حسین ابن علی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
حسین بن علی

الحُسين بن علي

تخطيط اسم الحسين بن علي مع دعاء الرضا عنه
امام، شہید کربلا، سید الشہداء، امام عالیٰمقام، دعائیہ کلمات: رضی اللہ عنہ عليه السلام.png
ولادت 3 شعبان ، بمطابق 8 جنوری 626ء
المدينة المنورة
وفات 10 محرم 61ھ، بمطابق 10 اكتوبر 680ء
كربلا، عراق
قابل احترام اسلام
نسب والد : علی ابن ابی طالب
والدہ : فاطمہ الزہراء

بھائی۔ بہن :

حسن بن علی
زینب بنت علی
عمر بن التغلبيہ
ابوبكر بن علی
محمد بن حنیفہ
عثمان بن علی
عباس بن علی

ازواج :

شاه زنان بنت يزدجرد
ليلى بنت عروہ بن مسعود ثقفی
رباب بنت امرئ القيس بن عدی
ام إاسْحَاق بنت طلحہ بن عبيد اللہ

اولاد :

علی اکبر
علی اوسط
علی اصغر
جعفر
فاطمہ بنت حسین
سكينہ بنت حسین
مقالہ بہ سلسلۂ مضامین

اولادِمحمد

حضرت محمد کے بیٹے

قاسم _ عبداللہ _ ابراھیم

حضرت محمد کی بیٹیاں

فاطمہ _ زینب _ ام کلثوم
رقیہ

حضرت فاطمہ کی اولاد
بیٹے

حسن _ حسین

بیٹیاں

زینب _ ام کلثوم


حسین ابن علی (امام حسین) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چھوٹے نواسے اور علی بن ابی طالب و فاطمہ زہرا کے چھوٹے بیٹے تھے۔ 'حسین' نام اور ابو عبد اللہ کنیت ہے۔ ان کے بارے میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ حسین منی و انا من الحسین یعنی 'حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں' [1]

ولادت

ہجرت کے چوتھے سال تیسری شعبان پنجشنبہ کے دن آپ کی ولادت ہوئی۔ اس خوشخبری کو سن کر جناب رسالت ماب تشریف لائے، بیٹے کو گود میں لیا، داہنے کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہی اور اپنی زبان منہ میں دے دی۔ پیغمبر کا مقدس لعاب دہن حسین علیہ السّلام کی غذا بنا۔ساتویں دن عقیقہ کیا گیا۔ آپ کی پیدائش سے تمام خاندان میں خوشی اور مسرت محسوس کی جاتی تھی، مگر آنے والے حالات کا علم پیغمبر کو تھا، اس لئے آپ کی آنکھوں میں آنسو برس پڑا۔ اور اسی وقت سے حسین کے مصائب کا چرچا اہلیبت ُ رسول کی زبانوں پر آنے لگا۔[2]

پرورش

پیغمبرِ اسلام کی گود میں جو اسلام کی تربیت کا گہوارہ تھی اب دن بھر دو بچّوں کی پرورش میں مصروف ہوئی ایک حسن دوسرے حسین اور اس طرح ان دونوں کا اور اسلام کا ایک ہی گہوارہ تھا جس میں دونوں پروان چڑھ رہے تھے۔ ایک طرف پیغمبرِ اسلام جن کی زندگی کا مقصد ہی اخلاق انسانی کی تکمیل تھی اور دوسری طرف حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب جو اپنے عمل سے خدا کی مرضی کے خریدار بن چکے تھے تیسری طرف حضرت فاطمہ زہرا جو خواتین کے طبقہ میں پیغمبر کی رسالت کو عملی طور پر پہنچانے کے لیے ہی قدرت کی طرف سے پیدا ہوئی تھیں اس نورانی ماحول میں حسین کی پرورش ہوئی۔

رسول کی محبت

جیسا کہ حضرت امام حسن کے حالات میں لکھا جاچکا ہے کہ حضرت محمد مصطفےٰ اپنے دونوں نواسوں کے ساتھ انتہائی محبت فرماتے تھے . سینہ پر بیٹھاتے تھے . کاندھوں پر چڑھاتے تھے اور مسلمانوں کو تاکید فرماتے تھے کہ ان سے محبت رکھو . مگر چھوٹے نواسے کے ساتھ آپ کی محبت کے انداز کچھ امتیاز خاص رکھتے تھے .ایسا ہو اہے کہ نماز میں سجدہ کی حالت میں حسین پشت ُ مبارک پراگئے تو سجدہ میں طول دیا . یہاں تک کہ بچہ خود سے بخوشی پشت پر سے علیٰحدہ ہوگیا .اس وقت سر سجدے سے اٹھایا اور کبھی خطبہ پڑھتے ہوئے حسین مسجد کے دروازے سے داخل ہونے لگے اور زمین پر گر گئے تو رسول نے اپنا خطبہ قطع کردیا منبر سے اتر کر بچے کوزمین سے اٹھایا اور پھر منبر پر تشریف لے گئے اور مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ »دیکھو یہ حسین ہے اسے خوب پہچان لو اور اس کی فضیلت کو یاد رکھو « رسول نے حسین کے لیے یہ الفاظ بھی خاص طور سے فرمائے تھے کہ »حسین مجھ سے اور میں حسین سے ہوں,, مستقبل نے بتادیا کہ رسول کا مطلب یہ تھا کہ میرا نام اور کام دُنیا میں حسین کی بدولت قائم رہیگا .

رسول کی وفات کے بعد

امام حسین کی عمر ابھی چھ سال کی تھی جب انتہائی محبت کرنے والے کاسایہ سر سے اٹھ گیا .اب پچیس برس تک حضرت علی ابن ابی طالب کی خانہ نشینی کادور ہے .اس زمانہ کے طرح طرح کے ناگوار حالات امام حسین دیکھتے رہے اور اپنے والد بزرگوار کی سیرت کا بھی مطالعہ فرماتے رہے . یہ وہی دور تھا جس میں آپ نے جوانی کے حدود میں قدم رکھا اور بھر پور شباب کی منزلوں کو طے کیا .35ھ میں جب حسین کی عمر 31 برس کی تھی عام مسلمانوں نے حضرت علی ابن ابی طالب کو بحیثیت خلیفہ اسلام تسلیم کیا . یہ امیر المومنین کی زندگی کے اخری پانچ سال تھے جن میں جمل صفین اور نہروان کی لڑائیں ہوئی اور امام حسین ان میں اپنے بزرگ مرتبہ باپ کی نصرت اور حمایت میں شریک ہوئے اور شجاعت کے جوہر بھی دکھلائے .40ھ میں جناب امیر مسجد کوفہ میں شہید ہوئے اور اب امامت وخلافت کی ذمہ داریاں امام حسن کے سپرد ہوئیں جو حضرت امام حسین کے بڑے بھائی تھے .حسین نے ایک باوفااور اطاعت شعار بھائی کی طرح حسن کاساتھ دیااور جب امام حسن نے اپنے شرائط کے ماتحت جن سے اسلامی مفاد محفوظ رہ سکے امیر معاویہ کے ساتھ صلح کرلی تھی تو امام حسین بھی اس مصلحت پر راضی ہوگئے اور خاموشی اور گوشہ نشینی کے ساتھ عبادت اور شریعت کی تعلیم واشاعت میں مصروف رہے مگر امیر معاویہ نے ان شرائط کو جو امام حسن کے ساتھ ہوئے تھے بالکل پورا نہ کیا خود امام حسن کو سازش ہی سے زہر دیا گیا- حضرت علی بن ابی طالب کے شیعوں کو چن چن کے قید کیا گیا- سر قلم کئے گئے اور سولی پر چڑھایا گیا اور سب سے آخر اس شرط کے بالکل خلاف کہ امیر معاویہ کو اپنے بعد کسی کو جانشین مقرر کرنے کا حق نہ ہو گا۔ امیر معاویہ نے یزید کو اپنے بعد کے ليے ولی عہد بنا دیا اور تمام مسلمانوں سے اس کی بیعت حاصل کرنے کی کوشش کی گئی اور زور و زر دونوں طاقتوں کو کام میں لا کر دنیائے اسلام کے بڑے حصے کا سر جھکوا دیا گیا-

محمد ابن جریر طبری، ابن خلدون، ابن کثیر غرض بہت سے مفسرین اور مورخین نےلکھا ہے کہ ابن زیاد نے خاندان رسالت کوکربلا میں قتل کیااور قیدیوں کو اونٹوں پر شہیدوں کے سروں کے ساتھ دمشق بھیج دیا ۔ دمشق میں بھی ان کے ساتھ کچھ اچھا سلوک نہ ہوا۔ یزید نے امام حسین کے سر کو اپنے سامنے طشت پر رکھ کر ان کے دندان مبارک کو چھڑی سے چھیڑتے ہوے اپنے کچھ اشعار پڑھے جن سے اس کا نقطہ نظر معلوم ہوتا ہے جن کا ترجمہ کچھ یوں ہے [3]

کاش آج اس مجلس میں بدر میں مرنے والے میرے بزرگ اور قبیلہ خزرج کی مصیبتوں کے شاہد ہوتے تو خوشی سے اچھل پڑتے اور کہتے : شاباش اے یزید تیرا ہاتھ شل نہ ہو ، ہم نے ان کے بزرگوں کو قتل کیا اور بدر کاانتقام لے لیا ، بنی ہاشم سلطنت سے کھیل رہے تھے اور نہ آسمان سے کوئی وحی نازل ہوئي نہ کوئي فرشتہ آیا ہے۔

امام حسین عراق میں کربلا کے مقام پر مدفون ہیں۔

اخلاق و اوصاف

امام حسین سلسلہ امامت کے تیسرے فرد تھے-حوالہ درکار؟ عصمت و طہارت کا مجسمہ تھے- آپ کی عبادت، زہد، سخاوت اور آپ کے کمالِ اخلاق کے دوست و دشمن سب ہی قائل تھے- پچیس حج آپ نے پاپیادہ کئے- آپ میں سخاوت اور شجاعت کی صفت کو خود رسول اللہ نے بچپن میں ایسا نمایاں پایا کہ فرمایا "حسین میں میری سخاوت اور میری جراَت ہے"- چنانچہ آپ کے دروازے پر مسافروں اور حاجتمندوں کا سلسلہ برابر قائم رہتا تھا اور کوئی سائل محروم واپس نہیں ہوتا تھا- اس وجہ سے آپ کا لقب ابوالمساکین ہو گیا تھا- راتوں کو روٹیوں اور کھجوروں کے پشتارے اپنی پیٹھ پر اٹھا کر لے جاتے تھے اور غریب محتاج بیواؤں اور یتیم بچوں کو پہنچاتے تھے جن کے نشان پشت مبارک پر پڑ گئے تھے- حضرت ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ "جب کسی صاحبِ ضرورت نے تمہارے سامنے سوال کے ليے ہاتھ پھیلا دیا تو گویا اس نے اپنی عزت تمہارے ہاتھ بیچ ڈالی- اب تمہارا فرض یہ ہے کہ تم اسے خالی ہاتھ واپس نہ کرو، کم سے کم اپنی ہی عزتِ نفس کا خیال کرو"-
غلاموں اور کنیزوں کے ساتھ آپ عزیزوں کا سا برتاؤ کرتے تھے- ذرا ذرا سی بات پر آپ انہیں آزاد کر دیتے تھے- آپ کے علمی کمالات کے سامنے دنیا کا سر جھکا ہوا تھا- مذہبی مسائل اور اہم مشکلات میں آپ کی طرف رجوع کی جاتی تھی- آپ کی دعاؤں کا ایک مجموعہ صحیفہ حسینیہ کے نام سے اس وقت بھی موجود ہے آپ رحمدل ایسے تھے کہ دشمنوں پر بھی وقت آنے پر رحم کھاتے تھے اور ایثار ایسا تھا کہ اپنی ضرورت کو نظر انداز کر کے دوسروں کی ضرورت کو پورا کرتے تھے- ان تمام بلند صفات کے ساتھ متواضع اور منکسر ایسے تھے کہ راستے میں چند مساکین بیٹھے ہوئے اپنے بھیک کے ٹکڑے کھا رہے تھے اور آپ کو پکار کر کھانے میں شرکت کی دعوت دی تو حضرت فوراً زمین پر بیٹھ گئے- اگرچہ کھانے میں شرکت نہیں فرمائی- اس بنا پر کہ صدقہ آلِ محمد پر حرام ہے مگر ان کے پاس بیٹھنے میں کوئی عذر نہیں ہوا- اس خاکساری کے باوجود آپ کی بلندی مرتبہ کا یہ اثر تھا کہ جس مجمع میں آپ تشریف فرماہوتے تھے لوگ نگاہ اٹھا کر بات نہیں کرتے تھے - جو لوگ آپ کے خاندان کے مخالف تھے وہ بھی آپ کی بلندی مرتبہ کے قائل تھے- چنانچہ ایک مرتبہ حضرت امام حسین نے حاکم شام معاویہ کو ایک سخت خط لکھا جس میں اس کے اعمال و افعال اور سیاسی حرکات پر نکتہ چینی کی تھی اس خط کو پڑھ کر معاویہ کو بڑی تکلیف محسوس ہوئی- پاس بیٹھنے والے خوشامدیوں نے کہا کہ آپ بھی اتنا ہی سخت خط لکھئے- امیر معاویہ نے کہا "میں جو کچھ لکھوں گا وہ اگر غلط ہو تو اس سے کوئی نتیجہ نہیں اور اگر صحیح لکھنا چاہوں تو بخدا حسین میں مجھے ڈھونڈنے سے کوئی عیب نہیں ملتا"- آپ کی اخلاقی جراَت، راست بازی اور راست کرداری، قوتِ اقدام، جوش عمل اور ثبات و استقلال، صبر و برداشت کی تصویریں کربلا کے مرقع میں محفوظ ہیں- ان سب کے ساتھ آپ کی امن پسندی یہ تھی کہ آخر وقت تک دشمن سے صلح کرنے کی کوشش جاری رکھی مگر عزم وہ تھا کہ جان دے دی جو صحیح راستہ پہلے دن اختیار کر لیا تھا اس سے ایک اِنچ نہ ہٹے- انہوں نے بحیثیت ایک سردار کے کربلا میں ایک پوری جماعت کی قیادت کی- اس طرح کہ اپنے وقت میں وہ اطاعت بھی بے مثل اور دوسرے وقت میں یہ قیادت بھی لاجواب تھی-

غیر مسلموں کی نظر میں

  • چلی کے مصنف و ناولسٹ رابرٹ بولانو نے کہا ہے کہ امام حسین کو شہید کرنا بنو امیہ کی سب سے بڑی سیاسی غلطی تھی جو ان کی ہر چیز کو نظرانداز کرنے پہ مجبور کرگئی بلکہ ان کے نام و نشان اور ہر چیز پر پانی پھیر گئی(Roberto Bolano Avalos 1953-2003)
  • معروف برطانوی ادیبہ فریا اسٹارک کئی کتابوں کی مصنف ہے، فریا نے 1934 میں عراق کے بارے میں ایک سفر نامہ the valley of assassin بھی لکھا ہے، فریا کہتی ہے کہ امام حسینؑ نے جہاں خیمہ لگائے وہاں دشمنوں نے ان کا محاصرہ کرلیا اور پانی بند کردیا، یہ کہانی آج بھی اتنی ہی دلگیر ہے جتنی 1275 سال پہلے تھی، میرا کہنا ہے آپ کربلا کی سرزمین کا سفر کرنے سے اس وقت تک کوئی نفع حاصل نہیں کرسکتے جب تک کہ آپ کو اس کہانی کا پتا نہ ہو، یہ ان چند کہانیوں میں سے ایک ہے جسے میں روئے بغیر کبھی نہ پڑھ سکی، فریا سٹارک (Freya Stark 1893-1993)
  • مشہور انگریزی ناولسٹ چارلس ڈکنز نے کہا تھا اگر امام حسینؓ کی جنگ مال ومتاع اور اقتدار کیلئے تھی تو پھر میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ خواتین اور بچے ان کے ساتھ کیوں گئے تھے، بلاشبہ وہ ایک مقصد کیلئے ہی کھرے تھے اور ان کی قربانی خالصتاً اسلام کے لیے تھی، چارلس کا دور تھا( Charles John Huffam Dickens 1812-1870)
  • کیمبرج یونیورسٹی میں عربی کے پروفیسر ایڈورڈ جی براؤن کے حوالے سے “لٹریری ہسٹری آف پرشیا” میں لکھا ہے، کربلا کا خون آلود میدان یاد دلاتا ہے کہ وہاں خدا کے پیغمبر ﷺ کا نواسہ اس حال میں شہید کیا گیا کہ بھوک و پیاس کا عالم تھا اور اس کے ارد گرد لواحقین کی لاشیں بکھری پڑی تھیں، یہ بات گہرے جذبات اور دلدوز صدمے کی باعث ہے جہاں درد، خطرہ اور موت تینوں چیزیں ایک ساتھ رونما ہو رہی ہوں۔ (Literary History of Persia by Edward Granville Brown, 1862-1926)
  • چیسٹر کے ادبی اسکالر رینالڈنکلسن نے تاریخ اسلام، مولانا رومیؒ اور علی ہجویریؒ پر بھی کام کیا ہے، ان کے حوالے سے “لٹریری ہسٹری آف عرب” میں ہے کہ جس طرح امام حسینؑ کے ساتھی ان کے ارد گرد کٹ گئے بلاخر امام حسین بھی شہید ہوگئے، یہ بنو امیہ کا وہ تلخ کردار ہے جس پر مسلمانوں کی تاریخ امام حسینؑ کو شہید اور یزید کو ان کا قاتل گردانتی ہے۔ (Reynold Alleyne Nicholson 1868-1945)
  • لبنان کے عیسائی مصنف انتونی بارا نے اپنی کتاب “حسین ان کرسچئین آئیڈیالوجی” میں لکھا ہے کہ، جدید و قدیم دنیا کی تاریخ میں کوئی جنگ ایسی نہیں جس نے اتنی ہمدردی اور پزیرائی حاصل کی ہو، صرف یہی نہیں بلکہ معرکہ کربلا سے امام حسین کی باوقار شہادت کے علاوہ بھی دیکھنے والے کو بہت سے اہم اسباق ملتے ہیں۔(Antoine Bara-2008)
  • تھامس کارلائل نے کہا کہ واقعہ کربلا نے حق و باطل کے معاملے میں عددی برتری کی اہمیت کو ختم کردیا ہے۔ معرکہ کربلا کا اہم ترین درس یہ ہے کہ امام حسینؓ اور ان کے رفقاء خدا کے سچے پیروکار تھے، قلیل ہونے کے باوجود حسینؑ کی فتح مجھے متاثر کرتی ہے۔(Thomas Carlyle 1795-1881)
  • فرانس کے معروف ادیب، ناولسٹ وکٹرھوگو نے لکھا ہے کہ امام حسینؑ کے انقلابی اصول ہر اس باغی کیلئے مشعل راہ ہیں جو کسی غاصب سے حقوق حاصل کرنے کیلئے کوشاں ہے۔(Victor Marie Hugo 1802-1885)
  • روس کے معروف مفکر اور ادیب ٹالسٹائی نے کہا ہے، امام حسینؑ ان تمام انقلابیوں میں ممتاز ہیں جو گمراہ حاکموں سے گڈگوورنینس کا تقاضا کرتے تھے، اسی راہ میں انہیں شہادت حاصل ہوئی۔(Leo Tolstoy 1828-1910)
  • عصری جاپان کے مصنف کوئیانہ نے اپنی ایک تحریر میں لکھا ہے کہ امام حسینؑ کا انقلاب پسے ہوئے طبقے کیلئے جدوجہد کا راستہ روشن کرتا ہے، سوچ کو توانائی دیتا ہے، گمراہی سے نکالتا ہے اور حصول انصاف کے سیدھے راستے پر ڈال دیتا ہے، (نومبر 2013)
  • برطانیہ کے اسکاٹش ادبی اسکالر سر ولیم میور کہتے ہیں، سانحہ کربلا نے تاریخ محمد ﷺ میں خلافت کے خاتمے کے بعد بھی اسلام کو انسانی ذہنوں میں زندہ رکھا ہے، واقعہ کربلا نے نہ صرف استبدادی خلافت کی تقدیر کا فیصلہ کردیا بلکہ محمدی ریاست کا اصول و معیار بھی متعین کردیا جو ابتدائی خلافتوں کے بعد کہیں کھو گیا تھا۔(Sir William Muir 1819-1905 Annals of the Early Caliphate, London, 1883)
  • مغربی محقق، تاریخ دان اور نیویارک یونیورسٹی کے پروفیسر پیٹر جے چیلکووسکی کہتے ہیں، امام حسینؓ پر مکہ سے کربلا تک کئی بار چھپ کر حملہ کیا گیا، ان کے خاندان اور اصحاب پر بھوک پیاس کا ظلم اور شہادت کے بعد ان کے جسموں کو پامال کیا گیا لیکن حسینؓ نے صبر سے جام شہادت نوش کیا پر یزید کی بیعت نہ کی۔ (Peter J Chelkowski, phd in 1968)
  • تاریخی محقق اور ممبر برطانوی پارلیمنٹ ایڈورڈ گیبن نے “دی فال آف رومن ایمپائر” میں واقعہ کربلا کو انتہائی دلسوز قرار دیتے ہوئے کہا کہ امام حسینؓ کی مظلومانہ شہادت اور کربلا کے دلخراش واقعات ایک سرد دل انسان کی آنکھوں میں بھی آنسو اور دلوں میں ہمدردی پیدا کردیتے ہیں۔ (Edward Gibbon 1737-1794)
  • ہنگری کے مصنف گیورجی لیوکیکس کہتے ہیں، حسینؑ کا تصور مرکزی طور پر انسان کی فری وِل، شخصی آزادی اور اپنی قوم کی خوشحالی کیلئے استبدادی حاکم کے سامنے کھڑے ہونے پر فوکس کرتا ہے، اور حسینؑ نے اپنی پوری قوت اور عزم کے ساتھ اس استبداد کو فیس بھی کیا، لوکیکس مارکسی فلاسفر تھے اور مغربی مارکسزم کے بانیوں میں سے بھی تھے۔(Gyorgy Lukacs 1885-1971)
  • روسی مفکر اوگیرا کا کہنا ہے کہ حسینؑ ہر اس طبقے کیلئے مثال ہیں جو طبقاتی جبر کا شکار ہے، وہ حکمران جو اپنا تخت مفلوک الحالوں کے سروں سے تعمیر کرتے ہیں پھر ان کے جانشین بھی یہی کچھ کرتے ہیں جب تک کہ ان کا احتساب نہ کردیا جائے وہ دوسروں کا استحصال کرتے رہتے ہیں۔
  • انگلش رائٹر تھامس لیل نے اپنی کتاب Insights Iraq میں لکھا ہے کہ امام حسین کے عقیدتمند ایسے دیوانے ہیں کہ اگر انہیں صحیح رخ میں گائیڈ کیا جائے تو یہ دنیا ہلا کے رکھ سکتے ہیں، تھامس 1918-1921 میں سرکاری طور پر عراق میں تعینات تھا اور یہ بات اس نے شہدا کربلا کے گرد عزاداری دیکھ کر کہی تھی۔
  • وولف انسٹیٹیوٹ کیمبرج کے بانی ڈائریکٹر، ڈاکٹر ایڈورڈ کیسلر نے اپنے ایک لیکچر میں کہا ہے کہ موجودہ دنیا کی ملٹی فیس سوسائیٹیز میں سب سے بڑا مسئلہ سوشل جسٹس کا ہے اور سوشل جسٹس حاصل کرنے کیلئے امام حسینؓ بہترین رول ماڈل ہیں[4]۔
  • سٹی سکھ پروگریسیو آرگنائزیشن لندن کے بانی ممبر جسویر سنگھ نے کہا ہے کہ قطع نظر اسکے کہ ہم کس کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں ہم امام حسین سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں، خاص طور پہ عزت اور وقار کے ساتھ جینے کا ڈھنگ، امام حسینؑ عدل کیلئے کھڑے تھے انہوں نے جس بات کو حق سمجھا اس کیلئے اپنی جان بھی دے دی۔[5]
  • انٹرفیتھ گروپ کی ایکٹیوسٹ و ریسرچر ڈائنا ملز نے کہا ہے کہ امام حسینؑ نوع انسان کیلئے رول ماڈل ہیں، میرے لئے امام حسینؑ کئی جہتوں سے حضرت مسیح علیہ السلام کے متوازی نظر آتے ہیں، خدا کے حکم پر پورا اترنے کی خاطر انہوں نے بھی ہر چیز کو بالائے طاق رکھ دیا تھا، امام حسینؑ کی یہ بات مجھے بہت بیحد پسند ہے کہ تم میری جان تو لے سکتے ہو لیکن میرا ایمان نہیں لے سکتے( You can take my body but you can’t take my faith)۔ ( یوٹیوب، ایمبیسڈر آف فیتھس، 10 اکتوبر 2016)
  • کرسچئین استاد ڈاکٹر کرس ہیور نے اپنے ایک لیکچر میں کہا ہے کہ دنیا جانتی ہے یزید ایک برا انسان تھا جو خدا کے احکامات کا سرعام مزاق اڑاتا تھا، یہاں میں پیغمبر اسلام ﷺ کی حدیث بیان کروں گا کہ جابر سلطان کے سامنے کلمہء حق کہنا جہاد ہے، یہی بات امام حسینؑ کے پیش نظر تھی، اسی لئے حسینؑ کھڑے ہوئے اور اپنی جان قربان کرکے دراصل انسان کی عظمت کو بحال کیا۔( یوٹیوب ویڈیو لیکچر 08 نومبر 2014)
  • ڈاکٹر کرس ہیور نے ایک دوسرے لیکچر میں کہا کہ 72 اور تیس ہزار کا کیا مقابلہ؟ ایک طرف تیس ہزار کی مسلح فوج اپنے اہداف حاصل نہ کرسکی اور دوسری طرف امام حسینؑ نے 72 نہتے لوگوں کیساتھ اپنا مقصد حاصل کرلیا وجہ یہ کہ امام حسینؑ وہ ہیں جن کے اندر خدا بولتا ہے، خدا انسانوں کو سمجھانا چاہتا تھا کہ حق بات پر کیسے کھڑے ہونا ہے، ایک عیسائی ہونے کی حیثیت میں سمجھتا ہوں انسان کو خدا کی رضا پر ایسے ہی پورا اترنا چاہئے جیسے امام حسینؑ نے نیابت خداوندی کا حق ادا کیا۔(یوٹیوب ویڈیو لیکچر 24 نومبر 2014)
  • مہاتما گاندھی نے کہا تھا، میرا یہ ماننا ہے کہ اسلام کا پھلنا پھولنا تلوار سے نہیں بلکہ ولی خدا امام حسینؓ ابن علیؓ کی قربانی کا نتیجہ ہے، دوسری جگہ کہا، اگر میرے پاس امام حسین کے ساتھیوں جیسے بہتر لوگ موجود ہوں تو میں چوبیس گھنٹے میں ہندوستان آزاد کرالوں، ایک اور جگہ کہا اگر ہندوستان کو آگے بڑھنا ہے تو امام حسین کے نقش قدم پر چلنا ہوگا۔
  • پنڈت جواہر لعل نہرو نے کہا تھا، امام حسین کی قربانی کسی ایک قوم کی نہیں بلکہ سب کیلئے ہے یہ صراط مستقیم کی اعلٰی ترین مثال ہے،(1889-1964)
  • بنگالی مصنف رابندر ناتھ ٹیگور نے کہا، سچ اور انصاف کو زندہ رکھنے کیلئے فوجوں اور ہتھیاروں کی ضرورت نہیں، قربانیاں دے کر بھی فتح حاصل کی جاسکتی ہے جیسے امام حسینؓ نے کربلا میں قربانی دی، بلاشبہ امام حسین انسانیت کے لیڈر ہیں۔(1861-1941)
  • بھارت کے پہلے صدر ڈاکٹر راجندر پراساد بیدی نے کہا تھا، امام حسینؑ کی قربانی کسی ایک ریاست یا قوم تک محدود نہیں بلکہ یہ بنی نوع انسان کی عظیم میراث ہے،(1884-1963)
  • مسز سروجنی نائیدو نے کہا ہے کہ میں مسلمانوں کو اس لئے مبارکباد پیش کرنا چاہتی ہوں کہ ان میں دنیا کی سب سے عظیم ہستی امام حسینؑ پیدا ہوئے جو دنیا کے تمام مزاہب کے لوگوں کے دلوں پر راج کرتے ہیں اور ہر کمیونیٹی کیلئے باعث فخر ہیں۔
  • سوامی شنکر اچاریہ نے کہا یہ امام حسینؑ کی قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ آج اسلام زندہ ہے ورنہ آج دنیا میں اسلام کا نام لینے والا کوئی نہ ہوتا۔
  • ڈاکٹر رادھا کرشن بھارتی صدر نے کہا تھا، گو امام حسینؑ نے تیرہ سو سال پہلے قربانی دی لیکن ان کی لافانی روح آج بھی سب کے دلوں میں زندہ ہے۔
  • نیلسن منڈیلا نے کہا، میں نے بیس سال جیل میں گزارے ہیں، ایک رات میں نے فیصلہ کیا کہ تمام شرائط پر دستخط کرکے رہائی پالینی چاہئے لیکن پھر مجھے امام حسینؑ اور واقعہ کربلا یاد آگیا اور مجھے اپنے اسٹینڈ پر کھڑا رہنے کیلئے پھر سے تقویت مل گئی۔
  • لبنان کے عیسائی مصنف انتونی بارا کی کتاب “حسین ان کرسچئین آئیڈیالوجی” بلاک بسٹر کتاب ہے جس کا مختلف زبانوں میں ترجمہ کرنے کیلئے دیگر ملکوں کے ادیب بھی مصنف سے اجازت لینے کیلئے کوشاں ہیں۔انتونی بارا کہتا ہے کہ یہ کتاب خالصتاً علمی ادبی اور تحقیقی کام تھا جسے علمی بنیادوں پر ہی کرنا تھا لیکن اس کام کے دوران میرے دل میں یقیناً امام حسینؑ کی عظمت رچ بس گئی ہے، تین گھنٹے کے انٹرویو میں جب بھی بارا نے امام حسینؑ کا نام لیا تو ‌ساتھ میں “ان پر سلامتی ہو” ضرور کہا، بارا کا کہنا ہے کہ میں نہیں مانتا امام حسینؑ صرف شیعہ یا مسلمانوں کے امام ہیں، میرا ماننا ہے کہ وہ تمام عالم کے امام ہیں کیونکہ وہ سب مذاہب کا ضمیر ہیں،( because he is the “conscience of religions”) ۔[6]

متعلقہ مضامین

حوالہ جات