حکم بن عتیبہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
حکم بن عتیبہؒ
معلومات شخصیت
کنیت ابو عبد اللہ

حکم بن عتیبہ تابعین میں سے ہیں۔آپ نے 105ھ میں وفات پائی۔

نام ونسب[ترمیم]

حکم نام ابو عبد اللہ کنیت، کندہ کے غلام تھے۔

فضل وکمال[ترمیم]

علمی اعتبار سے کوفہ کے ممتاز ترین علما میں تھے،علامہ ابن سعد لکھتے ہیں: کان الحکم بن عتیبۃ ثقۃ فقیھا عالما وفیعاکثیر الحدیث [1] اکابر علما ان کے کمالات کے معترف تھے، ابن عیینہ کا بیان ہے کہ کوفہ میں حکم کا مثل نہ تھا۔ اس عہد کے تمام علما ان کی دولتِ علم کے سامنے دامنِ احتیاط پھیلاتے تھے، مجاہدین رومی کہتے تھے کہ مجھ کو حکم کے حقیقی کمال کا پورا اندازہ اس وقت ہوتا تھا جب بڑے بڑے علما مسجد منی میں جمع ہوتے تھے اور وہ سب ان کی دولتِ علم کے دستِ نگر معلوم ہوتے تھے۔ [2]

حدیث[ترمیم]

کوفہ کے ممتاز حفاظِ حدیث میں تھے۔ حافظ ذہبی انھیں حافظ اور شیخ کوفہ [3] اور علامہ ابن سعد ثقہ اور کثیر الحدیث لکھتے ہیں [4] حدیث میں انھوں نے صحابہ میں ابو حجیفہؓ ، زید بن ارقمؓ، عبداللہ بن اوفیؓ اور تابعین میں قاضی شریح، قیس ابن ابی حازم، موسیٰ بن طلحہ، یزید بن شریک تیمی، عبد اللہ ابن شداد، سعید بن جبیر، مجاہد، عطاء، طاؤس ، قاسم بن مخیمرہ، مصعب بن سعد، محمد بن کعب قرظی اور ابن ابی لیلی وغیرہ سے فیض اٹھایا تھا۔ آپ کے تلامذہ میں، اعمش، منصور، ابو اسحاق سبیعی،ابواسحاق شیبانی، قتادہ، ابان ابن صالح، حجاج بن دینار ، اوزاعی، مسعر، ، شعبہ ، ابوعوانہ جیسے علما تھے۔ [5]

فقہ[ترمیم]

ابراہیم نخعی ائمہ فقہ میں تھے، حکم ان کے خاص اصحاب میں تھے [6] ان کے فیض صحبت نے ان کو کوفہ کا بہت بڑا فقیہ بنادیا تھا۔ عبدہ بن ابی لبانہ کہتے تھے کہ میں نے دونوں کناروں کے درمیان حکم سے بڑا فقیہ نہیں دیکھا، لیث بن سلیم کہتے تھے کہ حکم ، امام شعبی سے بھی بڑے فقیہ تھے۔ [7]

شعبی کی جانشینی[ترمیم]

شعبی کے بعد کوفہ کی مسند علم انہی کے حصہ میں آئی، اسرائیل بیان کرتے ہیں،کہ حکم کو میں نے سب سے پہلے شعبی کی موت کے دن جانا، ان کی موت کے بعد ایک شخص کوئی مسئلہ پوچھنے آیا، لوگوں نے اس سے کہا حکم بن عتیبہ کے پاس جاؤ۔ [8]

عبادت وریاضت[ترمیم]

اس علم کے ساتھ وہ بڑے عبادت گزار بھی تھے، عباس زوزی کا بیان ہے کہ وہ صاحب عبادۃ و فضل تھے، پابندی سنت میں خاص اہتمام تھا۔

عظمت واحترام[ترمیم]

ان کے علمی واخلاقی کمالات کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں ان کی بڑی عظمت تھی،مغیرہ بیان کرتے ہیں کہ جب وہ مدینہ آتے تھے تو لوگ ان کے لیے رسول اللہ ﷺ کا ساریہ خالی کردیتے تھے،اس میں وہ نماز پڑھتے۔ [9]

وفات[ترمیم]

ہشام بن عبدالملک کے عہد خلافت 105ھ میں وفات پائی۔ [10]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. (ابن سعد،جلد 160،ص:231)
  2. (ابن سعد:6/231)
  3. (ایضاً:1/104)
  4. (ابن سعد:6/231)
  5. (تہذیب التہذیب:2/433)
  6. (تہذیب التہذیب:2/433)
  7. (تذکرہ الحفاظ:1/104)
  8. (تذکرہ الحفاظ:1/104)
  9. (تذکرہ الحفاظ:104)
  10. (ابن سعد:6/231)