ایوب بن ابی تمیمہ سختیانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ایوب بن ابی تمیمہ سختیانی
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 687  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 749 (61–62 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بصرہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کنیت ابو بکر
لقب عنزی بصری
والد ابو تمیمہ کیسان
عملی زندگی
طبقہ تابعین، طبقہ اعمش
ابن حجر کی رائے ثقہ
ذہبی کی رائے ثقہ
استاد مجاہد بن جبیر،  حسن بصری،  نافع مولی ابن عمر،  محمد بن سیرین،  عطاء بن ابی رباح،  قتادہ بن دعامہ،  حمید بن ہلال  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نمایاں شاگرد سفیان ثوری،  سفیان بن عیینہ،  مالک بن انس،  شعبہ بن حجاج  ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ محدث  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ایوب سختیانی کا شمار زمرہ تابعین کے محدثین میں ہوتا ہے۔ وہ اپنے زمانہ میں حدیث کے بڑے عالم اور امام تھے، حافظ الحدیث تھے اور حدیث کے مشہور راوی ہیں۔

نام ونسب[ترمیم]

ایوب نام، ابو بکر کنیت، والد کا نام کیسان تھا، لیکن وہ کنیت سے زیادہ مشہور ہیں، ایوب قبیلہ عنزہ کی غلامی میں تھے۔

فضل وکمال[ترمیم]

ایوب اگرچہ غلام تھے لیکن اقلیم علم و عمل کے تاجدار تھے۔ ابن سعد لکھتے ہیں: كان أيوب ثقة ثبتاً في الحديث، جامعاً عدلاً، ورعاً، كثير العلم، حجة۔[1] نووی لکھتے ہیں کہ ان کی جلالت، ان کی امامت ان کے حفظ، ان کی توثیق، ان کے وفور علم ان کی فہم اور سربلندی پر سب کا اتفاق ہے۔[2] ابن عماد حنبلی ان کو علمائے علام میں میں لکھتے ہیں۔[3]

ان کے عہد کے تمام اکابر علما ان کے علمی اور اخلاقی کمالات کے معترف اور ان کی جلالت و شان پر متفق ہیں۔ شعبہ ان کو سید العلماء کے لقب سے ملقب کرتے تھے۔ ابن عیینہ کہتے تھے کہ میں چھیاسی تابعین سے ملا، مگر ان میں سے کسی کو ایوب کے مثل نہ پایا۔ حماد بن زید کا بیان ہے کہ انہیں جن جن محدثین اور علما کے پاس بیٹھنے کا اتفاق ہوا، ایوب ان سب سے افضل اور پابند سنت تھے۔ اشعث بن سوار ان کو "جهبذ العلماء" کہتے تھے۔ ہشام بن عروہ کہتے تھے بصرہ میں ایوب کا مثل نہ تھا۔ حسن بصری ان کو نوجوانان بصرہ کا سردار کہتے تھے۔ ابن عون کہتے تھے کہ ابن سیرین کی موت کے بعد ہم لوگوں کے سامنے سوال پیدا ہوا کہ اب کون باقی رہ گیا؟ لیکن پھر خود ہی جواب مل گیا کہ ایوب موجود ہیں۔[4][5]

حدیث[ترمیم]

بصرہ کے ممتاز ترین حفاظِ حدیث میں تھے،امام ذہبی لکھتے ہیں کہ وہ حافظ اور اعلام میں تھے۔ [6]

روایت حدیث[ترمیم]

روی عن:

ابو برید عمرو بن سلمہ جرمی ، ابو عثمان نہدی ، سعید بن جبیر ، ابو العالیہ ریاحی ، عبد اللہ بن شقیق ، ابو قلابہ جرمی ، مجاہد بن جبر ، حسن بصری ، محمد بن سیرین ، معاذہ العدویہ ، وقیس بن عبایہ حنفی ، ابو رجاء عمران بن ملحان عطاردی ، عکرمہ مولیٰ ابن عباس ، ابو مجلز لاحق بن حمید ، حفصہ بنت سیرین ، یوسف بن ماہک ، عطاء بن ابی رباح ، نافع مولیٰ ابن عمر ، ابو الشعثاء جابر بن زید ، حمید بن ہلال ، ابو الولید عبد اللہ بن حارث ، اعرج ، عمرو بن شعیب ، قاسم بن عاصم ، قاسم بن محمد ، ابن ابی ملیکہ ، قتادہ وغیرہم۔

روی عنہ:

محمد بن سیرین ، عمرو بن دینار ، زہری ، قتادہ (یہ ان کے شیوخ بھی ہیں)، یحییٰ بن ابی کثیر ، شعبہ ، سفیان ، مالک ، معمر ، عبد الوارث ، حماد بن سلمہ ، سلیمان بن مغیرہ ، حماد بن زید ، معتمر بن سلیمان ، وہیب ، عبید اللہ بن عمرو ، اسماعیل بن علیہ ، عبد السلام بن حرب ، محمد بن عبد الرحمن طفاوی ، نوح بن قیس حدانی ، ہشیم بن بشیر ، یزید بن زریع ، خالد بن خارث ، سفیان بن عیینہ ، عبد الوہاب ثقفی وغیرہم۔[7] حدیث میں ان کی وسعت علم کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ ان کی مرویات کی تعداد آٹھ سو اوربعض روایات کے مطابق دو ہزار تک پہنچتی ہے۔ [8] امام مالک سفیان ثوری،ابن عینیہ،ابن ابی عرویہ،معمر اعمش،قتادہ اورشعبہ وغیرہ جیسے اکابر علماء اورآئمہ آپ کے خوشہ چینیوں میں تھے۔ ارباب فن میں آپ کی مرویات کا پایہ: کیفیت کے اعتبار سے ان کی روایات کا جو پایہ تھا،اس کا اندازہ ذیل کے راویوں سے ہوگا ابو حاتم کا ان کی روایات کے متعلق خیال تھا کہ ان کے جیسے شخص کے متعلق پوچھنے کی ضرورت نہیں، ابن سیرین ان کو مثبت کہتے تھے، مسلم بن اکیس کا بیان ہے کہ میں نے ابن سیرین سے پوچھا کہ آپ سے فلاں فلاں حدیث کس نے بیان کی،انہوں نے جواب دیا مثبت مثبت ایوب نے ابن مدائنی،نسائی اورابن خیثمہ وغیرہ سب ان کی روایات کو اعلیٰ درجہ کی سمجھتے تھے،شعبہ ان کی ان روایات کو جن میں انہیں خود کچھ شک ہوتا، دوسروں کی یقینی اورغیر مشتبہ روایات پر ترجیح دیتےتھے،ایک مرتبہ انہوں نے ان سے ایک حدیث پوچھی انہوں نے جواب دیا مجھے اس میں شک ہے،شعبہ نے کہا آپ کا شک مجھے دوسروں کے یقین سے زیادہ پسند ہے۔ [9]

فقہ[ترمیم]

فقہ میں بھی پورا کمال حاصل تھا،شعبہ انہیں سید الفقہا کہتے تھے،لیکن انتہائی احتیاط کی وجہ سے ان کے کمالات فقہی ظاہر نہ ہوسکے۔ [10]

احتیاط[ترمیم]

ان محدثانہ اور فقہی کمالات کے باوجود وہ حدیث بیان کرنے اور فقہی مسائل بتانے میں بڑے محتاط تھے،حماد بن یزید بیان کرتے ہیں کہ ایوب اوریونس سے زیادہ میں نے سوالات کے جوابات میں لا علمی ظاہر کرنے والا نہیں دیکھا،جواب بھی دیتے تھے تو جواب دینے سے پہلے سائل کے حافظہ کا امتحان کرلیتے تھے،کہ وہ ان کے جواب کو غلط نقل نہ کرے،حماد بن یزید بیان کرتے ہیں، کہ جب کوئی شخص ایوب سے کسی چیز کے متعلق پوچھتا تھا تو پہلے اس کا سوال دہراتے تھے،اگر وہ بعینہ پہلی مرتبہ کی طرح دہرادیتا تو جواب دیتے اوراگر ذرا بھی تغیر وتبدل اورخلط ملط کرتا تو جواب نہ دیتے اورجواب میں اپنی رائے کو دخل نہ دیتے تھے؛بلکہ صرف احادیث وسنن کا حکم بتادیتے اوراگر کوئی سند نہ ہوتی تو لا علمی ظاہر کردیتے ،ایک مرتبہ ایک شخص نے کسی چیز کے متعلق سوال کیا،جواب دیا مجھے کوئی علم نہیں، سائل نے کہا اپنی رائے سے بتائیے ،فرمایا میری رائے بھی کوئی نہیں ہے۔ [11] رائے کو وہ ایک باطل شے سمجھتے تھے کسی نے ان سے کہا آپ مسائل میں رائے کیوں نہیں دیتے،آپ نے یہ تمثیلی جواب دیا کہ کسی نے گدھے سے کہا تم جگالی کیوں نہیں کرتے،اس نے کہا باطل شے کا چبانا پسند نہیں کرتا۔ [12]

پندار علم کا خوف اوراس سے احتراز[ترمیم]

انسان کسی مرتبہ اوردرجہ پر پہنچ کر مشکل ہی سے عجب وغرور سے بچ سکتا ہے، اس لیے ایوب ہمیشہ اس سے خائف رہتے تھے اورکہا کرتے تھے کہ کون انسان اس سے محفوظ رہ سکتا ہے، جب کہ ایک شخص حدیث بیان کرتا ہے اوراس کی بنا پر قوم کے دل میں وہ ایک مقام حاصل کرلیتا ہے، اس وقت اس کے دل میں بعض چیزوں (عجب وغرور وغیرہ)کی آمیزش ہوجاتی ہے۔ [13] لیکن ان کا دامن اس سے محفوظ تھا، علم کا ایک پندار یہ بھی ہے کہ صاحب علم اپنی لا علمی دوسروں پر ظاہر نہ ہونے دے ،اوپر گزرچکا ہے کہ وہ بہتر سائلوں کو صاف جواب دیتے تھے کہ مجھے نہیں معلوم، بعض سائلوں سے کہہ دیتے کہ کسی دوسرے صاحب علم سے پوچھ لو۔ [14]

اہل علم کی عزت[ترمیم]

اہل علم کی بڑی عزت ومحبت کرتے تھے ،خواہ وہ کیسے ہی معمولی حالت میں کیوں نہ ہو،اس کی وقعت میں فرق نہ آتا،ربیع بن مسلم،بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ایوب سختیانی کا ہم سفر تھا، ابطح میں ایک لحیم شحیم شخص سے جس کے جسم پر نہایت موٹا لباس تھا ملاقات ہوئی وہ ایوب کو پوچھ رہا تھا میں نے ان کو اطلاع دی کہ ایک شخص آپ کو تلاش کررہا ہے، جیسے ہی ایوب نے اس شخص کو دیکھا دوڑکر گلے لپٹ گئے،لوگوں نے پوچھا یہ کون شخص ہے معلوم ہوا سالم بن عبداللہ ہیں۔ [15]

زہد وعبادت[ترمیم]

ایوب میں جس درجہ کا علم تھا،اس سے کچھ بڑھ کر زہد وتقویٰ تھا،امام مالک کا بیان ہے کہ وہ علمائے باعمل صاحب خشوع بڑے عبادت گزار اوراخیار لوگوں میں تھے [16] چالیس مرتبہ حج کے شرف سے مشرف ہوئے۔ [17]

عبادت کا اخفاء[ترمیم]

لیکن ہمیشہ عبادت وریاضت کو چھپاتے تھے،فرماتے تھے کہ آدمی کے لیے اپنے زہد کا چھپانا ظاہر کرنے سے بہتر ہے [18]ساری ساری رات عبادت کرتے تھے ،لیکن لوگوں سے چھپانے کے لیے صبح کو اس طرح آواز بلند کرتے کہ سننے والوں کو معلوم ہوکہ ابھی سوکر اٹھے ہیں۔ [19]

ذات نبوی سے عقیدت ومحبت[ترمیم]

ذات نبوی کے ساتھ والہانہ شیفتگی تھی،حدیث نبوی سن کر ایسا زار زار روتے کہ دیکھنے والوں کو رحم آجاتا [20] امام مالک کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ ان کے اجلال کو دیکھ کر ان سے حدیثیں لکھنی شروع کردی تھیں۔ [21]

اتباع رسول[ترمیم]

اس عقیدت ومحبت کا ایک نتیجہ اتباع سنت میں اہتمام تھا حمادبن زید بیان کرتے ہین کہ جن جن لوگوں کے پاس میں بیٹھا ان سب میں زیادہ افضل اور متبع سنت ایوب کو پایا۔ [22]

شہرت سے نفرت اوراہل دنیا سے اجتناب[ترمیم]

ان اوصاف اورکمالات کی وجہ سے ان کی ذات مرجع خلائق بن گئی تھی ؛لیکن دنیا،اہل دنیا اورشہرت ونمود سے دور بھاگتے تھے،عام مجمعوں اورلوگوں کی نظروں سے بچنے کے لیے راستہ چلتے میں عام مالوف راستوں کو چھوڑ کرنا مانوس اور دور دراز راستہ اختیار کرتے،حماد بن زید بیان کرتے ہیں کہ راہ چلتے میں ایوب مجھے دور کے راستوں سے لے جاتے میں ان کو قریب کا راستہ بتاتا تو کہتے میں ان مجالس سے بچنا چاہتا ہوں، ایک دوسری روایت میں حماد بیان کرتے ہیں کہ ایوب مجھے ایسے راستوں سے لے جاتے کہ ان کی تلاش پر تعجب ہوتا اورمحض لوگوں کی نگاہ سے بچنے کے لیے ؛لیکن جب کسی کا سامنا ہوجاتا تو خود سلام میں پیش قدمی کرتے،ان کی شخصیت کی وجہ سے لوگ ان کے سلام کے جواب میں بہت کچھ اضافہ کرتے ان کو یہ امتیاز بھی گوارانہ تھا؛چنانچہ ان کے جوابات سن کر فرماتے ،خدایا تو خوب جانتا ہے کہ یہ میری خواہش نہیں ہے،خدایا تو خوب جانتا ہے کہ میری خواہش نہیں ہے۔ لوگوں کی نظر بچانے کے لیے اکثر دوسرے کو اپنے ساتھ چلنے کی اجازت نہ دیتے،شعبہ بیان کرتے ہیں کہ بسا اوقات میں اپنی ضرورت سے ان کے ساتھ جانا چاہتا تو وہ مجھے اجازت نہ دیتے اور گھر سے نکل کر مختلف گلیوں میں ادھر ادھر نکل جاتے تاکہ لوگ انہیں جاننے نہ پائیں۔ [23] اس غرض کے لیے اپنے طبقہ کی مالوف وضع چھوڑدی تھی کہ لوگوں کی نظر نہ پڑنے پائے اس زمانہ کے عابدوں اورزاہدوں کے پیراہن کا دامن چڑھا رہتا تھا اوریہ ان کا امتیازی نشان تھا، اس لیے وہ اپنے پیراہن کا دامن لٹکاتے تھے،مبعد بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایوب کی قمیص کا دامن لٹکتا ہوا دیکھ کر ان پر اعتراض کیا،انہوں نے کہا ، ابو عروہ اگلے زمانہ میں دامن لٹکا کر چلنے میں شہرت تھی اوراب سمیٹ کر چلنے میں ہے۔ [24]

ارباب و دل وثروت سے گریز[ترمیم]

ارباب دول سے ملنے میں بہت گریز کرتے تھے اوراپنے گھر میں خلفا وسلاطین تک کے آنے کے روادار نہ تھے فرماتے تھے کہ مجھے اپنا لڑکا بکر دنیا میں سب سے زیادہ محبوب ہے؛ لیکن مجھ کو اسے دفن کردینا پسند ہے ،لیکن خلفاء کا پاس آنا پسند نہیں ہے۔

خوش اخلاقی[ترمیم]

اس سے یہ نہ قیاس کرنا چاہئے کہ وہ مردم بیزار اور کج خلق تھے ،وہ صرف اپنے کوچھپانے کے لیے لوگوں کے میل جول سے بچتے تھے ورنہ طبعاً نہایت خوش خلق تھے، حماد بن زید کا بیان ہے کہ میں نے ایوب سے زیادہ کسی کو لوگوں سے تبسم اور خندہ پیشانی کے ساتھ ملتے نہیں دیکھا، جب کوئی بیمار ہوتا،یا کسی کے یہاں موت ہوجاتی تو وہ عیادت اورتعزیت کے لیے ضرور جاتے اوریہ معلوم ہوتا کہ وہ شخص ان کی نگاہ میں سب سے زیادہ معزز اورمحترم ہے، ایسے موقعوں پر وہ معمولی معمولی درجہ کے آدمیوں کے یہاں بھی ضرور حاضری دیتے تھے،یعلی بن حکم نامی ایک غلام ان کا ہم محلہ تھا وہ مرگیا،اس کے صرف ایک ماں تھی،ایوب اس کے یہاں تین دن تک برابر گئے اوراس کے دروازے پر بیٹھتے تھے۔ [25]

وفات[ترمیم]

۱۳۱ھ میں بصرہ میں طاعون کے مرض میں وفات پائی ،۶۳ سال کی عمر تھی،ایک سرخ چادر انہوں نے عرصہ سے کفن کے لیے مخصوص کردی تھی اوراس کو وہ احرام کی حالت میں اور رمضان کی تیسویں شب کو اوڑھتے تھے؛ لیکن یہ چادر مرنے سے پہلے چوری ہوگئی تھی۔ [26]

جلبہ[ترمیم]

سرپر پٹے تھے جو سال میں ایک مرتبہ (غالباً حج کے موقع پر)منڈوایا کرتے تھے،سر اور داڑھی،دونوں کے بال سپید ہوگئے تھے،ان میں کبھی کبھی سرخ خضاب کرتے تھے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. طبقات ابن سعد ج7 ق2 ص14
  2. تہذیب الاسماء ج1 ق1 ص131
  3. شذرات الذہب ج1 ص180
  4. تہذیب الاسماء ج1 ص132
  5. تذکرۃ الحفاظ ج1 ص131
  6. (تذکرہ الحفاظ:۱/۱۳۱)
  7. "التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد - باب الألف في أسماء شيوخ مالك - أيوب السختياني- الجزء رقم1". اسلام ویب. 
  8. (تہذیب :۱/۳۹۷،۳۹۹،تہذیب الاسما،جلد۱،ق۱،ص:۱۳۲)
  9. (تہذیب :۱/۳۹۸)
  10. (تہذیب الاسماء،ج ۱،ق۱،ص۱۳۱)
  11. (ابن سعد،جلد۷ق۲،ص۱۴)
  12. (تذکرہ الحفاظ:۱/۱۱۷)
  13. (ابن سعد،جلد۷ق۲،ص۱۴)
  14. (ابن سعد،جلد۷،ق۲،ص۱۴)
  15. (ایضا:۱۵)
  16. (تہذیب التہذیب:۱/۳۹۸)
  17. (تذکرہ الحفاظ :۱/۱۱۷)
  18. (ابن سعد،جلد۷،ق۲،ص۱۶)
  19. (تذکرہ الحفاظ:۱/۱۱۷)
  20. (تذکرہ الحفاظ:۱/۱۲۴)
  21. (تہذیب التہذیب :۱/۳۹۷)
  22. (تہذیب السماء،جلد۱،ق۱،ص ۱۳۲)
  23. (تہذیب التہذیب:۳۹۷)
  24. (ابن سعد،جلد۷،ق۲،ص:۱۵)
  25. (ایضاً:۱۶)
  26. (ایضاً)