زبیر ابن عوام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
زبیر ابن عوام
عربی: الزبیر بن العوام
الزبیر بن العوام الاسدی القرشی، ابو عبد الله
تخطيط اسم الزبير بن العوام.png

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 594  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مکہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 4 دسمبر 656 (61–62 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بصرہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات لڑائی میں مارا گیا  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن بصرہ
لقب حواری رسول الله اور اسلام کے لیے سب سے پہلے تلوار اٹھانے اولے
زوجہ اسماء بنت ابی بكر
زینب بن مرثد
ام خالد بنت خالد بن سعید
الرباب بنت انیف
ام كلثوم بنت عقبہ
عاتكہ بنت زید
تماضر بنت الاصبغ
اولاد بیٹے: عبد الله، عروہ، المنذر، عاصم، المهاجر، جعفر، عبیدہ، عمرو، خالد، مصعب، حمزہ بیٹیاں: خدیجہ، ام الحسن، عائشہ، حفصہ، حبیبہ، سودہ، هند، رملہ، زینب
والد عوام بن خویلد  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ صفیہ بنت عبد المطلب  ویکی ڈیٹا پر (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
رشتے دار والد: العوام بن خویلد
والدہ: صفیہ بنت عبد المطلب بن هاشم
بھائی:السائب،عبد الرحمن،عبد الله
عملی زندگی
نسب قرشی اسدی
فرمان نبوی لكل نبی حواری وحواریی الزبیر - محمد رسول الله
(ترجمہ: ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے)
خصوصیت حواری رسول، عشرہ مبشرہ
پیشہ سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
وفاداری خلافت راشدہ  ویکی ڈیٹا پر (P945) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شاخ خلافت راشدہ کی فوج  ویکی ڈیٹا پر (P241) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عہدہ کمانڈر  ویکی ڈیٹا پر (P410) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لڑائیاں اور جنگیں فتح مکہ،  جنگ جمل،  غزوہ احد  ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نام زبیر۔ کنیت ابوعبداللہ، لقب حواری رسول اللہ۔ نبی کریم کے پھوپھی زاد بھائی اور حضرت ابوبکر کے داماد۔ ہجرت سے 28 سال پہلے پیدا ہوئے۔ سولہ برس کی عمر میں اسلام قبول کیا۔ پہلے حبشہ اور پھر مدینہ کو ہجرت کی۔ جنگ بدر میں بڑی جانبازی سے لڑے اور دیگر غزوات میں بھی بڑی شجاعت دکھائی۔ فتح مکہ کے روز رسول اللہ کے ذاتی دستے کے علمبردار تھے۔ جنگ فسطاط میں حضرت عمر نے چار افسروں کی معیت میں چار ہزار مجاہدین کی کمک مصر روانہ کی۔ ان میں ایک افسر حضرت زبیر بھی تھے۔ اور اس جنگ کی فتح کا سہرا آپ کے سر ہے۔ جنگ جمل میں حضرت علی اور امام حسن کے مخالفین کے ساتھ شامل ہوئے۔ لیکن جلد ہی رسول اللہ کی ایک پیشین گوئی کو یاد کرکے آپ نے اس جنگ سے علیحدگی اختیار کی۔ جس پر مخالفین حضرت علی میں ایک شخص جرموز نامی نے نماز میں آپ کو شہید کر دیا۔ رسول اللہ سے قربت رکھنے کے باعث بے شمار احادیث جانتے تھے۔ لیکن بہت کم بیان کر سکے۔ مروجہ کتب احادیث میں بعض احادیث آپ سے مروی ہیں۔

مرقد صحابي جليل زبير بن عوام، بصرة

آپ ایک بڑے عالم، حد سے زیادہ شجاع اور دلیر، مستقل مزاج اور مساوات پسند تھے۔ تاجر ہونے کی وجہ سے کافی دولت مند تھے آپ صاحب جائداد بھی تھے۔ ایک مکان کوفہ، ایک مصر اور دو بصرہ میں اور گیارہ مکان مدینہ میں تھے۔ علاوہ ازیں زمین اور باغات تھے۔ اس کے باوجود بہت سادہ لباس پہنتے اور سادہ غذا کھاتے تھے۔ البتہ میدان جنگ میں ہمیشہ اعلی قسم اورعمدہ ریشمی لباس پہن کر جاتے۔ آپ کا شمار رسول اللہ کے ان دس صحابہ میں ہوتا ہے جنہیں حضور نے نام لے کر جنتی ہونے کی بشارت دی۔

نام،نسب،خاندان[ترمیم]

زبیر نام،ابوعبداللہ کنیت،حواری رسول اللہ ﷺ لقب،والد کا نام عوام اوروالدہ کا نام صفیہ تھا، پورا سلسلہ نسب یہ ہے،زبیر بن العوام بن خویلدبن اسد بن عبدالعزی بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوئی القرشی الاسدی،حضرت زبیر ؓ کا سلسلہ نسب قصی بن کلاب پر آنحضرت ﷺ سے مل جاتا ہے اور چونکہ ان کی والدہ حضرت صفیہ ؓ سرورِ کائنات ﷺ کی پھوپی تھیں، اس لیے آنحضرت ﷺ کے پھوپھی زاد بھائی تھے، اس کے علاوہ آنحضرت ﷺ کی زوجہ محترمہ ام المومنین حضرت خدیجہ ؓ کے بھی حقیقی بھتیجے تھے اورحضرت صدیق ؓ کے داماد ہونے کے سبب سے آنحضرت ﷺ کے ساڑھو بھی تھے اوراس طرح ذات نبوی ﷺ کے ساتھ ان کو متعدد نسبتیں حاصل تھیں۔ حضرت زبیر ؓ ہجرت نبوی ﷺ سے اٹھائیس سال قبل پیدا ہوئے،بچپن کے حالات بہت کم معلوم ہیں،لیکن اس قدر یقینی ہے کہ ان کی والدہ حضرت صفیہ ؓ نے ابتداہی سے ان کی ایسی تربیت کی تھی کہ وہ جوان ہوکر ایک عالی حوصلہ،بہادر،الوالعزم مرد ثابت ہوں، چنانچہ وہ بچپن میں عموماًانہیں مارا پیٹا کرتیں اورسخت سے سخت محنت ومشقت کے کام کا عادی بناتی تھیں، ایک دفعہ نوفل بن خویلد جو اپنے بھائی عوام کے مرنے کے بعد ان کے ولی تھے، حضرت صفیہ ؓ پر نہایت خفا ہوئے کہ کیا تم اس بچے کو اس طرح مارتے مارتے مارڈالوگی، اوربنوہاشم سے کہا کہ تم لوگ صفیہ ؓ کو سمجھاتے کیوں نہیں، حضرت صفیہ ؓ نے حسب ذیل رجز میں اس خفگی کا جواب دیا۔ [1] من قال انی ابغضہ فقد کذب انما اضربہ لکی یلب جس نے یہ کہا کہ میں اس سے بغض رکھتی ہوں، اس نے جھوٹ کہا، میں اس کو اس لیے مارتی ہوں کہ عقل مند ہو۔ ویھزم الجیش یاتی باسلب الخ اورفوج کو شکست دے اورمال غنیمت حاصل کرے اس تربیت کا یہ اثر تھاکہ وہ بچپن ہی میں بڑے بڑے مردوں کا مقابلہ کرنے لگے تھے،ایک دفعہ مکہ میں ایک جوان آدمی سے مقابلہ پیش آیا، انہوں نے ایسا ہاتھ مارا کہ اس کا ہاتھ ٹوٹ گیا،لوگ اسے لاد کر شکایۃً حضرت صفیہ ؓ کے پاس لائے،تو انہوں نے معذرت و عفوخواہی کےبجائے سب سے پہلے یہ پوچھا کہ تم نے زبیر ؓ کو کیسا پایا،بہادر یا بزدل۔ [2]

اسلام[ترمیم]

حضرت زبیر ؓ صرف سولہ برس کے تھے کہ نورِ ایمان نے ان کے خانۂ دل کو منور کر دیا [3]بعض روایتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پانچویں یا چھٹے مسلمان تھے،لیکن یہ صحیح نہیں معلوم ہوتا،تاہم سابقین اسلام میں وہ ممتاز اورنمایاں تقدم کا شرف رکھتے ہیں۔ حضرت زبیر ؓ اگرچہ کمسن تھے،لیکن استقامت اورجان نثاری میں کسی سے پیچھے نہ تھے ،قبول اسلام کے بعد ایک دفعہ کسی نے مشہور کر دیا،کہ مشرکین نے آنحضرت ﷺ کو گرفتار کر لیا ہے،یہ سن کر جذبہ جانثاری سے اس قدر بیخود ہوئے کہ اسی وقت ننگی تلوار کھینچ کر مجمع کو چیرتے ہوئے آستانہ اقدس پر حاضر ہوئے،رسول اللہ ﷺ نے دیکھا تو پوچھا زبیر ؓ !یہ کیا ہے؟ عرض کیا مجھے معلوم ہوا تھا کہ (خدانخواستہ) حضور گرفتار کرلیے گئے ہیں،سرورکائنات ﷺ نہایت خوش ہوئے اوران کے لیے دعائے خیر فرمائی،اہل سیر کا بیان ہے کہ یہ پہلی تلوار تھی جو راہ فدویت وجان نثاری میں ایک بچے کے ہاتھ سے برہنہ ہوئی۔ [4]

ہجرت[ترمیم]

عام بلاکشان اسلام کی طرح حضرت زبیر ؓ مشرکین مکہ کے پنجہ ظلم و ستم سے محفوظ نہ تھے ،ان کے چچانے ہر ممکن طریقہ سے ان کو اسلام سے برگشتہ کرنا چاہا،لیکن توحید کا نشہ ایسانہ تھا جو اترجاتا ،بالآخراس نے برہم ہوکر اوربھی سختی شروع کی،یہاں تک کہ چٹائی میں لپیٹ کر باندھ دیتا، اوراس قدر دھونی دیتاکہ دم گھٹنے لگتا؛ لیکن وہ ہمیشہ یہی کہے جاتے کچھ بھی کرو اب میں کافر نہیں ہوسکتا۔ [5] غرض مظالم وشدائد سے اس قدر تنگ آئے کہ وطن چھوڑکر حبش کی راہ لی، پھر کچھ دنوں کے بعد وہاں سے واپس آئے،توخود سرور کائنات ﷺ نے مدینہ کا قصد کیا، اس لیے انہوں نے بھی مدینہ کی مبارک سرزمین کو وطن بنایا۔

مواخات[ترمیم]

آنحضرت ﷺ نے مکہ میں حضرت طلحہ ؓ کو حضرت زبیر ؓ کا اسلامی بھائی قراردیا تھا، لیکن جب مدینہ پہنچنے کے بعد انصار ومہاجرین میں تعلقات پیدا کرنے کے لیے ایک دوسری مواخات منعقد ہوئی تو اس دفعہ حضرت سلمہ بن سلامہ انصاری ؓ سے رشتہ اخوت قائم کیا گیا، جو مدینہ کے ایک معزز بزرگ اوربیعت عقبہ میں شریک تھے۔

غزوات[ترمیم]

غزوات میں ممتاز حیثیت سے شریک رہے،سب سے پہلے غزوۂ ٔبدر پیش آیا،حضرت زبیر ؓ نے اس معرکہ میں نہایت جانبازی ودلیری کے ساتھ حصہ لیا، جس طرف نکل جاتے تھے غنیم کی صفیں تہ وبالا کردیتے،ایک مشرک نے ایک بلند ٹیلے پر کھڑے ہوکر مبارزت چاہی، حضرت زبیر ؓ بڑھ کر اس سے لپٹ گئے،اور دونوں قلابازیاں کھاتے ہوئے نیچے آئے،آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ان دونوں میں جو سب سے پہلے زمین پر رکے گا وہ مقتول ہوگا،چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ وہ مشرک پہلے زمین پر گرکر حضرت زبیر ؓ کے ہاتھ سے واصلِ جہنم ہوا،[6] اسی طرح عبیدہ بن سعید سے مقابلہ پیش آیا جو سر سے پاؤں تک زرہ پہنےہوئے تھا،صرف دونوں آنکھیں کھلی ہوئی تھیں، حضرت زبیر ؓ نے تاک کر اس زور سے آنکھ میں نیزہ مارا کہ اس پارنکل گیا،اس کی لاش پر بیٹھ کر بمشکل نیزہ نکالا،پھل ٹیڑھا ہو گیا تھا، آنحضرت ﷺ نے بطوریادگار حضرت زبیر ؓ سے اس نیزہ کو لے لیا،اس کے بعد پھر خلفاء میں تبرکا ًمنتقل ہوتا رہا،یہاں تک خلیفہ ثالث ؓ کے بعد حضرت زبیر ؓ کے وارث حضرت عبد اللہ ؓ کے پاس پہنچا اوران کی شہادت تک ان کے پاس موجودتھا۔ وہ جس بے جگری کے ساتھ بدرمیں لڑے اس کا اندازہ صرف اس سے ہوسکتا ہے کہ ان کی تلوار میں دندانے پڑ گئے تھے،تمام جسم زخموں سے چھلنی ہو گیا تھا، خصوصاً ایک زخم اس قدر کاری تھا کہ وہاں پر ہمیشہ کے لیے گڑھا پڑ گیا تھا، حضرت عروہ بن زبیر ؓ کا بیان ہے کہ ہم ان میں انگلیاں ڈال کر کھیلا کرتے تھے۔ [7] معرکہ بدر میں حضرت زبیر ؓ زرد عمامہ باندھے ہوئے تھے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آج ملائکہ بھی اسی وضع میں آئے ہیں،[8] غرض مسلمانوں کی شجاعت وثابت قدمی نے میدان مارلیا حق غالب رہا اورباطل کو شکست ہوئی۔

غزوۂ احد[ترمیم]

؁ 3ھ میں معرکہ احد کا واقعہ ہوا، اثنائے جنگ میں رسول اللہ ﷺ نے اپنی تلوار کھینچ کر فرمایا کون اس کا حق ادا کرے گا؟ تمام جان نثاروں نے بیتابی کے ساتھ اپنے ہاتھ پھیلائے، حضرت زبیر ؓ نے تین دفعہ اپنے آپ کو پیش کیا،لیکن یہ فخر حضرت ابودجانہ ؓ انصاری کے لیے مقدر ہوچکا تھا۔ [9] جنگ احد میں جب تیراندازوں کی بے احتیاطی سے فتح شکست سے مبدل ہو گئی اور مشرکین کے اچانک حملے سے غازیان دین کے پاؤں متزلزل ہو گئے،یہاں تک کہ شمع نبوت کے گرد صرف چودہ صحابہ ؓ پروانہ وار ثابت قدم رہ گئے تھے تو اس وقت بھی یہ جان نثارحواری جان نثاری کا فرض اداکررہا تھا۔ [10]

غزوۂ خندق[ترمیم]

؁ 5ھ میں یہودیوں کی مفسدہ پردازی سے تمام عرب مسلمانوں کے خلاف امنڈ آیا،سرورِ کائنات ﷺ نے مدینہ کے قریب خندق کھود کر اس طوفان کا مقابلہ کیا، حضرت زبیر ؓ اس حصہ پر معمور تھے جہاں عورتیں تھیں۔ [11] بنوقریظ اورمسلمانوں میں باہم معاہدہ تھا،لیکن عام سیلاب میں وہ بھی اپنے عہد پر قائم نہ رہے، رسول اللہ ﷺ نے دریافت کے لیے کسی کو بھیجنا چاہا اورتین بارفرمایا"کون اس قوم کی خبر لائے گا؟" حضرت زبیر ؓ نے ہر مرتبہ بڑھ کر عرض کیا کہ "میں" آنحضرت ﷺ نے خوش ہوکر فرمایا"ہر نبی کے لیے حواری ہوتے ہیں،میرا حواری زبیر ؓ ہے،[12] اس نازک وقت میں حضرت زبیر ؓ کی اس طرح بے خطر تنہا آمدورفت سے آنحضرت ﷺ ان کی اس جانبازی سے اس قدر متاثر تھے کہ فرمایا: فداک ابی وامی، یعنی میرے ماں باپ تم پر فداہوں۔ [13] کفار بہت دنوں تک خندق کا محاصرہ کیے رہے، لیکن پھر کچھ تو ارضی وسماوی مصائب اورکچھ مسلمانوں کے غیر معمولی ثبات واستقلال سے پریشان ہوکر بھاگ کھڑے ہوئے۔

غزوۂ ٔخیبر[ترمیم]

غزوۂ خندق کے بعد غزوۂ ٔبنو قریظہ اوربیعت رضوان میں شریک ہوئے پھر خیبر کی مہم میں غیر معمولی شجاعت دکھائی،مرحب یہودی خیبر کا رئیس تھا وہ مقتول ہوا تو اس کا بھائی یاسر غضبناک ہوکر"ھل من مبارز’’ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے میدان میں آیا، حضرت زبیر ؓ نے بڑھ کر اس کا مقابلہ کیا وہ اس قدر تنومند اور قوی ہیکل تھا کہ ان کی والدہ حضرت صفیہ ؓ نے کہا یا رسول اللہ! میرا لخت جگر آج شہید ہوگا، آنحضرت ﷺ نے فرمایا نہیں!زبیر ؓ اس کو مارے گا،چنانچہ درحقیقت تھوڑی دیر رد وبدل کے بعد وہ واصل جہنم ہوا۔ [14] غرض خیبر فتح ہوا اوراس کے بعد فتح مکہ کی تیاریاں شروع ہوئیں،مشہور صحابی حضرت حاطب بن ابی بلتعہ ؓ نے تمام کیفیت لکھ کر ایک عورت کے ہاتھ قریش مکہ کے پاس روانہ کی،لیکن آنحضرت ﷺ کو خبر ہو گئی اورایک جماعت اس عورت کو گرفتاری پر مامور ہوئی،حضرت زبیر ؓ بھی اس میں شریک تھے، وہ گرفتار ہوکر آئی اورخط پڑھاگیا،توابن ابی بلتغہ ؓ کاسرندامت سے جھک گیا،رحمۃللعالمین نے ان کی عفوخواہی پر جب معاف فرمادیا، اوریہ آیت نازل ہوئی۔" یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَعَدُوَّکُمْ اَوْلِیَاءَ تُلْقُوْنَ اِلَیْہِمْ بِالْمَوَدَّۃِ" [15]

فتح مکہ[ترمیم]

رمضان؁ 8ھ میں دس ہزار مجاہدین کے ساتھ رسول اللہ ﷺ نے مکہ کا قصد کیا اورشاہانہ جاہ وجلال کے ساتھ اس سرزمین میں داخل ہوئے جہاں سے آٹھ سال قبل طرح طرح کے مصائب وشدائد برداشت کرنے کے بعد بے بسی کی حالت میں نکلنے پر مجبور ہوئے تھے، اس عظیم الشان فوج کے متعدد دستے بنائے گئے تھے، سب سے چھوٹا اورآخری دستہ وہ تھا جس میں خود آنحضرت ﷺ موجود تھے،حضرت زبیر ؓ اس کے علمبردار تھے۔ [16] آنحضرت ﷺ جب مکہ میں داخل ہوئے اورہر طرف سکون واطمینان ہو گیا تو حضرت زبیر ؓ اورحضرت مقداد بن اسود ؓ اپنے گھوڑوں پر بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوئے،آنحضرت ﷺ نے کھڑے ہوکر ان کے چہروں سے گرد غبار صاف کیا اورفرمایا میں نے گھوڑے کے لیے دو حصے اورسوار کے لیے ایک حصہ مقرر کیا ہے،جوان حصوں میں کمی کریگا خدا اس کو نقصان پہنچائےگا۔ [17]

مختلف غزوات[ترمیم]

فتح مکہ کے بعد واپسی کے وقت غزوۂ حنین پیش آیا کفار کمین گاہوں میں چھپے ہوئے مسلمانوں کی نقل و حرکت دیکھ رہے تھے، حضرت زبیر ؓ اس گھاٹی کے قریب پہنچے تو ایک شخص نے اپنے ساتھیوں سے پکار کر کہا"لات وعزیٰ کی قسم یہ طویل القامت سوار یقینا زبیر ؓ ہے،تیار ہوجاؤ ،اس کا حملہ نہایت خطرناک ہوتا ہے" یہ حملہ ختم ہی ہوا تھا کہ ایک زبردست جمیعت نے اچانک حملہ کر دیا، حضرت زبیر ؓ نہایت پھرتی اورتیزدستی کے ساتھ اس آفتِ ناگہانی کو روکا اوراس قدر شجاعت وجانبازی سے لڑے کہ یہ گھاٹی کفارسے بالکل صاف ہو گئی۔ اس کے بعد جنگ طائف اورتبوک کی فوج کشی میں شریک ہوئے،پھر ؁ 5ھ ، میں رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کا قصد کیا، حضرت زبیر ؓ اس میں بھی ہمرکاب تھے۔ حج سے واپس آنے کے بعد سرورکائنات ﷺ نے وفات پائی،حضرت ابوبکر صدیق ؓ مسند آرائے خلافت ہوئے،بعض روایات کے مطابق حضرت زبیر ؓ کو بھی خلیفہ اول کی بیعت میں پس وپیش تھا،تاہم وہ زیادہ دنوں تک اس پر قائم نہیں رہے۔

جنگ یرموک کا حیرت انگیز کارنامہ[ترمیم]

سوادوبرس کی خلافت کے بعد خلیفہ اول کا وصال ہو گیا اورفاروق اعظم ؓ نے مسند حکومت پر قدم رکھا، خلیفہ اول کے عہد میں فتوحات کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا، حضرت عمر ؓ نے تمام عرب میں جوش پھیلاکر اس کو اوربھی زیادہ وسیع کر دیا، حضرت زبیر ؓ کا دل گورسول اللہ ﷺ کی وفات سے افسردہ ہوچکا تھا،تاہم ایک مرد میدان وجانباز بہادر کے لیے اس جوش و ولولہ کے وقت عزلت نشین رہنا سخت ننگ تھا، خلیفہ وقت سے اجازت لے کر شامی رزم گاہ میں شریک ہوئے ،اس وقت یرموک کے میدان میں ملک شام کی قسمت کا آخری فیصلہ ہورہا تھا، اثنائے جنگ میں لوگوں نے کہا اگر آپ حملہ کرکے غنیم کے قلب میں گھس جائیں تو ہم آپ کا ساتھ دیں ،حضرت زبیر ؓ نے کہا تم لوگ میرا ساتھ نہیں دے سکتے،لوگوں نے عہد کیا تو اس زور سے حملہ آور ہوئے کہ رومی فوج کا قلب چیرتے ہوئے تنہا اِس پار سے اُس پار نکل گئےاور کوئی رفاقت نہ کرسکا،پھر واپس لوٹے تو رومیوں نے گھوڑے کی باگ پکڑلی اورنرغہ کرکے سخت زخمی کیا گردن پر دوزخم اس قدر کاری تھے کہ اچھے ہونے کے بعد بھی گڑھے باقی رہ گئے، عروہ بن زبیر ؓ کا بیان ہے کہ بدر کے زخم کے بعد یہ دوسرا زخم کا گڈھا تھا جس میں بچپن میں ہم انگلیاں ڈال کر کھیلا کرتے تھے۔ [18]

فسطاط کی فتح[ترمیم]

فتح شام کے بعد حضرت عمروبن عاص ؓ کی سرکردگی میں مصر پر حملہ ہوا انہوں نے چھوٹے چھوٹے مقامات کو فتح کرتے ہوئے فسطاط کا محاصرہ کر لیا اورقلعہ کی مضبوطی نیز فوج کی قلت دیکھ کر دربارِ خلافت سے اعانت طلب کی ،امیر المومنین حضرت عمر ؓ نے دس ہزار فوج اورچار افسر بھیجے اورخط میں لکھا کہ ان افسروں میں ایک ایک، ہزار ہزار سوار کے برابر ہے، افسروں میں حضرت زبیر ؓ بھی تھے،ان کا جو رتبہ تھا اس کے لحاظ سے عمرو ؓ نے ان کو افسر بنایا اورمحاصرہ وغیرہ کے انتظامات ان کے ہاتھ میں دیے،انہوں نے گھوڑے پر سوارہوکر خندق کے چاروں طرف چکر لگایا اورجہاں جہاں مناسب تھا مناسب تعداد کے ساتھ سوار اور پیادے متعین کیے، اس کے ساتھ منجنیقوں سے پتھر برسانے شروع کر دیے، اس پر پورے سات مہینے گذر گئے،اورفتح وشکست کا کچھ فیصلہ نہ ہوا، حضرت زبیر ؓ نے ایک دن تنگ آکر کہا کہ آج میں مسلمانوں پر فدا ہوتا ہوں، یہ کہہ کر ننگی تلوار ہاتھ میں لی اورسیڑھی لگا کر قلعہ کی فصیل پر چڑھ گئے،چند اورصحابہ ؓ نے ان کا ساتھ دیا، فصیل پر پہنچ کر سب نے ایک ساتھ تکبیر کے نعرے بلند کیے، ساتھ ہی تمام فوج نے نعرہ مارا کہ قلعہ کی زمین دہل اٹھی، عیسائی یہ سمجھ کر کہ مسلمان قلعہ کے اندر گھس آئے،بد حواس ہوکر بھاگے ادھر حضرت زبیر ؓ نے فصیل سے اتر کر قلعہ کا دروازہ کھول دیا اورتمام فوج اندر گھس آئی ،مقوقس حاکمِ مصرنے یہ دیکھ کر صلح کی درخواست کی اوراسی وقت سب کو امان دے دی گئی۔ [19]

اسکندریہ کی تسخیر[ترمیم]

فسطاط فتح کرکے اسلامی فوج نے اسکندریہ کا رخ کیا اورمدتوں قلعہ کا محاصرہ کیے پڑی رہی، لیکن جس قدر زیادہ دن گذرتے جاتے تھے، اسی قدر دربار خلافت سے اس کے جلد فتح کرنے کا تقاضا بڑھتا جاتا تھا،غرض ایک روز عمروبن العاص ؓ نے آخری اورقطعی حملہ کا ارادہ کر لیا اورحضرت زبیر ؓ اورمسلمہ بن مخلدؓ کو فوج کا ہراول بنا کر اس زور سے یورش کی کہ ایک ہی حملہ میں شہر فتح ہو گیا۔

مفتوحہ ممالک کی تقسیم کا مطالبہ[ترمیم]

مصر کامل طورپر مسخر ہو گیا تو حضرت زبیر ؓ نے عمروبن العاص ؓ سپہ سالار فوج سے اراضی مفتوحہ کی تقسیم کا مطالبہ کیا اورفرمایا جس طرح رسول اللہ ﷺ نے خیبر کو مجاہدین پر تقسیم فرمادیا تھا، اسی طرح تمام ممالک مفتوحہ کو تقسیم کردینا چاہیے،عمروبن العاص ؓ نے کہا خدا کی قسم میں امیرالمومنین ؓ کی اجازت کے بغیر کچھ نہیں کرسکتا ،حضرت عمر ؓ کو لکھا گیا تو انہوں نے لکھا کہ اس کو اسی طرح رہنے دینا چاہیے تاکہ آئندہ نسلیں بھی اس سے مستفید ہوتی رہیں، حضرت زبیر ؓ کے ذہن میں بھی اس کی مصلحت آگئی اور خاموش ہو رہے۔ [20]

؁ 23ھ میں خلیفہ وقت حضرت عمر ؓ نے ایک مجوسی کے ہاتھ ناگہانی طورپر زخمی ہوکر سفرِ آخرت کی تیاری کی تو عہدہ خلافت کے لیے چھ آدمیوں کے نام پیش کیے اورفرمایا کہ حضرت سرورکائنات ﷺ آخر وقت تک ان سے راضی رہے تھے، ان چھ بزرگوں میں ایک حضرت زبیر ؓ بھی تھے، لیکن تین دن کی مسلسل گفت وشنید اوربحث ومباحثہ کے بعد مجلس شوریٰ نے حضرت عثمان ذوالنورین ؓ کو مسند گرامی پر بٹھادیا، حضرت زبیر ؓ بھی بے چون وچرا اس انتخاب کو تسلیم کرکے بیعت کرلی۔ [21] خلیفۂ ثالث ؓ کے عہد میں زبیر ؓ نے نہایت سکون وخاموشی کی زندگی بسر کی اورکسی قسم کی ملکی مہم میں شریک نہیں ہوئے، درحقیقت عمر بھی اس حد سے متجاوز ہوچکی تھی،لیکن ؁ 35ھ میں مصری مفسدوں نے بارگاہِ خلافت کا محاصرہ کیا، توانہوں نے اپنے بڑے صاحبزادہ عبد اللہ بن زبیر ؓ کو امیر المومنین کی مساعدت وحفاظت پر مامور کر دیا۔

غرض اٹھارہویں ذی الحجہ جمعہ کے روز حضرت عثمان ؓ مفسدین کے ہاتھ سے شہید ہوئے،حضرت زبیر ؓ نے حسب وصیت پوشیدہ طریقہ پر رات کے وقت نمازہ جنازہ ادا کی اورمضافاتِ مدینہ میں حش کوکب نامی ایک مقام پر سپرد خاک کیا۔ خلیفہ وقت کے قتل سے تمام مدینہ میں مفسدین کا رعب طاری ہو گیا، ہر شخص دم بخود تھا، حضرت عثمان ؓ کے طرفداراورتمام بنوامیہ مکہ اوردوسرے مقامات کی طرف بھاگ گئے،چونکہ مصری حضرت علی ؓ کے طرفدار تھے اس لیے انہوں نے اس کو خلافت کا بارگراں اٹھانے پر مجبور کیا،اورمسجد نبوی مین لوگوں کو بیعت کے لیے جمع کیا،حضرت طلحہ ؓ وزبیر ؓ گو برابر کے دعویدار تھے،تاہم مصریوں کے خوف سے زبان نہ ہلاسکے اورکسی طرح بیعت کرلی۔ [22]

حضرت علی ؓ کی مسند نشینی کے بعد بھی مدینہ میں امن وامان قائم نہ ہو سکا ،سبائی فرقہ جو اس انقلاب کا بانی تھا، اورفتنہ و فساد کے نئے نئے کرشمے دکھاتا رہتا تھا،جاہل بدوی جو ہمیشہ ایسے لوٹ مارکے موقعوں پر شریک ہوجاتے ،سبائیوں کے ساتھ ہو گئے، حضرت علی ؓ نے کوشش کی کہ یہ لوگ اپنے اپنے وطن کی طرف لوٹ جائیں اوربدویوں کو بھی شہر سے نکال دیا جائے ؛لیکن سبائیوں کے ضد اورانکار سے کامیابی نہ ہوئی۔ [23]

حضرت زبیر ؓ جو اساطین امت میں تھے، کب تک خاموشی کے ساتھ اس شورش وہنگامہ آرائی کا تماشا دیکھتے،اصلاحِ حال اور رفع فساد کا انتظار کرتے کرتے کامل چار ماہ گذر گئے،لیکن امن وسکون کی کوئی صورت پیدا نہ ہوئی، آخر تھک کر حضرت طلحہ ؓ کے ساتھ حضرت علی ؓ کے پاس آئے اور اصلاح واقامت حدود کا مطالبہ کیا، انہوں نے جواب دیا،بھائی! میں اس سے غافل نہیں ؛لیکن ایک ایسی قوم کے ساتھ کیا کرسکتا ہوں جس پر میرا کچھ اختیار نہیں،بلکہ وہ خود مجھ پر حکمران ہے،[24] غرض جب اس طرح سے بھی مایوسی ہوئی تو یہ دونوں خود عملاً اس شورش کو رفع کرنے کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہو گئے۔

ام المومنین حضرت عائشہ ؓ حج کے خیال سے مکہ آئی تھیں، اوراب تک مدینہ کی شورشوں کا حال سن کر یہیں مقیم تھیں، حضرت طلحہ ؓ وزبیر ؓ سب سے پہلے ام المومنین ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اوران لفظوں میں مدینہ کی بے امنی کا نقشہ کھینچا۔ اناتحملنا بقتینا ھرابامن المدینۃ من غبو غااعراب وفارقنا قوما حیاری لایعرفون حقار لاینکرون باطلاولایمنعون النفسھم ہم اعراب کے شوروشرکے خوف سے مدینہ سے بھاگ آئے ہیں اور اہم نے وہاں ایسی حیران قوم کو چھوڑا ہے جو نہ حق کو پہنچانتی ہے اورنہ باطل سے احتراز کرتی ہے اورنہ اپنی جانوں کی حفاظت کرتی ہے۔

ام المومنین ؓ نے فرمایا"توپھر کوئی رائے قائم کرکے اس شورش کو فرو کرنا چاہیے" غرض تھوڑی دیر کی بحث ومباحثہ کے بعد علم اصلاح بلند کرنے پر سب کا اتفاق ہوا،بنوامیہ بھی جو مدینہ سے بھاگ کر یہاں مجتمع ہو گئے تھے،جوشِ انتقام میں ساتھ ہو گئے اوراس طرح داعیانِ اصلاح کی ایک ہزار جماعت بصرہ کی طرف روانہ ہوئی؛ تاکہ وہاں سے اپنی قوت مضبوط کرکے مدینہ کا رخ کرے راہ میں امویوں نے خلافت وامامت کی بحث چھیڑکر حضرت طلحہ ؓ اورحضرت زبیر ؓ کو لڑانا چاہا، لیکن ام المومنین ؓ کی مداخلت سے معاملہ ختم ہو گیا، بصرہ کے قریب پہنچے تو عثمان بن حنیف والی بصرہ نے مزاحمت کی؛ لیکن وہاں داعیان اصلاح کے حامیوں کی ایک بڑی جماعت بھی موجود تھی وہ خود عثمان ؓ کے ساتھیوں سے دست وگریبان ہو گئی، یہاں تک کشت وہ خون کی نوبت پہنچ گئی عثمان بن حنیف کا بیان تھا کہ جب طلحہ و زبیر حضرت علی ؓ سے بیعت کرچکے تو پھر انہیں علم مخالفت بلند کرنے کا کیا استحقاق ہے؟ ان دونوں کا یہ جواب تھا کہ ہم قہراً وجبراً شریک بیعت ہوئے اوراگر فرض کرلو کہ یہ بیعت صحیح تھی تب بھی اس سے مطالبہ اصلاح کی نفی نہیں ہوتی ،غرض معاملہ زیادہ طول کھینچا تو مصالحت کی یہ صورت قرار پائی کہ ایک شخص تحقیقات کے لیے مدینہ روانہ کیا جائے، اگر ثابت ہو کہ طلحہ وزبیر بیعت پر مجبور کئےگئے تھے تو عثمان بن حنیف مزاحمت سے باز آئیں گے، ورنہ ان دونوں کو اس جماعت سے کناہ کش ہونا پڑے گا، چنانچہ کعب ؓ اس تحقیقات پر مامور ہوئے ،انہوں نے جمعہ کے روز مسجد نبوی ﷺ میں داخل ہوکر حاضرین سے ببانگ بلند سوال کیا۔ یا اھل المدینۃ انی رسول اھل البصرۃ الیکم اکرہ ھؤلاء القوم ھذین الرجلین علی بیعۃ علی ام اتیاھا طالعین اے اہل مدینہ میں اہل بصرہ کا قاصد بن کر آیا ہوں کیا واقعی اس قوم نے ان دونوں کو علی ؓ کی بیعت پر مجبورکیا تھا یا وہ خوشی سے اس پر تیار ہوئے تھے؟

مجمع میں تھوڑی دیر تک سناٹا رہا؛ لیکن اسامہ بن زید ؓ سے نہ رہا گیا، بول اُٹھے خدا کی قسم ان دونوں نے سخت ناپسندید گی کے ساتھ بیعت کی تھی، اس سے ایک ہلچل پڑ گئی تمام اور سہل بن حنیف اسامہ ؓ سے الجھ پڑے،صہیب بن سنان ؓ، ابو ایوب ؓ اورعمربن مسلمہ ؓ وغیرہ کبار صحابہ نے دیکھا کہ لوگ اسامہ ؓ کو مارڈالیں گے تو سب نے یک زبان ہوکر کہا،ہاں خدا کی قسم اسامہ ؓ نے سچ کہا، غرض اسی طرح اسامہ ؓ کی جان بچ گئی اورکعب ؓ بصرہ واپس آئے دوسری طرف حضرت علی ؓ کو ان واقعات کی اطلاع مل چکی تھی، انہوں نے عثمان بن حنیف کو لکھا کہ اولاً تویہ صحیح نہیں کہ وہ مجبور کیے گئے اور اگر مان بھی لو تو قوم وملک کی بہتری کے لیے ایسا ہونا ضروری تھااوراگر وہ مجھے معزول کرنا چاہتے ہیں تو ان کے پاس کوئی معقول عذر نہیں اوراگر کچھ اورمقصد ہے تو اس پر غور ہوسکتا ہے،اس خط کے بعد عثمان ؓ نے اپنی رائے بدل دی اورکعب ؓ کی تحقیقات کے باوجود اعیانِ اصلاح کی مزاحمت پر اڑے رہے۔

حضرت طلحہ وزبیر ؓ نے دیکھا کہ اب سہولت کے ساتھ یہ معاملہ طے نہ ہوگا تو ایک روز عشاء کے وقت اپنے ساتھیوں کے ساتھ مسجد پہنچے اورعبدالرحمن بن عتاب ؓ کو نماز پڑھانے کے لیے کھڑا کر دیا ،عثمان بن حنیف نے اس کو اپنے حق میں مداخلت تصور کرکے ایرانی،زط، اورسبا بچہ، کو حملہ کا حکم دےدیا، لیکن حضرت طلحہ ؓ وزبیر ؓ نے پامردی کے ساتھ مقابلہ کرکے ان کو بھگادیا،دوسری طرف چند آدمی دارالامارت میں گھس گئے اورعثمان بن حنیف کو پکڑ کر سامنے لائے، ان لوگوں نے اس بے رحمی کے ساتھ ان کو مارا تھا اورڈاڑھی نوچی تھی کہ چہرہ پر ایک بال بھی باقی نہ تھا، حضرت طلحہ وزبیر کو یہ سخت ناگوار گذرااورحضرت عائشہ ؓ سے اس کے متعلق دریافت کیا، انہوں نے حکم دیا کہ عثمان کو چھوڑدو، جہاں جی چاہے جائے، غرض اس طرح بصرہ پر قبضہ ہو گیا، اورایک بڑی جماعت اس مہم کاساتھ دینے پر تیار ہو گئی۔

جنگ جمل اورحضرت زبیرؓ کی حق پسندی[ترمیم]

حضرت طلحہ وزبیر ؓ نے اہل کوفہ کو بھی خطو ط لکھ کر شرکت کی ترغیب دی ؛لیکن وہاں حضرت حسن ؓ نے پہنچ کر پہلے ہی ان کو اپنا طرفدار بنالیا اور تقریبا ًنوہزار کی عظیم الشان جمعیت مقام ذی قار میں حضرت علی ؓ کی فوج سے مل کر بصرہ کی طرف بڑھی، حضرت طلحہ وزبیر کو معلوم ہوا تو انہوں نے بھی اپنی فوج کو مرتب ومنظم کرکے آگے بڑھادیا، دسویں جمادی الآخر 36ھ جمعرات کے دن دونوں فوجوں میں مڈ بھیڑ ہوئی، کیسا عبرت انگیز نظارہ تھا،چند دن بیشتر جو لوگ بھائی بھائی تھے، آج باہم ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوکر نگاہِ غیظ وغضب سے اپنے مقابل کو گھور رہے ہیں ؛لیکن ذاتی مخاصمت وعداوت سے نہیں بلکہ حق وصداقت کے جوش میں ،یہی وجہ ہے کہ ایک ہی قبیلہ کے کچھ آدمی اس طرح ہیں تو کچھ اس طرف ،چونکہ دونوں جماعتوں کے سربراہ کاروں کو اصلاح مدنظر تھی۔

اس لیے پہلے مصالحت کی سلسلہ جنبانی شروع ہوئی،حضرت علی ؓ تنہاگھوڑا آگے بڑھا کر بیچ میدان میں آئے اورحضرت زبیر ؓ کو بلا کر کہا"ابوعبداللہ! تمہیں وہ دن یاد ہے جب کہ ہم اورتم دونوں ہاتھ میں ہاتھ دیے رسالت مآب ﷺ کے سامنے گذرے تھے،اوررسول اللہ ﷺ نے تم سے پوچھا تھا کہ کیا تم اس کو دوست رکھتے ہو؟ تم نے عرض کیا تھی ہاں یا رسول اللہ ﷺ یاد کرو اس وقت تم سے حضور انور ﷺ نے فرمایا تھا کہ ایک دن تم اسی سے ناحق لڑوگے،[25]حضرت زبیر ؓ نے جواب دیا ہاں!اب مجھے بھی یاد آیا۔ حضرت علی ؓ تو صرف ایک بات یاد دلاکر پھر اپنی جگہ چلے گئے،لیکن حضرت زبیر ؓ کے قلب حق پرست میں ایک خاص سخت تلاطم برپا ہو گیا تمام عزائم اور ارادے فسخ ہو گئے، ام المومنین ؓ کے پاس آکر کہنے لگے میں برسرِ غلط تھا، علی ؓ نے مجھے رسول اللہ ﷺ کا مقولہ یاد دلادیا ،حضرت عائشہ ؓ نے پوچھا پھر اب کیا ارادہ ہے؟ بولے"اب میں اس جھگڑے سے کنارہ کش ہوتا ہوں۔

حضرت زبیر ؓ کے صاحب حضرت عبد اللہ ؓ نے کہا آپ لوگوں کو دوگروہوں کے درمیان پھنسا کر خود علی ؓ کے خوف سے بھاگنا چاہتے ہیں، حضرت زبیر ؓ نے کہا میں قسم کھاتا ہوں کہ علی ؓ سے نہیں لڑوں گا" عبد اللہ ؓ نے کہا قسم کا کفارہ ممکن ہے اوراپنے غلام مکحول کو بلاکر آزاد کر دیا،لیکن حوارِی رسول ﷺ کا دل اچاٹ ہوچکا تھا، کہنے لگے جان پدرعلی ؓ نے ایسی بات یاد دلائی کہ تمام جوش فرو ہو گیا ،بے شک ہم حق پر نہیں ہیں آؤ تم بھی میرا ساتھ دو ،حضرت عبد اللہ نے انکار کر دیا تو تنہا بصرہ کی طرف چل کھڑے ہوئے؛ تاکہ وہاں سے اپنا اسباب وسامان لے کر حجاز کی طرف نکل جائیں، احنف بن قیس نے حضرت زبیر ؓ کو جاتے دیکھا تو کہا دیکھو یہ کسی وجہ سے واپس جا رہے ہیں، کوئی جاکر خبر لائے،عمروبن جرموز نے کہا میں جاتا ہوں اورہتھیار سج کر گھوڑا دوڑاتے ہوئے حضرت زبیرؓ کے پاس پہنچا وہ اس وقت اپنے غلاموں کو اسباب وسامان کے ساتھ روانگی کا حکم دے کر بصرہ کی آبادی سے دور نکل آئے تھے، ابن جرموز نے قریب پہنچ کر پوچھا:

ابن جرموز:ابوعبداللہ آپ نے قوم کو کس حال میں چھوڑا؟ حضرت زبیر ؓ: سب باہم ایک دوسرے کا گلاکاٹ رہے تھے۔ ابن جرموز: آپ کہاں جا رہے ہیں۔ حضرت زبیر ؓ: میں اپنی غلطی پر متنبہ ہو گیا، اس لیے اس جھگڑے سے کنارہ کش ہوکر کسی طرف نکل جانے کا قصد ہے۔ ابن جرموز نے کہا چلئے مجھے بھی اسی طرف کچھ دور تک جانا ہے، غرض دونوں ساتھ چلے،ظہر کی نماز کا وقت آیاتو زبیر ؓ نماز پڑھنے کے لیے ٹھہرے ،ابن جرموز نے کہا میں بھی شریک ہوں گا،حضرت زبیر ؓ نے کہا میں تمہیں امان دیتا ہوں کیا تم بھی میرے ساتھ ایسا ہی سلوک روا رکھو گے،اس نے کہاں ہاں اس عہد و پیمان کے بعد دونوں اپنے گھوڑے سے اترے اورمعبود حقیقی کے سامنے سرنیاز جھکانے کو کھڑے ہو گئے۔

شہادت[ترمیم]

حضرت زبیر ؓ جیسے ہی سجدہ میں گئے کہ عمروبن جرموز نے غداری کرکے تلوار کا وار کیا اورحواری رسول ﷺ کا سرتن سے جدا ہوکر خاک و خون میں تڑپنے لگا، افسوس !جس نے اعلاء کلمۃ اللہ کی راہ میں کبھی اپنی جان کی پروانہ کی اورجس نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے سے بارہا مصائب وشدائدکے پہاڑ ہٹائے تھے وہ آج خود ایک کلمہ خوان اورپیروِ رسول ﷺ کی شقاوت اوربے رحمی کا شکار ہو گیا۔اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ

ابن جرموزحضرت زبیر ؓ کی تلوار اورزرہ وغیرہ لے کر بارگاہِ مرتضوی ؓ میں حاضر ہوا اورفخر کے ساتھ اپنا کارنامہ بیان کیا، جناب مرتضیٰ ؓ نے تلوار پر ایک حسرت کی نظر ڈال کر فرمایا اس نے بارہا رسول اللہ ﷺ کے سامنے سے مصائب کے بادل ہٹائے ہیں اے ابن صفیہ کے قاتل تجھے بشارت ہو کہ جہنم تیری منتظر ہے۔ [26] حضرت زبیر ؓ نے چونسٹھ برس کی عمرپائی اور 36ھ میں شہید ہوکر وادی السباع میں سپرد خاک ہوئے، فنور اللہ مرقدہ وحسن مثواہ-

اخلاق وعادات[ترمیم]

حضرت زبیر ؓ کا دامن اخلاقی زروجواہر سے مالا مال تھا، تقوی،پارسائی،حق پسندی،بے نیازی،سخاوت اورایثار آپ کا خاص شیوہ تھا،رقت قلب اورعبرت پذیری کا یہ عالم تھا کہ معمولی سے معمولی واقعہ پر دل کانپ اٹھتا تھا۔ خشیتِ الہی جب یہ آیت نازل ہوئی"إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ،ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ " [27] توسرورِکائنات ﷺ سے پوچھا یا رسول اللہ کیا قیامت کے روز ہمارے جھگڑے پھر دہرائے جائیں گے؟ ارشاد ہوا ہاں ایک ایک ذرہ کا حساب ہوکر حقدار کو اس کا حق دلایا جائے گا، یہ سن کر ان کا دل کانپ اُٹھا کہنے لگے،اللہ اکبر!کیسا سخت موقع ہوگا۔ [28]

تقویٰ وپرہیز گاری حضرت زبیر ؓ کی کتاب اخلاق کا سب سے روشن باب ہے،وہ خود اس کا خیال رکھتے تھے اور دوسروں کو بھی ہدایت کرتے تھے، ایک دفعہ وہ اپنے غلام ابراہیم کی دادی ام عطاء کے پاس گئے دیکھا کہ یہاں ایام تشریق کے بعد بھی قربانی کا گوشت موجود ہے،کہنے لگے،ام عطاء رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرمایاہے، انہوں نے عرض کیا کہ میں کیا کروں لوگوں نے اس قدر ہدیے بھیج دیے کہ ختم ہی نہیں ہوتے ۔ [29]

حضرت زبیر ؓ نے جب دعوتِ اصلاح کا علم بلند کیا تو ایک شخص نے آکر کہا اگر حکم دیجئے تو علی ؓ کی گردن اڑادوں"بولے تم تنہا اس عظیم الشان فوج کا کیسے مقابلہ کرو گے؟ اس نے کہا میں علی ؓ کی فوج میں جاکر مل جاؤں گا اور کسی وقت موقع پاکر دھوکے سے قتل کرڈالوں گا،فرمایا نہیں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے ایمان قتل ناگہانی کی زنجیر ہے، اس لیے کوئی مومن کسی کو اچانک نہ مارے۔ [30]

قلتِ روایت کا سبب[ترمیم]

حضرت زبیر ؓ اگرچہ رسول اللہ ﷺ کے حواری اورہر وقت کے حاضر رہنے والوں میں تھے،لیکن کمال اتقاء کے باعث بہت کم حدیثیں روایت کرتے تھے ،ایک دفعہ آپ کے صاحبزادہ حضرت عبد اللہ ؓ نے کہا،پدر بزرگوار کیا سبب ہے کہ آپ حضور ﷺ کی اتنی باتیں بیان نہیں کرتے جتنی اورلوگ بیان کرتے ہیں، فرمایا جان پدر! حضور ﷺ کی رفاقت اورمعیت میں دوسروں سے میرا حصہ کم نہیں ہے، میں جب سے اسلام لایا، رسول اللہ ﷺ سے جدا نہیں ہوا،لیکن حضور ﷺ کی صرف اس تنبیہ نے مجھے محتاط بنادیا ہے: من کذب علی متعمدا فلیبتوا مقعدہ من النار یعنی جس نے قصدا ًمیری طرف غلط بات منسوب کی اسے چاہیے کہ جہنم میں اپنا ٹھکانا بنالے۔ [31]

مساوات پسندی[ترمیم]

مساواتِ اسلامی کا اس قدر خیال تھا کہ دومسلمان لاشوں میں بھی کسی تفریق یا امتیاز کو جائز نہیں سمجھتے تھے، جنگ احد میں آپ کےماموں حضرت حمزہ ؓ شہید ہوئے تو حضرت صفیہ ؓ نے بھائی کی تجہیز و تکفین کے لیے دو کپڑے لاکر دیے ،لیکن ماموں کے پہلو میں ایک انصاری کی لاش بھی بے گوروکفن پڑی تھی، دل نے گوارا نہ کیا کہ ایک کے لیے دودو کپڑے ہوں اوردوسرا بے کفن رہے،غرض تقسیم کرنے کے لیے دونوں ٹکڑوں کو ناپا،اتفاق سے چھوٹا بڑا نکلا قرعہ ڈال کر تقسیم کیا کہ اس میں بھی کسی طرح کی ترجیح نہ پائی جائے۔ [32]

استقلال[ترمیم]

حضرت زبیر ؓ خطرات کی مطلق پروانہ کرتے اورموت کا خوف کبھی ان کے عزم وارادہ میں حائل نہ ہوتا، اسکندریہ کے محاصرہ نے طول کھینچا تو چاہا کہ سیڑھی لگا کر قلعہ پر چڑھ جائیں،لوگوں نے کہا قلعہ میں سخت طاعون ہے،فرمایا"ہم طعن وطاعون ہی کے لیے آئے ہیں"یعنی موت سے ڈرنا کیا ہے غرض سیڑھیاں لگائی گئیں اورجان بازی کے ساتھ چڑھ گئے۔

امانت حواریِ رسول کی امانت،دیانت اورانتظامی قابلیت کا عام شہرہ تھا،یہاں تک کہ لوگ عموماًاپنی وفات کے وقت ان کو اپنے آل واولاد اورمال ومتاع کے محافظ بنانے کی تمنا ظاہر کرتے تھے،مطیع بن الاسود نے ان کو وصی بنانا چاہا، انہوں نے انکار کیا تو لجاجت کے ساتھ کہنے لگے"میں آپ کو خدا،رسول ﷺ اورقرابت داری کا واسطہ دلاتا ہوں، میں نے فاروق اعظم ؓ کو کہتے سنا ہے کہ زبیر ؓ دین کے ایک رکن ہیں، حضرت عثمان ؓ، مقداد ،عبد اللہ بن مسعود ؓ اورعبدالرحمان بن عوف ؓ وغیرہ نے بھی ان کو اپنا وصی بنایا تھا، چنانچہ یہ دیانتداری کے ساتھ ان کے مال ومتاع کی حفاظت کرکے ان کے اہل و عیال پر صرف کرتے تھے۔ [33]

فیاضی[ترمیم]

فیاضی،سخاوت اورخداکی راہ میں خرچ کرنے میں بھی پیش پیش رہتے تھے، حضرت زبیر ؓ کے پاس ایک ہزار غلام تھے،روزانہ اجرت پر کام کرکے ایک بیش قرار رقم لاتے تھے، لیکن انہوں نے اس میں سے ایک حبہ بھی کبھی اپنی ذات یا اپنے اہل و عیال پر صرف کرنا پسند نہ کیا بلکہ جو کچھ آیا اسی وقت صدقہ کر دیا،[34]غرض ایک پیغمبر کے حواری میں جو خوبیاں ہوسکتی ہیں،حضرت زبیر ؓ کی ذات والا صفات میں ایک ایک کرکے وہ سب موجود تھیں۔

ذریعہ ٔمعاش اورتمول[ترمیم]

معاش کا اصلی ذریعہ تجارت تھا، اورعجیب بات ہے کہ انہوں نےجس کام میں ہاتھ لگایا، کبھی گھاٹا نہیں ہوا۔ [35] تجارت کے علاوہ مالِ غنیمت سے بھی گراں قدررقم حاصل کی،حضرت زبیر ؓ کے تمول کا صرف اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ ان کے تمام مال کا تخمینہ پانچ کروڑدولاکھ درہم (یادینار)کیا گیا تھا، لیکن یہ سب نقد نہیں؛ بلکہ جائداد غیر منقولہ کی صورت میں تھا، اطراف مدینہ میں ایک جھاڑی تھی، اس کے علاوہ مختلف مقامات میں مکانات تھے،چنانچہ خاص مدینہ میں گیارہ ،بصرہ میں دو اورمصروکوفہ میں ایک ایک مکان تھا۔ [36]

قرض اوراس کی ادائیگی[ترمیم]

حضرت زبیر ؓ اس قدر تمول کے باوجود بائیس لاکھ کے مقروض تھے اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگ عموما ًاپنا مال ان کے پاس جمع کرتے تھے،لیکن یہ احتیاط کے خیال سے سب سے کہہ دیتے تھے کہ امانت نہیں ؛بلکہ قرض کی حیثیت سے لیتا ہوں، ہوتے ہوتے اسی طرح بائیس لاکھ کے مقروض ہو گئے۔ [37]

حضرت زبیر ؓ جب جنگ جمل کے لیے تیارہوئے تو انہوں نے اپنے صاحبزادہ عبد اللہ ؓ سے کہا"جان پدر مجھے سب سے زیادہ خیال اپنے قرض کا ہے، اس لیے میرا مال ومتاع بیچ کر سب سے پہلے قرض ادا کرنا اورجو کچھ بچ رہے اس میں سے ایک ثلث خاص تمہارے بچوں کے لیے وصیت کرتا ہوں ،ہاں اگر مال کفایت نہ کرے تو میرے مولیٰ کی طرف رجوع کرنا ،حضرت عبد اللہ ؓ نے پوچھا"آپ کا مولیٰ کون ہے؟ میرا مولیٰ خدا ہے جس نے ہر مصیبت کے وقت میری دستگیری کی ہے۔" عبد اللہ بن زبیر ؓ نے حسب وصیت مختلف آدمیوں کے ہاتھ جھاڑی بیچ کر قرض ادا کرنے کا سامان کیا اورچاربرس تک موسم حج میں اعلان کرتے رہے کہ زبیر ؓ پر جس کا قرض ہو آکر لے لے،غرض اس طرح سے قرض ادا کرنے کے بعد بھی اس قدر رقم بچ رہی کہ صرف حضرت زبیر ؓ کی چاربیویوں میں سے ہر ایک کو بارہ بارہ لاکھ حصہ ملا، موصی لہ اوردوسرے ورثہ کے علاوہ تھے۔ [38]

جاگیروزراعت[ترمیم]

فتح خیبر کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اس کی زمین کو مجاہدین پر تقسیم فرمادیا تھا، چنانچہ حضرت زبیر ؓ کو بھی اس میں سے ایک وسیع اورسرسبز قطعہ ملاتھا، اس کے علاوہ مدینہ کے اطراف میں بھی ان کے کھیت تھے، جن کو وہ خود آباد کرتے تھے، کبھی کبھی آب پاشی وغیرہ کے متعلق دوسرے شرکاء سے جھگڑا بھی ہوجاتا تھا، ایک دفعہ ایک انصاری سے جن کا کھیت حضرت زبیر ؓ کے کھیت سے ملا ہوا نیچے کی طرف تھا، آب پاشی کے متعلق جھگڑا ہوا، انصار ی ؓ نے بارگاہِ نبوت میں شکایت کی تو آنحضرت ﷺ نے حضرت زبیر ؓ سے فرمایا کہ تم اپنا کھیت سینچ کر اپنے پڑوسی کے لیے پانی چھوڑدیا کرو، انصاری اس فیصلہ سے ناراض ہوئے اور کہنے لگے"یارسول اللہ! آپ نے اپنے پھوپھی زادہ کی پاسداری فرمائی،چونکہ انصاری کو اس آب پاشی سے متمتع ہونے کا کوئی حق نہ تھا اوررسول اللہ ﷺ نے محض ان کی رعایت سے یہ فیصلہ صادر فرمایا تھا،اس لیے چہرہ سرخ ہو گیا، اورحضرت زبیر ؓ کو حکم دیا کہ تم اپنے پورے حق سے فائدہ اٹھاؤ،یعنی خود آب پاشی کرکے پانی کو روک رکھو یہاں تک کہ نالیوں کے ذریعہ سے دوسری طرف بہ جائے۔ کھیت کی نگرانی اورفصل کی حفاظت کا فرض بسااوقات خود ہی انجام دیتے تھے،ایک دفعہ عہد فاروقی ؓ میں حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ اورحضرت مقداد بن الاسود ؓ کے ساتھ اپنی جاگیر کی دیکھ بھال کے لیے خیبر تشریف لے گئے اور رات کے وقت تک تینوں علاحدہ اپنی اپنی جاگیر کے قریب سوئے رات کی تاریکی میں کسی یہودی نے شرارت سے حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کی کلائی اس زور سے موڑدی کہ بے اختیار ہو کر چلااُٹھے ،حضرت زبیر ؓ وغیرہ مدد کے لیے دوڑے اورواقعہ دریافت کرکے ان کو لیے ہوئے بارگاہِ خلافت میں حاضر ہوئے اوریہودیوں کی شرارت کا حال بیان کیا،چنانچہ حضرت عمرؓ نے اسی واقعہ کے بعد یہودیوں کو خیبر سے جلاوطن کر دیا۔ [39] حضرت ابوبکر ؓ نے بھی مقام جرف میں انہیں ایک جاگیر مرحمت فرمائی تھی، اسی طرح حضرت عمر ؓ نے مقام عقیق کی زمین انہیں دے دی تھی،[40] جو مدینہ کے اطراف میں ایک خوش فضا میدان ہے۔

آل واولاد سے محبت[ترمیم]

حضرت زبیرؓ کو بیوی بچوں سے نہایت محبت تھی،خصوصاً حضرت عبد اللہ ؓ اوران کے بچوں کو بہت مانتے تھے،چنانچہ اپنے مال میں سے ایک ثلث کی خاص ان کے بچوں کے لیے وصیت کی تھی،لڑکوں کی تربیت کو بھی خاص طورپر ملحوظ رکھتے تھے، جنگ یرموک میں شریک ہوئے تو اپنے صاحبزادہ عبد اللہ بن زبیر ؓ کو بھی ساتھ لے گئے،اس وقت ان کی عمر صرف دس سال کی تھی، لیکن حضرت زبیر ؓ نے ان کو گھوڑے پر سوار کرکے ایک آدمی کے سپرد کر دیا کہ جنگ کے ہولناک مناظر دکھا کر جرات و بہادری کا سبق دے۔

غذا ولباس[ترمیم]

دولت وثروت کے باوجود طرز معاشرت نہایت سادہ تھا،غذا بھی پرتکلف نہ تھی ،لباس عموماً معمولی اورسادہ زیب بدن فرماتے ،البتہ جنگ میں ریشمی کپڑے استعمال کرتے تھے؛ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے خاص طور پران کو اجازت دی تھی،آلاتِ حرب کا نہایت شوق تھا اوراس میں تکلف جائز سمجھتے تھے،چنانچہ ان کی تلوار کا قبضہ نقرئی تھا۔

حلیہ[ترمیم]

بدن چھریرا،قدربلندوبالا،خصوصا ًپاؤں اس قدر لمبے کہ گھوڑے پر چڑہتے تو پاؤں زمین سے چھوجاتا،رنگ گندم گوں اورسرپرکندھوں تک بالوں کی لٹیں۔

اولاد وازواج[ترمیم]

حضرت زبیر ؓ نے مختلف اوقات میں متعدد شادیاں کیں اورکثرت کے ساتھ اولاد پیدا ہوئی،بعض بچے تو ان کی حیات ہی میں قضا کر گئے؛ تاہم پھر بھی بہت سی اولاد یادگار رہ گئی۔ ان کی تفصیل حسب ذیل ہے:

اسماء بنت ابی بکر ؓ[ترمیم]

ان کے بطن سے چھ بچے ہوئے،نام یہ ہیں: عبد اللہ، عروہ،منذر، خدیجۃ الکبری،ام الحسن عائشہ۔

ام خالد بنت خالد بن سعید[ترمیم]

انہوں نے خالد، عمر، حبیبہ ،سودہ،اورہندیادگار چھوڑی۔

رباب بنت انیف[ترمیم]

ان سے مصعب، حمزہ اوررملہ پیدا ہوئیں۔

زینب بنت بشر[ترمیم]

ان کے بطن سے عبیدہ،جعفر اورحفصہ پیدا ہوئیں۔

ام کلثوم بنت عقبہ[ترمیم]

ان سے صرف ایک لڑکی زینب پیدا ہوئی۔

حدیث میں ذکر[ترمیم]

ان 10 صحابہ کرام م اجمعین کا ذکر عبدالرحمن بن عوف رضي اللہ تعالٰی عنہ کی روایت کردہ حدیث میں ہے کہ:

عبدالرحمن بن عوف رضي اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہيں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، عثمان رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہيں، علی رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، طلحہ جنتی ہیں، زبیر رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، عبدالرحمن رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، سعد رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہيں، سعید جنتی ہیں، ابوعبیدہ رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں۔[41]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. (ابن سعد اصابہ تذکرہ زبیر ؓ)
  2. (اصابہ جلد 1 تذکرہ زبیر ؓ)
  3. (مستدرک حاکم:3/359)
  4. (اسد الغابہ تذکرہ زبیر بن عوام ؓ)
  5. (اصابہ جلد 1 تذکرہ زبیر ؓ)
  6. (کنزالعمال:6/416)
  7. (بخاری باب غزوۂ بدر)
  8. (کنز العمال :6/416)
  9. (زرقانی :2/132)
  10. ( ایضاً)
  11. (مسند:1/164)
  12. (بخاری کتاب المغازی باب غزوۂ خندق)
  13. (مسند : ا/164)
  14. (سیرت ابن ہشام :2/182)
  15. (الممتحنۃ:1)
  16. (بخاری باب غزوۃ الفتح )
  17. (طبقات ابن سعد قسم اول جزء ثالث صفحہ 73)
  18. (بخاری کتاب الغازی)
  19. (فتوح البلدان: 220)
  20. (مسند ابن حنبل:1/166)
  21. (بخاری کتاب المناقب قصۃ البیعۃ)
  22. (تاریخ طبری : 3077)
  23. (تاریخ طبری: 3081)
  24. (تاریخ طبری:3080)
  25. (مستدرک حاکم:3/366)
  26. (مسند جلد1 صفحہ 89)
  27. (الزمر:30،31)
  28. (ایضا:1/167)
  29. (ایضاً جلد 1 صفحہ 166)
  30. (مسند:1 / 166)
  31. (ابوداؤد کتاب العلم باب فی التشدید فی الکذب علی رسول اللہ ﷺ ومسند :1/165،وصحیح بخاری : 1/21)
  32. (مسند:1/165)
  33. (اصابہ :3/6)
  34. (ایضاً جلد 2 صفحہ6)
  35. (استیعاب :1/208)
  36. (بخاری کتاب الجہاد باب برکۃ الغازی مالہ)
  37. (ایضاً)
  38. (بخاری کتاب الجہاد باب برکۃ الغازی فی مالہ)
  39. (ابن ہشام:2/201)
  40. (ابن سعد قسم اول جلد 3 صفحہ 173)
  41. جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر1713