بارہ امام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

ائمہ اثنا عشریہ یا بارہ امام شیعہ فرقوں بارہ امامی، علوی اور اہل تشیع کے نزدیک پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سیاسی اور روحانی جانشین ہیں[1]۔ شیعی نظریئے کے مطابق یہ بارہ حضرات بنی نوع انسان کے لئے ناصرف مثالی، عدل و انصاف کے ساتھ حکومت کرنے کا حق و اہلیت رکھتے ہیں بلکہ وہ شریعت اور قرآن کی بھی اکمل تاویل کرسکتے ہیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ان ائمہ کے سنت کی پیروی ان کے مریدوں کو ضرور کرنی چاہئے تاکہ وہ غلطیوں اور گناہوں سے بچ سکیں، امام ہونے کے لئے ضروری ہے کے وہ گناہ سے معصوم اور غلطیوں سے پاک ہوں اور ان کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جانشینی گذشتہ امام کی نص (وصیت) سے ثابت ہو۔[2][3]

نظریہ امامت[ترمیم]

بارہ امامی شیعوں کے نزدیک بارہ امام، انبیاء کرام کے روحانی اور سیاسی وارثین ہیں جنھوں نے انھیں عقل، علم و حکمت سکھائی ہے نیز ان کی پیروی میں مصائب برداشت کرنا ان کے پیروکاروں کے نزدیک ایک اہم خوش نصیبی ہے جو کہ خدا کی جانب سے بخشی جاتی ہے۔[4][5]

اگرچہ اماموں پر خدائی وحی نازل نہیں ہوتی لیکن ان کا خدا سے ایک خاص رشتہ ہوتا ہے، جس کے ذریعے خدا امام کی اور امام لوگوں کی ہدایت کرتا ہے۔ نیز اماموں کی ہدایت ایک خاص کتاب الجفر اور الجامعہ کے ذریعے سے ہوتی ہے۔ امامت پر یقین رکھنا شیعہ اعتقاد کا ایک اہم جزو ہے جس کی بنیاد اس نظریئے پر ہے کہ خدا ہمیشہ اپنے بندوں کی مسلسل رہنمائی کے لئے کوئی نا کوئی رہنما ضرور رکھتا ہے۔[6] شیعوں کے نزدیک ہر وقت مسلمانوں میں ایک امام زمانہ موجود ہوتا ہے، جسے تمام عقائد و قانون پر اختیار حاصل ہے۔ علی پہلے امام تھے اور شیعوں کے نزدیک یہی ائمہ پیغمبر اسلام کے حقیقی وارثین و جانشین ہیں نیز ان کی نسل فاطمہ کی نسل کے ذریعے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے ملنی چاہیے اور ان کا مرد ہونا لازمی ہے۔ تمام ائمہ اپنے سے گذشتہ امام کے بیٹے تھے ماسوائے حسین ابن علی کے جو اپنے سے گزشتہ امام حسنؑ کے بھائی تھے۔ بارہویں امام کا نام مہدی ہے جو شیعوں کے نزدیک زندہ اور غیبت کبریٰ میں ہیں اور قیامت کے قریب وہ بحکم خدا ظہور فرما کر دنیا میں انصاف لائیں گے.[6]۔ بارہ امامی اور علوی شیعوں کا ماننا ہے کہ پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بارہ جانشیںوں والی حدیث میں ان بارہ اماموں کا ذکر موجود ہے۔ تمام ائمہ کو شیعوں کے نزدیک غیر طبعی موت ہوئی سوائے امام مہدی کہ جو ان کے نزدیک غیبت کبریٰ میں زندہ ہیں۔
ان بارہ اماموں کے سلاسل بہت سے صوفی سلسلوں میں بھی موجود نظر آتی ہیں جن میں ان حضرات کو اسلام کے روحانی سربراہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

بارہ ائمہ کی فہرست[ترمیم]

ذیل میں ان ائمہ کرام کی فہرست دی گئی ہے جو اہل تشیع کے فرقہ امامیہ کے نزدیک بارہ امام مانے جاتے ہیں۔ اہل تشیع کے کچھ فرقے ان میں سے کچھ ائمہ کی امامت سے اختلاف بھی کرتے ہیں البتہ ان میں زیادہ تر پر متفق ہیں خصوصاً امام جعفر صادق تک کسی کا ابھی اختلاف نہیں ہے۔

نمبر شمار خطاطی میں اسم
(مکمل/کنیت)
لقب
(عربی/ترکی)[7]
تاریخ
پیدائش
وفات
(ع/ھ)[8]
اہمیت جائے پیدائش وجہ وفات اور جائے وفات
اور مقام مدفن[9]
1 Alī.png امام علی ابن ابی طالب
علي بن أبي طالب

أبو الحسن
امیرالمومنین
(مومنوں کے سردار)[10]


المرتضیٰ

(پسند کیا جانے والا)


علی بن ابی طالب[11]
600–661[10]
23 (قبلھجری)–40[12]
[13] تمام شیعہ فرقوں کے نزدیک وہ پہلے امام[14] اور پیغمبر اسلام کے حقیقی وارث اورجانشین ہیں جبکہ اہلسنت حضرات بھی ان کی تقلید میں انہیں خلیفہ چہارم کا رتبہ دیتے ہیں۔ اہل تصوف کے اکثر سلاسل حضرت علی کے ذریعے ہی پیغمبر اسلام ﷺ سے ملتے ہیں. تینوںوں سنی، شیعہ اور صوفی ذرائع علی کی علمی بلندگی، سخاوت، شجاعت، عدالت، پیغمبر ﷺ سے قربت اور تقوٰی پر متفق ہیں۔ [10] مکہ[10] انھیں ابن ملجم، ایک خارجی، نے کوفہ، میں ان پر زہر آلود تلوار سے وار کیا اوروہ اس زخم سے جانبر نا ہوسکے.[10][15]
وہ امام علی مسجد نجف، عراق میں آسودہ خاک ہیں۔
2 Hassan ibn Ali.jpg امام حسن بن علی
حسن بن علي

أبو محمد
المجتبیٰ


(چنا ہوا)


اکنسی علی[11]
625–670[16]
3–50[17]
وہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بیٹی فاطمہ زھرا کے بیٹے اور آنحضرت کے سب سے بڑے نواسے تھے۔ حسن اپنے والد کے جانشینی سنبھالتے ہوئے کوفہ میں مسند خلافت پر متمکن ہوئے انھوں نے معاویہ بن ابو سفیانٰ سے امن معاہدہ کیا، وہ سات ماہ تک اس عہدے پر فائز رہے پھر انہوں نے یہ خلافت اس معاہدے کے تحت امیر معاویہ کے سپرد کردی۔[16] مدینہ[16] شیعوں کے نزدیک انھیں ان کی بیوی نے مدینہ منورہ، سعودی عرب میں امیر معاویہ کی ایماء پر زہر دیا[18]
جائے مدفن جنت البقیع، مدینہ منورہ، سعودی عربِ۔
3 Hhussain ibn ali.jpg امام حسین بن علی
حسین بن علي

أبو عبدالله
سید الشہداء


(شہیدوں کے سردار)


اکنکو علی[11]
626–680[19]
4–61[20]
وہ پیغمبر اسلام ﷺ کے نواسے اور امام حسن کے بھائی تھے یزید اول کے خلافت کی اہلیت کے خلاف کھڑے ہونے پر انھیں واقعہ کربلا میں یزیدی فوجوں نے قتل کردیا۔ ان کی شہادت کے بعد ان کی یاد میں ماتم کرنا شیعوں کا ایک اہم مذہبی دستور بنا[19] مدینہ منورہ[19] انھیں واقعہ کربلا میں قتل اور سر بریدہ کیا گیا .
ان کا مدفن روضۂ امام حسين کربلا، عراق ہے .[19]
4 Imam sajjad.jpg امام زین العابدین
علي بن الحسین

أبو محمد
السجاد، زین العابدین


(عابدوں کے سردار)[21]


دردنکو علی[11]
658/9[21] – 712[22]
38[21]–95[22]
وہ صحیفہ سجادیہ، کے مصنف تھے جو کہ اہلبیت کے دعاوں کا مجموعہ ہے۔ .[22] مدینہ منورہ[21] زیادہ تر شیعہ علماء کے نزدیک انھیں بادشاہ ولید نے زہر دیا مدینہ منورہ، سعودی عرب.[22]
وہ جنت البقیع، مدینہ منورہ، میں دفن ہیں سعودی عرب۔
5 Baqir ibn sajjad.jpg امام محمد باقر
محمد بن علي

أبو جعفر
باقر العلوم


(علوم کو منکشف کرنے والے)[23]


بسنسی علی[11]
677–732[23]
57–114[23]
دونوں شیعہ و سنی حضرات کے نزدیک وہ ایک بڑے اور اولین فقیہ تھے .[23][24] مدینہ منورہ[23] کچھ شیعہ علماء کے نزدیک انھیں ابراہیم بن ولید بن عبداللہ نے مدینہ منورہ، سعودی عرب میں ہشام بن عبدالملک کے کہنے پر زہر دیا۔[22]
جائے مدفن جنت البقیع، مدینہ منورہ، سعودی عرب۔
6 Jaffer-e-Sadiq.jpg امام جعفر صادق
جعفر بن محمد
Abu Abdillah[25]
أبو عبدالله
الصادق[26]


(ایماندار)


الٹنسی علی[11]
702–765[26]
83–148[26]
وہ ایک بڑے فقیہ تھے وہ اس شعبے میں امام ابو حنیفہ اور امام مالک کے استاد بھی رہے ہیں اور وہ مشہور مسلم کیمیادان،جابر بن حیان کے بھی استاد تھے۔ شیعہ حضرات فقہ جعفری کو ان سے منسوب کرتے ہیں۔ نیز علم کلام میں ان کے شاگردوں میں واصل ابن عطا اورہشام ابن حکم شامل تھے .[26] مدینہ منورہ[26] شیعہ ذرائع کے مطابق آپ مدینہ منورہ، سعودی عرب میں خلیفہ ابو جعفر المنصور کے حکم پر زہر دے کر قتل کئے گئے.[26] جائے مدفن جنت البقیع، مدینہ منورہ، سعودی عرب۔
7 Al-Kazim.jpg امام موسیٰ کاظم
موسی بن جعفر

أبو الحسن الاول[27]
الکاظم[28]


(حلیم طبع)


یدنسی علی[11]
744–799[28]
128–183[28]
یہ امام جعفر الصادق کی وفات کے بعد اسماعیلی فرقے کے وجود میں آنے کے دور میں شیعہ اور دوسرے ذیلی فرقوں کے لوگوں کے امام تھے.[29] انھوں نے اپنے دور میں اپنے مریدوں کا ایک باقاعدہ نظام بنایا جو مشرق وسطی اور خراسان میں شیعوں سے خمس وصول کرتے تھے۔ وہ مہدویہ فرقے میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں جو ان کے ذریعے اپنے سلسلے کو نبی ﷺ سے جوڑتے ہیں۔ .[30] مدینہ منورہ[28] شیعہ عقائد کے مطابق انھیں خلیفہ ہارون الرشید نے بغداد عراق میں پابند سلاسل کیا اورا سی قید میں انھیں زہر دیا گیا۔
جائے مدفن کاظمین بغداد عراق.[28]
8

Al redah.jpg

امام علی رضا
علي بن موسی

أبو الحسن الثانی[27]
الرضا، رضا[31]



(جس سے راضی ہوا)


سکیزنسی علی[11]
765–817[31]
148–203[31]
انھیں مامون الرشید نے بظاہر اپنا جانشین شہزادہ قرار دیا وہ مسلموں اور غیر مسلموں سے مباحثوں کے لئے شہرت رکھتے تھے.[31] مدینہ منورہ[31] شیعوں کے مطابق انھیں مامون الرشید نے زہر دیا .
جائے مدفن مزار امام علی رضا مشہد، ایران.[31]
9 Imam Taqi.jpg امام محمد تقی
محمد بن علي

أبو جعفر
التقی، الجواد[32]


(خدا سے ڈرنے والا، سخی)


ڈوکوزنسو علی[11]
810–835[32]
195–220[32]
وہ اپنی سخاوت اور عباسی خلفاء کی کوتاہیوں پر کھل کر نکتہ چینی کے لئے شہرت رکھتے تھے. مدینہ منورہ[32] شیعہ ذرائع میں انھیں ان کی بیوی جو کہ مامون کی بیٹی تھی نے خلیفہ المعتصم کے حکم پر زہر دیا.
جائے مدفن کاظمین بغداد .[32]
10 Imam naqi.jpg امام علی نقی
علي بن محمد

أبو الحسن الثالث[33]
الہادی، النقی[33]


(رہنما،پاک)


اوننسو علی[11]
827–868[33]
212–254[33]
انھوں نے خمس وصول کرنے اور اپنے مریدوں کو ہدایات دینے کے نظام کو فعال اور بہتر کیا.[33] سریا جو کہ مدینہ سے قریب ایک گاؤں ہے[33] شیعوں کے نزدیک ، انہیں المعتعز کے حکم پر زہر دیا گیا .[34]
جائے مدفن العسکری مسجد سامرا عراق.
11 Al-askari.svg امام حسن عسکری
الحسن بن علي

أبو محمد
العسکری[35]


(ایک فوجی قصبے کا شہری)


انبرنسی علی[11]
846–874[35]
232–260[35]
ان کی زندگی کا بڑا حصہ ان کے والد کی وفات کے بعد عباسی خلیفہ المعتمد کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں میں گزرا۔ شیعوں کی بڑھتی تعداد اور قوت کی وجہ سے بھی ان پر اس دور میں سختیاں کی گئی .[36] مدینہ منورہ[35] شیعوں کے نزدیک انھیں، خلیفہ المعتمد کے حکم پر سامرا، عراق میں زہر دیا گیا.
جائے مدفن العسکری مسجد سامرا عراق.[37]
12 Imam Mahdi.png امام مہدی
محمد بن الحسن

أبو القاسم
مہدی،[38]
امام غائب،[39]
الحجہ[40]


(ہدایت یافتہ، ثبوت)


اونکسنسی علی[11]
868–نامعلوم[41]
255–نامعلوم[41]
شیعوں کے نزدیک وہ ایک تاریخی اور اہم معجزاتی شخصیت ہیں اور وہ قیامت کے قریب میں مسیح کے ساتھ ظہور ہوں گے اور دنیا پر اسلامی حکومت قائم کر کے اسے عدل وانصاف سے بھر دیں گے.[42] سامرا، عراق[41] شیعوں کے نزدیک وہ زندہ ہیں اور 872ء سے حالت غیبت میں موجود ہیں اور ایک دن خدا کی مرضی سے ظہورکریں گے۔[41]

امامت کا خط الوقت[ترمیم]

حسن بن علی عسکری علی نقی محمد تقی علی بن موسی الرضا موسی کاظم جعفر صادق محمد باقر زین العابدین حسین بن علی حسن بن علی علی بن ابی طالب
2015ء امام مہدی

اسی متعلق[ترمیم]

حواشی[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Olsson 2005, p. 65
  2. Tabataba'i 1977, p. 10
  3. Momen 1985, p. 174
  4. Tabataba'i 1977, p. 15
  5. Corbin 2014, pp. 45–51
  6. ^ 6.0 6.1 Gleave, Robert. "Imamate". Encyclopaedia of Islam and the Muslim world; vol.1. MacMillan. ISBN 0-02-865604-0. 
  7. الامام عربی القابات بارہ امامی شیعوں کی اکثریت استعمال کرتی ہے عربی زبان بطور عبادتی زبان، جن میں اصولی، اخباری (اہل تشیع)، شیخی، اور کسی حد تک علوی. ترک القاب زیادہ تر علوی لوگ استعمال کرتے ہیں، جو کہ ایک بارہ امامی شیعہ گروہ جو کہ مجموعی شیعہ آبادی کا 10 فیصد ہے۔ ہر امام کے القاب کا ترجمہ کچھ یوں کیا جاتا ہے "اول علی"، "علی دوم"، so forth. Encyclopedia of the Modern Middle East and North Africa. Gale Group. ISBN 978-0-02-865769-1. 
  8. ع سے مراد عام زمانہ شمسی تقویم،ھ سے مراد اسلامی ہجری قمری تقویم.
  9. ماسوائے بارہویں امام
  10. ^ 10.0 10.1 10.2 10.3 10.4 Nasr, Seyyed Hossein. "Ali". Encyclopædia Britannica Online. http://www.britannica.com/eb/article-9005712/Ali۔ اخذ کردہ بتاریخ 2007-10-12. 
  11. ^ 11.00 11.01 11.02 11.03 11.04 11.05 11.06 11.07 11.08 11.09 11.10 11.11 Encyclopedia of the Modern Middle East and North Africa. Gale Group. 2004. ISBN 978-0-02-865769-1. 
  12. طباطبائی (1979)، pp.190–192
  13. Kohlberg, E.; Poonawala, I. K.. "ʿALI B. ABI ṬĀLEB". Encyclopaedia Iranica. http://www.iranicaonline.org/articles/ali-b-abi-taleb۔ اخذ کردہ بتاریخ 2014-07-07. 
  14. Amir-Moezzi, Mohammad Ali. "SHIʿITE DOCTRINE". Encyclopaedia Iranica. http://www.iranicaonline.org/articles/shiite-doctrine۔ اخذ کردہ بتاریخ 2014-07-07. 
  15. طباطبائی (1979)، p.192
  16. ^ 16.0 16.1 16.2 Madelung, Wilferd. "ḤASAN B. ʿALI B. ABI ṬĀLEB". Encyclopaedia Iranica. http://www.iranicaonline.org/articles/hasan-b-ali۔ اخذ کردہ بتاریخ 2012-07-06. 
  17. طباطبائی (1979)، pp.194–195
  18. طباطبائی (1979)، p.195
  19. ^ 19.0 19.1 19.2 19.3 Madelung, Wilferd. "ḤOSAYN B. ʿALI". Encyclopaedia Iranica. http://www.iranicaonline.org/articles/hosayn-b-ali۔ اخذ کردہ بتاریخ 2008-03-23. 
  20. طباطبائی (1979)، pp.196–199
  21. ^ 21.0 21.1 21.2 21.3 Madelung, Wilferd. "ʿALĪ B. ḤOSAYN B. ʿALĪ B. ABĪ ṬĀLEB، ZAYN-AL-ʿĀBEDĪN". Encyclopaedia Iranica. http://www.iranicaonline.org/articles/ali-b-hosayn-b-ali۔ اخذ کردہ بتاریخ 2007-11-08. 
  22. ^ 22.0 22.1 22.2 22.3 22.4 طباطبائی (1979)، p.202
  23. ^ 23.0 23.1 23.2 23.3 23.4 Madelung, Wilferd. "BĀQER، ABŪ JAʿFAR MOḤAMMAD". Encyclopaedia Iranica. http://www.iranicaonline.org/articles/baqer-abu-jafar-mohammad۔ اخذ کردہ بتاریخ 2007-11-08. 
  24. طباطبائی (1979)، p.203
  25. "JAʿFAR AL-ṢĀDEQ، ABU ʿABD-ALLĀH". Encyclopaedia Iranica. http://www.iranicaonline.org/articles/jafar-al-sadeq۔ اخذ کردہ بتاریخ 2014-07-07. 
  26. ^ 26.0 26.1 26.2 26.3 26.4 26.5 طباطبائی (1979)، p.203–204
  27. ^ 27.0 27.1 Madelung, Wilferd. "ʿALĪ AL-REŻĀ". Encyclopaedia Iranica. http://www.iranicaonline.org/articles/ali-al-reza۔ اخذ کردہ بتاریخ 2007-11-09. 
  28. ^ 28.0 28.1 28.2 28.3 28.4 طباطبائی (1979)، p.205
  29. طباطبائی (1979) p. 78
  30. Sachedina 1988, pp. 53–54
  31. ^ 31.0 31.1 31.2 31.3 31.4 31.5 طباطبائی (1979)، pp.205–207
  32. ^ 32.0 32.1 32.2 32.3 32.4 طباطبائی (1979)، p. 207
  33. ^ 33.0 33.1 33.2 33.3 33.4 33.5 Madelung, Wilferd. "ʿALĪ AL-HĀDĪ". Encyclopaedia Iranica. http://www.iranicaonline.org/articles/ali-al-hadi-abul-hasan-b۔ اخذ کردہ بتاریخ 2007-11-08. 
  34. طباطبائی (1979)، pp.208–209
  35. ^ 35.0 35.1 35.2 35.3 Halm, H. "ʿASKARĪ". Encyclopaedia Iranica. http://www.iranicaonline.org/articles/askari-abu-mohammad-hasan-b۔ اخذ کردہ بتاریخ 2007-11-08. 
  36. طباطبائی (1979) pp. 209–210
  37. طباطبائی (1979)، pp.209–210
  38. "THE CONCEPT OF MAHDI IN TWELVER SHIʿISM". Encyclopaedia Iranica. http://www.iranicaonline.org/articles/islam-in-iran-vii-the-concept-of-mahdi-in-twelver-shiism۔ اخذ کردہ بتاریخ 2014-07-07. 
  39. "ḠAYBA". Encyclopaedia Iranica. http://www.iranicaonline.org/articles/gayba۔ اخذ کردہ بتاریخ 2014-07-07. 
  40. "Muhammad al-Mahdi al-Hujjah". Encyclopædia Britannica Online. http://www.britannica.com/eb/article-9054165/Muhammad-al-Mahdi-al-Hujjah۔ اخذ کردہ بتاریخ 2007-11-08. 
  41. ^ 41.0 41.1 41.2 41.3 طباطبائی (1979)، pp.210–211
  42. طباطبائی (1979)، pp. 211–214

مصادر و مراجع[ترمیم]

  • موسوی اصفہانی، محمد تقی; Haeri Qazvini (2006). مکیال المکارم. قم: انتشارات مسجد مقدس جمکران. 
  • Encyclopædia Britannica Online. Encyclopædia Britannica، Inc.. 
  • Encyclopædia Iranica. Center for Iranian Studies، Columbia University. ISBN 1-56859-050-4. 
  • Martin, Richard C.. انسائکلوپیڈیاء آف اسلام اینڈ مسلم ورلڈ vol.1. MacMillan. ISBN 0-02-865604-0. 
  • انسائکلوپیڈیاء آف موڈرن مڈل ایسٹ اینڈ نارتھ آفریقہ. Gale Group. 2004. ISBN 978-0-02-865769-1. 
  • Corbin، Henry (2014) [1964 (original French)]. ہسٹری آف اسلامک فلاسفی ، Translated by Liadain Sherrard، Philip Sherrard. Routledge. ISBN 9781135198893. 
  • Momen، Moojan (1985). این انٹروڈکشن ٹو شیعہ اسلام: دی ہسٹری اینڈ ڈاکٹرائن آف ٹولف. Yale University Press. ISBN 0-300-03531-4. 
  • Olsson، Tord; Elisabeth Ozdalga، Catharina Raudvere (2005). علوی آئیڈنٹیٹی: کلچرل، ریلیجیوس ایڈ سوشلPerspectives. Routledge. ISBN 9781135797256. 
  • Sachedina، Abdulaziz Abdulhussein (1988). The Just Ruler (al-sultān Al-ʻādil) in شیعہ اسلام: دی کمپریہنسیو آف جیورست ان امامت جیورسپروڈینس. Oxford University Press US. ISBN 0-19-511915-0. 
  • Tabataba'i، سید محمد حسین; سید حسین نسر (translator) (1977). شیعہ اسلام. SUNY press. ISBN 9780873953900. 

بیرونی ذرائع[ترمیم]