علقمہ بن قیس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
علقمہ بن قیس
معلومات شخصیت
تاریخ وفات سنہ 681  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Black flag.svg خلافت راشدہ
Umayyad Flag.svg سلطنت امویہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
استاذ عبد اللہ بن مسعود  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں استاد (P1066) ویکی ڈیٹا پر
تلمیذ خاص محمد بن سیرین،  ابراہیم بن یزید النخعی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شاگرد (P802) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ الٰہیات دان،  محدث،  مفسر قرآن،  فقیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل فقہ،  علم حدیث،  تفسیر قرآن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر

علقمہ بن قیس زہد وورع کے لحاظ سے ممتاز تابعین میں تھے۔

نام ونسب[ترمیم]

علقمہ نام، ابو شبلی کنیت،مشہور محدث ابراہیم نخعی کے ماموں اوراسود بن یزید کے چچا تھا،نسب نامہ یہ ہے،علقمہ بن قیس بن عبد اللہ بن مالک بن علقمہ بن سلامان بن کہیل بن بکر بن عوف بن نخع نخعی۔

پیدائش[ترمیم]

آنحضرت ﷺ کے عہد میں پیدا ہوئے اکابر صحابہ سے استفادہ کا موقع ملا عمرفاروق، علی مرتضیٰ،عبد اللہ بن مسعود،حذیفہ بن یمان،سلمان فارسی، وغیرہ اکابر صحابہ موجود تھے، فقیہ الامت عبد اللہ بن مسعود کے سرچشمہ فیض سے خصوصیت کے ساتھ زیادہ استفادہ کیا ۔

علمی مقام[ترمیم]

وسعتِ علم کے اعتبار سے علقمہ ابن مسعودکے ممتاز اصحاب میں سے تھے، عبد اللہ بن مسعود کی یہ سند کہ جو کچھ میں پڑھتا اورجانتا ہوں وہ سب علقمہ پڑھتے اورجانتے ہیں ان کے وسعت علم کے لیے کافی ہے۔

وفات[ترمیم]

62ھ میں کوفہ وفات پائی،مرض الموت میں وصیت کی تھی کہ دم آخرت کلمۂ طیبہ کی تلقین کی جائے،تاکہ میری زبان سے آخری کلمہ "لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ "نکلے کسی کو موت کی خبر نہ دی جائے،دفن کرنے میں جلدی کی جائے،بین کرنے والی عورتیں ساتھ نہ ہوں۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. طبقات ابن سعد:6/59