امامت (بارہ امامی شیعہ عقیدہ)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بسم الله الرحمن الرحیم
Allah1.png

مضامین بسلسلہ اہل تشیع:
اہل تشیع
کوئی جوان نہیں سوائے علی کے اور کوئی تلوار نہیں سوائے ذو الفقار کے

بارہ امامی شیعوں کے نزدیک بارہ امام انبیا کرام کے روحانی اور سیاسی وارثین ہیں جنھوں نے انھیں عقل، علم و حکمت سکھائی ہے نیز ان کی پیروی میں مصائب برداشت کرنا ان کے پیروکاروں کے نزدیک ایک اہم خوش نصیبی ہے جو خدا کی جانب سے بخشی جاتی ہے۔ اگرچہ اماموں پر خدائی وحی نازل نہی ہوتی لیکن انکا خدا سے ایک خاص رشتہ ہوتا ہے، جس کے ذریعے خدا اما م کی اور امام لوگوں کی ہدایت کرتا ہے۔ نیز اماموں کی ہدایت ایک خاص کتاب الجفر اور الجامیہ کے ذریعے سے ہوتی ہے۔ امامت پر یقین رکھنا شیعہ اعتقاد میں ایک اہم جز ہے جس کی بنیاد اس نظریے پر ہے کہ خدا ہمیشہ اپنے بندوں کی مسلسل رہنمائی کے لیے کوئی نا کوئی رہنما ضرور رکھتا ہے۔ شیعوں کے نزدیک ہر وقت مسلمانوں میں ایک امام زمانہ موجود ہوتا ہے، جسے تمام عقائد و قانون پر اختیار حاصل ہے۔ حضرت علی پہلے امام تھے ،اور شیعوں کے نزدیک یہی ائمہ پیغمبر اسلام کے حقیقی وارثین و جانشین ہیں نیز ان کی نسل حضرت فاطمہ کی نسل کے ذریعے پیغمبرﷺ سے ملنی چاہیے اور انکا مرد ہونا لازمی ہے۔ تمام ائمہ اپنے سے گزشتہ امام کے بیٹے تھے ماسوائے حضرت امام حسین کے جو اپنے سے گزشتہ امام حضرت حسن کے بھائی تھے۔ بارہویں امام کا نام مہدی ہے جو شیعوں کے نزدیک زندہ اور غیبت کبریٰ میں ہیں اور قیامت قریب وہ بحکم خدا ظہور ہوکر دنیا میں انصاف لائیں گے۔ بارہ امامی اورعلوی شیعوں کا ماننا ہے کہ پیغمبر ﷺ کی بارہ جانشیوں والی حدیث میں ان بارہ اماموں کا ذکر موجود ہے۔ تمام ائمہ کو شیعوں کے نزدیک غیر طبعی موت ہوئی سوائے امام مہدی کہ جو ان کے نزدیک غیبت کبریٰ میں زندہ ہیں۔ ان بارہ اماموں کے سلاسل بہت سے صوفی سلسلوں میں بھی موجود نظر آتی ہیں جن میں ان حضرات کو اسلام کے روحانی سربراہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔