شمس الدین ذہبی
| امام | |
|---|---|
| شمس الدین ذہبی | |
| رحمہ اللہ | |
| (عربی میں: مُحمَّد بن أحمد بن عُثمان بن قايماز الذهبي) | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | 5 اکتوبر 1274ء [1][2] کفر بطنا |
| وفات | 4 فروری 1348ء (74 سال)[3] دمشق [1] |
| عارضہ | اندھا پن |
| عملی زندگی | |
| استاذ | ابن دقیق العید ، یوسف بن عبد الرحمن المزی ، علم الدین البرزالی ، ابن تیمیہ ، ابو بکر بن عبد الحکم ، ابن خراط دوالیبی ، الدمیاطی ، ابن سید الناس ، تقی الدین سبکی ، بدر الدين بن جماعہ |
| تلمیذ خاص | تاج الدین السبکی ، ابن کثیر ، شمس الدین ابن موصلی ، صلاح الدین صفدی ، جمال الدین زیلعی |
| پیشہ | محدث ، مورخ [4]، ماہر اسلامیات [4] |
| مادری زبان | عربی |
| پیشہ ورانہ زبان | عربی [2] |
| شعبۂ عمل | اسلامی الٰہیات ، علم حدیث ، تاریخ |
| کارہائے نمایاں | سیر اعلام النبلاء ، تاریخ الاسلام ، تذکرۃ الحفاظ ، الکبائر (کتاب) ، میزان الاعتدال ، العلو للعلی الغفار (کتاب) ، الطب النبوی للذہبی (کتاب) ، العبر فی خبر من عبر ، المشتبہ فی اسماء الرجال ، المغنی فی الضعفاء ، معجم شیوخ الذہبی |
| درستی - ترمیم | |
امام شمس الدین الذہبی (پیدائش: 5 اکتوبر 673ھ-1274ء — وفات: 3 فروری 748ھ-1348ء) آٹھویں صدی ہجری کے ایک مشہور عرب محدث، مؤرخ اور علم اسماء الرجال کے ماہر تھے۔ ان کا مکمل نام حافظ شمس الدین ابو عبد اللہ محمد بن احمد بن عثمان بن قايماز ذهبی دمشقی ترکمانی شافعی ہے۔ انھوں نے ایسی دو خصوصیات کو جمع کیا جو تاریخ میں بہت کم لوگوں کو نصیب ہوئیں: ایک طرف اسلامی تاریخ کے واقعات اور شخصیات پر گہری اور وسیع نظر اور دوسری طرف علمِ جرح و تعدیل (راویوں کی جانچ پڑتال) کے اصولوں پر کامل مہارت۔ اسی وجہ سے وہ اپنی ذات میں ایک مستقل علمی مکتب شمار ہوتے ہیں۔ [5]
امام ذہبی ان علماء میں سے تھے جنھوں نے علمِ حدیث اور اس کے علوم کے ذریعے تاریخ کے میدان میں قدم رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے تراجم (سوانح عمریوں) پر خاص توجہ دی، جو ان کی اکثر تصانیف کی بنیاد اور ان کے تاریخی فکر کا مرکزی محور بن گئیں۔ کہا جاتا ہے کہ انھیں “ ذہبی ” اس لیے کہا جاتا تھا کہ وہ راویوں کو اس طرح پرکھتے تھے جیسے سنار سونے کو تولتا ہے۔ انھوں نے دمشق ، مصر ، بعلبک اور اسکندریہ میں علم حاصل کیا اور ان سے بڑی تعداد میں لوگوں نے روایت کی۔ ان کا میلان فقہی اعتبار سے حنابلہ کی طرف زیادہ تھا۔ انھوں نے حدیث ، رجال (راویوں کے حالات) اور تاریخ پر بے شمار کتابیں تصنیف کیں۔ انھوں نے قرآن کریم پڑھا اور مختلف قراءتوں کے ساتھ اسے دوسروں کو پڑھایا۔ ان کی صرف تاریخی تصانیف کی تعداد ہی تقریباً دو سو کے قریب ہے، جن میں بعض بہت ضخیم جلدوں پر مشتمل ہیں۔
ولادت اور ابتدائی زندگی
[ترمیم]ابو عبد اللہ شمس الدین محمد بن احمد بن عثمان بن قایماز ذہبی 3 ربیع الآخر 673ھ (اکتوبر 1274ء) کو دمشق کے قریب کفر بطنا میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک معزز ترک النسل خاندان میں پیدا ہوئے جو پہلے دمشق میں مقیم تھا، پھر دیارِ بکر کے مشہور شہر میافارقین میں جا بسا۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دادا قایماز نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ وہیں گزارا۔ [6] [7]، ان کے والد سونے کے کام (سنار) کے پیشے سے وابستہ تھے اور اس فن میں مہارت رکھتے تھے، اسی وجہ سے انھیں “ذہبی” کہا جانے لگا۔ وہ نیک اور علم دوست انسان تھے، جنھوں نے اپنے بیٹے کی تربیت علم کی محبت پر کی۔ خاندان کے دیگر افراد بھی علمی مشاغل سے وابستہ تھے، جس کی وجہ سے ذہبی نے بچپن ہی سے علمی ماحول میں پرورش پائی۔ ان کی پھوپھی ستّ الاہل بنت عثمان حدیث کی راویہ تھیں، جبکہ ان کے ماموں علی بن سنجر اور خالہ کے شوہر بھی اہلِ حدیث میں شمار ہوتے تھے۔ [8]،
کم عمری میں ہی انھوں نے قرآنِ کریم حفظ کرنا شروع کیا اور اسے مکمل حفظ کرکے عمدگی کے ساتھ تلاوت میں مہارت حاصل کی۔ جوانی کو پہنچنے پر انھوں نے علمِ قراءات کی طرف توجہ کی اور اٹھارہ سال کی عمر میں اپنے زمانے کے مشہور اساتذہ سے قراءات کی تعلیم حاصل کی، جیسے عسقلانی (وفات 692ھ) اور شیخ جمال الدین ابو اسحاق ابراہیم بن غال (وفات 708ھ)۔ انھوں نے ان اساتذہ سے قرآن کو سات قراءات کے ساتھ پڑھا اور اس علم میں کامل مہارت حاصل کی۔ انھوں نے اس فن میں اس قدر مہارت حاصل کر لی کہ کم عمری ہی میں ان کے استاد محمد عبد العزیز الدمیاطی نے بیماری کے باعث جامع اموی میں اپنی تدریسی نشست انھیں سونپ دی۔ اسی دوران جب وہ قراءات سیکھ رہے تھے، ان کا رجحان علمِ حدیث کی طرف بڑھا، جس نے انھیں پوری طرح اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ چنانچہ انھوں نے اس علم کے حصول کے لیے اپنے اساتذہ کی صحبت اختیار کی اور طلبِ حدیث کے لیے ایک طویل علمی سفر کا آغاز کیا۔ [9]
علمی سفر اور طلبِ علم کی رحلات
[ترمیم]امام ذہبی کی ابتدائی علمی رحلات بلادِ شام کے اندر ہی ہوئیں۔ وہ 693ھ (1293ء) میں بعلبک گئے اور وہاں کے اساتذہ سے حدیث روایت کی۔ اس کے بعد انھوں نے حلب ، حماہ ، طرابلس ، کرک، نابلس ، رملہ اور القدس کا سفر کیا اور وہاں کے علما سے استفادہ کیا۔ پھر 695ھ (1295ء) میں وہ مصر گئے، جہاں انھوں نے بڑے اساتذہ سے علم حاصل کیا، جن میں ابن دقيق العيد اور بدر الدين ابن جماعہ سرِ فہرست تھے۔ اس کے بعد وہ اسکندریہ گئے، جہاں انھوں نے علما سے حدیث سنی اور بعض ماہر قراء سے قرآنِ کریم کو روایتِ ورش اور حفص کے مطابق پڑھا، پھر دمشق واپس آ گئے۔
698ھ (1298ء) میں امام ذہبی حج کے لیے حجاز گئے۔ اس سفر میں ان کے ساتھ ان کے اساتذہ اور ساتھی بھی تھے۔ انھوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علما سے حدیث کا سماع کیا۔ [10]
اگرچہ امام ذہبی کی بنیادی توجہ علمِ حدیث پر مرکوز تھی، تاہم انھوں نے نحو اور عربی زبان بھی شیخ ابن ابی علاء نصیبی اور مصر کے نامور ادیب بہاء الدین بن نحاس سے حاصل کی۔ اس کے علاوہ انھوں نے مغازی (غزوات کی تاریخ)، سیرت، تراجم اور عمومی تاریخ کا بھی گہرا مطالعہ کیا۔ اسی دوران ان کا اپنے عہد کے تین بڑے علما سے تعلق قائم ہوا اور وہ ان کے ساتھ رہے، یہ تھے:
- شیخ الاسلام ابن تیمیہ (661ھ – 728ھ)
- جمال الدین ابو حجاج مزی (654ھ – 739ھ)
- علم الدین برزالی (665ھ – 739ھ)
ان تمام علما میں ایک مشترک بات یہ تھی کہ وہ علمِ حدیث کے طلبگار تھے، فقہی اعتبار سے حنابلہ کی طرف میلان رکھتے تھے اور اپنے مسلک کا بھرپور دفاع کرتے تھے۔ امام ذہبی خود بیان کرتے ہیں کہ علم الدین برزالی وہ شخصیت تھے جنھوں نے انھیں علمِ حدیث کی طلب کی طرف خاص رغبت دلائی۔

عقیدہ
[ترمیم]امام ذہبی شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے شاگردوں میں سے تھے اور ابتدائی دور میں وہ ان سے بہت متاثر ہوئے۔ تاہم بعد میں انھوں نے اپنے بعض سابقہ خیالات سے رجوع کیا۔ اس بارے میں خود امام ذہبی کہتے ہیں:[11]
| ” | “میں ابن تیمیہ کو معصوم نہیں سمجھتا، بلکہ میں ان سے بعض اصولی اور فروعی مسائل میں اختلاف رکھتا ہوں۔” | “ |
شیخ سلیمان بن صالح خراشی نے بھی اس حوالے سے کلام کیا ہے۔
اسی طرح امام ذہبی نے اپنی کتاب سیر اعلام النبلاء میں، امام غزالی کے ترجمے میں “قواعد العقائد” کا متن نقل کرنے کے بعد کہا: “یہ عقیدہ زیادہ تر صحیح ہے، اگرچہ اس میں کچھ باتیں ایسی ہیں جو میں نہیں سمجھ سکا اور بعض امور ایسے ہیں جن میں مختلف مکاتبِ فکر کے درمیان اختلاف ہے۔ ایک مسلمان کے لیے ایمان میں یہی کافی ہے کہ وہ اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، تقدیر (خیر و شر)، مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے پر ایمان رکھے اور یہ کہ اللہ کی مثل کوئی چیز نہیں اور اس کی صفات جو وارد ہوئی ہیں وہ حق ہیں، انھیں جیسے آئے ہیں ویسے ہی مانا جائے اور یہ کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور اس کا نازل کردہ ہے اور مخلوق نہیں۔ ایسے ہی دیگر امور جن پر امت کا اجماع ہے اور جو اس سے ہٹ کر ہو اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ اور اگر امت دین کے بعض مشکل اصولی مسائل میں اختلاف کرے تو ہمیں اس میں خاموشی اختیار کرنی چاہیے اور اسے اللہ کے سپرد کر دینا چاہیے اور کہنا چاہیے کہ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں اور اس میں سکوت ہی ہمارے لیے کافی ہے ۔ [12]
تبرک بآثارِ نبوی
[ترمیم]حافظ ذہبی بیان کرتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل سے نبی کریم ﷺ کی قبر کو چھونے اور بوسہ دینے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔ [13] امام ذہبی اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: “اگر یہ کہا جائے کہ صحابہ نے ایسا کیوں نہیں کیا؟ تو جواب یہ ہے کہ انھوں نے نبی ﷺ کو اپنی آنکھوں سے زندہ دیکھا، آپ سے خوب فیض حاصل کیا، آپ کے ہاتھ کو بوسہ دیا اور آپ کے وضو کے پانی پر تقریباً جھگڑنے لگتے تھے اور حجۃ الوداع کے موقع پر آپ کے مبارک بالوں کو آپس میں تقسیم کیا۔ جب آپ تھوکتے تو آپ کا لعاب زمین پر گرنے سے پہلے ہی کسی شخص کے ہاتھ میں آ جاتا اور وہ اسے اپنے چہرے پر مل لیتا۔ اور ہم چونکہ اس عظیم حصہ سے محروم رہے، اس لیے ہم آپ کی قبر کے ساتھ چمٹنے، تعظیم کرنے، اسے چھونے اور بوسہ دینے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ ثابت بنانی، انس بن مالک کے ہاتھ کو بوسہ دیتے اور اسے اپنے چہرے پر رکھتے ہوئے کہتے: یہ وہ ہاتھ ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ کو چھوا ہے۔
یہ تمام امور ایک مسلمان کے دل میں نبی ﷺ کی شدید محبت ہی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں، کیونکہ اسے حکم دیا گیا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے اپنی جان، اولاد، تمام لوگوں، اپنے مال بلکہ جنت اور اس کی نعمتوں سے بھی زیادہ محبت کرے۔”[14]
تبرک بصالحین کی قبور سے
[ترمیم]امام ذہبی نے اپنی کتاب سیر اعلام النبلاء میں تقریباً پچیس مقامات پر اولیائے صالحین کی قبور سے تبرک حاصل کرنے کے واقعات ذکر کیے ہیں۔ ان واقعات کو بعد میں ایک مجموعے کی صورت میں بھی جمع کیا گیا، جس کا نام البرکہ والتبرک من ذہبيات الحافظ الذہبی رکھا گیا۔ ،[15]
ان میں سے ایک واقعہ یہ ہے: ابو علی غسانی بیان کرتے ہیں کہ ہمیں ابو فتح نصر بن حسن سمرقندی نے خبر دی، جو سنہ 464ھ میں بلنسیہ آئے تھے۔ انھوں نے کہا: ایک سال سمرقند میں سخت قحط پڑ گیا۔ لوگوں نے کئی مرتبہ بارش کے لیے دعا (استسقاء) کی، مگر بارش نہ ہوئی۔ پھر ایک نیک اور صالح شخص قاضی سمرقند کے پاس آیا اور کہا: “میرے ذہن میں ایک بات آئی ہے، میں اسے آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں۔”
قاضی نے پوچھا: “وہ کیا ہے؟” اس نے کہا: “میری رائے یہ ہے کہ آپ لوگوں کے ساتھ نکلیں اور محمد بن اسماعيل بخاری کی قبر کی طرف جائیں، جو خرتنک میں واقع ہے اور وہاں جا کر بارش کی دعا کریں، شاید اللہ ہمیں بارش عطا فرمائے۔” قاضی نے کہا: “یہ اچھی رائے ہے۔”
چنانچہ قاضی اور لوگ وہاں گئے، انھوں نے اجتماعی طور پر بارش کی دعا کی، قبر کے پاس روئے اور صاحبِ قبر کے وسیلے سے دعا کی۔ پس اللہ تعالیٰ نے خوب بارش نازل فرمائی، یہاں تک کہ لوگ خرتنگ میں سات دن یا اس کے قریب ٹھہرے رہے، کیونکہ بارش اس قدر زیادہ تھی کہ کوئی شخص وہاں سے سمرقند نہیں جا سکتا تھا۔ خرتنگ اور سمرقند کے درمیان تقریباً تین میل کا فاصلہ ہے۔ [16]
علمی خدمات اور تدریسی سرگرمیاں
[ترمیم]امام ذہبی نے جب طلبِ علم کے لیے اپنی طویل رحلات مکمل کر لیں اور ایک ہزار سے زائد علما سے علم حاصل کر لیا، تو وہ تدریس کی طرف متوجہ ہوئے۔ انھوں نے علمی مجالس قائم کیں اور تصنیف و تالیف میں بھرپور مشغول ہو گئے۔ ان کی عملی علمی زندگی کا آغاز دمشق کے مضافات میں واقع گاؤں کفر بطنا سے ہوا، جہاں انھوں نے 703ھ (1303ء) میں مسجد میں خطابت سنبھالی اور 718ھ (1318ء) تک وہیں قیام کیا۔ اسی مقام پر انھوں نے اپنی کئی اہم اور بہترین کتابیں تصنیف کیں اور یہ دور ان کی زندگی کا سب سے زیادہ بارآور علمی زمانہ شمار ہوتا ہے۔ بعد ازاں انھیں دمشق کی مشہور درسگاہ تربت ام صالح میں دار الحدیث کی شیخیت سونپی گئی، جو شہر کی بڑی علمی درسگاہوں میں شمار ہوتی تھی۔ انھوں نے 718ھ میں کمال الدین بن شریشی کی وفات کے بعد یہ منصب سنبھالا اور اسی کو اپنی رہائش بھی بنایا، یہاں تک کہ وفات تک وہیں مقیم رہے۔
پھر 729ھ میں انھیں دار الحدیث ظاہریہ کی شیخیت بھی دی گئی اور 739ھ میں قاسم برزالی کی وفات کے بعد مدرسہ نفیسیہ کی سربراہی اور اسی سال دار الحدیث والقرآن تنکزیہ کی ذمہ داری بھی ان کے سپرد کی گئی۔ ان تعلیمی اداروں کی بدولت بڑی تعداد میں طلبہ نے ان سے علم حاصل کیا۔ ان کی شہرت دور دور تک پھیل گئی اور عالمِ اسلام کے مختلف علاقوں سے طلبہ ان کے پاس آنے لگے۔ علمِ حدیث، اس کے علوم اور تاریخ میں ان کی مہارت نے انھیں ایک مستقل علمی مدرسہ بنا دیا، جہاں سے بڑے بڑے محدثین اور حفاظ نے تعلیم حاصل کی۔ آٹھویں صدی ہجری کی کتب میں ان کے سینکڑوں ممتاز شاگردوں کا ذکر ملتا ہے، جن میں نمایاں نام یہ ہیں: ابن كثير عبد الوہاب سبكی صلاح الدين صفدی ابن رجب حنبلی یہی شاگرد آگے چل کر خود بھی بڑے علما بنے اور علمی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔
تصانیف
[ترمیم]امام ذہبی نے نہایت وقیع اور کثیر علمی سرمایہ چھوڑا، جس میں دو سو سے زائد کتابیں شامل ہیں۔ ان کی تصانیف اسلامی علوم کے متعدد میدانوں پر مشتمل ہیں، جیسے علمِ قراءات، حدیث اور اس کی اصطلاحات، فقہ اور اصولِ فقہ، عقائد اور زہد و رقائق۔ تاہم ان کی اکثر تصانیف تاریخ اور اس کی مختلف شاخوں سے متعلق ہیں، جن میں مفصل کتب، مختصرات، معاجم اور سیرت و تراجم شامل ہیں۔
ان تصانیف کا تقریباً ایک تہائی حصہ ان مختصرات پر مشتمل ہے جو امام ذہبی نے اپنے سے پہلے کی اہم تاریخی کتب کو خلاصہ کرکے تیار کیے۔ انھوں نے خطيب بغدادی کی تاریخ بغداد، ابن عساكر کی تاریخ دمشق، حاكم نيشاپوری کی تاریخ نیشاپور، ابن يونس کی تاریخ مصر، ابو شامہ مقدسی کی الروضتین فی اخبار دولتین، منذری کی التکملہ لوفيات النقلہ اور ابن الاثير کی اسد الغابہ کو مختصر کیا۔ محقق شاکر مصطفیٰ کے مطابق، امام ذہبی نے مجموعی طور پر 367 کتب کے اختصارات تیار کیے۔ ان مختصرات کے علاوہ امام ذہبی نے تاریخ اور علمِ تراجم میں بھی متعدد مستقل کتب تصنیف کیں، جن میں سے بعض اہم تصانیف (ترتیبِ زمانی کے مطابق) درج کی جاتی ہیں۔ [17]
- 1. تاریخ الاسلام ووفيات المشاهير والأعلام — 714ھ (ابتدا) / 726ھ (تکمیل)
- 2. العبر في خبر من عبر — 715ھ
- 3. معرفة القراء الكبار — 716ھ تا 718ھ
- 4. تذهيب تهذيب الكمال — 719ھ
- 5. أسماء من عاش ثمانين سنة — 719ھ / 720ھ
- 6. الكاشف في معرفة من له رواية في الكتب الستة — 720ھ
- 7. المغنی فی الضعفاء — 720ھ
- 8. ميزان الاعتدال فی نقد الرجال — 724ھ
- 9. الرواة الثقات المتكلم فيهم — 724ھ کے بعد
- 10. معجم الشيوخ — 727ھ
- 11. أهل المئة فصاعداً — 728ھ
- 12. المعجم المختص بالمحدثين — 731ھ
- 13. تذكرة الحفاظ — 731ھ تا 732ھ
- 14. سير اعلام النبلاء — 739ھ
دیگر تصانیف
[ترمیم]امام ذہبی کی مشہور تصانیف
[ترمیم]امام ذہبی کی سب سے مشہور دو کتابیں یہ ہیں:
یہ امام ذہبی کی سب سے بڑی اور معروف کتاب ہے۔ اس میں انھوں نے اسلامی تاریخ کو ہجرتِ نبوی سے لے کر 700ھ (1300ء) تک بیان کیا ہے، یعنی تقریباً سات صدیوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اگرچہ بعض دیگر مؤرخین جیسے ابن كثير نے اپنی کتاب البدایہ والنہایہ میں پوری انسانی تاریخ کو بیان کیا ہے اور النويری نے اپنی کتاب نهايہ الأرب فی فنون الأدب میں وسیع تاریخی مواد جمع کیا ہے، لیکن امام ذہبی کی اس کتاب کی خصوصیت اس کا دائرۂ کار ہے جو پورے عالمِ اسلام تک پھیلا ہوا ہے اور اس میں ان سے پہلے کے مؤرخین اور بعد کے شاگردوں کے مقابلے میں وسعت اور تقدم دونوں پائے جاتے ہیں۔
اس عظیم تصنیف میں امام ذہبی نے اسلامی دنیا کے اہم تاریخی واقعات، مختلف سلطنتوں اور حکومتوں کے عروج و زوال کو بیان کیا ہے اور ساتھ ہی ہر شعبۂ زندگی کے مشہور افراد کے حالات و تراجم بھی شامل کیے ہیں، کسی خاص طبقے تک محدود کیے بغیر۔ اس کتاب میں تقریباً چالیس ہزار شخصیات کے حالات درج کیے گئے ہیں، جو تاریخ کی کسی بھی دوسری کتاب میں اس درجے پر نہیں ملتے۔ [21]
- دوسری: سير اعلام النبلاء
یہ کتاب امام ذہبی کی دوسری سب سے بڑی اور اہم تصنیف ہے، جو تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام کے بعد ان کا عظیم علمی شاہکار شمار ہوتی ہے۔ یہ ایک عام نوعیت کی تراجم کی کتاب ہے (یعنی ایسی کتب جن میں صرف شخصیات اور ان کے حالاتِ زندگی بیان کیے جاتے ہیں)، جس میں امام ذہبی نے اپنے سے پہلے کے علما اور مشاہیر کے حالات جمع کیے ہیں۔ امام ذہبی نے اس کتاب میں شخصیات کی ترتیب طبقات کی بنیاد پر رکھی ہے، یعنی انھیں مختلف ادوارِ زمانہ میں تقسیم کیا گیا ہے۔
ان کے ہاں تاريخ الاسلام میں ایک طبقہ تقریباً دس سال پر مشتمل ہوتا ہے، جس میں وہ سال بہ سال واقعات بیان کرتے ہیں اور پھر ہر طبقے کے آخر میں اس دور کے وفات پانے والے مشاہیر کے تراجم حروفِ تہجی کی ترتیب سے ذکر کرتے ہیں۔ جبکہ سير اعلام النبلاء میں ایک طبقہ کو بیس سال پر مشتمل رکھا گیا ہے اور اس طرح یہ کتاب مجموعی طور پر پینتیس (35) طبقات پر مشتمل ہو جاتی ہے۔ [22]
وفات
[ترمیم]امام ذہبی کا انتقال 3 ذوالقعدہ 748ھ بمطابق 3 فروری 1348ء کو ہوا۔ ان کی تدفین دمشق میں کی گئی۔ امام ذہبی اپنے دور میں ایک بلند مقام کے حامل تھے اور ان کی عظمت کا اندازہ ان کی عظیم تصانیف اور ہم عصر علما کی گواہیوں سے ہوتا ہے۔ ان کے شاگرد تاج الدين سبكی نے ان کے بارے میں نہایت وقیع الفاظ کہے: “وہ اپنے زمانے کے محدث تھے۔ ہمارے دور میں چار بڑے حفاظ گذرے: المِزی ، علم الدین برزالی ، شمس الدین ذہبی اور ہمارے شیخ والد اور ان کے برابر کوئی پانچواں نہیں۔ ہمارے استاد ابو عبد اللہ اپنی مثال آپ تھے، مشکل مسائل میں مرجع تھے، حفظ و روایت میں امام تھے، اپنے زمانے کا سونا تھے اور علمِ جرح و تعدیل کے امام تھے…”
یہ الفاظ اگرچہ بہت بلند ہیں، لیکن چونکہ خود تاج الدین سبکی اپنے شیخ پر سخت نقد کرنے والوں میں سے تھے، اس لیے ان کی یہ شہادت مزید اہمیت رکھتی ہے۔ امام ذہبی آخر عمر تک تدریس اور تصنیف میں مشغول رہے۔ وہ دمشق کی پانچ مدارسِ حدیث میں تدریس کرتے رہے، یہاں تک کہ آخری عمر میں ان کی بینائی کمزور ہو گئی اور پھر مکمل طور پر ختم ہو گئی۔ اسی حالت میں وہ علمی خدمات انجام دیتے رہے، حتیٰ کہ 3 ذو القعدہ 748ھ مطابق 4 فروری 1348ء کی رات وفات پا گئے۔ ان کی وفات کا ذکر ابن شاكر كتبی نے اپنی کتاب فوات الوفيات میں اچھے انداز میں کیا ہے۔
خط کتابت
[ترمیم]امام ذہبی کی اپنی ہاتھ کی لکھی ہوئی مخطوطات بھی محفوظ ہیں۔ ان میں سے ایک اہم نسخہ ان کی کتاب ميزان الاعتدال کا ہے، جو مصنف کے اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا ہے۔ یہ مخطوطہ مراکش کے شہر تمكروت میں واقع ناصرہ لائبریری میں محفوظ ہے اور اسے دار الرسالة العالميہ (دمشق) کے ایڈیشن میں بنیادی نسخہ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ [23]
اشعار
[ترمیم]امام ذہبی کے بعض اشعار درج ذیل ہیں:
| إذا قرأ الحديثَ عليَّ شخصٌ | وأخلى موضِعًا لوفاةِ مثلي | |
| فما جازى بإحسانٍ لأني | أريدُ حياتَه ويريدُ قتلي |
ترجمہ: جب کوئی شخص میرے سامنے حدیث پڑھتا ہے اور میری وفات کے لیے جگہ خالی کرتا ہے تو وہ میرے ساتھ کوئی احسان نہیں کرتا کیونکہ میں اس کی زندگی چاہتا ہوں اور وہ میری موت چاہتا ہے
| العلم: قال الله قال رسوله | إن صحَّ والإجماع فاجهَد فيهِ | |
| وحَذارِ من نَصْبِ الخِلاف جَهالةً | بينَ الرَّسولِ وبينَ رأي فقيه |
ترجمہ : علم یہ ہے: اللہ نے فرمایا، رسول نے فرمایا اگر صحیح ہو اور اجماع ہو تو اسی پر محنت کرو اور خبردار! جہالت کی بنا پر اختلاف کھڑا نہ کرو رسول کے قول اور کسی فقیہ کی رائے کے درمیان ۔ [24][25][26][27][28][29]
حوالہ جات
[ترمیم]- 1 2 عنوان : Gemeinsame Normdatei — جی این ڈی آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/118889788 — اخذ شدہ بتاریخ: 13 اگست 2015 — اجازت نامہ: CC0
- 1 2 مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — عنوان : اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم — بی این ایف - آئی ڈی: https://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb12599458r — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015
- ↑ ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w6t43xrt — بنام: Al-Dhahabi — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
- 1 2 عنوان : Gemeinsame Normdatei — جی این ڈی آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/118889788 — اخذ شدہ بتاریخ: 20 اپریل 2026 — اجازت نامہ: CC0
- ↑ شمس الدين أبو عبد الله محمد بن أحمد بن عثمان بن قَايْماز الذهبي (1408هـ =1988م)۔ المعجم المختص بالمحدثين۔ تحقيق: محمد الحبيب الهيلة (1 ایڈیشن)۔ الطائف: مكتبة الصديق۔ ص 97۔ 2024-12-10 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-04-13
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|سال=(معاونت) - ↑ الصفدي، الوافي بالوفيات، ج 2، ص 164
- ↑ تاريخ الإسلام، تحقيق د. بشار عواد معروف ( بيروت : دار الغرب الإسلامي 2003 م ) ط1، ص 21.
- ↑ الصفدي، الوافي بالوفيات، ج 7، ص 179.
- ↑ السبكي: طبقات الشافعية، الجزء التاسع، صفحة 102.
- ↑ يقول الذهبي في سير أعلام النبلاء (22/377) عن نفسه: «ألبسني خرق التصوف شيخنا المحدث الزاهد ضياء الدين عيسى بن يحيى الأنصاري بالقاهرة، وقال: ألبسنيها الشيخ شهاب الدين السهروردي بمكة عن عمه أبي النجيب».
- ↑ ابن حجر عسقلانی، الدرر الکامنة، دار إحیاء التراث العربی، بیروت، ج1، ص151.
- ↑ سليمان بن صالح الخراشي، عقيدة الإمام الذهبي.
- ↑ الذهبي، شمس الدين. معجم شيوخ الذهبي 73/1.
- ↑ "الحافظ الذهبي الذي هو معتقَدٌ عند الوهابية نفاة التوسل وغيرهم يستحسن التبرك بالرسول وءاثاره ووَضوئه وقبره (من معجم شيوخ الذهبي) | موقع سحنون" (بزبان عربی)۔ 12 فروری 2019۔ 2025-06-22 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-08-25
- ↑ matnawi۔ البركة والتبرك من ذهبيات الحافظ الذهبي (بزبان عربی)
- ↑ سير أعلام النبلاء - الذهبي - ج ١٢ - الصفحة ٤٦٩.
- ↑ محمد الثاني بن عمر بن موسى (1421 هـ)۔ ضوابط الجرح والتعديل عند الحافظ الذهبي (1 ایڈیشن)۔ إصدارات مجلة الحكمة۔ ص 62–86
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|سال=(معاونت) ونامعلوم پیرامیٹر|مقام اشاعت=رد کیا گیا (معاونت) - ↑ شمس الدين الذهبي (1404)۔ "كتاب المعين في طبقات المحدثين - المكتبة الشاملة"۔ shamela.ws۔ دار الفرقان.عمان. الأردن۔ 2023-04-13 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2023-04-12
- ↑ شمس الدين الذهبي (١٣٨٧ هـ - ١٩٦٧ م)۔ ديوان الضعفاء والمتروكين وخلق من المجهولين وثقات فيهم لين (الطبعة: الثانية ایڈیشن)۔ مكتبة النهضة الحديثة - مكة۔ ص ٤٧٥
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|سال=(معاونت) - ↑ شمس الدين الذهبي (١٤٢٣ هـ - 2002 م)۔ رسالة طرق حديث «من كنت مولاه فعلي مولاه» (الطبعة: الأولی ایڈیشن)۔ دليل ما - طهران۔ ص 161
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|سال=(معاونت) - ↑ الذهبي، تاريخ الإسلام، تحقيق د. بشار عواد، ج 1، ص 5.
- ↑ الذهبي، تاريخ الإسلام، تحقيق د. بشار عواد، ج 1، ص 5 - 9.
- ↑ محمد بن أحمد بن عثمان شمس الدين الذهبي (2009)۔ "مقدمة التحقيق"۔ ميزان الاعتدال (1 ایڈیشن)۔ دار الرسالة العالمية۔ ص 17–19
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|سال=(معاونت) ونامعلوم پیرامیٹر|مقام اشاعت=رد کیا گیا (معاونت) - ↑ عبد الوهاب السبكي - طبقات الشافعية الكبرى - تحقيق محمود محمد الطناحي وعبد الفتاح محمد الحلو - هجر للطباعة والنشر - القاهرة 1413 هـ / 1992م.
- ↑ ابن كثير - البداية والنهاية - تحقيق عبد الله عبد المحسن التركي - هجر للطباعة والنشر - القاهرة - 1418 هـ / 1998م.
- ↑ بشار عواد معروف - مقدمة تحقيق سير أعلام النبلاء ـ مؤسسة الرسالة ـ بيروت 1412 هـ / 1992م.
- ↑ عبد الستار الشيخ - كتاب الإمام الذهبي - دار القلم - دمشق.
- ↑ شاكر مصطفى - التاريخ العربي والمؤرخون - دار العلم للملايين - بيروت - 1993م.
- ↑ تاريخ الإسلام للإمام شمس الدين محمد بن أحمد الذهبي.
- 1274ء کی پیدائشیں
- 5 اکتوبر کی پیدائشیں
- 1348ء کی وفیات
- 4 فروری کی وفیات
- دمشق کی وفیات
- 673ھ کی پیدائشیں
- 748ھ کی وفیات
- اثری شخصیات
- چودہویں صدی کی ترک شخصیات
- چودہویں صدی کے مؤرخین
- چودہوں صدی کے اسلامی مسلم علما
- دمشق کی شخصیات
- رجال شناس
- سلطنت مملوک مصر کے علماء
- سوری مورخین
- شوافع
- عرب محدثین
- عرب مؤرخین
- محدثین
- مسلم قاموس نگار شخصیات
- اسلام کے مسلمان مورخین
- چودہویں صدی کے سوانح نگار
- شام کے محدثین
- سوری سنی علماء اسلام
- چودہویں صدی کی عرب شخصیات
- دمشق کے مصنفین
- قرون وسطی کے اسلامی دنیا مؤرخین
- سوری سلفی
- نابینا شخصیات
- علمائے اہلسنت
