عبداللہ بن عمر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
عبداللہ بن عمر
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 610  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
مکہ   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 693 (82–83 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
مکہ   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Black flag.svg خلافت راشدہ
Umayyad Flag.svg خلافت امویہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام،اہل سنت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مذہب (P140) ویکی ڈیٹا پر
اولاد سالم بن عبد اللہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
والد عمر ابن الخطاب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی
عاصم بن عمر،حفصہ بنت عمر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بہن/بھائی (P3373) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
نمایاں شاگرد طاؤس بن کیسان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شاگرد (P802) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ عسکری قائد،محدث،مفسر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غزوۂ بدر،غزوہ احد،غزوہ خندق،جنگ موتہ،غزوہ تبوک،فتح مکہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں لڑائی (P607) ویکی ڈیٹا پر
دستخط
عبد الله بن عمر.png 

عبداللہ بن عمر خلیفہ دوم عمر ابن الخطاب کے صاحبزادے تھے۔ حبر الامۃ (امت کا بڑا عالم) لقب ہے۔

قبول اسلام[ترمیم]

عبد اللہ ابن عمر نے اپنے والد کے ساتھ اسلام قبول کیا۔ جبکہ اس وقت آپ سن بلوغت کو نہ پہنچے تھے۔

غزوات میں شرکت[ترمیم]

غزوہ بدر کے وقت آپ چھوٹے تھے، اس لیے جنگ میں شریک نہ ہوسکے۔ سب سے پہلی جنگ، جس میں آپ نے شرکت کی تھی وہ غزوۂ خندق تھی۔ غزوۂ موتہ میں جعفر بن ابی طالب کے ساتھ شرکت کی تھی۔ آپ جنگ یرموک اور فتح مصر و افریقہ میں شامل تھے۔

اتباع سنت[ترمیم]

آپؓ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بے حد اتباع کرتے تھے۔ حتٰی کہ جہاں آپٔ اترتے تھے وہیں آپ اترتے، جہاں پيغمبر نے نماز پڑھی وہاں نماز پڑھتے تھے اور یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک درخت کے نیچے اترے تھے تو حضرت ابن عمراس کو پانی دیا کرتے تھے کہ خشک نہ ہوجائے۔

فقیہ[ترمیم]

ابن عمرسلمانوں کے امام اور مشہور فقہاء میں سے تھے۔ بے حد محتاط تھے اور فتویٰ میں اپنے نفس کی خواہشات کے مقابلہ میں اپنے دین کی زیادہ حفاظت کرنے والے تھے۔ باوجود یہ کہ اہل شام ان کی طرف مائل تھے اور ان سے اہل شام کو محبت تھی۔ انہوں نے خلافت کے لیے جنگ چھوڑ دی اور فتنوں کے زمانہ میں کسی مقابلہ میں جنگ نہیں کی۔ حضرت علیؓ رضی اللہ عنہ کی مشکلات کے زمانہ میں بھی علی کے ساتھ جنگ میں شرکت نہیں کی۔ اگرچہ اس کے بعد وہ حضرت علیؓ کے ساتھ جنگ میں شریک نہ ہونے پر ندامت کا اظہار کرتے تھے۔ جابر بن عبداللہ کہا کرتے تھے کہ ہم میں سے کوئی ایسا نہیں کہ جس کی طرف دنیا مائل نہ ہوئی ہو اور وہ دنیا کی طرف مائل نہ ہوا ہو، بجز عبداللہ بن عمر۔آپ سے اکثر تابعین نے روایت کی ہے۔ جن میں سب سے زیادہ آپ سے روایت کرنے والے صاحبزادے سالم اور ان کے مولیٰ نافع تھے۔ شعبی فرماتے ہیں ہ ابن عمر حدیث میں جید تھے اور فقہ میں بھی جید تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کے بعد 60 سال زندہ رہے۔ موسم حج وغیرہ میں لوگوں کو فتویٰ دیا کرتے تھے۔

وفات[ترمیم]

73ھ میں وفات پائی

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مصنف: Aydın Əlizadə — عنوان : Исламский энциклопедический словарь — ناشر: Ansar — تاریخ اشاعت: 2007 — ISBN 978-5-98443-025-8