عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سات فقہائے مدینہ

عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ : فقہ و حدیث کے ان ماہرین میں شامل ہیں جنہیں فقہائے سبعہ کہا جاتا ہے۔

نام و قبیلہ[ترمیم]

عبید اﷲبن عبد ا ﷲ بن عتبہ بن مسعودبنو ہذیل سے تعلق رکھتے تھے۔ عبید اﷲ کی کنیت ابو عبد اﷲ تھی۔ یہ قبیلہ اپنے جد ہذیل بن مدرکہ کے نام سے موسوم تھا اور قریش کی شاخ بنو زہرہ کا حلیف تھا۔ مدرکہ پر عبید اﷲ کا شجرہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے شجرۂ مبارک سے جا ملتا ہے۔ خزیمہ بن مدرکہ آپ کے جد تھے۔ عبید اﷲ کے دادا عتبہ بن مسعود جلیل القدر صحابی عبد اﷲ بن مسعودکے بھائی تھے۔

فقہائے سبعہ[ترمیم]

عبید اﷲ فقہائے سبعہ مدینہ میں سے ایک تھے۔

عبید اﷲ بن عبد اﷲ بن عتبہ کو تابعین مدینہ کے طبقہ ثانیہ میں شامل کیا جاتاہے۔ واقدی کہتے ہیں: ’’عبید اﷲ ثقہ عالم اور فقیہ تھے۔ کئی احادیث کے راوی ہونے کے ساتھ شاعر بھی تھے۔"اہل رجال" نے ان کے تقویٰ اور کردا ر کو سراہا ہے ۔

علمی مقام[ترمیم]

زہری عبید ﷲ بن عبد اﷲ کی خدمت میں رہے۔ وہ کہتے ہیں ،’’میں نے (علم کے ) چار سمندروں کو دیکھا ہے ،ان میں سے ایک عبید اﷲ بن عبد ﷲ تھے۔

عبید اﷲ کا حافظہ خوب تیز تھا۔ خود فرماتے ہیں :’’میں نے جب بھی حدیث سن کر یادکرنا چاہی تو یاد ہو جاتی۔‘‘ ابو بکر بن عبدالرحمان مخزومی کی طرح عبید اﷲ بن عبد اﷲ بن عتبہ بھی نابینا تھے۔

عبید ﷲ جذبات کے اظہار کے لیے اپنی شعری صلاحیت کا بھرپور استعمال کرتے تھے۔ عبد اﷲ بن ذکوان کہتے ہیں: ’’عبید اﷲ بن عبد اﷲ شعر کہتے تھے، جب ان پر اعتراض کیا جاتاتو جواب دیتے کہ ’’تمہارا کیا خیال ہے، جس کے سینے میں جلن اور درد ہو، اگر نہ تھوکے مر نہیں جائے گا؟‘‘

صحابہ سے محبت[ترمیم]

عبید ﷲ صحابہ سے بہت محبت رکھتے تھے کیوں کہ دین حق اسلام پیغمبر صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد انھی کے ذریعے سے مسلمانوں تک پہنچا تھا۔ ایک شخص عبید ا ﷲ کے پاس آکر بیٹھتا تھا۔ انھیں معلوم ہوا، یہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے ایک صحابی کو برا کہتا ہے۔ اگلی بار وہ آیا تو عبید اﷲ نے اس کی طرف التفات نہ کیا۔ اسے محسوس ہوا تو کہا، ’’اگر آپ میرا کوئی قصور سمجھتے ہیں تو معاف فرمائیں۔‘‘ عبید ﷲ نے پوچھا، ’’کیا تمھیں اﷲ کے علم میں شک ہے؟‘‘ جواب ملا، ’’اعوذ باﷲ، ایسا ہو۔‘‘ پھر سوال کیا، ’’کیا تمھیں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خبر میں شبہ ہے؟‘‘ اس شخص نے کہا، ’’ایسا سمجھنے سے اﷲ کی پناہ۔‘‘ عبید ﷲ نے کہا: ’’فرمان الٰہی ہے،’لقد رضی اﷲ عن المومنین اذ یبایعونک تحت الشجرۃ‘ (اﷲ اہل ایمان سے راضی ہو گیا جب وہ (کیکر کے ) درخت کے نیچے تمھاری بیعت کر رہے تھے )(سورۂ فتح: 18) تمھارا حال یہ ہے کہ تم فلاں صحابی (حضرت علی ) کو برا کہتے ہو جب کہ وہ بیعت کرنے والوں میں شامل ہے۔ کیا تمھارے پاس اطلاع آئی ہے کہ ﷲ اس سے راضی ہونے کے بعد ناراض ہو گیا ہے؟‘‘ اس شخص نے کہا ،’’بخدا،میں ایسا ہر گز نہ کروں گا۔‘‘یہ شخص عبید اﷲ بن عبد اﷲ بن عتبہ بن مسعود کے شاگرد ،خلافت راشدہ کا احیا کرنے والے عمر بن عبد العزیز تھے،بنو امیہ سے تعلق رکھنے کی وجہ سے وہ ایسا کرتے تھے۔

وفات[ترمیم]

عبید اﷲ 102ھ میں فوت ہوئے۔[1] [2][3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. طبقات ابن سعد
  2. سیراعلام النبلاء علامہ ذہبی
  3. الاغانی ،ابوالفرج اصفہانی