عکاشہ بن محصن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عکاشہ بن محصن
عكاشة بن محصن.png

معلومات شخصیت
پیدائشی نام عکاشہ بن محصن
تاریخ وفات سنہ 633  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کنیت ابو محصن
رشتے دار بہن بھائی:
ابو سنان بن محصن
ام قیس بنت محصن
عملی زندگی
نسب الاسدی
پیشہ محدث  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غزوات نبی محمد
فتنۂ ارتداد کی جنگیں

عُکاشہ بن محِصن (پیدائش: 589ء— وفات: 632ء) فضیلت کے لحاظ سے اکابر و سیادات صحابہ میں شمار تھا۔

حلیہ[ترمیم]

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وصال پر ملال کے وقت ان کی عمر 44 برس کی تھی اور وہ نہایت خوش رو تھے۔ شمس الدین ذہبی نے ان کے بارے میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: کان من اجمل الرجال۔ کہ وہ خوبصورت ترین مرد تھے۔[1]

نام و نسب[ترمیم]

عکاشہ نام، ابو محصن کنیت، محصن بن حرثان کے نورنظر تھے، پوراسلسلہ نسب یہ ہے عکاشہ بن محصن بن حرثان بن قیس بن مرہ بن کبیر بن غنم بن دودان بن اسد بن خزیمہ الاسدی۔ ایام جاہلیت میں بنی عبد شمس کے حلیف تھے۔ابو سنان بن محصن کے چھوٹے بھائی تھے دونوں غزوہ بدر میں شامل تھے۔

اسلام وہجرت[ترمیم]

مکہ میں قبل ہجرت اسلام قبول کیا، رسول اللہﷺ نے جب یثرب ہجرت کی تو یہ بھی مدینہ پہنچے۔[2]

غزوات[ترمیم]

غزوۂ بدر میں غیر معمولی جانبازی وشجاعت کے ساتھ سرگرم کارزار تھے، ان کی تلوار ریزے ریزے ہوکر اُڑگئی تو آنحضرت ﷺ نے ان کو کھجور کی ایک چھڑی مرحمت فرمائی، جس نے خنجر خار شگاف بن کہ دشمن کا صفایا کر دیا، وہ آخروقت تک اس سے لڑتے رہے یہاں تک کہ حق نے فتح پائی اورباطل مغلوب ہوا۔ اس معرکہ کے علاوہ احد، خندق اورتمام دوسری مشہور جنگوں میں جوش و پامردی کے ساتھ نبرد آزما تھے۔[3]، ماہ ربیع الاول ۶ھ میں چالیس آدمیوں کی ایک جمعیت کے ساتھ بنواسد کی سرکوبی پر مامور ہوئے جو مدینہ کی راہ میں چشمہ غمر پر خیمہ لگائےہوئے تھے، حضرت عکاشہ نہایت تیزی کے ساتھ یلغار کرتے ہوئے موقع پر جا پہنچے؛ لیکن وہ خائف ہوکر پہلے ہی بھاگ گئے تھے، اس لیے کوئی جنگ پیش نہ آئی، صرف دوسو اونٹ اوربھیڑ بکریاں گرفتار کرکے لے آئے۔ [4]

شہادت[ترمیم]

۱۲ھ میں خلیفہ اول ؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو طلیحہ کی بیخ کنی پر مامور فرمایا جس نے آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا تھا، حضرت عکاشہؓ اورحضرت ثابت بن اقرمؓ اس فوج کے آگے آگے طلیعہ کی خدمت انجام دے رہے تھے، اتفاقاً راہ میں غنیم کے سواروں سے مڈبھیڑ ہوگئی، جس میں خود طلیحہ اوراس کا بھائی سلمہ بن خویلد شامل تھا،طلیحہ نے حضرت عکاشہؓ پر حملہ کیا اورسلمہ حضرت ثابت بن اقرمؓ پر جاپڑا، وہ شہید ہوئے تو طلیحہ نے پکار کر کہا: "سلمہ!جلدی میری مدد کو آؤ، یہ مجھے قتل کیے ڈالتا ہے " وہ فارغ ہوچکا تھا، اس لیے یکا یک ٹوٹ پڑا اور دونوں نے اس شیر کو نرغہ میں لے کر شہید کردیا۔ [5]

تجہیز وتکفین[ترمیم]

اسلامی فوج ظفر موج جب ان دونوں شہیدان ملت کے قریب پہنچی تو ایسے جواہر پاروں کے فقدان کا سب کو نہایت شدید قلق ہوا، حضرت عکاشہ ؓ کے جسم پر نہایت خوفناک زخم تھے اور تمام بدن چھلنی ہوگیا تھا، حضرت خالدؓ بن ولیدؓ امیر عسکر گھوڑے سے اتر پڑے اورتمام فوج کو روک کر اسی خون آلودہ پیراہن کے ساتھ زیر زمین دفن کیا۔ [6]

فضل وکمال[ترمیم]

ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ستر ہزار آدمی بغیر حساب کتاب بخشدیئے جائیں گے ،انہوں نے معصومانہ سادگی کے ساتھ عرض کیا، یارسول اللہ!میں فرمایا تم بھی ان ہی میں ہو، اس پر ایک دوسرے شخص نے اپنی نسبت پوچھا تو ارشاد ہوا،"عکاشہ تم پر سبقت لے گیا، اس واقعہ کے بعد سے یہ جملہ ضرب المثل ہو گیا اورجب کوئی کسی پر سبقت لے جاتاتو کہتے "فلاں عکاشہؓ کی طرح سبقت لے گیا۔[7]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سیر اعلام النبلاء از شمس الدین ذہبی ج 3، ص 134
  2. اسد الغابہ :4/2
  3. استیعاب تذکرۂ عکاشہ
  4. (طبقات ابن سعد حصہ مغازی :۶۱)
  5. (طبقات ابن سعد حصہ مغازی :۶۲)
  6. (طبقات ابن سعد حصہ مغازی :۶۲)
  7. بخاری