عبداللہ بن عمر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

عبداللہ بن عمر:خلیفہ دوم حضرت عمر فاروقؓ کے صاحبزادے تھے۔ حبر الامۃ(امت کا بڑا عالم) لقب ہے

قبول اسلام[ترمیم]

عبد اللہ ابن عمر نے اپنے والد کے ساتھ اسلام قبول کیا۔ جبکہ اس وقت آپ سن بلوغت کو نہ پہنچے تھے۔

غزوات میں شرکت[ترمیم]

غزوہ بدر کے وقت آپ چھوٹے تھے، اس لیے جنگ میں شریک نہ ہوسکے۔ سب سے پہلی جنگ، جس میں آپ نے شرکت کی تھی وہ غزوۂ خندق تھی۔ غزوۂ موتہ میں جعفر بن ابی طالب کے ساتھ شرکت کی تھی۔ آپ جنگ یرموک اور فتح مصر و افریقہ میں شامل تھے۔

اتباع سنت[ترمیم]

آپؓ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بے حد اتباع کرتے تھے۔ حتٰی کہ جہاں آپٔ اترتے تھے وہیں آپ اترتے، جہاں پيغمبر نے نماز پڑھی وہاں نماز پڑھتے تھے اور یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک درخت کے نیچے اترے تھے تو حضرت ابن عمراس کو پانی دیا کرتے تھے کہ خشک نہ ہوجائے۔

فقیہ[ترمیم]

ابن عمرسلمانوں کے امام اور مشہور فقہاء میں سے تھے۔ بے حد محتاط تھے اور فتویٰ میں اپنے نفس کی خواہشات کے مقابلہ میں اپنے دین کی زیادہ حفاظت کرنے والے تھے۔ باوجود یہ کہ اہل شام ان کی طرف مائل تھے اور ان سے اہل شام کو محبت تھی۔ انہوں نے خلافت کے لیے جنگ چھوڑ دی اور فتنوں کے زمانہ میں کسی مقابلہ میں جنگ نہیں کی۔ حضرت علیؓ رضی اللہ عنہ کی مشکلات کے زمانہ میں بھی علی کے ساتھ جنگ میں شرکت نہیں کی۔ اگرچہ اس کے بعد وہ حضرت علیؓ کے ساتھ جنگ میں شریک نہ ہونے پر ندامت کا اظہار کرتے تھے۔ جابر بن عبداللہ کہا کرتے تھے کہ ہم میں سے کوئی ایسا نہیں کہ جس کی طرف دنیا مائل نہ ہوئی ہو اور وہ دنیا کی طرف مائل نہ ہوا ہو، بجز عبداللہ بن عمر۔آپ سے اکثر تابعین نے روایت کی ہے۔ جن میں سب سے زیادہ آپ سے روایت کرنے والے صاحبزادے سالم اور ان کے مولیٰ نافع تھے۔ شعبی فرماتے ہیں ہ ابن عمر حدیث میں جید تھے اور فقہ میں بھی جید تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کے بعد 60 سال زندہ رہے۔ موسم حج وغیرہ میں لوگوں کو فتویٰ دیا کرتے تھے۔

وفات[ترمیم]

73ھ میں وفات پائی