکمرانوں کو خط لکھوں گا تاکہ وہ اسے قانون بنائیں اور جو اس کی خلاف ورزی کرے گا اسے سزائے موت دی جائے گی۔ کہا جاتا ہے کہ امام مالک رحمہ اللہ نے جواب دیا: "مؤمنین کے سردار، ایک اور طریقہ ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس امت میں موجود تھے، آپ فوج بھیجتے تھے یا خود روانہ ہوتے تھے اور آپ نے بہت سی زمینیں فتح نہیں کیں جب تک کہ اللہ تعالی اس کی روح واپس لے لی، پھر ابوبکرؓ اٹھے اور انھوں نے بھی بہت سی زمینیں فتح نہ کیں، پھر ان دونوں کے بعد عمرؓ اٹھے اور بہت سی زمینیں ان کے ہاتھوں فتح ہوئیں، اس کے نتیجے میں انھیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں علم سیکھانے کے لیے باہر بھیجنے کی ضرورت پیش آئی۔صحابہ کرام سے علم سیکھنے کے بعد بھی وہ لوگ اختلاف کرنے سے باز نہیں آئے، اب اگر آپ جائیں اور ان کو ان چیزوں سے تبدیل کریں جو وہ جانتے ہیں اور جو وہ نہیں جانتے تو انتشار پھیلے گا اور وہ لوگ اسے کفر سمجھیں گے۔ ہر ملک کے لوگ کے پاس کچھ علمی دلائل ہوتے ہیں لازمی نہیں کہ ہم اپنے دلائل ان پر مسلط کر دیں۔"[92] ایک اور روایت کے مطابق المنصور نے بعض اہم سوالات کے جوابات مالک سے سننے کے بعد کہا: ’’میں نے فیصلہ کیا ہے کہ آپ کی تصانیف کو نقل کر کے روئے زمین کے ہر مسلمان خطہ تک پہنچایا جائے، تاکہ ان پر خصوصی طور پر عمل کیا جائے۔ وہ بدعات کو چھوڑ دیں گے اور صرف اسی علم کو رکھیں گے کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ علم کا سرچشمہ مدینہ کی روایت اور اس کے علما کا علم ہے۔ : "امام مالک نے فرمایا :مؤمنین کے سردار، مت کرو کیونکہ لوگ پہلے ہی مختلف مقامات سن چکے ہیں، حدیثیں اور متعلقہ احادیث سن چکے ہیں، ہر گروہ نے جو کچھ ان کے پاس آیا اسے لے کر انھوں نے عمل میں لایا، جب کہ کچھ لوگوں نے اختلاف کیا۔ جس چیز کا وہ دعویٰ کرتے رہے ہیں اس سے دور رہنا ہی بہتر ہے ورنہ تباہی کا باعث بنے گا۔ لہٰذا لوگوں کو چھوڑ دو کہ وہ جس مکتب کی پیروی کرتے ہیں اور جس کو ہر ملک کے لوگوں نے اپنے لیے منتخب کیا ہوا ہے۔"[93]
علم کی حدود کو جاننا
[ترمیم]امام مالک رحمہ اللہ علیہ کا یہ قول مشہور ہے کہ: "عالم کی کیا ڈھال ہے: عالم کی ڈھال ہے 'میں نہیں جانتا۔' اگر اس نے اس میں کوتاہی کی تو اسے جان لیوا دھچکا لگے گا۔" [94] دوسری جگہ خالد بن خداش کا قول ہے: "میں نے عراق سے سارا سفر طے کیا تاکہ امام مالک رحمہ اللہ سے تقریباً چالیس سوالوں کے جواب مل سکیں، آپ نے پانچ سوالوں کے سوا مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔ انھوں نے کہا: ابن عجلان کہتے تھے: اگر عالم 'میں نہیں جانتا' کو نظر انداز کرے گا تو اسے ایک جان لیوا ضرب لگے گی۔"[94] اسی طرح الہیثم بن جمیل کہتے ہیں: "میں نے امام مالک بن انس سے چالیس سوال کیے ہوئے۔آپ نے آٹھ سوالوں کے سوا ، بتیس(32) کا جواب دیا: 'میں نہیں جانتا'۔" [94] بعد میں، امام مالک کے شاگرد ، ابن وہب، بیان کرتے ہیں: "میں نے عبد اللہ بن یزید ابن ہرمز کو کہتے سنا: ' علمائے کرام کو چاہیے کہ وہ اپنے ساتھ بیٹھنے والوں میں 'میں نہیں جانتا' کا جملہ ڈالیں جب تک کہ یہ ان کے سامنے ایک بنیادی اصول نہ بن جائے اور وہ خطرے سے اس کی پناہ مانگیں۔"[94]
مذہبی اختلاف
[ترمیم]امام مالک رحمہ اللہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مذہب کے معاملات میں جھگڑے کو ناپسند کرتے تھے اور آپ فرماتے ہیں کہ: "دین میں جھگڑا (الجدال) خود نمائی کو فروغ دیتا ہے، دل کے نور کو ختم کر دیتا ہے اور اسے سخت کر دیتا ہے اور بے مقصد بھٹکنے کو جنم دیتا ہے۔"[95] لہٰذا، امام مالک کی طرف سے غیر ضروری دلیل کو ناپسند کیا گیا اور انھوں نے مذہبی معاملات کے بارے میں عام طور پر خاموش رہنے کا درس دیا ہے جب تک کہ وہ خود کو "گمراہی کے پھیلاؤ یا کسی ایسے ہی خطرے" کے خوف سے بولنے کا پابند محسوس نہ کریں۔[96]
مونچھیں مونڈنا
[ترمیم]موطا میں،امام مالک رحمہ اللّٰہ علیہ لکھتے ہیں: "مونچھیں مونڈنا بدعت ہے۔" [97] دوسری جگہ لکھا ہے کہ وہ مونچھیں منڈوانے کو "نفرت اور مذمت" کرتے تھے اور مزید یہ کہ "داڑھی کی حد سے زیادہ لمبائی کو ناپسند کرتے تھے"۔ [97] جب کہ کئی دوسرے علما نے مونچھوں کے تراشنے (قس) اور ہٹانے (احفاظ) دونوں کو سنت قرار دیا، امام مالک رحمہ اللہ نے صرف سابقہ کو صحیح معنوں میں پیغمبرانہ طور پر مشروع قرار دیا اور مؤخر الذکر کو ایک ناقابل فہم بدعت قرار دیا (امام مالک کی اس سے مراد بالکل مونچھیں مونڈ دینا بدعت ہے چھوٹا کرانا امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک بھی سنت ہے)۔[97]
حلیہ
[ترمیم]امام مالکؒ بلند قامت، مضبوط جسم، سرخی مائل سفید رنگ، نیلی آنکھوں اور دلکش خدوخال کے مالک تھے۔ ان کی داڑھی بڑی اور گھنی تھی، مونچھوں کے کنارے تراشتے مگر مکمل نہ منڈواتے اور خضاب نہیں کرتے تھے۔ فرماتے: "مجھے حضرت علیؓ سے منقول ہے کہ وہ بھی خضاب نہیں کرتے تھے۔" [97]مزید برآں، یہ بھی آپ کے متعلق ہے کہ "آپ ہمیشہ خوبصورت لباس پہنتے تھے، خاص طور پر آپ سفید لباس پہنتے تھے۔"[97]امام مالکؒ اپنے لباس کا خاص خیال رکھتے تھے اور اسے علم کی توقیر اور عالم کی رفعت کا حصہ سمجھتے تھے۔ آپ فرماتے: "عالم کی مروت یہ ہے کہ وہ عمدہ لباس پہنے اور مکمل زیب و زینت کے ساتھ نظر آئے، حتیٰ کہ اچھی پگڑی بھی باندھے۔"[98][99][100][101] آپ ہمیشہ اعلیٰ اور خوبصورت لباس پہنتے۔ زبیری بیان کرتے ہیں کہ امام مالکؒ عدنی، خراسانی اور مصری عمدہ سفید لباس زیب تن کرتے اور بہترین خوشبو استعمال کرتے۔ آپ فرماتے: "اللہ کی نعمت کا اثر بندے پر ظاہر ہونا چاہیے اور قاری کے لیے سفید لباس پسند کرتا ہوں۔"[102][103]
فقہ مالکی
[ترمیم]امام مالک رحمہ اللہ کی فقہ میں اہلِ مدینہ کے تعامل کوخاص اہمیت حاصل ہے، اُن کے نزدیک مدینہ مہبطِ وحی ہے، اس کا تعامل حجت ہونا چاہیے، حافظ ابو عمر دراوردی سے نقل کرتے ہیں کہ امام مالک رحمہ اللہ جب یہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے شہر کا عمل اسی مسئلہ پر دیکھا ہے تو اُس سے اُن کی مراد ربیعۃ بن ابی عبد الرحمٰن اور ابن ہرمز ہوتے ہیں۔ [104] فقہ مالکی کا زیادہ چرچا اہلِ مغرب اور اندلس میں ہے، ابنِ خلدون اس کی وجہ یہ لکھتا ہے کہ اہلِ مغرب اور اندلس کا سفر اکثر حجاز ہی کی جانب ہوا کرتا تھا اس زمانہ میں مدینہ طیبہ علم کا گہوارہ بن رہا تھا؛ یہیں سے نکل کرعلم عراق پہنچا ہے، ان کے راستہ میں عراق نہ پڑتا تھا اس لیے ان کے علم کا ماخذ صرف علماِ مدینہ تھے، علماِ مدینہ میں امام مالک رحمہ اللہ کا رتبہ معلوم ہے اس لیے مغرب اور اندلس کے اصحاب کا علم امام مالک رحمہ اللہ علیہ اور اُن کے بعد اُن کے تلامذہ میں منحصر ہو گیا تھا، انھی کے وہ مقلد تھے ۔
وفات
[ترمیم]
امام مالک کی بیماری تقریباً بائیس دن تک جاری رہی، پھر ان کی وفات کا وقت آ گیا۔ اکثر مؤرخین کے مطابق ان کا انتقال 179 ہجری میں ہوا۔ قاضی عیاض نے کہا ہے کہ یہی قول زیادہ صحیح ہے اور جمہور اسی پر متفق ہیں۔ البتہ اس مہینے کے اندر تاریخِ وفات میں اختلاف پایا جاتا ہے، لیکن اکثر اہلِ علم کے نزدیک وہ ربیع الثانی کی چودھویں رات وفات پا گئے۔ ایک روایت بكر بن سليم الصراف سے منقول ہے کہ ہم امام مالک کے پاس اس دن کی شام حاضر ہوئے جس دن ان کا وصال ہونے والا تھا۔ ہم نے پوچھا: “اے ابو عبد اللہ! آپ کی طبیعت کیسی ہے؟” انھوں نے فرمایا: “میں نہیں جانتا تمھیں کیا کہوں، لیکن تم کل اللہ کی بخشش اور رحمت کو ایسی صورت میں دیکھو گے جس کا تم نے کبھی اندازہ نہیں کیا ہوگا۔”
راوی کہتے ہیں: ہم وہاں سے ہٹے نہیں تھے کہ ہم نے انھیں آہستہ سے دنیا سے رخصت ہوتے دیکھا۔ ان کی وفات اتوار کے دن ربیع الاول کے دس دن گزرنے کے بعد سن 179ھ میں ہوئی۔ ان کی نمازِ جنازہ مدینہ کے امیر عبد الله بن محمد بن إبراهيم نے پڑھائی اور وہ خود جنازے میں پیدل شریک ہوا اور ان کے جنازے کو کندھا بھی دیا۔ امام مالک کی وصیت تھی کہ انھیں سفید کفن دیا جائے اور ان کی نماز جنازہ جنازہ گاہ میں ادا کی جائے، چنانچہ ان کی وصیت پر عمل کیا گیا اور انھیں مدینہ منورہ کے قبرستان بقيع الغرقد میں دفن کیا گیا۔ [105][106][107][108]
مام مالک کے آخری الفاظ اسماعیل بن ابی اویس روایت کرتے ہیں کہ جب امام مالک بیمار ہو گئے تو میں نے ان لوگوں سے جو آپ کی وفات کے وقت وہاں موجود تھے ، پوچھا کہ آپ نے موت کے وقت کیا کہا تھا تو انھوں نے کہا کہ آپ نے ایمان کی گواہی پڑھی(کلمہ شہادت)۔ پھر آپ نے تلاوت کی:
| ” | " إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ " 'ہم تو اللہ ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔' [109] | “ |
مکہ اور مدینہ کے عباسی گورنر عبد اللہ زینبی نے 795ء میں امام مالک بن انس کے جنازے کی امامت کی۔[110]

امام مالک کے وصال پر بہت سے اہلِ علم اور شعرا نے مرثیے کہے۔ ان میں ابو محمد جعفر بن أحمد بن الحسين السراج کا ایک مشہور مرثیہ درج ذیل ہے: انھوں نے کہا:
| سقى الله جدثاً بالبقيع لمالك | من المُزْن مرعادَ السحائب مبراقُ | |
| إمامٌ مؤطا الذي طبَّقت به | أقاليمُ في الدنيا فساحٌ وآفاقُ | |
| أقام به شرعَ النبي محمدٍ | له حذرٌ من أن يُضام وإشفاقُ | |
| له سندٌ عالٍ صحيحٌ وهيبةٌ | فللكل منه حين يرويه إطراقُ | |
| وأصحابه بالصدق تعلم كلَّهم | وإنهم إن أنت ساءلت حُذَّاقُ | |
| ولو لم يكن إلا ابنُ إدريس وحده | كفاه على أن السعادة أرزاقُ |
ترجمہ: اللہ تعالیٰ امام مالک کی قبر پر بارش برسانے والے بادلوں کی بارش نازل فرمائے، جو البقیع میں ہے۔ وہ امام جن کی “موطأ” نے دنیا کے تمام خطوں اور اطراف کو علم سے بھر دیا۔ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کی شریعت کو قائم کیا، اس حال میں کہ وہ اس کے تحفظ میں محتاط اور شفیق تھے۔ ان کی روایتیں بلند، صحیح اور باوقار ہیں، جنھیں سن کر ہر راوی خاموش ہو جاتا ہے۔ ان کے تمام شاگرد سچائی میں معروف ہیں اور اگر تم ان سے سوال کرو تو وہ ماہر اور باخبر نکلیں گے۔ اگر صرف محمد بن ادریس شافعی ہی ان کے شاگرد ہوتے تو بھی ان کی عظمت کے لیے کافی تھا۔
قوت حافظہ
[ترمیم]امام مالکؒ کی قوتِ حفظ کا یہ عالم تھا کہ جب وہ کسی بات کو سنتے تو پوری توجہ اور دل جمعی کے ساتھ سنتے اور اسے مکمل طور پر یاد کر لیتے۔ یہاں تک کہ وہ ایک مجلس میں ایک ہی مرتبہ 40 سے زائد احادیث سن لیتے اور اگلے دن وہی احادیث، بغیر کسی کمی یا بھول چوک کے، اس شخص کے سامنے دہراتے جس سے انھوں نے سنیں، جیسے ابن شہاب زہری۔ اس پر زہری نے کہا: "تم علم کے خزانوں میں سے ہو اور یقیناً تم علم کے لیے بہترین امین ہو۔"[111] امام مالکؒ خود فرماتے ہیں: "لوگوں کی یادداشت کمزور ہو گئی ہے۔ میں سعید بن مسیب، عروہ، قاسم، ابو سلمہ، حمید، سالم (اور دیگر اساتذہ کا ذکر کرتے) کے پاس جاتا، ہر ایک سے پچاس سے سو احادیث سنتا اور واپسی پر سب کچھ یاد رکھتا، بغیر کسی حدیث کو دوسری کے ساتھ ملائے۔"[112]
صبر
[ترمیم]امام مالکؒ صبر و استقامت کے پیکر تھے، علم کے لیے انھوں نے ہر مشقت گوارا کی اور تنگدستی میں گھر کی چھت کی لکڑیاں تک فروخت کر ڈالیں۔ وہ سخت گرمی میں علما کے دروازوں پر کھڑے رہتے، ان کے نکلنے کا انتظار کرتے اور سخت سردی میں استاد کے دروازے پر بیٹھ کر علم حاصل کرتے۔ فرمایا کرتے: "علم کا طالب اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک فقر کو گلے نہ لگائے اور ہر حال میں علم کو مقدم نہ رکھے۔"[113] آپ شاگردوں کو علم کے لیے صبر و مشقت کی تلقین کرتے اور اپنی ذات پر وہ قیود عائد کرتے جو دوسروں کے لیے لازم نہ تھیں۔ آپ کا قول تھا: "حقیقی عالم وہ ہے جو اپنی ذات کے لیے ان امور سے اجتناب کرے جن کا ترک واجب نہ ہو، مگر احتیاط کے پیش نظر انھیں چھوڑ دے۔"[114]
فہم و فراست
[ترمیم]امام مالکؒ غیر معمولی فراست کے مالک تھے۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں: "جب میں مدینہ پہنچا اور امام مالکؒ سے ملاقات ہوئی، تو انھوں نے میری بات سن کر کچھ دیر مجھے دیکھا اور اپنی فراست سے پوچھا: تمھارا نام کیا ہے؟ میں نے کہا: محمد۔ تو فرمایا: اے محمد! اللہ سے ڈرو اور گناہوں سے بچو، کیونکہ تمھارا بڑا مقام ہوگا۔" ایک شاگرد کا کہنا ہے: "امام مالکؒ کی فراست کبھی خطا نہیں کرتی تھی۔"[115]
ہیبت و وقار
[ترمیم]
امام مالکؒ کا رعب و وقار اتنا شدید تھا کہ آپ کی محفل میں داخل ہونے والا شخص بھی آپ کی عظمت سے متاثر ہو کر خاموشی اختیار کرتا۔ آپ کے شاگرد، حتیٰ کہ حکام و خلفاء بھی آپ کے سامنے عاجزی دکھاتے تھے۔ روایت ہے کہ ایک مرتبہ خلیفہ ابو جعفر المنصور نے امام مالکؒ کے ساتھ مجلس کی، تو اس دوران خلیفہ کے بیٹے کی موجودگی میں آپ کی رعب دار شخصیت نے اسے خوف زدہ کر دیا اور خلیفہ نے خود کہا: "یہ میرا بیٹا ہے، لیکن تمھاری عظمت سے وہ خوف محسوس کرتا ہے۔" خلیفہ مہدی کے دربار میں بھی آپ کی عزت و احترام کا یہی عالم تھا۔ جب امام مالکؒ دربار میں آئے، تو لوگوں نے خود ہی آپ کے لیے جگہ خالی کی اور خلیفہ نے اپنی نشست کا کچھ حصہ آپ کے لیے چھوڑ دیا۔ امام مالکؒ کی یہ وقار اور رعب حکمرانوں اور عام لوگوں کے درمیان ایک منفرد مقام رکھتا تھا اور ان کا مجلسِ علم سلطانوں سے بھی زیادہ مؤثر تھا۔ ابن ماجشون نے فرمایا: "میں نے خلیفہ مہدی سے ملاقات کی، مگر امام مالکؒ کی عظمت کے سامنے مجھے ویسا رعب کبھی نہیں محسوس ہوا۔" اسی طرح سعید بن ابی مریم نے کہا: "امام مالکؒ کی ہیبت سلطان سے زیادہ اثر رکھتی تھی۔" اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امام مالکؒ کا علمی مقام اور اخلاقی عظمت ان کے زمانے کے حکمرانوں سے بھی بلند تھی اور ان کا رعب علمی و روحانی تھا، جو کسی بھی دنیوی منصب سے ماورا تھا۔ [116][117]
آزمائش اور صبر وثبات
[ترمیم]کئی ایک جلیل القدر علما کلمہ حق کہنے کی پاداش میں وقت کے حکمرانوں کے زیر عتاب رہے، امام مالک بھی انھیں میں سے ایک ہیں۔جبری طلاق نہیں ہوتی، امام مالک کا مشہور فتویٰ ہے۔ یہ حاکم وقت کو پسند نہیں تھا، جس کے سبب امام صاحب کو بہت مشقت و اذیت کا سامنا کرنا پڑا، اس واقعہ کی تمام تفصیلات قاضی عیاض نے ترتیب المدارك (2؍130)میں ذکر کی ہیں۔
حافظ عبد اللّٰہ محدث روپڑی نے اس کا ذکر اپنی کتاب ’حکومت اور علماے ربانی‘(ص 25تا29) میں بھی کیا ہے، وہیں سے خلاصۃً اسے یہاں ذکر کیا جاتا ہے:
’’اگر کسی مرد سے زبردستی یاڈرا دھمکا کر (قتل وغیرہ کا خوف دلا کر) اس کی عورت سے طلاق حاصل کرلی جائے تو ایسی طلاق بالکل حق وصواب اور جائز و صحیح ہے۔‘‘
جب یہ فتویٰ امام دار الہجرۃکے روبرو پیش ہوا تو آپ نے «لا طلاق ولا عتاق في إغلاق» والی حدیث کے پیش نظر علیٰ الاعلان اس کی تردید و تکذیب کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں فرمایا کہ "طلاق المکرَه لیس بشيء" یعنی جبر و اکراہ سے حاصل کردہ طلاق بالکل لغو وباطل ہے۔ ایسی مطلقہ عورت سے نکاح کرنا ویسے ہی حرام و ناجائز ہے جیسا کہ عام منکوحہ عورتوں سے شریعت نے حرام و ناجائز قرار دے دیا ہے۔ [118]
نہ صرف یہ بلکہ عالم مدینہ اس حدیث سے یہ فتوی بھی دیتے جس طرح طلاق المکره غلط وباطل ہے، ویسے ہی بزور شمشیر بیعتِ خلافت حاصل کرنے والے خلیفہ کی بیعت بھی شرعاً جائز و صحیح نہیں۔ اور منصور کی بیعتِ خلافت چونکہ جبر و اکراہ پر مبنی تھی، اس لیے عالم مدینہ کے دونوں اعلانات بظاہر حکومت کو کھلا چیلنج تھے اور اس طرفہ پر طرہ یہ ہوا کہ ان دنوں مدینہ منورہ کا گورنر جعفر بن سلیمان تھا جو منصور عباسی کا چچا زاد بھائی تھا۔ جب دونوں اعلانات اس نے سنے تو شاہی قرابت اور حکومت کے نشہ سے سرشار اس نے امام صاحب کو انتباہی نوٹس دیا کہ اپنے فتویٰ سے رجوع کریں یا کم ازکم آئندہ ایسا فتوی نہ دیں۔
حضرت امام مالک رحمہ اللہ علیہ کا وجود ہی فطرتاً کتاب وسنت کی نشر و اشاعت کے لیے مختص تھا، بنابریں آپ نے گورنر جعفر بن سلیمان کے انتباہی نوٹس کی ایک ذرہ پروا نہ کی، بلکہ مزید جوش و خروش سے رد ّو تردید کرتے ہوئے کھلم کھلا اعلان کرتے رہے: طلاق المکره لیس بشيء یعنی جبر و اکراہ سے حاصل کردہ طلاق غلط وباطل ہے۔ جعفر شاہی آرڈر کی توہین دیکھ کر آگ بگولہ ہو گیا اور پولیس کو حکم دیا کہ امام صاحب کو اخلاقی مجرم کی حیثیت سے انتہائی ذلیل کن حالت میں پیش کیا جائے۔ امام صاحب کو لایاگیا، جعفر نے اپنا مطالبہ دہرایا۔ امام صاحب نے پھر اسی شان سے اسے ٹھکرادیا اور فرمایا: اگر تمھارے مفتیوں کے پاس کوئی نص قطعی موجود ہے تو پیش کرو، ورنہ ہم فتویٰ کو واپس لینے یا اس سے باز رہنے کے لیے قطعاً تیار نہیں۔
والی مدینہ نے زچ ہو کر امام صاحب کو مار پیٹ کا حکم دے دیا۔ امام صاحب کوڑوں کی ضرب سے چلانے کی بجائے طلاق المکره لیس بشيء کے نعرے بلند کرتے جاتے۔ اپنی خفت و ندامت کو مٹانے کے لیے ظالم وقت نے حکم دیا کہ اس باغی کا منہ کالا کرکے پورے شہر میں گھمایاجائے۔ امام صاحب وہاں بھی سر عام یوں فرمانے لگے: ’’مجھے جاننے والے تو خوب جانتے ہیں، جو نہیں جانتا وہ سن لے کہ میں مالک بن انس اصبحی ہوں اور ڈنکے کی چوٹ کہتاہوں کہ جبرو اکراہ کی طلاق کی کوئی حیثیت نہیں۔ ‘‘والی مدینہ کوخبر کی گئی کہ تم نے امام کو ذلیل و رسوا کرنے کا پلان کیا تھا، لیکن امام اُلٹا حکومت کے ظلم وغصب کی داستان گلی کوچوں میں بیان کر رہے ہیں، تو والی مدینہ نے کہا کہ امام صاحب کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ حکومتی کارندوں سے خلاصی پاتے ہی امام صاحب مسجدِ نبوی گئے وہاں بطورِ شکرانہ دوگانہ ادا کیا۔خلیفہ منصور کو جب یہ صورت حال پہنچی تو بہت برہم ہوا اور والی مدینہ جعفر کو کہلا بھیجا کہ تمھاری بیوقوفی کی یہ سزا ہے کہ ابھی فورا گدھے پر سوار ہو کردار الخلافہ بغداد حاضری دو، خلیفہ منصور نے جعفر بن سلیمان کو معزول کر دیا اور خود مدینہ حاضری دے کر امام صاحب سے معذرت خواہ ہوا ۔
یہ تھا وقت کے امام ہمام مالک بن انس کا وقت کے حکمران سے تعامل، ان کی شجاعت و بہادی اور کلمہ حق سے دین کا سر بلند ہوا اور وقت کے حکمران کو ذلت وپستی کا سامنا کرنا پڑا۔
تصانیف
[ترمیم]امام مالک رحمہ اللہ علیہ کی دو بڑی تصانیف ہیں:
- (1) مؤطا امام مالک تقریباً سنہری اسناد کے ساتھ احادیث کا مجموعوں ۔
- (2)المدوانۃ الکبریٰ ، جسے سہنون بن سعید بن حبیب التنوخی (م776ء--854ء) نے امام مالک رحمہ اللہ علیہ کی وفات کے بعد لکھا ہے۔
الموطأ
[ترمیم]
امام مالک کی تصنیف الموطأ حدیث کی ابتدائی اور مشہور ترین کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ اپنی ترتیب، طرزِ تحریر، اجتہاد اور روایت میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔ اس میں حدیث اور فقہ دونوں کو یکجا کیا گیا ہے اور اپنے زمانے میں یہ سب سے مستند اور قدیم ترین ماخذ سمجھی جاتی تھی۔
- قاضی عیاض فرماتے ہیں:
| ” | "فقہ اور حدیث کی کسی کتاب کو اتنی اہمیت نہیں دی گئی جتنی الموطأ کو دی گئی، کیونکہ موافق اور مخالف سبھی نے اس کی فضیلت اور برتری کو تسلیم کیا، اس کی روایت کو مقدم رکھا اور اس کی احادیث کو صحیح قرار دیا۔ اس کے راویوں، احادیث اور اس پر کیے جانے والے تحقیقی کاموں پر خاص توجہ دی گئی اور مالکی علما کے علاوہ دیگر محدثین اور ماہرینِ لُغت نے بھی اس پر کام کیا۔" | “ |
بہت سے علما نے الموطأ کی تعریف کی ہے:
- امام شافعی نے فرمایا: "کتاب اللہ کے بعد زمین پر سب سے زیادہ نفع بخش کتاب موطأ مالک ہے اور اگر حدیث کتاب مالک میں آجائے تو وہ ستارے کی مانند ہوتی ہے۔"
انھوں نے مزید فرمایا: "کتاب اللہ کے بعد سب سے زیادہ درست کتاب موطأ مالک ہے۔"
- ابن مہدی کا کہنا ہے: "قرآن کے بعد میں اسلام کے کسی علم کو موطأ مالک سے زیادہ صحیح نہیں جانتا۔"[119][120]
- ابن وہب نے کہا: "جس نے موطأ مالک لکھ لی، اسے حلال و حرام کے بارے میں کچھ اور لکھنے کی ضرورت نہیں۔"
- امام احمد بن حنبل سے موطأ کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا: "یہ ایک بہترین کتاب ہے، جس پر دین دار شخص عمل کرے تو اس کے لیے کافی ہے۔"[121]
مشہور شروحِ موطأ
[ترمیم]متعدد علما نے "الموطأ" کی شرح لکھی، جن میں سے کچھ مشہور شروحات درج ذیل ہیں:
- . القبس في شرح موطأ مالك بن أنس – حافظ، قاضی ابو بکر ابن العربي المالکی (543ھ)۔[122]
- . التمهيد اور الاستذكار – ابن عبد البر القرطبی (463ھ)۔
- . المقتبس، شرح موطأ مالك بن أنس – ابن السید البطلَیوسی المالکی (521ھ)۔[123]
- . المسالك في شرح موطأ مالك اور القبس على موطأ مالك بن أنس – ابو بکر ابن العربي المالکی (543ھ)۔
- . كشف المُغطَّا عن الموطا، تنوير الحوالك، إسعاف المُبَطَّأ برجال الموطأ، تجريد أحاديث الموطأ – جلال الدین السیوطی الشافعی (911ھ)۔
- . إتحاف العابد الناسك بالمنتقى من موطأ مالك – عمر بن احمد الشماع الحلبی الشافعی (936ھ)۔[124]
- . الفتح الرحماني، شرح موطأ محمد بن الحسن الشيباني – ابراہیم بن حسین المعروف بالشیخ بیری زاده (1099ھ)۔[125]
مؤلفات (الموطأ کے علاوہ)
[ترمیم]اگرچہ امام مالکؒ کا سب سے مشہور علمی کارنامہ "الموطأ" ہے، لیکن ان کی دیگر تصانیف بھی موجود ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:
- . رسالہ فی القدر والرد على القدرية – یہ رسالہ امام مالکؒ نے عبد اللہ بن وہب کو لکھا تھا، جیسا کہ قاضی عیاض نے ذکر کیا ہے۔
- . کتاب النجوم – یہ مدارِ زمان، منازلِ قمر اور فلکیاتی حساب پر ایک اہم کتاب ہے، جسے اس فن میں بنیاد مانا گیا۔[126]
- . رسالہ في الأقضية – یہ ایک عشرہ اجزاء پر مشتمل رسالہ تھا، جو امام مالکؒ نے ایک قاضی کے نام تحریر کیا۔
- . رسالہ في الفتوى – یہ رسالہ ابو غسان محمد بن مطرف کے نام لکھا گیا اور فتاویٰ نویسی کے اصولوں پر مشتمل تھا۔
- . رسالہ إلى هارون الرشيد – اس میں آداب و مواعظ کا ذکر ہے، جو خلیفہ ہارون الرشید کو بھیجی گئی تھی۔
- . تفسیر لغریب القرآن – یہ قرآن کے مشکل الفاظ کی تشریح پر مبنی کتاب تھی، جسے خالد بن عبد الرحمن المخزومی نے روایت کیا ہے۔
- . كتاب السِّيَر – یہ امام مالکؒ کی القاسم سے مروی کتاب ہے، جس میں جہاد اور اسلامی قوانین سے متعلق احکام درج ہیں۔
علاوہ ازیں، امام مالکؒ کے علمی مسائل کی تعداد 70,000 سے زیادہ بتائی جاتی ہے، جیسا کہ ابو العباس السراج النیسابوری نے نقل کیا۔[127][128][129][130]
امام مالک کے مشہور اقوال اور حکمت آموز باتیں
[ترمیم]علم اور طلبِ علم کے بارے میں
[ترمیم]- "علم زیادہ روایت جمع کرنے کا نام نہیں، بلکہ علم وہ نور ہے جو اللہ دلوں میں رکھتا ہے۔"
- "علم حاصل کرنا اچھا ہے، مگر وہی جو انسان کو خیر عطا کرے اور یہ اللہ کی طرف سے تقسیم ہے۔ لیکن دیکھو! تم پر صبح سے شام تک کیا لازم ہے، بس اسی کو اختیار کرو۔"[131].
- "علم (فطرتاً) بھاگنے والا ہے، وہ صرف تقویٰ اور خشوع والے دل میں سکون پاتا ہے۔"
- "اگر کسی کو علم عطا ہو جائے اور وہ لوگوں میں مشہور ہو جائے، تو اسے چاہیے کہ اپنے آپ کو کم تر سمجھے، اپنے نفس کو ملامت کرے اور قیادت و شہرت پر خوش نہ ہو، کیونکہ جب وہ قبر میں لیٹے گا، تو یہ سب کچھ اسے نقصان دے گا۔"
- "اللہ سے ڈرو اور اپنے علم پر اکتفا کرو، کیونکہ جو اپنے علم تک محدود رہا، اس نے فائدہ بھی پہنچایا اور خود بھی فائدہ پایا۔ اگر تم علم صرف اللہ کے لیے چاہتے ہو، تو تمھیں وہی نصیب ہوگا جو تمھارے لیے بہتر ہے، لیکن اگر دنیا کے لیے علم حاصل کر رہے ہو، تو تمھارے ہاتھ میں کچھ نہیں۔"[132]
دلوں کی حالت، خودسازی اور زہد پر اقوال
[ترمیم]- "جو چاہتا ہے کہ اس کے دل میں سکون اور کشادگی ہو، اسے چاہیے کہ اس کے خفیہ اعمال، ظاہر اعمال سے بہتر ہوں۔"
- "دنیا میں زہد یہ ہے کہ کمائی پاک ہو اور امیدیں مختصر ہوں۔"
- "صاف ستھرا لباس، بلند ہمتی اور مردانگی کا اظہار نبوت کے کچھ حصوں میں سے ہے۔"[133]
- "اگر تم دنیا میں صرف اپنی ضرورت کے مطابق چاہتے ہو، تو کم ترین روزی بھی تمھیں کافی ہوگی۔ جو کم ہو اور کفایت کرے، وہ اس سے بہتر ہے جو زیادہ ہو اور غافل بنا دے۔"
- "ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھو جن کی باتیں تمھارے علم میں اضافہ کریں اور جن کے عمل تمھیں آخرت کی طرف بلائیں۔ ایسے لوگوں سے بچو جن کی باتیں محض بہانے ہوں، جن کا دین کمزور ہو اور جن کے اعمال تمھیں دنیا کی طرف کھینچیں۔"[134]
فضول گفتگو کے بارے میں
[ترمیم]امام مالک زیادہ بولنے کو ناپسند کرتے تھے اور اسے کمزوری کی علامت سمجھتے تھے۔ وہ کہتے: "زیادہ باتیں صرف عورتوں اور کمزور لوگوں میں پائی جاتی ہیں۔"[135]
امام مالک کے شیوخ
[ترمیم]امام مالک نے ایسے شیوخ سے علمی استفادہ کیا، جن تک ان کے بعد آنے والے کسی بھی عالم کی رسائی نہ ہو سکی۔ انھوں نے تابعین کی ایک بڑی جماعت کو پایا اور تبع تابعین میں سے اس سے بھی زیادہ تعداد کو پایا۔ پھر ان میں سے وہی منتخب کیے جو دین، فہم اور روایت کے حقوق و شرائط کو بخوبی نبھانے میں ممتاز تھے اور جن پر ان کا دل مطمئن ہوا۔ وہ اہلِ دین و تقویٰ میں سے ان لوگوں سے روایت نہیں لیتے تھے، جو روایت کے اصول و ضوابط سے ناواقف تھے۔ چنانچہ امام مالک نے جن شیوخ سے علم حاصل کیا، ان کی تعداد نو سو (900) کے قریب تھی، جن میں سے تین سو (300) تابعین تھے۔
آپ کے شیوخ میں شامل ہیں: ابن ہرمز (جو آپ کے پہلے استاد تھے)، نافع مولیٰ ابن عمر، زید بن اسلم، ابن شِہاب زُہری، ابو الزناد، عبد الرحمن بن القاسم بن محمد بن ابی بکر، ایوب سختیانی، ثور بن زید دیلی، ابراہیم بن ابی عَبلة، حمید طویل، ربیعہ بن ابی عبد الرحمن، ہشام بن عروہ، یحییٰ بن سعید انصاری، عائشہ بنت سعد بن ابی وقاص، عامر بن عبد اللہ بن زبیر اور ابو الاسود محمد بن عبد الرحمن بن نوفل اسدی قرشی۔[136]
تلامذہ
[ترمیم]امام مالکؒ سے ایک بڑی تعداد نے روایت کی ہے۔ ان سے روایت کرنے والوں میں ان کے اساتذہ بھی شامل ہیں، جیسے: ان کے چچا ابو سہیل، یحییٰ بن ابی کثیر، ابن شہاب زہری، یحییٰ بن سعید، یزید بن ہاد، زید بن ابی انیسہ، عمر بن محمد بن زید اور دیگر کئی محدثین۔
[137]
اسی طرح ان کے ہم عصر علما میں بھی کئی جلیل القدر شخصیات نے ان سے حدیث روایت کی، جن میں شامل ہیں: امام ابو حنیفہ، امام اوزاعی، حماد بن زید، اسماعیل بن جعفر، سفیان بن عیینہ، عبد اللہ بن مبارک، ابن علیہ، عبد الرحمن بن القاسم، عبد الرحمن بن مہدی، عبد اللہ بن وہب ، ولید بن مسلم ، یحییٰ القطان ، ابو داؤد طیالسی ، عبد اللہ بن نافع صائغ ، مروان بن محمد طاطری ، عبد اللہ بن یوسف تنیسی، عبد اللہ بن مسلمہ قعنبی، ابو نعیم الفضل بن دکین، ہیثم بن جمیل انطاکی، ہشام بن عبید اللہ رازی، محمد بن عیسیٰ الطباع، ابو بکر اور اسماعیل (ابنا ابو اویس)، یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، یحییٰ بن یحییٰ اللیثی، ابو جعفر النفیلی، مصعب بن عبد اللہ زبیری، محمد بن معاویہ نیشاپوری ، محمد بن عمر الواقدی، ابو الاحوص محمد بن حبان البغوی، محمد بن جعفر الورکانی، محمد بن ابراہیم بن ابی سکینہ، منصور بن ابی مزاحم، مطرف بن عبد اللہ الیساری، احمد بن نصر الخزاعی، احمد بن قاسم زہری اور دیگر کئی محدثین۔
ان کے آخری شاگرد جن کا انتقال سب سے آخر میں ہوا، وہ "الموطأ" کے راوی ابو حذافہ احمد بن اسماعیل سہمی تھے، جو امام مالکؒ کے بعد مزید 80 سال تک زندہ رہے۔[138]
امام مالکؒ کی فضیلت اور لوگوں کی مدح و ثناء
[ترمیم]نبی کریم ﷺ کی بشارت
[ترمیم]امام ترمذی نے حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
| ” | "عنقریب لوگ علم حاصل کرنے کے لیے اونٹنیوں کے سفر کریں گے، لیکن انھیں مدینہ کے عالم سے بڑھ کر کوئی عالم نہیں ملے گا۔" | “ |
اسی طرح امام ابن حبان نے اپنی صحیح میں حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
| ” | "عنقریب ایک شخص علم کی طلب میں اونٹنیوں کے ذریعے سفر کرے گا، لیکن وہ مدینہ کے عالم سے زیادہ علم رکھنے والا کوئی نہیں پائے گا۔" | “ |
- اسحاق بن موسیٰ بیان کرتے ہیں کہ مجھے ابن جریج سے منقول ایک بات پہنچی کہ وہ کہا کرتے تھے:
"ہم گمان کرتے ہیں کہ اس حدیث میں مراد امام مالک بن انس ہیں۔"
- امام یحییٰ بن معین کہتے ہیں:
"میں نے سفیان بن عیینہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس سے مراد امام مالک بن انس ہیں۔"[139]
امام جلال الدین سیوطیؒ کی وضاحت
[ترمیم]امام جلال الدین سیوطیؒ نے اس حدیث کے مفہوم کو شعری انداز میں یوں بیان کیا:[140]
| قد قال نبيُّ الهدى حديثاً | من خصَّه الله بالسكينة | |
| يخرج من شرقها وغربٍ | من طالبي الحكمة المبينة | |
| فلا يرَوا عالماً إماماً | 'أعلمَ من عالم المدينة |
نبیِ ہدایت نے فرما دیا ایک حدیثِ متین
کہ جسے خدا نے بخشا ہے سکون و یقین
مشرق و مغرب سے نکلیں گے لوگ اہلِ نظر
جو ڈھونڈیں گے حکمتِ دین کی راہِ سحر
مگر نہ پائیں گے عالم کوئی امام و امین
جو ہو مدینے کے عالم سے زیادہ فہیم
امام شافعیؒ کے کلماتِ ثناء
[ترمیم]- امام شافعیؒ نے فرمایا:
"جب علما کا ذکر ہو تو امام مالک آفتاب و ماہتاب کی مانند ہیں اور تابعین کے بعد اللہ کی اپنی مخلوق پر حجت ہیں۔"[141]
- اسی طرح انھوں نے کہا:
"جب حدیث آئے تو (اس میں) امام مالک ایک درخشندہ ستارہ ہیں۔"
- امام شافعیؒ مزید فرماتے ہیں:
"امام مالک اور سفیان بن عیینہ علم کے ہم مرتبہ ساتھی ہیں، اگر یہ دونوں نہ ہوتے تو حجاز کا علم ختم ہو جاتا۔"
- انھوں نے یہ بھی فرمایا:
"جب تمھارے پاس امام مالک سے حدیث آئے تو اسے مضبوطی سے تھام لو۔" نیز امام شافعیؒ نے امام مالکؒ کی احتیاط پسندی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: "امام مالکؒ جب کسی حدیث میں شک کرتے تو اسے مکمل ترک کر دیتے۔"[142][143][144]
دیگر محدثین کے کلماتِ ثناء
[ترمیم]- عبد السلام بن عاصم سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا: میں نے امام احمد بن حنبل سے پوچھا:
"اگر کوئی شخص حدیث حفظ کرنا چاہے تو کس کے حدیث کو محفوظ کرے؟" انھوں نے فرمایا: "امام مالک بن انس کی حدیث"۔[145] میں نے پوچھا: "اگر کوئی شخص رائے (فقہ) کا مطالعہ کرنا چاہے تو کس کی رائے اختیار کرے؟" انھوں نے فرمایا: "امام مالک بن انس کی رائے"۔
- عبد اللہ بن احمد بن حنبل بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد (امام احمد) سے پوچھا:
"امام زہری کے شاگردوں میں سب سے زیادہ قابلِ اعتماد کون ہے؟" انھوں نے فرمایا: "امام مالک ہر چیز میں سب سے زیادہ معتبر ہیں"۔[146]
- امام نووی فرماتے ہیں:
"تمام طبقات کے علما کا اس بات پر اجماع ہے کہ امام مالک ایک جلیل القدر امام ہیں، وہ عظیم شان، بلند مرتبہ اور انتہائی معزز شخصیت کے حامل تھے۔ سب نے ان کی علمی وقعت، حدیث کے حفظ اور اس میں ان کے ضبط و اتقان کو تسلیم کیا اور انھیں رسول اللہ ﷺ کی حدیث میں انتہائی معتبر و مستند مانا۔"[141][147]
- امام ذہبی فرماتے ہیں:
"امام مالک کو ایسی خصوصیات حاصل ہوئیں جو میرے علم میں کسی اور کے حصے میں نہیں آئیں۔"
- . طویل عمر اور وسیع روایت
- . تیز فہم، گہری بصیرت اور علمی وسعت
- . تمام ائمہ کا اس بات پر متفق ہونا کہ وہ حجت ہیں اور ان کی روایت بالکل صحیح ہے
- . تمام ائمہ کا اس پر اجماع کہ وہ دین، دیانت اور سنت کی پیروی میں بلند مقام رکھتے ہیں
- . فقہ، فتویٰ اور اصولوں کی درستی میں ان کی سبقت[141]
- امام بخاری نے یحییٰ بن سعید القطان سے روایت کیا کہ انھوں نے کہا:
"امام مالک حدیث میں امیر المؤمنین ہیں۔"
- امام غافقی نے ابو قلابہ سے نقل کیا کہ انھوں نے کہا:
"امام مالک اپنے زمانے کے سب سے زیادہ حافظہ رکھنے والے شخص تھے۔"
- ابن مہدی نے فرمایا:
"میں نے امام مالک سے زیادہ عقل مند کسی کو نہیں دیکھا۔"[148]
- شیخ ابو زکریا سلماسی کا امام مالک کی شان میں خراجِ تحسین
| ” | امام مالک فضائل کے حقیقی مالک اور تقویٰ و ورع کے مسافر تھے۔ وہ بالاجماع مدینہ کے امام اور حجاز کے مفتی تھے، فقیہ الامہ اور ائمہ کے سردار۔ پاکیزہ طبیعت، بلند ہمت اور اسلام میں سب سے پہلے کتاب تصنیف کرنے والے، جس میں شرائع حلال و حرام کو بہترین انداز میں مرتب کیا۔
ان کی "موطأ " دین کا روشن چراغ اور یقین کا تاج تھا، جس کی شہرت شمس و قمر کی طرح تمام علاقوں میں پھیل گئی۔ وہ حجتِ زمانہ اور اہلِ عقل کے لیے قدوہ بنے۔ ان کی فضیلت بے کنار، علم وسیع اور تقویٰ کامل تھا، یہاں تک کہ زمانہ ان کے ذکر سے معطر ہو گیا۔ انھوں نے شریعت کو سنہری تاج کی مانند پیش کیا، نبوت کا ورثہ تقسیم کیا اور علم کے پیاسوں کی سیرابی کا ذریعہ بنے۔ وہی ہیں جن کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "لوگ علم کے لیے سفر کریں گے، مگر مدینہ کے عالم سے بڑھ کر کسی کو نہ پائیں گے۔" ان کی ہیبت ایسی تھی کہ سوال کرنے والے بھی نظریں جھکا لیتے، جیسا کہ عبد اللہ بن مبارک نے فرمایا: "وہ وقار اور تقویٰ کے سلطان تھے، پس وہی مطاع تھے، اگرچہ کسی ظاہری سلطنت کے مالک نہ تھے۔"[149] |
“ |
تاریخ میں مالکی مذہب کا پھیلاؤ
[ترمیم]
مالکی مذہب مدینہ منورہ میں پیدا ہوا، جو امام مالک رحمہ اللہ کا وطن ہے۔ وہاں سے یہ حجاز میں پھیلا اور وہاں غالب آیا، پھر اس نے افریقہ کے خطے میں مصر سے لے کر بلادِ مغرب اور اندلس تک بہت وسعت اختیار کی۔ آج بھی مغرب، مصر کے سوا، مکمل طور پر مالکی مذہب پر قائم ہے۔ اندلس میں کچھ مقدار میں داود ظاہری کا مذہب باقی رہا۔ قاضی عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
| ” | "امام مالک کا مذہب حجاز ، بصرہ، مصر، ان سے ملحقہ افریقی علاقوں، اندلس، صقلیہ (سسلی)، مغربِ اقصیٰ اور ان علاقوں میں جہاں تک اسلام پہنچا، خاص طور پر سیاہ فام افریقی علاقوں تک، ہمارے وقت تک غالب رہا۔ بغداد میں بھی یہ مذہب بہت نمایاں طور پر ظاہر ہوا، مگر چار سو ہجری کے بعد کمزور پڑ گیا، نیشاپور میں بھی ظاہر ہوا، جہاں اور بھی ائمہ اور مدرسین موجود تھے۔"[150][151][152] | “ |
اس میں کوئی شک نہیں کہ مالکی مذہب نے مدینہ منورہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں غلبہ حاصل کیا۔ مکہ مکرمہ میں اگرچہ یہ موجود تھا، لیکن وہاں غالب نہ آ سکا کیونکہ وہاں فقہ ابن عباس رائج تھی۔ یہاں تک کہ مدینہ میں بھی ایک عرصے تک مالکی مذہب ماند پڑ گیا، حتیٰ کہ ابن فرحون نے قضا کا منصب سنبھالا اور اسے دوبارہ زندہ کیا۔ بصرہ میں بھی یہ مذہب ظاہر ہوا، مگر پانچویں صدی ہجری کے بعد وہاں کمزور ہو گیا۔ جہاں تک مصر کا تعلق ہے تو وہاں امام مالک کی زندگی ہی میں یہ مذہب ظاہر ہو چکا تھا۔[153]
مصر میں مالکی مذہب کا پھیلاؤ
[ترمیم]مالکی مذہب کو سب سے پہلے مصر میں داخل کرنے والے عثمان بن حکم جذامی تھے، جن کا انتقال 163 ہجری میں ہوا۔ بعض اقوال کے مطابق امام مالک کے مسائل کو مصر میں سب سے پہلے لانے والے عثمان بن حکم اور عبد الرحیم بن خالد بن یزید بن یحییٰ تھے۔ اس کے بعد عبد الرحمن بن القاسم نے اس مذہب کو مصر میں پھیلایا اور چونکہ امام مالک کے بہت سے اصحاب وہاں موجود تھے، اس لیے یہ مذہب مصر میں امام ابوحنیفہ کے مذہب سے زیادہ مشہور ہوا، کیونکہ مصر میں حنفی مذہب زیادہ معروف نہ تھا۔ مصر میں مالکی مذہب کے بہت سے علما موجود تھے، جن کی کوششوں سے یہ مذہب مصر کے علاقوں میں غالب آ گیا، اگرچہ کچھ حنفی علما بھی وہاں موجود تھے۔ جب امام شافعی 200 ہجری میں مصر آئے اور تقریباً پانچ سال وہاں مقیم رہے، تو ان کا مذہب مالکی مذہب پر غالب آ گیا۔ اس کے باوجود مالکی مذہب قائم رہا اور شافعی مذہب کے قریب درجہ رکھتا تھا۔
| ” | مقریزی کہتے ہیں:
"اہلِ مصر مسلسل امام مالک اور امام شافعی دونوں کے مذاہب پر عمل کرتے رہے اور قضا (عدالت) کا منصب انہی کے ماننے والوں یا پھر امام ابوحنیفہ کے ماننے والوں کو ملتا رہا، یہاں تک کہ قائد جوہر مصر آیا اور فاطمی شیعہ مذہب کا ظہور ہوا، تو قضا اور فتویٰ میں اسی مذہب پر عمل ہونے لگا۔"[154] |
“ |
پھر مالکی مذہب کو ایوبی دورِ حکومت میں دوبارہ عروج حاصل ہوا، اس کے فقہا کے لیے مدارس بنائے گئے۔ بعد میں ظاہر بیبرس نے ترک بحری سلطنت میں "چار قاضیوں" کا نظام نافذ کیا، تو قاضی مالکی دوسرے درجے پر مقرر ہوا، شافعی قاضی کے بعد۔ ایوبی سلطنت میں قضا کا منصب شافعیوں کے پاس تھا اور ان کے تحت باقی تین مذاہب (مالکی، حنفی، حنبلی) کے قاضی نائب کے طور پر کام کرتے تھے۔ مالکی مذہب مصر میں آج تک پھیلاؤ میں موجود ہے اور شافعی مذہب کے برابر مقام رکھتا ہے، خصوصاً صعید (جنوبی مصر) میں اس کا اثر زیادہ ہے۔[155]
افریقیہ اور اندلس میں مالکی مذہب کا پھیلاؤ
[ترمیم]ابتدائی دور میں افریقیہ کے لوگوں پر سنت (حدیث) کا غلبہ تھا، بعد ازاں فقہِ حنفی کو وہاں رواج ملا۔ لیکن جب سن 407 ہجری میں المعز بن بادیس نے حکومت سنبھالی، تو اس نے افریقیہ اور اس سے متصل مغربی علاقوں کے باشندوں کو مالکی مذہب اختیار کرنے پر آمادہ کیا اور فقہی اختلافات کی جڑ کاٹ دی۔ اس طرح مالکی مذہب کو ان علاقوں میں مکمل غلبہ حاصل ہو گیا، جو آج تک برقرار ہے۔ علامہ فاسی نے العقد الثمين فی تاريخ البلد الأمين میں ذکر کیا ہے: "مغرب کے تمام باشندے مالکی ہیں، سوائے اُن چند نادر افراد کے جو صرف اثر (حدیث) سے وابستہ ہیں۔"[156]
اندلس میں ابتدا میں اوزاعی مذہب کو غلبہ حاصل تھا، جسے وہاں سب سے پہلے صعصعہ بن سلام نے منتقل کیا اور یہ مذہب امیر ہشام الرضا کے دور تک رائج رہا۔ پھر سنہ 200 ہجری کے بعد اوزاعی مذہب کا وہاں خاتمہ ہو گیا اور مالکی مذہب غالب آ گیا۔ روایت ہے کہ اہلِ اندلس اوزاعی مذہب پر قائم تھے، یہاں تک کہ امام مالکؒ سے براہِ راست علم حاصل کرنے والے پہلے طبقے کے چند اصحاب، جیسے زیاد بن عبد الرحمن اللخمی، غازی بن قیس، قرعوس بن عباس اور دیگر، جب اندلس میں پہنچے تو انھوں نے امام مالکؒ کا فقہی مذہب پھیلایا۔ چنانچہ امیر ہشام نے عوام کو اس مذہب پر لگایا اور بعض روایات کے مطابق انھیں اس پر تلوار کے ذریعے مجبور کیا گیا۔[157]
المغرب الأقصى (مراکش) میں مالکی مذہب کا پھیلاؤ
[ترمیم]جب علی بن یوسف بن تاشفین نے حکومت سنبھالی تو اس نے اہلِ فقہ و دین کو خاص مقام دینا شروع کیا۔ وہ اپنی سلطنت کے کسی بھی معاملے کا فیصلہ فقہا سے مشورے کے بغیر نہ کرتا۔ اس نے قاضیوں کو پابند کیا کہ وہ کسی چھوٹے یا بڑے معاملے میں حکم صادر نہ کریں جب تک کہ چار فقہا کی موجودگی میں فیصلہ نہ ہو۔ اس سے فقہا کا مقام و مرتبہ بہت بلند ہو گیا۔ بادشاہ کے قرب اور اس کی توجہ صرف اُسی شخص کو حاصل تھی جو امام مالکؒ کے فقہی مذہب کا علم رکھتا ہو۔ چنانچہ مالکی مکتبِ فکر کی کتابوں کو خوب رواج ملا، انہی کے مطابق عمل ہونے لگا اور دیگر مذاہب کو یکسر ترک کر دیا گیا۔
یہاں تک کہ علمِ قرآن اور حدیثِ نبوی تک کو پسِ پشت ڈال دیا گیا اور ان کی جانب مکمل توجہ نہ رہی۔ اسی طرح جیسے پہلے بیان ہوا کہ اندلس میں هشام بن عبد الرحمن نے لوگوں کو تلوار کے زور پر مالکی مذہب اختیار کروایا، ویسے ہی ابن تاشفین نے فقہی فروع کے حفظ کرنے والوں کو قرب دے کر اس مذہب کو رواج دیا، حتیٰ کہ یہ مذہب پورے علاقے میں پھیل گیا۔ یہاں تک کہ امام ابن حزم نے کہا: "دو مذاہب ایسے ہیں جو ابتدا میں حکومت و سلطنت کے زور پر پھیلے: مشرق میں حنفی اور اندلس میں مالکی"۔[158]
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — عنوان : اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم — بی این ایف - آئی ڈی: https://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb12190972t — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015
- ↑ ناشر: کتب خانہ کانگریس — ربط: کتب خانہ کانگریس اتھارٹی آئی ڈی — اخذ شدہ بتاریخ: 14 اکتوبر 2017
- ^ ا ب عنوان : Малик ибн Анас
- ↑ عنوان : Малик
- ↑ عنوان : Нафи ибн Хурмуз
- ↑ عنوان : Джафар ас-Садик
- ↑ عنوان : Шейбани Мухаммад ибн Хасан
- ↑ مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — عنوان : Abū ʿAbd Allâh Mālik ibn Anas al-Aṣbaḥī (0711?-0796) — بی این ایف - آئی ڈی: https://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb12190972t — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015
- ↑ Adel Nuwayhed (1988)، مُعجم المُفسِّرين: من صدر الإسلام وحتَّى العصر الحاضر (بزبان عربی) (3 ایڈیشن)، بیروت: Q121003654، ج الثاني، ص 460، OCLC:235971276، QID: Q122197128
- ↑ Adel Nuwayhed (1988)، مُعجم المُفسِّرين: من صدر الإسلام وحتَّى العصر الحاضر (بزبان عربی) (3 ایڈیشن)، بیروت: Q121003654، ج 2، ص 460، OCLC:235971276، QID: Q122197128
- ↑ الطبقات لابن سعد:5/ 465، وفيات الأعيان لابن خلكان:4 / 135
- ↑ نهاية الأرب في فنون الأدب، النويري، ص225
- ↑ خلاصة السير الجامعة لعجائب أخبار الملوك التبابعة، نشوان الحميري، ص59
- ↑ سيرة ابن كثير، ابن كثير، ص18
- ↑ الإمام مالك بن أنس إمام دار الهجرة، عبد الغني الدقر، دار القلم، دمشق، الطبعة الثالثة، 1419هـ-1998م، ص21
- ↑ انظر أيضاً: تزيين الممالك بمناقب الإمام مالك، جلال الدين السيوطي، دار الرشاد الحديثية، الدار البيضاء، المغرب، الطبعة الأولى، 1431هـ-2010م، ص17
- ↑ انظر أيضاً: سير أعلام النبلاء، أبو عبد الله محمد بن أحمد الذهبي، دار الحديث، القاهرة، طبعة عام 1427هـ-2006م، ج7 ص150
- ↑ انظر أيضاً: الديباج المذهب في معرفة أعيان علما المذهب، ابن فرحون إبراهيم بن علي اليعمري، دار التراث للطبع والنشر، القاهرة، ج1 ص82
- ↑ مالك بن أنس، عبد الغني الدقر، ص24
- ↑ انظر أيضاً: الديباج المذهب، ابن فرحون، ج1 ص84
- ↑ مالك بن أنس، عبد الغني الدقر، ص26-27
- ↑ انظر أيضاً: الديباج المذهب، ابن فرحون، ج1 ص85-86
- ↑ مالك: حياته وعصره - آراؤه وفقهه، محمد أبو زهرة، دار الفكر العربي، الطبعة الثانية، ص27-28
- ↑ انظر أيضاً: تزيين الممالك، جلال الدين السيوطي، ص19
- ↑ انظر أيضاً: الديباج المذهب، ابن فرحون، ج1 ص85
- ↑ مالك بن أنس، عبد الغني الدقر، ص30
- ↑ مالك، محمد أبو زهرة، ص24، قال المؤلف في الحاشية: راجع الانتقاء لابن عبد البر، وتزيين الممالك للسيوطي، ووفيات الأعيان لابن خلكان، والديباج المذهب لابن فرحون، وترتيب المدارك للقاضي عياض
- ↑ مالك، محمد أبو زهرة، ص24
- ↑ انظر أيضاً: الديباج المذهب، ابن فرحون، ج1 ص88-89
- ↑ مالك، محمد أبو زهرة، ص25
- ↑ مالك، محمد أبو زهرة، ص29
- ↑ مالك، محمد أبو زهرة، ص31-32
- ↑ انظر أيضاً: ترتيب المدارك وتقريب المسالك، أبو الفضل القاضي عياض بن موسى اليحصبي، مطبعة فضالة، المحمدية-المغرب، الطبعة الأولى، ج1 ص130
- ↑ انظر أيضاً: الديباج المذهب، ابن فرحون، ج1 ص98
- ↑ مالك، محمد أبو زهرة، ص32
- ↑ مالك، محمد أبو زهرة، ص33
- ↑ ترتيب المدارك، القاضي عياض، ج1 ص131
- ↑ مالك بن أنس، عبد الغني الدقر، ص48
- ↑ انظر أيضاً: الديباج المذهب، ابن فرحون، ج1 ص98-99
- ↑ مالك، محمد أبو زهرة، ص36
- ↑ انظر أيضاً: تزيين الممالك، جلال الدين السيوطي، ص24، نقلاً عن ابن سعد عن مطرف بن عبيد الله اليساري
- ↑ انظر أيضاً: الطبقات الكبرى، أبو عبد الله محمد بن سعد بن منيع البغدادي المعروف بابن سعد، دار الكتب العلمية، بيروت، الطبعة الأولى، 1410هـ-1990م، ج5 ص466
- ↑ مالك، محمد أبو زهرة، ص37
- ↑ انظر أيضاً: تزيين الممالك، جلال الدين السيوطي، ص30
- ↑ مالك، محمد أبو زهرة، ص38
- ↑ مالك، محمد أبو زهرة، ص40
- ↑ مالك، محمد أبو زهرة، ص42-43.
- ↑ انظر أيضاً: تزيين الممالك، جلال الدين السيوطي، ص26.
- ↑ انظر أيضاً: الديباج المذهب، ابن فرحون، ج1، ص102.
- ↑ مالك، محمد أبو زهرة، ص48.
- ↑ مالك، محمد أبو زهرة، ص48-49.
- ↑ مالك بن أنس، عبد الغني الدقر، ص51-52.
- ↑ مالك، محمد أبو زهرة، ص56
- ↑ مالك، محمد أبو زهرة، ص56
- ↑ مالك، محمد أبو زهرة، ص57
- ↑ انظر أيضاً: تزيين الممالك، جلال الدين السيوطي، ص35
- ↑ مالك، محمد أبو زهرة، ص58
- ↑ انظر أيضاً: تزيين الممالك، جلال الدين السيوطي، ص33-34
- ↑ انظر أيضاً: ترتيب المدارك، القاضي عياض، ج2 ص13
- ↑ انظر أيضاً: الديباج المذهب، ابن فرحون، ج1 ص108
- ↑ انظر أيضاً: إمام دار الهجرة مالك بن أنس، محمد بن علوي المالكي الحسني، دار الكتب العلمية، الطبعة الثانية، 1431هـ-2010م، ص29
- ↑ مالك، محمد أبو زهرة، ص58-59
- ↑ انظر أيضاً: الديباج المذهب، ابن فرحون، ج1 ص109
- ↑ انظر أيضاً: الديباج المذهب، ابن فرحون، ج1 ص104
- ↑ مالك، محمد أبو زهرة، ص61
- ↑ انظر أيضاً: مالك بن أنس، محمد بن علوي المالكي، ص32
- ↑ مالك بن أنس، محمد بن علوي المالكي، ص33
- ↑ مالك بن أنس، محمد بن علوي المالكي، ص35
- ↑ مالك، محمد أبو زهرة، ص51-52
- ↑ انظر أيضاً: مالك بن أنس، عبد الغني الدقر، ص37
- ↑ مالك بن أنس، عبد الغني الدقر، ص154
- ↑ انظر أيضاً: مالك بن أنس، محمد بن علوي المالكي، ص54
- ↑ مالك، محمد أبو زهرة، ص75-77.
- ↑ انظر أيضاً: الديباج المذهب، ابن فرحون، ج1، ص130.
- ↑ انظر أيضاً: الطبقات الكبرى، ابن سعد، ج5، ص468.
- ↑ مالك، محمد أبو زهرة، ص79-80.
- ↑ مالك، محمد أبو زهرة، ص80-81.
- ↑ ""Imaam Maalik ibn Anas" by Hassan Ahmad, 'Al Jumuah' Magazine Volume 11 – Issue 9"۔ Sunnahonline.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 2010-04-10
- ↑ Ibn Anas & 2008 2008, p. 3, 4, 10, 14, 16, 17, 27, 29, 32, 37, 38, 49, 51, 58, 61, 67, 68, 74, 78, 87, 92, 93, 108, 114, 124, 128, 138, 139, 151, 156, 161, 171, 196, 210, 239, 245, 253, 312, 349, 410, 412
- ↑ N. Abbott, Studies In Arabic Literary Papyri: Qur'anic Commentary And Tradition, 1967, Volume II, University of Chicago Press: Chicago (USA), p. 114.
- ↑ "PERF No. 731: The Earliest Manuscript Of Malik's Muwatta' Dated To His Own Time"۔ www.islamic-awareness.org۔ اخذ شدہ بتاریخ 2022-06-27
- ^ ا ب پ Gibril F. Haddad, The Four Imams and Their Schools (London: Muslim Academic Trust, 2007), p. 170
- ↑ Gibril F. Haddad, The Four Imams and Their Schools (London: Muslim Academic Trust, 2007), p. 167; narrated by Al-Dhahabī, Siyar, 7:415, cf. al-Bayhaqī, al-Asmā' wal-Sifāt, 2:304-305:866.
- ↑ Abdul-Ghani Ad-Daqr, Al-Imam Malik, pg. 292-293.
- ↑ Gibril F. Haddad, The Four Imams and Their Schools (London: Muslim Academic Trust, 2007), p. 176
- ^ ا ب Gibril F. Haddad, The Four Imams and Their Schools (London: Muslim Academic Trust, 2007), p. 179
- ↑ al-Qādī 'Iyād, Tartīb al-Madārik, 2:41, cited in Gibril F. Haddad, The Four Imams and Their Schools (London: Muslim Academic Trust, 2007), p. 179
- ^ ا ب پ Gibril F. Haddad, The Four Imams and Their Schools (London: Muslim Academic Trust, 2007), p. 180
- ↑ Narrated from Ibn Wahb by al-Khatīb in Tārīkh Baghdād, 7:336 and al-Suyūtī, Miftāh al-Janna, p. 162: 391, cited in Gibril F. Haddad, The Four Imams and Their Schools (London: Muslim Academic Trust, 2007), p. 175
- ↑ From Ma'n, cited in Gibril F. Haddad, The Four Imams and Their Schools (London: Muslim Academic Trust, 2007), pp. 162-164
- ↑ From Ma'n, cited in Gibril F. Haddad, The Four Imams and Their Schools (London: Muslim Academic Trust, 2007), pp. 162-163
- ↑ Gibril F. Haddad, The Four Imams and Their Schools (London: Muslim Academic Trust, 2007), p. 163
- ↑ Narrated from al-Wāqidī by Ibn Sa'd in the supplemental volume of his Tabaqāt (p. 440) and from al-Zubayr ibn Bakkār by Ibn 'Abd al-Barr in his al-Intiqā (p. 81). Cited in Gibril F. Haddad, The Four Imams and Their Schools (London: Muslim Academic Trust, 2007), p. 163
- ^ ا ب پ ت Ibn 'Abd al-Barr, al-Intiqā, pp. 74-75; cited in Gibril F. Haddad, The Four Imams and Their Schools (London: Muslim Academic Trust, 2007), p. 176
- ↑ From Ma'n, cited in Gibril F. Haddad, The Four Imams and Their Schools (London: Muslim Academic Trust, 2007), p. 170
- ↑ From Ma'n, cited in Gibril F. Haddad, The Four Imams and Their Schools (London: Muslim Academic Trust, 2007), p. 171
- ^ ا ب پ ت ٹ
- ↑ مالك بن أنس، عبد الغني الدقر، ص31
- ↑ انظر أيضاً: تزيين الممالك، جلال الدين السيوطي، ص24
- ↑ انظر أيضاً: سير أعلام النبلاء، الذهبي، ج7 ص163
- ↑ انظر أيضاً: الديباج المذهب، ابن فرحون، ج1 ص90
- ↑ مالك بن أنس، عبد الغني الدقر، ص32-33
- ↑ الديباج المذهب، ابن فرحون، ج1 ص92
- ↑ (جامع بیان العلم:2/149)
- ↑ مالك بن أنس، عبد الغني الدقر، ص380
- ↑ انظر أيضاً: تزيين الممالك، جلال الدين السيوطي، ص85، فصل في وفاته.
- ↑ انظر أيضاً: الديباج المذهب، ابن فرحون ، ج1، ص133.
- ↑ انظر أيضاً: الطبقات الكبرى، ابن سعد، ج5، ص469.
- ↑ Quran 30:4
- ↑ Yarshater 1985–2007، v. 39: p. 263
- ↑ مالك، محمد أبو زهرة، ص89.
- ↑ مالك بن أنس، محمد بن علوي المالكي، ص19
- ↑ مالك، محمد أبو زهرة، ص91-92.
- ↑ الطبقات الكبرى، ابن سعد، ج5، ص465.
- ↑ مالك، محمد أبو زهرة، ص101
- ↑ مالك، محمد أبو زهرة، ص101-102
- ↑ مالك بن أنس، محمد بن علوي المالكي، ص46
- ↑ سنن أبي داود:2/258 (2193)، باب في الطلاق على غلط،سنن ابن ماجه:1/660 (2046)، باب طلاق المكره والناسي. امام البانی نے اس حدیث کوحسن قرار دیا ہے۔ (إرواء الغليل:7/113 (2047)
- ↑ مالك بن أنس، عبد الغني الدقر، ص103
- ↑ مالك بن أنس، محمد بن علوي المالكي، ص159
- ↑ مالك بن أنس، عبد الغني الدقر، ص106
- ↑ مالك بن أنس، محمد بن علوي المالكي، ص164-165
- ↑ مالك بن أنس، محمد بن علوي المالكي، ص163
- ↑ مالك بن أنس، محمد بن علوي المالكي، ص171
- ↑ مالك بن أنس، محمد بن علوي المالكي، ص159، نقلاً عن "خلاصة الأثر"
- ↑ مالك بن أنس، عبد الغني الدقر، ص303
- ↑ مالك بن أنس، عبد الغني الدقر، ص304
- ↑ انظر أيضاً: تزيين الممالك، جلال الدين السيوطي، ص83، فصل في مصنفاته وكتبه غير الموطأ
- ↑ انظر أيضاً: سير أعلام النبلاء، الذهبي، ج7 ص175
- ↑ انظر أيضاً: الديباج المذهب، ابن فرحون، ج1 ص124-125
- ↑ مالك بن أنس، محمد بن علوي المالكي، ص38
- ↑ مالك بن أنس، محمد بن علوي المالكي، ص40
- ↑ مالك بن أنس، محمد بن علوي المالكي، ص42
- ↑ مالك بن أنس، محمد بن علوي المالكي، ص43
- ↑ مالك بن أنس، محمد بن علوي المالكي، ص45
- ↑ مالك بن أنس، عبد الغني الدقر، ص61-62
- ↑ جمال الدين المزي۔ تهذيب الكمال في أسماء الرجال۔ ج الأول
- ↑ سير أعلام النبلاء، الذهبي، ج7 ص152-153
- ↑ تزيين الممالك، جلال الدين السيوطي، ص22-23
- ↑ تزيين الممالك، جلال الدين السيوطي، ص23
- ^ ا ب پ مالك بن أنس، عبد الغني الدقر، ص4
- ↑ تزيين الممالك، جلال الدين السيوطي، ص27
- ↑ انظر أيضاً: ترتيب المدارك، القاضي عياض، ج1، ص150.
- ↑ انظر أيضاً: الديباج المذهب، ابن فرحون، ج1، ص113.
- ↑ تزيين الممالك، جلال الدين السيوطي، ص29
- ↑ تزيين الممالك، جلال الدين السيوطي، ص31
- ↑ مالك بن أنس، محمد بن علوي المالكي، ص51
- ↑ تزيين الممالك، جلال الدين السيوطي، ص28
- ↑ منازل الأئمة الأربعة أبي حنيفة ومالك والشافعي وأحمد، أبو زكريا يحيى بن إبراهيم الأزدي السلماسي، مكتبة الملك فهد الوطنية، الطبعة الأولى، 1422هـ-2002م، ص181-182
- ↑ مالك بن أنس، عبد الغني الدقر، ص278
- ↑ مالك، محمد أبو زهرة، ص486
- ↑ نظرة تاريخية في حدوث المذاهب الفقهية الأربعة، أحمد بن إسماعيل بن محمد تيمور، دار القادري للطباعة والنشر والتوزيع، بيروت، الطبعة الأولى، 1411هـ/1990م، ص61
- ↑ مالك بن أنس، عبد الغني الدقر، ص278-279
- ↑ مالك بن أنس، عبد الغني الدقر، ص279
- ↑ نظرة تاريخية في حدوث المذاهب الفقهية الأربعة، أحمد تيمور، ص63
- ↑ نظرة تاريخية في حدوث المذاهب الفقهية الأربعة، أحمد تيمور، ص63-64
- ↑ نظرة تاريخية في حدوث المذاهب الفقهية الأربعة، أحمد تيمور، ص64
- ↑ مالك بن أنس، عبد الغني الدقر، ص281
ابتدائی اسلامی شخصیات
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| [9][10][11][12][13] | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ترتیب | نام امام | مکتبہ فکر | سال و جائے پیدائش | سال و جائے وفات | تبصرہ | |
|---|---|---|---|---|---|---|
| 1 | ابو حنیفہ | اہل سنت | 80ھ ( 699ء ) کوفہ | 150ھ ( 767ء ) بغداد | فقہ حنفی | |
| 2 | جعفر صادق | اہل تشیع | 83ھ ( 702ء ) مدینہ | 148ھ ( 765ء ) مدینہ | فقہ جعفریہ، کتب اربعہ | |
| 3 | مالک بن انس | اہل سنت | 93ھ ( 712ء ) مدینہ | 179ھ ( 795ء ) مدینہ | فقہ مالکی، موطا امام مالک | |
| 4 | محمد بن ادریس شافعی | اہل سنت | 150ھ ( 767ء ) غزہ | 204ھ ( 819ء ) فسطاط | فقہ شافعی، کتاب الام | |
| 5 | احمد بن حنبل | اہل سنت | 164ھ ( 781ء ) مرو | 241ھ ( 855ء ) بغداد | فقہ حنبلی، مسند احمد بن حنبل | |
| 6 | داود ظاہری | اہل سنت | 201ھ ( 817ء ) کوفہ | 270ھ ( 883ء ) بغداد | فقہ ظاہری، | |
- ↑ The Quran
- ↑ عظیم فقہ
- ↑ الموطا'
- ↑ صحیح بخاری
- ↑ صحیح مسلم
- ↑ جامع الترمذی
- ↑ مشکوۃ الانوار
- ↑ روشنی کے لئے مخصوص
- ↑ اسلام میں خواتین: ایک انڈونیشیائی جائزہ by Syafiq Hasyim. Page 67
- ↑ ulama, bewley.virtualave.net
- ↑ 1.ثبوت اور تاریخت - اسلامی دلائل. theislamicevidence.webs.com
- ↑ Atlas Al-sīrah Al-Nabawīyah. Darussalam, 2004. Pg 270
- ↑ Umar Ibn Abdul Aziz by Imam Abu Muhammad ibn Abdullah ibn Hakam died 829
- 711ء کی پیدائشیں
- مدینہ منورہ میں پیدا ہونے والی شخصیات
- مدینہ منورہ میں وفات پانے والی شخصیات
- شیوخ الاسلام
- مالک بن انس
- 795ء کی وفیات
- آٹھویں صدی کی عرب شخصیات
- آٹھویں صدی کے اسلامی مسلم علما
- آٹھویں صدی کے مصنفین
- تبع تابعین
- جنت البقیع میں مدفون شخصیات
- سنی ائمہ
- علمائے اہلسنت
- فقہ
- فقہی ائمہ
- قرون وسطی کی عرب شخصیات
- مالکی علما
- مالکیہ
- مجددین
- مدونین حدیث
- مسلم مذہبی شخصیات
- مسلم الٰہیات دان
- مالکی فقہاء
- 179ھ کی وفیات
- آٹھویں صدی کے مسلم الٰہیات دان
- خلافت عباسیہ کے صابی علماء
- اموی دور کے علما
- عرب علماء
- تبع تابعی راویان حدیث
- 93ھ کی پیدائشیں
- آٹھویں صدی کے عرب مصنفین
- آٹھویں صدی کے ائمہ کرام
- قرون وسطی کے ماہرین قانون
- فقہا

