زیاد بن لبید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
زیاد بن لبید
معلومات شخصیت
پیدائشی نام زِیَاد بن لَبِید
مقام پیدائش مدینہ منورہ
تاریخ وفات 41ھ
اولاد عبد اللہ
والدہ عمرہ بنت عبید بن مطروف
عملی زندگی
طبقہ صحابہ
نسب الانصاری الخزرجی البیاضی
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غزوہ بدر
غزوہ احد
غزوہ خندق
باقی تمام

زیاد بن لبید غزوہ بدر میں شامل فقہا صحابہ میں تھے۔

نام ونسب[ترمیم]

زیاد نام ،ابو عبداللہ کنیت،قبیلۂ خزرج کے خاندان بیاضہ سے ہیں،سلسلہ نسب یہ ہے،زیاد بن لبید بن ثعلبہ بن سنان بن عامر بن عدی بن امیہ بن بیاضہ بن عامر بن زریق بن عبد حارثہ بن مالک بن غضب بن جشم بن خزرج۔

اسلام[ترمیم]

بیعتِ عقبہ میں شریک تھے،جب مدینہ میں مہاجرین کی آمد شروع ہوئی تو انصار کی ایک جماعت جو چار آدمیوں پر مشتمل تھی،مکہ پہنچی جس میں ایک زیادتھے،وہاں سےبہت سے صحابہ کے ساتھ مدینہ واپس آئے،اس بنا پر یہ لوگ انصاری بھی تھے اور مہاجر بھی۔

غزوات[ترمیم]

غزوات ،بدر،احد،خندق،اورتمام غزوات میں شریک تھے۔

یمن کے حاکم[ترمیم]

9ھ میں آنحضرتﷺ نے یمن کا حاکم بنایا، یہ ملک 5 حصوں پر تقسیم تھا [1] زیاد حضرت موت کے عامل تھے،صدقات کا محکمہ بھی ان کے زیر ریاست تھا ۔ آنحضرتﷺ کی وفات کے بعد جب اہل یمن مرتد ہوگئے،اورزکوٰۃ بند کردی تو ابوبکرنے زیاد کو اس بارہ میں لکھا، انہوں نے شاہان کندہ پر شبخون مار کر فتح حاصل کی،اشعث بن قیس کا محاصرہ کرکے شکست دی اور اس کو دارالخلافت روانہ کیا، انہوں نے مرتدین کی جنگ میں بڑی جانبازی دکھائی۔ خلافت صدیقی اورفاروقی میں بھی اسی خدمت پر ممتاز رہے، اس فرض سے سبکدوشی کے بعد کوفہ کی سکونت اختیار کی،بعض کا خیال ہے کہ شام میں قیام کیا تھا۔

وفات[ترمیم]

41ھ میں انتقال ہوا، یہ امیر معاویہ کی حکومت کا پہلا سال تھا۔[2][3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. استیعاب:1/246،حالات معاذ بن جبل
  2. اسد الغابہ جلد 1 صفحہ 844حصہ چہارم مؤلف: ابو الحسن عز الدين ابن الاثير ،ناشر: المیزان ناشران و تاجران کتب لاہور
  3. اصحاب بدر،صفحہ 144،قاضی محمد سلیمان منصور پوری، مکتبہ اسلامیہ اردو بازار لاہور