جنت البقیع
| جنت البقیع | |
|---|---|
مقبرة البقيع | |
![]() | |
| تفصیلات | |
| تاسیس | 622ء |
| مقام | |
| ملک | سعودی عرب |
| قسم | مسلم |
| مالک | ریاست |
| تعدادِ قبور | نامعلوم |
جنت البقیع (جسے "بقیع الغرقد" بھی کہا جاتا ہے) مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کے مشرقی جانب واقع مسلمانوں کا سب سے قدیم اور مقدس تاریخی قبرستان ہے، جہاں صحابہ کرام، امہات المؤمنین، اہل بیت اور دیگر معزز شخصیات مدفون ہیں۔
نام اور لغوی پس منظر
[ترمیم]بقیع اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں جنگلی پیڑ پودے کثرت سے پائے جاتے ہوں۔[1][2] چونکہ اس قبرستان کی جگہ میں پہلے جھاڑ جھنکاڑ اور کانٹے دار "غرقد" (عوسج) کے پیڑ کثرت سے تھے، اس لیے اس کا نام "بقیع الغرقد" پڑ گیا۔[3][4] وقت گزرنے کے ساتھ درخت تو ختم ہو گئے، مگر یہ نام اس جگہ کے لیے مستقل قائم رہا۔[2]
اہلِ لغت ابن السکیت اور ابن درید کے مطابق قدیم عربی میں اسے "کَفْتَہ" بھی کہا جاتا تھا، کیونکہ یہ مُردوں کو اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔[5] فقہ اور لغت کی کتابوں میں اسے "مقبرۃ المدینہ" یا "مقبرۃ البقیع" بھی کہا گیا ہے۔[6]
محلِ وقوع
[ترمیم]یہ قبرستان مدینہ منورہ کی آبادی سے باہر مسجد نبوی کی مشرقی سمت میں واقع ہے۔ اس کے ارد گرد مکانات اور باغات تھے اور تیسری صدی ہجری میں جو مدینہ منورہ کی فصیلی دیوار تعمیر ہوئی، یہ اس سے ملا ہوا تھا۔ اس فصیل کی متعدد بار تجدید ہوئی، جن میں آخری تجدید عثمانی دور میں سلطان سلیمان قانونی کے زمانے میں ہوئی۔ بعد میں علاقے میں امن قائم ہو جانے کے بعد اس فصیلی دیوار کو منہدم کر دیا گیا۔ پھر مسجد نبوی کی آخری توسیع میں قبرستان اور مسجد کے درمیان موجود مکانات کو بھی منہدم کر دیا گیا۔ ان دنوں یہاں جو محلہ آباد تھا وہ "اغوات" کے نام سے مشہور تھا۔ اب یہ قبرستان مسجد نبوی کے خارجی صحن سے مل چکا ہے۔
قبرستان کے تعین کا واقعہ
[ترمیم]جب رسول اللہ ﷺ اور مہاجرین نے ہجرت کر کے مدینہ منورہ کو اپنا مسکن بنایا تو شہر میں تعمیری اور تمدنی ترقی ہونے لگی۔ اس دوران آپ ﷺ نے ارادہ فرمایا کہ مسلمانوں کی تدفین کے لیے کوئی مناسب جگہ متعین کی جائے۔ اسی مقصد کے تحت آپ ﷺ بقیع کی اس جگہ تشریف لائے اور فرمایا:
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو اسی جگہ مسلمانوں کا قبرستان بنانے کا حکم دیا تھا اور یہیں سے اس مقام کی فضیلت کی ابتدا ہوتی ہے۔
بعض روایات کے مطابق حضرت جبریل نے بارگاہِ نبوی میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ آپ اہلِ بقیع کے پاس جائیں اور ان کے لیے مغفرت کی دعا فرمائیں۔[1]
احادیثِ نبوی اور فضیلت
[ترمیم]- استغفارِ نبوی: حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ رات کے آخری حصے میں بقیع تشریف لے جاتے اور یوں سلام و دعا فرماتے: "السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَأَتَاكُمْ مَا تُوعَدُونَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَهْلِ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ" (اے مؤمن قوم کے گھر والو! تم پر سلام ہو، تمھیں وہ چیز پہنچ گئی جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا اور ہم بھی، اگر اللہ نے چاہا، تم سے آ ملنے والے ہیں۔ اے اللہ! بقیع الغرقد والوں کو بخش دے)۔[8]
- شفاعتِ نبوی: نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اس مقبرے (بقیع) میں دفن ہو گا، ہم اس کی شفاعت کریں گے۔[8]
- حشر کا اعزاز: ایک روایت کے مطابق قیامت کے دن نبی ﷺ کے بعد سب سے پہلے اہلِ بقیع اٹھائے جائیں گے اور آپ ﷺ کے ساتھ میدانِ حشر کی طرف لے جائے جائیں گے۔[8]
- بغیر حساب جنت: حضرت کعب سے روایت ہے کہ بقیع سے قیامت کے دن ستر ہزار افراد اس حال میں اٹھیں گے کہ ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح چمک رہے ہوں گے اور وہ بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔[9]
مدفون شخصیات
[ترمیم]اس قبرستان میں تقریباً دس ہزار صحابہ، نو امہات المؤمنین، اولاد محمد، اہل بیت، اولیاء اللہ، صوفیا، علماء، محدثین اور دیگر بہت سی شخصیات مدفون ہیں۔[10]
اولین قبور
[ترمیم]سب سے پہلے انصار مدینہ میں سے اسعد بن زرارہ اور عثمان بن مظعون اس قبرستان میں دفن کیے گئے۔[11] روایت ہے کہ عثمان بن مظعون کی تدفین پر نبی ﷺ نے ان کے رخسار کا بوسہ لیا اور ان کی قبر کے پاس ایک نشانی پتھر رکھا۔[12] ان کے بعد نبی ﷺ کے فرزند ابراہیم بن محمد کی تدفین بھی عثمان بن مظعون کے پہلو میں ہوئی۔[13]
جنت البقیع میں شروع میں قبروں پر ایسے کتبے یا نشان نہیں تھے جن سے ابتدائی دفن شدہ شخصیات کا آسانی سے علم ہو سکے، لیکن بعد میں مؤرخین نے تحقیق سے کئی اہم شخصیات کی قبروں کی نشان دہی کی۔ وقت گزرنے کے ساتھ جب قبریں زیادہ ہو گئیں تو کئی مزارات اور گنبد تعمیر کیے گئے جو گذشتہ صدی تک باقی رہے، تاآنکہ آل سعود نے یوم الہدم کے موقع پر سنت و حدیث کی روشنی میں انھیں ختم کر دیا۔
امہات المؤمنین
[ترمیم]خدیجہ بنت خویلد (جو مکہ کے مقبرہ معلاۃ میں مدفون ہیں) اور میمونہ بنت الحارث (جو سرف کے مقام پر مدفون ہیں) کے علاوہ باقی تمام امہات المؤمنین بقیع میں مدفون ہیں، جن میں عائشہ بنت ابی بکر، سودہ بنت زمعہ، حفصہ بنت عمر، ام سلمہ، ام حبیبہ، زینب بنت جحش، زینب بنت خزیمہ، صفیہ بنت حیی اور جویریہ بنت حارث شامل ہیں۔[10]
روایت ہے کہ عائشہ صدیقہ کا انتقال رمضان 57 یا 58ھ میں ہوا اور ان کی وصیت کے مطابق انھیں بقیع میں دیگر امہات المؤمنین کے قریب دفن کیا گیا؛ ان کی نمازِ جنازہ ابو ہریرہ نے پڑھائی۔[11] وفات کے وقت انھوں نے عاجزی سے کہا تھا: "ادْفِنُونِي مَعَ صَوَاحِبِي بِالْبَقِيعِ" (مجھے بقیع میں میری ساتھی بیویوں کے ساتھ دفن کرو)۔[14]
اولادِ نبوی
[ترمیم]نبی ﷺ کی صاحبزادیاں رقیہ، ام کلثوم اور زینب بھی بقیع میں مدفون ہیں۔[15]
اہل بیت
[ترمیم]بقیع میں نبی ﷺ کے چچا عباس بن عبد المطلب اور نواسے حسن بن علی مدفون ہیں۔[15] اسی مقام کے قریب ائمہِ اہل بیت میں سے علی بن حسین زین العابدین، ان کے فرزند محمد باقر اور ان کے فرزند جعفر صادق مدفون ہیں۔[12] بعض روایات کے مطابق فاطمہ الزہرا کا مدفن بھی اسی کے آس پاس یا ان کے اپنے گھر کے احاطے میں ہے۔[15] اسی طرح حضرت علی کی والدہ فاطمہ بنت اسد بھی بقیع میں مدفون ہیں۔[16]
حضرت عثمان بن عفان
[ترمیم]تیسرے خلیفہ راشد عثمان بن عفان کو ابتدا میں بقیع کے مشرقی حصے سے ملحق "حش کوکب" نامی ایک انصاری باغ میں دفن کیا گیا تھا، جسے انھوں نے خود خرید کر بقیع کی توسیع کے لیے وقف کر رکھا تھا۔[17] بعد میں اموی دور میں دیوار گرا کر اس حصے کو بھی بقیع کا باقاعدہ حصہ بنا دیا گیا۔[18] ان کی نمازِ جنازہ جبیر بن مطعم نے پڑھائی تھی۔[11]
دیگر جلیل القدر صحابہ
[ترمیم]بقیع میں بے شمار نامور صحابہ اور علما مدفون ہیں، جن میں عبد الرحمن بن عوف، سعد بن ابی وقاص، عبد اللہ بن مسعود، سہیل بن عمرو، صہیب رومی، حکیم بن حزام، عقیل بن ابی طالب، عبد اللہ بن جعفر، ابو سعید خدری اور امام دارِ ہجرت مالک بن انس شامل ہیں۔[12][16]
تاریخی تعمیرات
[ترمیم]تاریخ کے مختلف ادوار میں سلاطین اور خلفا نے بقیع کی نامور شخصیات کے مزارات پر عالی شان گنبد اور تعمیرات قائم کیں۔[12][16] عباس بن عبد المطلب اور حسن بن علی کے مزار پر عباسی دور میں ایک بلند گنبد تعمیر کیا گیا تھا۔[12][19] عثمان بن عفان کے مرقد پر 601ھ میں صلاح الدین ایوبی کے ایک امیر نے گنبد تعمیر کروایا تھا۔[16] اسی طرح ابراہیم بن محمد، عقیل بن ابی طالب اور فاطمہ بنت اسد کی قبروں پر بھی گنبد قائم تھے۔[12][16]
بعد کے ادوار میں شرعی احکام کی روشنی میں یہ تمام گنبد ختم کر دیے گئے اور قبروں کو سادہ اور برابر سطح پر رکھا گیا۔[1]
آدابِ زیارت
[ترمیم]زیارتِ بقیع کے موقع پر مستحب ہے کہ زائر قبروں کے سامنے وقار سے کھڑا ہو کر سلام کہے اور مدفون مؤمنین کے لیے مغفرت کی دعا کرے۔[20]
خاندان رسالت ﷺ
[ترمیم]اولاد
[ترمیم]ازواج مطہرات
[ترمیم]- عائشہ بنت ابوبکر
- سودہ بنت زمعہ
- حفصہ بنت عمر
- زینب بنت خزیمہ
- ام سلمہ
- جویریہ بنت حارث
- ام حبیبہ رملہ بنت ابوسفیان
- صفیہ بنت حیی بن اخطب
- ماریہ قبطیہؓ
(میمونہ بنت حارثؓ سَرَف کے مقام پر[21] اور خدیجہ بنت خویلدؓ مکہ میں دفن ہیں۔)
دیگر رشتہ دار
[ترمیم]- حلیمہ سعدیہ، رضاعی والدہ رسول
- عثمان بن عفان، داماد رسول و تیسرے خلیفہ راشد
- حسن بن علیؓ، نواسہ رسول و پانچویں خلیفہ راشد
- عبد اللہ بن عثمانؓ، نواسہ رسول
- عباس بن عبد المطلبؓ، عمِ رسول
- زین العابدین، نواسہ رسول کے بیٹے
- محمد باقر، نواسہ رسول کے پوتے
- جعفر صادق، نواسہ رسول کے پڑ پوتے
صحابہ کرامؓ
[ترمیم]- عثمان بن مظعون، صحابی، پہلے مدفون بقیع
- اسعد بن زرارہ، صحابی، دوسرے مدفون بقیع
- اروی بنت کریز، صحابیہ و خلیفہ ثالث کی والدہ
- فاطمہ بنت اسد، صحابیہ و خلیفہ چہارم کی والدہ
- عبدالرحمن بن عوف، صحابی، عشرہ مبشرہ میں سے ایک
- سعید بن زید، صحابی، عشرہ مبشرہ میں سے ایک
- سعد بن معاذ، صحابی
- ابو سفیان بن حرب، صحابی
سات فقہائے مدینہؒ
[ترمیم]دیگر شخصیات
[ترمیم]- سالم بن عبد اللہ، تابعی
- ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن، تابعی و فقیہ
- ابان بن عثمان، تابعی و فقیہ
- مالک بن انس، فقہ مالکی کے بانی و فقيہ مسلم
- شمس الدین سخاوی، محدث و مؤرخ مصری
- امام شامل، قفقاز
- عبد المجید ثانی، خلیفہ سلطنت عثمانیہ
- شیخ محمد غزالی سقا عالم ومفكر اسلامی[22]
- محمد سید طنطاوی ، شيخ الأزهر[23]
- محمد ادریس سنوسی، ملك لیبیا السابق[24]
- حافظ غلام محمد مہاجر مدنی المعروف بڑے حافظ صاحب
نگار خانہ
[ترمیم]مزید دیکھیے
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]- 1 2 3 المقريزي۔ موسوعة المفاهيم الإسلامية العامة۔ ج 1۔ ص 88
- 1 2 الخليل بن أحمد (1980)۔ كتاب العين۔ بيروت: دار ومكتبة الهلال۔ ج 1۔ ص 209
- ↑ أبو عبد الله الحميري۔ الروض المعطار في خبر الأقطار۔ ج 1۔ ص 31
- ↑ نشوان الحميري (1999)۔ شمس العلوم ودواء كلام العرب من الكلوم۔ دمشق: دار الفكر۔ ج 1۔ ص 593
- ↑ الصغاني (1970)۔ التكملة والذيل والصلة للصغاني۔ بغداد: دار الكتب۔ ج 1۔ ص 305
- ↑ الزمخشري (1998)۔ أساس البلاغة۔ بيروت: دار الكتب العلمية۔ ج 2۔ ص 47
- ↑ مستدرک امام حاکم، 11/193
- 1 2 3 محمد بن إسحاق الخوارزمي۔ إيثارة الترغيب والتشويق إلى المساجد الثلاثة والبيت العتيق۔ ج 1۔ ص 346
- ↑ الخطابي (1982)۔ غريب الحديث۔ مكة المكرمة: جامعة أم القرى۔ ج 3۔ ص 262
- 1 2 محمد بن إسحاق الخوارزمي۔ إيثارة الترغيب والتشويق إلى المساجد الثلاثة والبيت العتيق۔ ج 1۔ ص 347
- 1 2 3 البعلي (1981)۔ المطلع على ألفاظ المقنع۔ بيروت: المكتب الإسلامي۔ ج 1۔ ص 512
- 1 2 3 4 5 6 محمد بن إسحاق الخوارزمي۔ إيثارة الترغيب والتشويق إلى المساجد الثلاثة والبيت العتيق۔ ج 1۔ ص 349
- ↑ ابن عبد البر۔ الاستيعاب في معرفة الأصحاب۔ ج 1۔ ص 55
- ↑ القاضي عياض (1914)۔ مشارق الأنوار على صحاح الآثار۔ تونس: المكتبة العتيقة۔ ج 1۔ ص 206
- 1 2 3 محمد بن إسحاق الخوارزمي۔ إيثارة الترغيب والتشويق إلى المساجد الثلاثة والبيت العتيق۔ ج 1۔ ص 348
- 1 2 3 4 5 محمد بن إسحاق الخوارزمي۔ إيثارة الترغيب والتشويق إلى المساجد الثلاثة والبيت العتيق۔ ج 1۔ ص 350
- ↑ ابن عبد البر۔ الاستيعاب في معرفة الأصحاب۔ ج 3۔ ص 1047
- ↑ أعلام الحفاظ والمحدثين عبر أربعة عشر قرنا۔ ج 1۔ ص 232
- ↑ علي بن أحمد السمهودي۔ وفاء الوفاء بأخبار دار المصطفى۔ ج 3۔ ص 99
- ↑ محمد بن إسحاق الخوارزمي۔ إيثارة الترغيب والتشويق إلى المساجد الثلاثة والبيت العتيق۔ ج 1۔ ص 351
- ↑ میمونہ بنت حارث - مقام تدفین - اردو ویکیپیڈیا
- ↑ ؟
- ↑ ؟
- ↑ ؟
بیرونی روابط
[ترمیم]| ویکی ذخائر پر جنت البقیع سے متعلق سمعی و بصری مواد ملاحظہ کریں۔ |
