سفینہ مولی رسول اللہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سفینہ مولی رسول اللہ
معلومات شخصیت

نام و نسب[ترمیم]

سفینہ مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابی رسول اور اصحاب صفہ میں شامل ہیں علامہ ابونعیم اصبہانی نے سفینہ کو اصحابِ صفہ میں شمار کیا ہے ۔ سفینہ کے نام کے سلسلہ میں علامہ ابن حجر عسقلانی نے اکیس اقوال لکھے ہیں : مہران، طہمان، مروان، بخران، رومان، ذکوان، کیشان، سلیمان، ایمن، مرقنہ، احمد، رباح، مفلح، عمیر، معقب، قیس، عبس، سعنۃ، شعنۃ البتہ امام ابو الفرج ابن الجوزی، علامہ ابن کثیر اور علامہ شمس الدین ذہبی نے مہران نام کو ترجیح دی ہے سفینہ لقب، ابو عبدالرحمن کنیت اور فارسی النسل ہیں ، جب کہ علامہ واقدی نے عربی النسل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بطن نخلہ میں رہاکرتے تھے ۔ سفینہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ہیں ، جب کہ دوسرے قول کے مطابق ام المؤمنین ام سلمہ کے آزاد کردہ غلام ہیں

اسلام[ترمیم]

ایک روایت میں خود سفینہ کا بیان ہے ’’کنت مملوکاً لأم سلمۃ‘‘کہ میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا غلام تھا۔ ایک دن انہوں نے کہا! اے سفینہ! میں تمہیں اس شرط پر آزاد کروں گی کہ توزندگی بھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا رہے ۔ میں نے عرض کیا! اگر آپ مجھ سے خادمِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بننے کی شرط نہ لگاتیں تب بھی اپنی پوری زندگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ہی میں گذاردیتا ،یہ سنتے ہی آزاد توکردیا، مگر وہ شرط باقی ہی رکھی۔[1] حلیۃ الأولیاء میں ہے کہ نبی اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال تک خدمت کرتے رہے اور اصحابِ صفہ کے ساتھ رہ کر گزربسرکرتے رہے ۔ [2] چنانچہ آزادی کے بعد آنحضرتﷺ کی خدمت گزاری میں رہتے تھے،اس لیے سفر میں بھی مشایعت کا شرف حاصل ہوتا تھا، ایک مرتبہ کسی سفر میں ہمرکاب تھے ،راستہ میں جو جو ہمراہی تھکتے جاتے تھے وہ اپنے اسلحہ ڈھال، تلوار اورنیزہ وغیرہ ان پر لادتے جاتےتھے، اس لیے ان پر بڑا بار لدگیا، آنحضرتﷺنے دیکھ کر فرمایا تم ،سفینہ، کشتی ہو، اس وقت سے سفینہ ان کا لقب ہو گیا یہ بھی اس لقب کو اس قدر محبوب رکھتے تھے کہ اس کے مقابلہ میں اپنا نام چھوڑدیا تھا، اسی لیے انکا صحیح نام متعین نہیں، اگر کوئی نام پوچھتا تو کہتے نہ بتاؤں گا،حضورﷺ نے سفینہ نام رکھا ہے اوریہ میرے لیے بس ہے[3] حدیث الخلافة في أمتي ثلاثون سنةً ثم ملك بعد ذلك خلافت میری امت میں تیس برس رہے گی، اس کے بعد بادشاہ ہوں گے۔ ان ہی سے مروی ہے،یہ بنی امیہ کے زمانہ تک زندہ تھے،مذکورہ بالا روایت کو پیش نظر رکھ کر حساب لگاتے جاتے تھے، خلافت راشدہ کے اختتام پر یہ مدت پوری ہوجاتی ہے،لیکن بنی امیہ بھی اپنے کو خلیفہ ہی کہتے تھے،سعید بن جمہان نے سفینہ سے کہا کہ بنی امیہ بھی اپنے کو خلیفہ کہتے ہیں، انہوں نے کہا زرقاء کی اولاد جھوٹ کہتی ہے، یہ لوگ بادشاہ اوربُرے بادشاہ ہیں۔ [4]

وفات[ترمیم]

سفینہ کا انتقال حجاج بن یوسف کے زمانہ 70ھ کے بعد ہوا ۔

فضل وکمال[ترمیم]

سفینہ حضورﷺ کے غلام تھے ،خدمت کی تقریب سے پیشتر حضوری کا شرف اورآپ کے ارشادات سننے کا موقع ملتا تھا، چنانچہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ ،آپ کے علاوہ حضرت ام سلمہؓ اورحضرت علیؓ سے روایتیں کی ہیں، ان کی روایات کی مجموعی تعداد 14 ہے ،ان میں سے ایک مسلم میں بھی ہے۔ [5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سنن ابوداؤد
  2. حلیۃ الأولیاء: 1/368 ۔
  3. (اسد الغابہ:2/324،واستیعاب:2/601)
  4. (اسد الغابہ:2/324)
  5. (تہذیب الکمال:162)