جنت البقیع

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
جنت البقیع
مقبرة البقيع
Bagicemetry.JPG
جنت البقیع
تفصیلات
تاسیس 622ء
مقام مدینہ منورہ
ملک سعودی عرب
قسم مسلم
مالک ریاست
تعداد قبور نامعلوم
Baqi3.gif

مدینہ منورہ کا خاص قبرستان جس میں10 ہزار کے قریب صحابہ مدفون ہیں۔ جس میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بیویاں اور بیٹیاں شامل ہیں اس کے علاوہ تابعین و صالحین بھی یہاں مدفون ہیں ہجرت نبوی کے وقت یہاں ایک میدان تھا۔ جس میں لمبی لمبی گھاس اور خاردار جھاڑیاں تھیں۔ سب سے پہلے یہاں عثمان بن مظعون صحابی دفن ہوئے۔ اس کے بعد محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی صاحبزادیاں ، پھر صاحبزادے ابراہیم اور ازواج مطہرات دفن ہوئیں۔ لہذا اس کی عظمت بہت بڑھ گئی اور لوگ اسے جنت البقیع کہنے لگے اور یہاں خاص خاص لوگ ہی دفن کیے جانے لگے۔ حسین ابن علی کا مقبرہ بہت اونچا بنایا گیا تھا۔ سعودی حکومت نے ان تمام مقبروں کو مسمار کر دیا اور اب کچی قبریں باقی ہیں ۔ جن پر کوئی کتبہ وغیرہ نہیں ہے۔ یہ قبرستان مدینہ منورہ کے جنوب مشرقی گوشے میں واقع ہے۔ اس میں داخل ہونے کے واسطے ایک دروازہ ہے جو باب البقیع کہلاتا ہے۔ حلیمہ سعدیہ، اصحاب صفہ اور مشہور صحابہ کی قبریں یہیں ہیں ۔

مدفون شخصیات[ترمیم]

اس قبرستان میں تقریباً دس ہزار صحابہ، کئی امہات المؤمنین، اولاد محمد، اہل بیت، اولیاء اللہ، صوفیا، علماء، محدثین اور دیگر مدفون ہیں۔

اولین قبور[ترمیم]

سب سے پہلے انصار مدینہ میں اسعد بن زرارہ اور عثمان بن مظعون اس قبرستان میں دفن کیے گئے، جنت البقیع میں قبرون پر ایسے کتبے یا نشانات نہیں تھے، جن سے دفن شخصیات کا علم آسانی سے ہو ‎سکے۔ لیکن مؤرخین نے تحقیق کی روشنی میں کئی اہم شخصیات کی قبروں کی نشاندہی کی ہے۔

خاندان رسالت[ترمیم]

اولاد[ترمیم]

ازواج مطہرات[ترمیم]

خدیجہ بنت خویلد اور میمونہ بنت حارث مکہ میں دفن ہیں۔

اہل بیت[ترمیم]

صحابہ و دیگر شخصیات[ترمیم]

نگار خانہ[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]