مندرجات کا رخ کریں

ابن خلدون

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
ابن خلدون
(عربی میں: عبد الرحمٰن بن مُحمَّد بن خلدون الحضرمي ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

معلومات شخصیت
پیدائش 27 مئی 1332ء [1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تونس شہر [2]  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 17 مارچ 1406ء (74 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قاہرہ   ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لقب ولي الدين
نسل عربي
بہن/بھائی
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ زیتونہ   ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ماہر انسانیات ،  مورخ ،  منصف ،  آپ بیتی نگار ،  ماہرِ عمرانیات ،  ماہر معاشیات ،  فلسفی ،  سیاست دان ،  مصنف [3]،  شاعر [4]  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی [5]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل معاشیات ،  معاشریات ،  فلسفہ ،  بشریات ،  سیاست دان ،  معیشت ،  تاریخ   ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں مقدمہ ابن خلدون ،  اسباق کی کتاب   ویکی ڈیٹا پر (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مؤثر ابن رشد [6]  ویکی ڈیٹا پر (P737) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ابن خلدون جن کا پورا نام ابو زید ولی الدین عبد الرحمن بن محمد بن خلدون حضرمی اشبیلی ہے، 732ھ / 1332ء میں پیدا ہوئے اور 808ھ / 1406ء میں وفات پائی۔[9] وہ عرب اور اسلامی علوم کے ممتاز علما میں شمار ہوتے ہیں۔ ابن خلدون نے سماجیات ، فلسفہ، معاشیات ، شہری منصوبہ بندی اور تاریخ جیسے علوم میں غیر معمولی مہارت حاصل کی۔ انھوں نے تاریخ کو سمجھنے کے لیے ایک منفرد فکری نظام قائم کیا، جس میں انھوں نے تاریخی روایات کو ان خرافات اور غیر منطقی حکایات سے الگ کیا جو عقل و منطق سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ اس طرح وہ پہلے مفکر سمجھے جاتے ہیں جنھوں نے سماجی مظاہر کے مطالعے میں سائنسی منہج کو اپنایا۔ اپنی جوانی میں انھوں نے دیوانِ رسائل میں بطور کاتب خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں وہ مغرب اور اندلس کے بادشاہوں کے درمیان سفارتی فرائض انجام دینے لگے۔ پھر وہ مصر ہجرت کر گئے، جہاں سلطان ظاہر سيف الدين برقوق نے انھیں مالکی قاضی کے منصب پر فائز کیا۔ بعد میں انھوں نے سفارتی خدمات ترک کر کے تدریس اور تصنیف کو اپنی زندگی کا محور بنا لیا۔ انھوں نے متعدد اہم کتب تصنیف کیں، جن میں سب سے اہم کتاب "کتاب العبر ، وديوان المبتدا والخبر، فی ايام العرب والعجم والبربر ومن عاصرہم من ذوی سلطان اكبر" ہے، جو عام طور پر "تاریخ ابن خلدون" کے نام سے معروف ہے۔ اس کتاب کا مقدمہ، جو "مقدمہ ابن خلدون" کے نام سے مشہور ہے، خود ایک مستقل اور نہایت اہم علمی تصنیف شمار ہوتی ہے اور اسے سماجی علوم کی بنیاد رکھنے والی کتابوں میں شامل کیا جاتا ہے۔[10]

ابن خلدون تونس میں دولت حفصيہ کے دور میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے اپنا بچپن وہیں گزارا، پھر مغربی دنیا (المغرب العربی) اور اندلس کے مختلف شہروں میں علمی و سماجی سفر کا آغاز کیا۔ بعد ازاں وہ المغرب میں مقیم رہے اور علمی گوشہ نشینی اختیار کر کے مطالعہ و تحقیق میں مشغول رہے۔ اسی دور میں انھوں نے اپنی مشہور تصنیف "مقدمہ ابن خلدون" مکمل کی، جو ان کی مصر ہجرت سے پہلے تیار ہو چکی تھی۔ پھر وہ مصر منتقل ہوئے اور وہاں سے حج کی سعادت کے لیے حجاز کا سفر کیا۔ اسی دوران وہ دمشق میں پیش آنے والے حالات میں ثالثی کے لیے بھیجے گئے، تاکہ امیر تیمور لنگ کی فوجوں اور دمشق کے لوگوں کے درمیان خونریزی کو روکا جا سکے۔ وہ مملوکی سلطان ناصر زين الدين فرج کے ساتھ آنے والے قاضیوں میں شامل تھے۔ دمشق میں انھوں نے مدرسہ عادليہ میں قیام کیا اور اپنی ذمہ داری پوری کی۔ ان دونوں بڑے سفروں کے علاوہ وہ زیادہ تر مصر ہی میں مقیم رہے۔ قاہرہ میں وہ مالکی فقہ کے ایک مدرسے، مدرسہ قمحیہ میں تدریس کرتے رہے اور بعد میں مدرسہ ظاہریہ برقوقیہ کے قیام کے بعد وہاں بھی تدریسی خدمات انجام دیں۔ اپنی علمی تحقیقات کے دوران ابن خلدون نے علم عمران بشری (سماجی عمرانیات) کی بنیاد رکھی، جس میں انھوں نے بتایا کہ اقوام و ریاستوں کی زندگی ترقی، عروج اور زوال کے مراحل سے گزرتی ہے۔ اس علم کا مقصد انسانی معاشروں کے سیاسی، سماجی، مذہبی اور معاشی حالات کا سائنسی مطالعہ کرنا ہے اور تاریخ کو مؤرخین کی ذاتی آراء اور خارجی اثرات سے پاک کر کے حقیقی اور منظم انداز میں سمجھنا ہے۔

ابن خلدون کی تصانیف نے عالمی فکری تاریخ پر گہرا اثر ڈالا۔ انھیں پہلا مفکر سمجھا جاتا ہے جس نے ریاستوں کے عروج و زوال کا جامع مطالعہ پیش کیا، جس میں سیاسی نظام، سماجی ڈھانچے، معاشی و مالیاتی پالیسیوں اور شہری تہذیب کی ترقی کے مراحل کو ایک مربوط نظریے کے تحت بیان کیا گیا۔ یہ افکار انھیں جدید دور کی سیاسیات اور معاشیات کے مطالعے میں ایک مرکزی حیثیت عطا کرتے ہیں، خصوصاً یورپی مفکرین کے ہاں اسلامی تہذیب کے زوال سے پہلے کے دور میں ان کی اہمیت بہت زیادہ سمجھی گئی۔ ان کے نظریات کو مختلف زبانوں میں ترجمہ کیا گیا اور ان پر متعدد تحقیقات کی گئیں۔ ان پر ابتدائی مغربی مطالعات میں ایک اہم نام جاكوب خوليو کا ہے، جس نے ابن خلدون کے افکار کا تتبع کیا اور 1636ء میں اپنی کتاب "رحلات ابن خلدون" تصنیف کی، جس کے بعد اسے لاطینی، فرانسیسی اور یونانی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔[11] ابن خلدون کو یہ بھی امتیاز حاصل ہے کہ وہ پہلے ایسے مؤرخ ہیں جنھوں نے اپنی خود نوشت سوانح حیات تفصیل کے ساتھ لکھی، جو انھوں نے اپنی تاریخ کی کتاب کے مختلف حصوں میں بیان کی۔ اس میں انھوں نے مغربی اسلامی دنیا میں سلطنتوں کے قیام اور زوال، مصر میں اپنے تجربات، امیر تیمور لنگ سے اپنی ملاقات اور ثالثی کی کوششوں اور حج کے سفر کو تفصیل سے ذکر کیا ہے۔

سیرت

[ترمیم]

نسب

[ترمیم]

وہ ابن خلدون ہیں، جن کا پورا نام عبد الرحمن بن محمد بن محمد بن محمد بن حسن بن محمد بن جابر بن محمد بن ابراہیم بن عبد الرحمن بن خلدون حضرمی اشبیلی ہے۔ ان کی کنیت ابو زید ہے اور لقب ولی الدین ہے۔

بچپن اور ابتدائی زندگی

[ترمیم]


ابن خلدون 732ھ / 1332م میں تونس میں ایک اندلسی خاندان میں پیدا ہوئے، جو ساتویں ہجری صدی میں اندلس سے ہجرت کر کے افریقہ (مغرب) میں آ بسا تھا۔[12] ان کا نسب عرب یمن کے قبیلہ حضرموت سے ملتا ہے اور بعض روایات کے مطابق یہ نسب وائل بن حجر تک پہنچتا ہے، جیسا کہ ابن حزم نے ذکر کیا ہے۔ ابن خلدون نے خود بیان کیا کہ ان کے اور وائل بن حجر کے درمیان چھ واسطے (آباء) ہیں، لیکن انھوں نے خود بھی اس روایت پر شبہ ظاہر کیا، کیونکہ صرف چھ پشتیں چھ صدیوں کے فرق کو پورا نہیں کر سکتیں۔ اسی بنا پر بعض محققین کے نزدیک اس نسب میں مزید افراد چھوٹ گئے ہیں اور اندازہ ہے کہ ہر صدی میں تقریباً تین نسلیں ہوں تو کل تعداد تقریباً بیس افراد تک پہنچتی ہے۔[13] تونس شہر میں ان کا بچپن گذرا۔ ان کا خاندان اندلس میں ایک معزز اور حکمران طبقے سے تعلق رکھتا تھا۔ ان کے آبا و اجداد نے قرمونہ میں سکونت اختیار کی، بعد میں وہ اشبیلیہ منتقل ہوئے۔[14]

ابن خلدون کا گھر، شہر تونس میں

بنو خلدون کا سیاسی طور پر نمایاں ہونا اموی امیر عبد اللہ بن محمد اموی کے دور میں شروع ہوا، جب سیاسی بے چینی پھیلی ہوئی تھی۔ اس دور میں بنو خلدون نے دیگر طاقتور خاندانوں کے ساتھ مل کر بعض سیاسی بغاوتوں میں حصہ لیا، جن میں بنو امیہ بن عبد الغفار اور دیگر نمایاں خاندان شامل تھے۔[12].[15] ابن خلدون کے دور میں جب اندلس کی سیاسی حالت بگڑ گئی اور قشتالہ کے بادشاہ کے ہاتھوں اس کا زوال شروع ہوا تو 620ھ / 1223ء میں ابو زكريا حفصی افریقہ کی طرف ہجرت کر گئے۔ ان کے ساتھ بنو خلدون بھی اندلس سے نکل آئے تاکہ اشبیلیہ کے نصاریٰ کے قبضے میں جانے کے خطرے سے بچ سکیں۔[16]

بنو خلدون نے سلطنت حفصیہ میں عزت، مقام اور خوش حالی حاصل کی اور وہاں ریاست کے داخلی و خارجی سیاسی حالات میں سرگرم رہے، خصوصاً ان بغاوتوں اور فتنوں کے دور میں جو خوارج کی طرف سے اٹھتے رہے۔ ابن خلدون کے والد نے سیاسی زندگی سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور علم و تدریس کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔ وہ فقہ، زبان، ادب اور شعر میں ماہر تھے اور اسی علمی مشغولیت میں رہے یہاں تک کہ 749ھ / 1349م میں طاعونِ عام (جسے ابن خلدون “الفناء الكبير” یا “طاعون جارف” کہتے ہیں) کے دوران وفات پا گئے۔ اس وقت ابن خلدون کی عمر تقریباً اٹھارہ سال تھی۔[17] .[18] ،[19]

ابن خلدون نے اپنے علمی سفر کا آغاز اپنے والد کی سرپرستی میں کیا، جو ان کے پہلے استاد تھے۔ انھوں نے قرآن مجید حفظ کیا، قراءات سبعہ، حدیث، تفسیر، فقہ، نحو اور لغت کا مطالعہ کیا۔ انھوں نے تونس کے ممتاز اساتذہ سے تعلیم حاصل کی، جو اس وقت مغرب اسلامی کے اہم علمی مراکز میں سے ایک تھا۔ انھوں نے مختلف علوم میں اپنے شیوخ کے نام بھی ذکر کیے اور ان کے علمی کاموں پر تبصرہ کیا۔ ابتدا میں ان کی خاص توجہ مالکی فقہ، عربی زبان اور ادب پر تھی، بعد ازاں انھوں نے فلسفہ اور منطق کا مطالعہ بھی کیا۔ اسی دوران طاعونِ عظیم نے پوری اسلامی دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جو سمرقند سے لے کر مغربِ اقصیٰ تک پھیل گیا اور یورپ خصوصاً اٹلی میں بھی عام ہوا۔ اس وبا نے ابن خلدون کو شدید غم و صدمے میں مبتلا کر دیا کیونکہ انھوں نے اپنے والدین اور کئی اساتذہ کو اس وبا میں کھو دیا۔[20] ،[21] .[22]

اسفار و نقل مکانی

[ترمیم]
مسجد القبّة، تونس، جہاں ابن خلدون نے تعلیم حاصل کی

ابن خلدون کے خاندان بنو خلدون نے سلطنت حفصیہ کے زیرِ سایہ خوش حال اور بااثر زندگی گزاری اور وقت کے ساتھ ان کا سیاسی و سماجی اثر و رسوخ بھی بڑھتا گیا۔ لیکن جب ابن خلدون جوانی کی عمر کو پہنچے تو ریاست کے زوال کے آثار نمایاں ہونا شروع ہو گئے۔ افریقہ (مغرب) کے علاقوں میں سیاسی اضطراب پھیل گیا اور اسی دوران طاعون کی وبا نے بھی تباہی مچا دی۔[23] انہی حالات میں ابن خلدون کو حاجب ابو محمد بن تافراجين کے دربار میں خدمات کے لیے بلایا گیا، جو سلطان ابو اسحاق ابراہیم بن ابی بکر کے نائب اور سرپرست تھے۔،[24]

تاہم ابن خلدون تونس کی سیاسی صورت حال سے مطمئن نہ تھے۔ انھوں نے دیکھا کہ علما اور مشائخ بڑی تعداد میں مغربِ اقصیٰ کی طرف ہجرت کر رہے ہیں، جہاں دولت مرینیہ ایک نئی اور طاقتور ریاست کے طور پر ابھر رہی تھی۔ یہ حالات دیکھ کر ابن خلدون کے دل میں بھی ہجرت کا خیال پیدا ہوا، مگر ان کے بڑے بھائی نے ابتدا میں انھیں روک لیا۔ بعد ازاں 753ھ کے آغاز میں قسنطینہ کے امیر ابو زيد نے تونس پر حملہ کیا، جس سے حفصی لشکر کو شکست ہوئی۔ اس افراتفری کے ماحول میں ابن خلدون نے موقع پا کر وہاں سے نکلنے اور اپنی جان بچانے میں کامیابی حاصل کی۔[25]

بسکرہ

[ترمیم]

ابن خلدون نے شہر ایہ میں کچھ مختصر وقت گزارا، جہاں وہ بعض مرابطین کے مشائخ کے ساتھ مقیم رہے۔ اس کے بعد انھوں نے سبتہ کا رخ کیا، پھر وہاں سے قفصہ پہنچے۔[26] قفصہ میں تونس کے بعض فقہا ان سے ملے اور وہ امیرِ قسنطینہ کی ایک علمی مجلس میں اکٹھے ہوئے۔ بعد ازاں ابن خلدون بسكرہ روانہ ہوئے، جہاں انھوں نے موسمِ سرما گزارا اور وہاں کے حاکم یوسف بن مزنی کے مہمان رہے۔[27]

فاس

[ترمیم]
مدرسہ خلدونيہ، تلمسان

ابن خلدون کے زمانے میں مغربِ اقصیٰ کے سلطان ابو حسن مرينی اپنے بیٹے ابو عنان مرينی کی بغاوت کے بعد اقتدار سے محروم ہو گئے۔ ابو عنان نے وہ علاقے دوبارہ حاصل کر لیے جو اس کے والد کے دور میں ہاتھ سے نکل گئے تھے اور بجایہ کے حاکم کی اطاعت قبول کرنے کے بعد اس شہر کو بھی اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔[26]۔ سلطان ابو عنان نے تلمسان میں قیام کیا۔ اسی دوران ابن خلدون نے اس سے ملاقات کی کوشش کی۔ روایت ہے کہ سلطان نے ان کی توقع سے بڑھ کر عزت افزائی کی اور اپنے حاجب ابن أبي عمرو کے ساتھ انھیں بجایہ بھیجا تاکہ وہاں سلطان کے لیے بیعت حاصل کی جا سکے جب ابن خلدون کی علمی شہرت پھیل گئی اور ان کے علم و فضل کا چرچا عام ہوا تو 755ھ میں انھیں سلطان ابو عنان کے دربار فاس میں طلب کیا گیا۔.[28] سلطان نے انھیں اپنی علمی مجلس کا رکن مقرر کیا اور نمازوں میں اپنی معیت میں حاضر رہنے کی ذمہ داری دی۔ وہ مسلسل ان سے قربت بڑھاتا رہا، یہاں تک کہ اگلے سال انھیں اپنے کاتبوں اور سرکاری دستخط کنندگان میں شامل کر لیا۔ لیکن ابن خلدون اس منصب سے زیادہ خوش نہ تھے۔ ان کے نزدیک یہ ایسا کام تھا جسے ان کے آبا و اجداد نے کبھی اختیار نہیں کیا تھا۔ اسی لیے انھوں نے خود لکھا: “میں نے یہ کام ناگواری کے ساتھ قبول کیا، کیونکہ میرے اسلاف میں کسی نے ایسا پیشہ اختیار نہیں کیا تھا۔”[27]

ابن خلدون اگرچہ سلطان ابو عنان مرينی کے دربار میں حسنِ سلوک اور بلند مقام سے بہرہ مند تھے، لیکن اس کے باوجود وہ سیاسی سازشوں اور درباری معاملات سے الگ نہ رہ سکے۔ ان کے تعلقات بجایہ کے معزول امیر امير محمد سے قائم ہو گئے، جو اس وقت فاس میں قید تھے۔ ابن خلدون نے خود اس باہمی رابطے کا ذکر کیا ہے، تاہم انھوں نے اس تعلق کو اپنے خاندان اور بنو حفص کے درمیان قدیم دوستی کا نتیجہ قرار دیا۔[29] اسی دوران سلطان ابو عنان شدید بیماری میں مبتلا تھا کہ اسے ابن خلدون کی ایک مبینہ سازش کی خبر پہنچی۔ چنانچہ اس نے 758ھ / 1357ء کے آغاز میں ابن خلدون کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔ اگرچہ بعد میں بجایہ کے امیر کو رہا کر دیا گیا، لیکن ابن خلدون تقریباً دو برس تک قید اور زنجیروں میں رہے۔[30] بعض روایات کے مطابق ابن خلدون کا سلطان کے دربار میں بلند مقام ان کے حاسدین کو ناگوار گذرا، چنانچہ انھوں نے ان کے خلاف سازشیں کیں اور انھیں معزول امیرِ بجایہ کے ساتھ خفیہ منصوبہ بندی میں ملوث قرار دلوا دیا۔[28]

ابن خلدون نے سلطان ابو عنان سے رہائی کے لیے بارہا درخواست کی، لیکن سلطان نے معافی دینے سے انکار کر دیا۔ آخرکار ابن خلدون نے تقریباً دو سو اشعار پر مشتمل ایک طویل قصیدہ لکھا، جس میں انھوں نے سلطان سے رحم اور معافی کی اپیل کی۔ ابن خلدون کے بیان کے مطابق جب یہ قصیدہ سلطان کے ہاتھ پہنچا تو اس نے اس پر بہت اچھا اثر لیا اور تلمسان میں قیام کے دوران انھیں معاف کرنے کا وعدہ کیا۔ [29][31]

على أيّ حالٍ لليالي أُعاتبُوأيُّ صروفٍ للزمانِ أُغالبُ
كفى حزناً أني على القربٍ نازحٌوأني على دعوى شهودي غائبُ
وأني على حكمِ الحوادثِ نازلٌتسالمني طوراً وطوراً تحاربُ
سلوتهم إلا ادكار معاهدلها في الليالي الغابراتٍ غرائبُ
وإن نسيم الريحِ منهم يشوقنيإليهمُ وتصيبي البروقُ اللواعبُ

لیکن سلطان ابو عنان مرینی کی بیماری شدت اختیار کر گئی اور 759ھ / 1358ء کے آخر میں ان کا انتقال ہو گیا، اس طرح وہ ابن خلدون سے کیے گئے معافی کے وعدے کو پورا نہ کر سکے۔ چنانچہ ابن خلدون بدستور قید اور زنجیروں میں رہے، یہاں تک کہ سلطان کے بعد ریاستی امور سنبھالنے والے الحسن بن عمر نے انھیں رہا کیا، ان کے مناصب واپس کیے اور ان کی اچھی سرپرستی کی۔

بعد میں حسن بن عمر نے اقتدار پر مکمل قبضہ کر لیا۔ اس نے سلطان کے بیٹے کو معزول کر کے ابو زین کو ولی عہد مقرر کیا اور اپنے تمام سیاسی مخالفین کو کنارے لگا دیا۔ اس کی طرزِ حکومت بھی اپنے پیش روؤں جیسی تھی، کیونکہ ابو عنان نے بھی اپنے والد سے تخت چھینا تھا اور اپنے بھائیوں کو اندلس جلا وطن کر دیا تھا۔ حسن بن عمر کی سخت پالیسیوں کے نتیجے میں فاس میں بغاوت برپا ہوئی اور منصور بن سليمان اقتدار پر قابض ہو گیا۔ اس مرحلے پر ابن خلدون نے ایسا طرزِ عمل اختیار کیا جسے مؤرخین نے پسندیدہ نہیں سمجھا۔ اس سے ظاہر ہوا کہ سلطان ابو عنان کے ساتھ ان کا سابقہ رویہ محض وقتی لغزش نہیں تھا بلکہ اقتدار اور قربِ سلطنت کی طرف ان کا مستقل رجحان تھا۔ وہ سلاطین کے قریب رہنا اور اقتدار و جاہ حاصل کرنا پسند کرتے تھے، جس کے باعث وہ متعدد سیاسی سازشوں میں شریک ہوئے۔ ابن خلدون نے خود بھی اپنی تحریروں میں اقتدار کی خواہش کا اعتراف کیا ہے۔[32] ان کے نزدیک مقصد کی اہمیت اتنی زیادہ تھی کہ بعض اوقات وہ احسان کا بدلہ بھی سیاسی مخالفت سے دیتے تھے۔ حالانکہ حسن بن عمر نے ان کے ساتھ حسنِ سلوک کیا اور ان پر نوازشات کیں، اس کے باوجود ابن خلدون نے اس کے مخالفین کا ساتھ دیا۔[33]

لیکن ابن خلدون کی وفاداری سلطان منصور بن سليمان کے ساتھ زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ اسی دوران سلطان ابو سالم بن ابی عنان اندلس سے غمازہ پہنچا اور لوگوں کو اپنی بیعت کی دعوت دینے لگا، جسے لوگوں نے قبول کر لیا۔ اپنی دعوت کو مضبوط بنانے کے لیے ابو سالم نے خفیہ طور پر ابن خلدون سے رابطہ کیا اور ابن خلدون نے اس کا ساتھ قبول کر لیا۔ پھر وہ شیوخ اور معززین کو یہ باور کرانے لگے کہ ابو سالم اپنے والد کے اقتدار کا زیادہ حق دار ہے۔ .[34] بعد ازاں ابن خلدون فقہا اور شیوخ کے ایک گروہ کے ساتھ منصور بن سلیمان کا ساتھ چھوڑ کر ابو سالم سے جا ملے۔ اسی موقع پر ابن خلدون نے منصور کو معزول کرنے کا منصوبہ پیش کیا۔ چنانچہ ابو سالم اپنے حامیوں اور ابن خلدون کے ساتھ فاس کی طرف روانہ ہوا، جبکہ منصور بن سلیمان فرار ہو گیا۔ ابن خلدون نے منصور سے اپنی علیحدگی کی وجہ یہ بیان کی: “جب میں نے اس کے حالات کی خرابی اور اقتدار کے خاتمے کے آثار دیکھے تو میں الگ ہو گیا۔”[35]

سلطان ابو سالم کے اقتدار حاصل کرنے کے بعد ابن خلدون کو “کاتب السرّ والإنشاء” مقرر کیا گیا۔ وہ سلطان کے خاص اعتماد اور قربت کے حامل بن گئے۔ اسی دور میں انھوں نے سرکاری مراسلت کے انداز میں ایک نئی طرز متعارف کروائی۔ انھوں نے رسمی تحریروں میں لفظی صنعتوں اور مبالغہ آمیز آرائش کو کم کیا، زبان کو زیادہ واضح اور سادہ بنایا اور بعض اوقات خطوط میں اشعار بھی شامل کرنے لگے۔ ان کی مشہور تحریروں میں ایک قصیدہ بھی شامل ہے جو انھوں نے عید میلاد النبی کے موقع پر سلطان کے نام پیش کیا، جس میں رسولِ اسلام کے فضائل و معجزات کا ذکر اور سلطان کی مدح بیان کی گئی تھی۔[36][37]

أسرفنَ في هجري وفي تعذيبيوأطلنَ موقفَ عبرتي ونحيبي
وأبينَ يومَ البينِ وقفة ساعةٍلوداعِ مشغوفِ الفؤادِ كئيبِ
لله عهدُ الظاعنين وغادرواقلبي رهينُ صبابةٍ ووجيبِ
غربتْ ركائبهم ودمعي سافحٌفشرقتْ بعدهم بماءِ غروبِ
يا ناقعاً بالعتبِ غلّة شوقهمرحماك في عذلي وفي تأنيبي
يستعذبُ الصبُّ الملامُ وإننيماءُ الملامِ لدي غير شروبِ

اور ابن خلدون نے سلطان أبو سالم بن أبي عنان کے لیے ایک اور قصیدہ بھی پیش کیا، جب سلطان کو بلادِ سودان کے بادشاہ کی طرف سے ایک تحفہ موصول ہوا، جس میں ایک زرافہ بھی شامل تھا۔ اس موقع پر ابن خلدون نے اس زرافے کی وصف و تعریف میں اشعار تحریر کیے۔:[38][39]

ورقيمةُ الأعطافِ حاليةموّشيةٌ بوشائعِ البردِ
وحشيةُ الأنسابِ ما أنستْفي فواحش البيداءِ بالقودِذ
تسمو بجيدٍ بالغٍ صُعُداًشرفُ الصروحِ بغيرِ ما جهدِ
طالت روؤس الشامخاتِ بهولربّما قصرت عن الوهدِ

یہ دور ابن خلدون کی زندگی کا ایک سنہری مرحلہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی زمانے میں ان کی شاعری کی شہرت دور دور تک پھیل گئی اور ان کا نثر مغرب اور اندلس میں معروف ہو گیا۔ مشہور ادیب ابن خطيب نے ان کے نثر اور بلاغت کی تعریف کرتے ہوئے کہا: “یہ بلاغت کی موجیں، فنون کے باغات اور تخلیقی خزانے ہیں، جنھیں ان کا جری قلم بہاتا ہے۔ ان کی تحریر کی ابتدا اور انتہا ایک جیسی لطافت رکھتی ہے، حروف میں تازگی، سیاہی کی روانی، ذہن کی قوت اور فطری سلاست نمایاں ہوتی ہے۔”[38]

ابن خلدون تقریباً دو برس تک سلطان أبو سالم بن أبي عنان کے ہاں “کاتب السرّ والإنشاء” کے منصب پر فائز رہے۔ اس کے بعد سلطان نے انھیں “خطّة المظالم” کا منصب سونپا۔ ابن خلدون کے مطابق یہ ایسا منصب تھا جس میں حکومتی اقتدار اور عدالتی انصاف دونوں کی آمیزش ہوتی تھی اور اس کے لیے مضبوط رعب، قوتِ فیصلہ اور انصاف قائم کرنے کی صلاحیت ضروری تھی تاکہ مظلوم کو حق ملے اور ظالم کو سزا دی جا سکے۔[40] .[41] لیکن دربار میں ان کی حیثیت زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔ ریاستی اہلکاروں کے درمیان مسلسل رقابت جاری رہتی تھی۔ اسی دوران سلطان کے دوست اور جلاوطنی کے ساتھی ابن مرزوق اقتدار کے قریب پہنچ گئے اور انھوں نے ریاستی امور پر مکمل اثر و رسوخ حاصل کر لیا۔ ابن مرزوق نے درباری حلقوں میں اختلافات پیدا کیے اور اقتدار کے تمام شعبوں پر قبضہ جما لیا، یہاں تک کہ حکمران طبقہ ان سے سخت ناراض ہو گیا۔ بالآخر وزیر عمر بن عبد الله کی قیادت میں ان کے خلاف تحریک اٹھی اور بعد میں وہی حکومت کے سربراہ بن گئے۔[42] [43] [44]

زنقة (زقاق) ابن خلدون، تونس

اگرچہ ابن خلدون نے نئے سلطان کی حمایت کی اور اس کی بیعت بھی کی، لیکن نتائج ان کی توقعات کے مطابق نہ نکلے۔ ان کی وزیر عمر بن عبد الله کے ساتھ پرانی دوستی تھی، جو سلطان ابو عنان کے زمانے سے چلی آ رہی تھی۔ ابن خلدون کو امید تھی کہ اس تعلق کی بنا پر انھیں ریاست میں بلند مناصب، مثلاً حاجب یا وزیر کا عہدہ ملے گا، مگر ایسا کچھ نہ ہوا۔ اس صورتِ حال پر وہ ناراض ہوئے اور اپنے تمام مناصب سے استعفا دے دیا، جس سے نیا سلطان ان سے ناخوش ہو گیا اور اس نے ان سے بے اعتنائی برتنی شروع کر دی۔ اس ناخوشگواری کے بعد ابن خلدون نے تونس جانے کی اجازت طلب کی، لیکن ان کی درخواست مسترد کر دی گئی، کیونکہ حکمرانوں کو اندیشہ تھا کہ وہ راستے میں أبو حمو سے جا ملیں گے۔ آخرکار ابن خلدون نے وزیر عمر بن عبد اللہ کے ساتھی اور داماد مسعود بن ماسي کی مدد حاصل کی۔ عید الفطر کے دن وہ اس کے پاس گئے اور ایک قصیدہ سنایا، جس کا آغاز ان اشعار سے ہوتا تھا:[45] :[44][46]

هنيئاً بصوم لا عداه قبولوبشرى بعيدٍ أنت فيه منيلُ
وهنّئتها من عزّةٍ وسّعادةٍتتابع أعوام بها وفصولُ
سقى الله دهراً أنت إنسان عينهِولا مسّ ربعاً في حمالِ محولُ
فعصركَ ما بين الليالي مواسمٌلها غرر وضّاحة وحجولُ

اور ابن خلدون نے اس سے مدد کی درخواست کی:

أجرني فليس الدّهرُ لي بمسالمٍإذا لم يكن لي في ذراك مقيلُ
وأولني الحسّنى بما أنا آملٌفمثلك يولي راجياً وينيلُ
ووالله ما رمت الترحل عن قلىولا سخطة للعيشِ فهو جزيلُ
ولا رغبة عن هذه الدار إنّهالظل على هذا الأنام ظليلُ

چنانچہ مسعود بن ماسی نے ان کے لیے سفر کی اجازت حاصل کر دی، لیکن یہ شرط رکھی گئی کہ وہ تلمسان کے راستے سے نہیں گزریں گے اور نہ وہاں قیام کریں گے۔ ابن خلدون نے یہ شرط قبول کر لی۔ انھوں نے اپنی بیوی اور بچوں کو ان کے ننھیالی رشتہ داروں کے پاس قسنطينہ بھیج دیا، جبکہ خود انھوں نے اندلس کی طرف سفر اختیار کیا۔[47][48]

اندلس

[ترمیم]

اس زمان میں محمد بن يوسف بن اسماعيل بن احمر نصری اندلس کا حکمران تھا۔ وہ اپنے والد يوسف ابی حجاج کی وفات کے بعد 1354ء / 755ھ میں تخت نشین ہوا، لیکن اس کی حکومت مضبوط نہ تھی، اس لیے درباری حاجب ابو نعيم رضوان عملی طور پر ریاستی امور سنبھالتا تھا۔ اسی دور میں مشہور ادیب اور وزیر لسان الدين ابن خطيب غرناطہ کے دربار سے وابستہ تھا، جو اندلس کے بڑے علما، ادبا اور شعرا میں شمار ہوتا ہے۔ [49] ابن خلدون 1362ء سے 1363ء کے درمیان سبتہ پہنچا، جو تقریباً 764ھ کے برابر ہے۔ اس کے بعد وہ اندلس چلا گیا اور وہاں کے بادشاہ اور ابن خطيب دونوں کو اپنی آمد کا خط لکھا۔ جب وہ غرناطہ کے قریب پہنچا تو اسے جواب ملا اور ابن خطيب نے اس کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔ [50] ،[47] :[51][52]

حللّت حلولَ الغيثِ في البلدِ المحلِعلى الطائرِ الميمونِ والرّحبِ والسهلِ
يميناً بمن تَعُنو الوجوه لوجههمن الشيخِ والطفلِ المعصبِ
لقد نشأت عندي للقياك غبطةٌتنسّي اغتباطي بالشبيبة والأهلِ
ووٌدّي لا يحتاج فيه لشاهدٍوتقريري المعلومِ ضربٌ من الجهلِ
مزرعة «هاسيندا توري دي دونيا ماريا» ڈوس ہیرماناس کے قریب اشبیلیہ میں واقع ہے اور یہ ابن خلدون کے خاندان کی ملکیت رہی ہے

ابن خلدون 8 ربیع الاول 764ھ کو غرناطہ پہنچے۔ وہاں سلطان نے ان کا نہایت احترام کیا، انھیں دربارِ خاص میں شامل کیا اور ابن خطيب بھی ان پر خصوصی مہربان تھے۔ اگلے سال 1363ء (765ھ) میں اندلس کے سلطان نے انھیں سفیر بنا کر پیٹر قاسی کے پاس صلح کے لیے بھیجا۔ ابن خلدون اس مقصد سے اشبیلیہ گئے، جہاں پہنچنے پر بادشاہ نے ان کا احترام کیا اور خوش آمدید کہا۔ اشبیلیہ میں قیام کے دوران ابن خلدون نے قشتالہ بادشاہ کے ساتھ اپنے خاندان کی پرانی تاریخ دیکھی، کیونکہ ان کا خاندان اندلس میں ایک معروف اور باوقار خاندان تھا۔ بادشاہ نے انھیں یہودی طبیب ابراہیم بن زرزر سے بھی متعارف کرایا، جو اس سے پہلے ابن خلدون سے قاہرہ میں بھی ملاقات کر چکا تھا۔[53] ،[54]

قشتالہ کے بادشاہ نے انھیں اپنے دربار میں رہنے اور اپنے خاندان کی میراث کو دوبارہ حاصل کرنے کی پیشکش کی، لیکن ابن خلدون نے اس پیشکش کو قبول نہ کیا اور غرناطہ واپس جانے کو ترجیح دی۔ اپنا مشن کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد وہ غرناطہ واپس آئے۔ کاسٹیلی بادشاہ نے غرناطہ کے سلطان کو ایک قیمتی تحفہ بھیجا، جس میں ایک عمدہ بغلی (گھوڑا نما سواری) بھی شامل تھی۔ اس کامیابی کے بعد ابن خلدون کی عزت بڑھ گئی اور سلطان نے انھیں قريہ البيرہ کی ایک زرخیز زمین عطا کی۔ اسی موقع پر جب دربار میں شعرا اور اہلِ ادب جمع تھے تو ابن خلدون نے وہاں ایک قصیدہ بھی پڑھا جس سے ان کی علمی اور ادبی حیثیت مزید بلند ہو گئی۔[55] ،[54] :[54][56]

حيّ المعاهد كانت قبلُ تحيينيبواكفِ الدمعِ يرويها ويظميني
إنّ الألى نزحتْ داري ودارهمُتحملوا القلب في آثارهم دوني
وقفتُ أنشدُ صبراً ضاع بعدهمُفيهم وأسألُ رسماً لا يناجيني
أمثلُ الربع من شوقٍ فألثمهُوكيف والفكرُ يدنيهِ ويقصيني
وبنهبُ الوجدُ مني كلَّ لؤلؤةٍما زال قلبي عليها غير مأمونِ

بعد اس کے بعد ابن خلدون نے سلطان سے اجازت لی کہ وہ اپنے اہلِ خانہ کو قسنطینہ سے بلا سکے، تو سلطان نے اجازت دے دی۔ اس طرح وہ اپنے خاندان کے ساتھ خوش حالی اور آرام کی زندگی گزارنے لگا۔ لیکن کچھ عرصے بعد اسے محسوس ہوا کہ سلطان اس سے ناخوش ہے اور لسان الدين ابن خطيب بھی حسد کرنے والوں اور چغل خوروں کے اثر میں آ کر اس سے خائف ہو گئے ہیں۔ اس صورت حال کو دیکھ کر ابن خلدون نے وہاں رہنے کو مناسب نہ سمجھا۔[57] اسی دوران اسے اپنے دوست، امیر ابو عبد اللہ محمد کا خط ملا، جس نے دوبارہ بجايہ پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس دعوت پر ابن خلدون اندلس چھوڑ کر دوبارہ بجایہ کی طرف روانہ ہو گیا۔[55]

بجایہ کی طرف واپسی

[ترمیم]
نیم مجسمہ ابن خلدون کا، بجایہ، الجزائر

ابن خلدون 766ھ کے وسط میں دوبارہ بجايہ پہنچے۔ وہاں کے استقبال کو انھوں نے خود ان الفاظ میں بیان کیا کہ: “سلطان نے میرے آنے پر بہت عزت کی، میرے استقبال کے لیے خود سوار ہوا اور شہر کے لوگ ہر طرف سے میرے گرد جمع ہو گئے، میرے کپڑوں کو چھوتے اور میرے ہاتھ چومتے تھے، وہ دن واقعی یادگار تھا۔” پہنچتے ہی ابن خلدون کو منصبِ حجابت (درباری مشاورت و انتظامی عہدہ) دے دیا گیا، جبکہ سلطان نے اپنے چھوٹے بھائی یحیی بن محمد کو وزیر مقرر کیا۔ اس دورِ حجابت میں ابن خلدون دن کے وقت جامع قصبہ میں تدریس میں مصروف رہتے تھے اور علمی سرگرمیوں کو جاری رکھا۔

منصبِ حجابت کا تقاضا یہ تھا کہ صاحبِ منصب ریاستی امور میں خود مختار ہو اور سلطان اور رعایا کے درمیان واسطہ بنے۔ اسی بنا پر ابن خلدون نے ریاستی معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیے اور قبائل و عوام کے درمیان گھوم پھر کر فتنوں اور اختلافات کو حکمت اور سختی کے ساتھ حل کرنے لگے۔ کچھ ہی عرصے بعد حالات بدل گئے اور سلطان محمد اور اس کے چچا زاد ابو عباس کے درمیان اختلاف پیدا ہو گیا۔ ابو العباس بجایہ پر قبضہ کرنا چاہتا تھا، اس لیے اس نے قبائل کو بغاوت پر ابھارا۔[58] ابن خلدون کے مطابق، بجایہ کے سلطان نے عوام کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا اور ان پر سختیاں بڑھا دیں، یہاں تک کہ لوگ اس سے بدظن ہو گئے اور اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا ارادہ کر لیا۔ جب ابو عباس اپنی فوج کے ساتھ بجایہ پہنچا اور شہر کے لوگوں کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا تو اس نے امیر محمد سے جنگ کی اور اسے شکست دے دی۔[59]

اس وقت ابن خلدون محل میں گوشہ نشین تھے، مگر شہر کے معززین کے مشورے پر باہر آئے، ابو عباس کا استقبال کیا اور بجایہ اس کے حوالے کر دیا۔ اس طرزِ عمل سے نیا سلطان خوش ہوا اور ابن خلدون کو ان کے منصب پر برقرار رکھا۔ لیکن ابن خلدون کو جلد ہی خطرے کا احساس ہونے لگا، چنانچہ وہ ایک قریبی گاؤں چلے گئے۔ بعد میں جب ابو عباس نے انھیں گرفتار کرنے کا ارادہ کیا تو ابن خلدون وہاں سے فرار ہو کر بسكرہ پہنچ گئے۔ ادھر سلطان نے ان کے بھائی یحیی بن خلدون کو عنابہ میں گرفتار کر لیا، خاندان کے گھروں کی تلاشی لی گئی اور ان کی املاک ضبط کر لی گئیں۔[58]

بسكرہ کا قصد

[ترمیم]

ابن خلدون نے جب بجايہ میں قیام کیا تو بعد میں انھوں نے ابو حمو موسی دوم کے پاس جانے کا ارادہ کیا، جن سے ان کی پرانی دوستی تھی۔ ابو حمو بجایہ کو فتح کرنے کے خواہش مند تھے، لیکن جب انھیں وہاں کے حالات اور قائد کی موت کا علم ہوا تو انھوں نے ایک لشکر بھیجا، مگر یہ لشکر بجایہ کے دروازوں پر سخت شکست سے دوچار ہوا۔[60] .[61] اسی دوران بجایہ کے قبائل نے ابو حمو کی حکومت کو قبول نہ کیا، تو انھوں نے 769ھ میں ابن خلدون کو خط لکھا اور انھیں حجابت (درباری منصب) کی پیشکش کی، کیونکہ وہ قبائل کو قابو کرنے اور ریاستی امور سنبھالنے میں ماہر سمجھے جاتے تھے۔ خط میں ان سے کہا گیا کہ وہ اعلیٰ دربار سے قریب ہوں، ریاستی رازوں کے امین بنیں اور حاجب کے منصب کو سنبھالیں، جو دربار کا سب سے بلند اور باعزت منصب سمجھا جاتا تھا۔ ابو حمو نے انھیں اس منصب کے لیے خاص طور پر منتخب کیا اور وعدہ کیا کہ انھیں دربار میں اعلیٰ مقام، عزت اور مکمل اعتماد حاصل ہوگا اور کوئی ان کا شریک یا مقابل نہ ہوگا۔ یہ پیشکش ابن خلدون کے لیے ایک اہم سیاسی موقع تھی، جو اس دور کی ریاستی سیاست میں ان کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔[62]

ابن خلدون نے ابتدا میں قبائل اور ابو حمو کے درمیان ثالثی (وساطت) کا کردار ادا کیا، لیکن اس وقت انھوں نے یہ منصب قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ انھوں نے اپنے بھائی یحیی بن خلدون کو ترجیح دی، جو اس سے قبل بونة سے رہا ہو کر آئے تھے۔[63] ابن خلدون نے خود اعتراف کیا کہ وہ اس منصب سے بے رغبتی رکھتے تھے اور اس کے خطرات سے بچنا چاہتے تھے۔ اسی لیے وہ سیاست سے دور ہو گئے اور دوبارہ درس و تدریس اور مطالعے کی طرف لوٹ آئے۔[61] تاہم وہ مکمل طور پر سیاسی امور سے الگ نہ ہوئے۔ وہ مسلسل قبائل کو ابو حمو کے حق میں ہموار کرتے رہے اور دولت حفصيہ کے سلطان ابو اسحاق ابراہیم بن ابی بکر کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوشش کرتے رہے۔ انھوں نے کئی قبائلی سرداروں کو ابو حمو کی حمایت پر آمادہ کیا، خاص طور پر جب وہ 771ھ میں اپنے مخالفین کے خلاف جنگ کی تیاری کر رہے تھے۔ لیکن ابو حمو کو شکست ہوئی، جس کے بعد ابن خلدون دوبارہ بسكرہ واپس آ گئے اور پھر سے قبائل کو منظم کرنے اور سیاسی اتحاد قائم کرنے کی کوشش شروع کر دی۔ بعد میں وہ ایک وفد کے ساتھ دوبارہ امیر سے ملے اور آئندہ حکمتِ عملی پر گفتگو کی۔ اسی موقع پر عید کے دن ابن خلدون نے ایک قصیدہ بھی پڑھا، جس سے ان کی ادبی اور سیاسی حیثیت مزید نمایاں ہو گئی۔[64][65]

هذي الديارُ فحيهن صباحاًوَقِفِ المطايا بينهن طلاحا
لا تسألِ الأطلالَ إن لم تروِهاعبراتُ عينك واكفاً ممتاحا
فلقد أخذن على جفونكَ موثقاًأن لا يرين مع البعادِ شحاحا
إيه عن الحي الجميعِ وربّماطربَ الفؤادُ لذكرهم فارتاحا
ومنازل للظاعنين استعجمتحزناً وكانت بالسرورِ فصاحا

لیکن ابن خلدون کی وفاداری ابو حمو کے ساتھ زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ بعد میں وہ اس سے الگ ہو گئے اور اس کی حمایت کی بجائے اس کے خلاف لوگوں کو اکسانے لگے، کیونکہ انھیں معلوم ہوا کہ عبد العزيز بن الحسن بڑی فوج کے ساتھ تلمسان پر قبضہ کرنے کے لیے روانہ ہو چکا ہے۔[64]

قبائل میں فتنہ بڑھنے کے بعد ابن خلدون نے اپنی جان کے خطرے کے پیشِ نظر ابو حمو سے اندلس جانے کی اجازت طلب کی۔ ابو حمو نے اجازت دے دی اور ساتھ میں اسے ملک غرناطہ کے نام ایک خط بھی دیا۔ ابن خلدون سمندر کے راستے جانے کے لیے مرسى ہنين پہنچے، لیکن اس دوران خبر سلطان مغرب اقصى تک پہنچ گئی کہ ابن خلدون غرناطہ کے بادشاہ کے لیے کچھ امانتیں لے جا رہے ہیں۔ اس نے فوراً فوجی دستہ بھیجا۔ جب ان کے پاس کوئی امانت نہ ملی تو انھیں سلطان کے پاس لے جایا گیا۔ سلطان نے ان سے ابو حمو سے علیحدگی کی وجہ پوچھی اور انھیں کچھ دیر کے لیے قید کر لیا۔ تاہم ابن خلدون نے اسے بجایہ فتح کرنے میں مدد دینے کا وعدہ کیا، جس پر سلطان مطمئن ہو کر انھیں رہا کر دیا۔ اس کے بعد ابن خلدون صحرائی علاقے میں چلے گئے اور کچھ عرصہ گوشہ نشینی میں مطالعہ اور تدریس میں مصروف رہے۔[66] [67]

بعد میں جب 772ھ میں سلطانِ مغربِ اقصیٰ نے تلمسان پر قبضہ کیا تو اس نے ابن خلدون کو دوبارہ اپنے ساتھ شامل کیا اور قبائل کو اپنی حمایت میں لانے کی ذمہ داری دی۔ اس بار ابن خلدون نے اپنے پرانے ساتھی ابو حمو کے خلاف بھی قبائل کو ابھارا اور وہ اس مہم میں شریک رہے جس نے ابو حمو کے کیمپ کو تباہ کر کے اسے فرار ہونے پر مجبور کیا۔ بعد میں ابن خلدون سلطان کے پاس واپس آئے تو اس نے ان کا احترام کیا اور انھیں دوبارہ قبائل کو مطمئن کرنے کی ذمہ داری دی، لیکن اس کوشش میں وہ زیادہ کامیاب نہ ہو سکے۔[68] .[69]

مدرسہ خلدونیہ کا داخلی دروازہ، محلہ العباد، تلمسان

جب مغرب میں بغاوتیں پھیل گئیں تو ابن خلدون اس وقت بسكرہ میں مقیم تھے۔ سلطان نے وزیر ابو بكر بن غازی کو ان بغاوتوں سے نمٹنے کی ذمہ داری دی اور ساتھ ہی ابن خلدون کو دوبارہ قبائل کو اپنی طرف مائل کرنے کا حکم دیا۔ ابن خلدون نے یہ کام انجام دیا اور واپس بسكرہ لوٹ آئے، لیکن وہاں زیادہ دیر نہ رک سکے کیونکہ وہاں کے امیر کے رویے میں تبدیلی اور کشیدگی محسوس کی۔ اس کے بعد وہ تلمسان کی طرف روانہ ہوئے تاکہ سلطان سے ملاقات کریں۔ راستے کے دوران انھیں خبر ملی کہ سلطان کا انتقال ہو چکا ہے اور اس کا بیٹا سعيد 774ھ میں تخت نشین ہو چکا ہے۔ یہ سن کر ابن خلدون نے اپنا راستہ بدل کر فاس جانے کا فیصلہ کیا اور صحرائی راستے سے سفر شروع کیا، لیکن راستے میں ڈاکوؤں نے ان کے قافلے پر حملہ کر دیا۔ یہ حملہ مبینہ طور پر ابو حمو کی ترغیب سے ہوا تھا، جو سلطان کی وفات کے بعد دوبارہ تلمسان پر قابض ہو گیا تھا۔ مشکل حالات کے باوجود ابن خلدون اور ان کا خاندان بچ کر فاس پہنچ گئے، اگرچہ ان کی حالت بہت خراب تھی۔ وہاں ابو بكر بن غازی نے ان کا بہت احترام کیا اور انھیں بہترین رہائش فراہم کی۔[70]

جب ابو عباس احمد نے 776ھ میں فاس پر قبضہ کیا تو ابن خلدون وہاں مقیم تھے۔ اس دوران ان کے خلاف چغلی کی گئی اور انھیں گرفتار کر لیا گیا۔ بعد میں عبد الرحمن نے ان کے حق میں سفارش کی، جس پر انھیں رہا کر دیا گیا۔ لیکن اس واقعے کے بعد ابن خلدون نے محسوس کیا کہ مراکش کے درباروں میں ان کے لیے اب زیادہ گنجائش باقی نہیں رہی، اس لیے انھوں نے اندلس جانے کا فیصلہ کیا تاکہ وہاں سکون اور علمی مصروفیات حاصل کر سکیں۔[71] اسی سال یعنی 776ھ میں وہ سمندر کے راستے اندلس کی طرف روانہ ہو گئے اور اپنی اہلیہ اور بچوں کو فاس میں ہی چھوڑ دیا۔ راستے میں ان کی ملاقات ابو عبد اللہ بن زمرک سے ہوئی جو فاس کی طرف جا رہے تھے۔ ابن خلدون نے ان سے درخواست کی کہ وہ ان کے اہلِ خانہ کو اندلس لانے میں مدد کریں، لیکن فاس کے درباریوں نے یہ درخواست قبول نہیں کی کیونکہ انھیں شبہ تھا کہ ابن خلدون امير عبد الرحمن کے خلاف اشتعال پھیلا رہے ہیں۔ اس طرح ان کی فیملی فاس میں ہی رہ گئی جبکہ وہ خود اندلس روانہ ہو گئے۔[72]

اعتکاف اور تصنیف

[ترمیم]
ابن خلدون کا ایک قلمی نسخہ، جو ان کے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے۔

ابن خلدون اندلس میں زیادہ دیر نہ رہ سکے، کیونکہ غرناطہ کے بادشاہ نے ان کی آمد کے فوراً بعد انھیں افریقہ واپس بھیج دیا۔ وہ اس کے بعد مرسیہ ہنین میں پریشانی اور تذبذب کی حالت میں اترے۔ اگرچہ تلمسان کے حاکم ابو حمو کو ان کے بارے میں علم تھا، لیکن انھوں نے ان سے بے رخی برتی اور انھیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا، یہاں تک کہ محمد بن عریف (بنی عریف کے ایک معزز شخص) نے ان کے لیے سفارش کی، جس پر ابو حمو نے 776ھ / 1374ء میں انھیں تلمسان آنے کی اجازت دی۔[73] ابن خلدون سیاست سے کنارہ کش ہو کر علم و مطالعہ میں مشغول ہونا چاہتے تھے، لیکن ابو حمو نے دوبارہ ان سے قبائل سے رابطہ کرنے اور انھیں اپنے قریب لانے کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے بادلِ نخواستہ اس بات کو قبول کرنے کا اظہار کیا، لیکن ان کا رجحان تنہائی اور گوشہ نشینی کی طرف زیادہ تھا، اس لیے وہ تلمسان سے نکل کر بنی عریف کے پاس چلے گئے۔ بنی عریف نے ان کا احترام کیا اور انھیں اچھی میزبانی فراہم کی اور ان کے اہلِ خانہ سمیت انھیں قلعہ سلامہ میں ٹھہرایا۔ وہاں انھوں نے تقریباً چار سال تک اعتکاف کیا اور اپنی مشہور تصنیف “العبر وديوان المبتدا والخبر فی ايام العرب والعجم والبربر ومن عاصرہم من ذوی السلطان الاكبر” کی تالیف شروع کی، اس وقت ان کی عمر تقریباً پینتالیس سال تھی۔[74] .[75]

ابن خلدون نے اپنی مشہور مقدمہ (جو دراصل ان کی مذکورہ تاریخ کی تمہید ہے) 779ھ / 1377ء کے وسط میں مکمل کی۔ اس کی تالیف میں تقریباً پانچ ماہ لگے۔ انھوں نے اپنے اس کام کو یوں بیان کیا: “میں نے مقدمہ اس عجیب انداز میں مکمل کیا جس کی طرف مجھے اس خلوت میں رہنمائی ملی۔ اس میں افکار و معانی کے چشمے رواں ہو گئے یہاں تک کہ ان کا خلاصہ نچوڑ کر ایک مربوط صورت میں آ گیا۔” ابن خلدون کا مقصد پوری انسانیت کی تاریخ لکھنا نہیں تھا، بلکہ ان کی اصل غرض عربوں اور بربروں کی تاریخ، خصوصاً مغرب (شمالی افریقہ) کے حالات کو بیان کرنا تھا۔ وہ کہتے ہیں:[76] .[77] “میں اپنی اس کتاب میں اسی حد تک بیان کروں گا جو مجھے اس مغربی خطے کے بارے میں ممکن ہو سکے، خواہ صراحت کے ساتھ ہو یا ضمنی طور پر۔ میرا اصل مقصد مغرب، اس کی اقوام، اس کے ادوار اور اس کی سلطنتوں کو بیان کرنا ہے، نہ کہ مشرقی علاقوں کو، کیونکہ مجھے ان کے حالات کا مکمل علم حاصل نہیں اور منقول خبریں اس مقصد کے لیے کافی نہیں ہیں جسے میں بیان کرنا چاہتا ہوں۔”[76]

جب ابن خلدون نے اپنے مؤلفے کی تالیف کا ارادہ کیا تو انھیں احساس ہوا کہ ضروری مراجع اور مصادر کی کمی ہے۔ اس لیے انھوں نے اپنے وطن تونس جانے کا فیصلہ کیا تاکہ وہاں موجود علمی وسائل سے استفادہ کر سکیں۔ اس وقت سلطان ابو عباس نے دوبارہ تونس پر قبضہ کر لیا تھا اور وہ ابن خلدون سے اس واقعے کی وجہ سے ناراض تھا جو تقریباً دس سال پہلے ان کے درمیان پیش آیا تھا۔[78] ابن خلدون نے سلطان سے واپس آنے کی اجازت طلب کی، جسے سلطان نے قبول کر لیا۔ چنانچہ وہ رجب 780ھ / 1378ء میں تونس کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں وہ قسنطینہ سے گذرے اور وہاں سلطان ابو عباس کے بیٹے امیر ابراہیم کی مہمان نوازی میں کچھ آرام کیا۔ پھر وہ سلطان سے ملے، جو اس وقت بعض علاقوں کی بغاوت کو ختم کرنے کے لیے اپنی فوج کے ساتھ موجود تھا۔ [79] سلطان نے انھیں تونس بھیج دیا اور ان کی بھرپور عزت و تکریم کا حکم دیا اور ہر قسم کی سہولتیں فراہم کیں۔ ابن خلدون نے وہاں یکسو ہو کر مطالعہ اور تحقیق شروع کی، یہاں تک کہ سلطان اپنی مہمات سے واپس آ گیا۔ اس نے ابن خلدون کو اپنے دربار کے قریب کر لیا اور ان سے کتاب کی تکمیل کا مطالبہ کیا۔ آخرکار ابن خلدون نے اپنی کتاب مکمل کی اور 784ھ / 1382ء میں اس کا پہلا نسخہ سلطان ابو عباس کو پیش کیا۔ اس کی ابتدا انھوں نے کچھ مدحیہ اشعار سے کی۔[80] :[37][81]

هل غيرُ بابكَ للغريبِ مؤملُأو عن جنابك للأماني معدلُ
هي همّةُ بعثت إليك على النوىعزماً كما شحذ الحسام الصيقل
متبوأ الدّنيا ومنتجعُ المنىوالغيثُ حيث العارض المتهللُ
حيث القصورُ الزاهراتِ منيفةٌتعنى بها زهر النجوم وتحفلُ
حيث الخيامُ البيضُ يرفع للعلاوالمكرماتِ طرافها المتهدلُ
تیونس کے شارع الحبیب بورقیبہ میں ابن خلدون کا مجسمہ

سلطان ابو عباس نے 783ھ میں ابن خلدون سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کے ساتھ فوجی مہم میں نکلیں تاکہ اس کے خلاف بعض باغیوں کا خاتمہ کیا جا سکے۔ ابن خلدون نے مجبوری میں یہ درخواست قبول کی، کیونکہ وہ سیاست سے بیزار ہو چکے تھے اور اس طرح کے خطرناک کاموں میں مزید حصہ نہیں لینا چاہتے تھے۔ جب یہ مہم کامیاب ہوئی تو انھوں نے سلطان سے واپس جانے کی اجازت طلب کی اور تونس کے قریب ایک بستی میں جا کر ٹھہر گئے، جہاں وہ اس وقت تک مقیم رہے جب تک سلطان فتح و کامرانی کے ساتھ واپس نہ آ گیا۔[82] چند ہی مہینے بعد سلطان دوبارہ اپنی فوج کے ساتھ باغیوں کے خلاف روانہ ہوا، تو ابن خلدون کو اندیشہ ہوا کہ کہیں دوبارہ ان سے ساتھ چلنے کا مطالبہ نہ کیا جائے، اس لیے انھوں نے تونس چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ اسی دوران انھیں حج کا خیال آیا اور انھوں نے اسے سلطان سے اجازت لینے کا ذریعہ بنایا۔ جب انھیں اجازت مل گئی تو وہ اپنے دوستوں اور شاگردوں کی رخصتی تقریب کے بعد مرسیہ کی طرف روانہ ہوئے تاکہ مشرق کی طرف سفر کریں۔ انھوں نے 784ھ / 1382ء کے وسطِ شعبان میں سمندر کے ذریعے سفر شروع کیا اور یہ ان کی مغرب (شمالی افریقہ) اور اپنے وطن سے دائمی جدائی تھی۔[83]

مصر میں زندگی

[ترمیم]

ابن خلدون سمندری سفر کے تقریباً چالیس دن بعد اسکندریہ پہنچے اور ان کی آمد 784ھ / 1382ء میں عید الفطر کے موقع پر ہوئی۔[84] وہ تقریباً ایک ماہ اسکندریہ میں ٹھہرے تاکہ حج کے لیے حالات تیار کر سکیں، لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے، چنانچہ وہ قاہرہ کی طرف روانہ ہوئے تاکہ سکون اور استقرار حاصل کر سکیں، اس وقت ان کی عمر باون سال تھی۔[85] اس زمانے میں قاہرہ اسلامی فکر کا مرکز اور علوم و فنون کا بڑا گڑھ تھا۔ وہ ذو القعدہ میں قاہرہ پہنچے اور اس شہر کی وسعت اور خوبصورتی نے انھیں بہت متاثر کیا۔ انھوں نے کہا:[86] “میں نے دنیا کو یہاں موجود پایا، گویا یہ عالم کا باغ، اقوام کا اجتماع، انسانوں کا ہجوم، اسلام کا ایوان اور سلطنت کا تخت ہے۔ اس کے ماحول میں محل اور ایوان چمک رہے ہیں اور خانقاہیں، مدارس اور ستاروں کی طرح روشن مقامات اس کے اطراف میں جگمگا رہے ہیں۔”[87]

ابن خلدون کی شہرت قاہرہ پہنچنے سے پہلے ہی پہنچ چکی تھی اور اہلِ علم ان کی مقدمہ اور اس کی علمی ترتیب سے بہت متاثر تھے۔ جیسے ہی وہ قاہرہ پہنچے، علما اور طلبہ ان کے گرد جمع ہو گئے اور ان سے علمی استفادہ کی خواہش کرنے لگے۔ ابن خلدون خود کہتے ہیں: “طلبۂ علم مجھ پر ٹوٹ پڑے اور فائدہ حاصل کرنے لگے، اگرچہ ان کے پاس علمی سرمایہ بہت کم تھا اور انھوں نے مجھے کوئی عذر قبول نہ کرنے دیا، چنانچہ میں نے جامع الازہر میں تدریس شروع کر دی۔” ابو محاسن ابن تغری نے اپنی کتاب المنہل الصافی والمستوفی بعد الوافی میں ابن خلدون کے بارے میں لکھا: “وہ قاہرہ میں مقیم ہو گئے اور کچھ مدت تک جامع الازہر میں تدریس کرتے رہے، علم پھیلاتے رہے اور لوگوں کو فائدہ پہنچایا۔”[88] ابن خلدون فقہ مالکی پڑھاتے تھے اور ساتھ ساتھ انسانی معاشرت (عمران) کی تفصیل بیان کرتے تھے کہ ریاستیں اور سلطنتیں کیسے قائم اور منظم ہوتی ہیں۔ وہ نہایت شاندار مقرر تھے، ان کی گفتگو سننے والوں کو مسحور کر دیتی تھی اور ان کے شاگردوں میں تقی الدین المقریزی اور حافظ ابن حجر جیسے بڑے علما شامل تھے۔ حافظ ابن حجر نے ان کے بارے میں کہا: “وہ فصیح اللسان، عمدہ گفتگو کرنے والے اور نثر میں بہترین انداز رکھنے والے تھے، ساتھ ہی ریاستی امور اور خصوصاً سلطنت کے معاملات کا مکمل علم رکھتے تھے۔” یوں ابن خلدون نے قاہرہ کے علمی معاشرے میں اپنی مضبوط جگہ بنا لی اور لوگوں کی بھرپور توجہ حاصل کی۔ اسی دوران ان کا رابطہ سلطان ظاہر برقوق سے بھی ہوا، جو ان کی قاہرہ آمد سے چند ہی دن پہلے مصر کا حکمران بنا تھا۔[89]

سلطان نے ابن خلدون کی عزت افزائی کی اور ان کی بہترین مہمان نوازی کی۔ انھوں نے فرمایا کہ: “اس نے میرا قیام خوشگوار بنا دیا، غربت کی وحشت کو دور کر دیا اور اپنی سخاوت سے روزی کا مناسب انتظام کیا، جیسا کہ وہ اہلِ علم کے ساتھ کیا کرتا ہے۔”[90]اس طرح ابن خلدون کو وہ استقرار حاصل ہو گیا جس کی وہ خواہش رکھتے تھے، یعنی ایک ایسے حکمران کے سائے میں زندگی گزارنا جو ان کے رزق کا ذریعہ فراہم کرے۔ کچھ ہی عرصے بعد انھیں مدرسہ قمحیہ (جو مالکیہ کے مدارس میں سے تھا) میں تدریس کے لیے مقرر کر دیا گیا۔ اپنے پہلے دن انھوں نے اکابر علما اور سلطان کی طرف سے بھیجے گئے معزز حاضرین کے سامنے ایک بلیغ خطبہ دیا، جس میں انھوں نے اسلامی ریاست کے استحکام میں علما کے کردار اور مصر کی اسلام کی نصرت میں اہمیت پر گفتگو کی۔ ابن خلدون نے اپنے پہلے درس کے منظر کو یوں بیان کیا: “مجلس برخاست ہو گئی اور لوگ مجھے وقار اور تعظیم کی نظر سے رخصت کرتے رہے۔”[91] .[92]

قاہرہ میں ابن خلدون کا مجسمہ (نصف قامت)

786ھ / 1384ء کے آخر میں ابن خلدون کو مالکیہ کے قاضی کے منصب پر مقرر کیا گیا۔[93] 1384م یہ اس بات کی علامت تھی کہ وہ ایک بلند مقام تک پہنچ چکے تھے، کیونکہ یہ منصب ریاست کے چار بڑے عدالتی مناصب میں شمار ہوتا تھا۔[94] تاہم اسی کے ساتھ ان کے مصر میں مطلوب استقرار کا مرحلہ بتدریج کمزور ہونے لگا اور ان کے بارے میں اختلافات بڑھنے لگے۔ انھیں کئی مرتبہ اس منصب سے معزول کیا گیا اور ان کے ساتھ تضحیک آمیز رویہ بھی اختیار کیا گیا۔ وہ خود بیان کرتے ہیں:[95] “میں علم کے درس و تدریس میں مشغول رہا یہاں تک کہ اس وقت کے مالکی قاضی پر سلطان کسی درباری مزاج کے باعث ناراض ہوا، چنانچہ اسے معزول کر دیا اور مجھے اپنے دربار میں امیروں کے سامنے اس منصب کی پیشکش کی، لیکن میں نے اس سے گریز کیا، مگر اس نے اسے نافذ کر دیا۔” عمومی طور پر ابن خلدون کا قاضی بننا کوئی معمولی واقعہ نہ تھا، کیونکہ قضا اور تدریس کے مناصب مقامی علما کی بڑی خواہش ہوتے تھے اور کسی غیر مقامی شخص کا ان مناصب پر فائز ہونا انھیں ناگوار گزرتا تھا، اسی لیے ان کے خلاف حسد اور رقابت میں اضافہ ہوا۔ یہ کشیدگی بڑھتی رہی یہاں تک کہ ان کے اور ریاستی عمائدین کے درمیان تعلقات منقطع ہو گئے۔ اسی دوران انھیں ایک شدید صدمہ بھی پیش آیا، جب ان کی زوجہ، بیٹا اور مال و متاع سمندری طوفان میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔ یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب وہ مغرب سے مصر آ رہے تھے اور سلطانِ تونس نے انھیں اجازت دی تھی۔ ابن خلدون اس واقعے کو یوں بیان کرتے ہیں:[96] ،[97] “میرے اہل و عیال مغرب سے کشتی کے ذریعے آئے، لیکن راستے میں تیز آندھی نے انھیں آ لیا، کشتی ڈوب گئی اور سب کچھ مال، گھر اور اولاد تباہ ہو گیا۔ اس مصیبت نے میرے صبر کو ہلا کر رکھ دیا، میرا غم بہت بڑھ گیا اور میں نے دنیا سے کنارہ کشی کا ارادہ کر لیا۔”[94]

ابن خلدون کو 787ھ / 1385ء کے 7 جمادی الاول کو مالکیہ کے قاضی کے منصب سے معزول کر دیا گیا۔ اس کے بعد وہ مدرسہ قمحیہ میں تدریس اور علمی مشاغل میں مصروف ہو گئے۔ کچھ ہی عرصے بعد انھیں قاہرہ کے نئے مدرسہ میں مالکی فقہ کی تدریس پر مقرر کیا گیا، جو سلطان نے بین القصرین کے محلے میں تعمیر کیا تھا اور جسے “مدرسہ ظاہريہ برقوقیہ” کہا جاتا تھا۔ وہ اسی منصب پر 789ھ کے حج کے موسم تک رہے، پھر سلطان نے انھیں حج کے لیے اجازت دی۔،[98] .[99] وہ ذو الحجہ کی دوسری تاریخ کو مکہ مکرمہ پہنچے اور حج ادا کیا۔ حج سے واپسی پر وہ دوبارہ قاہرہ آئے اور سلطان سے ملاقات کی، جس نے ان کی عزت افزائی کی اور انھیں پرانے مدرسے کی بجائے مدرسہ صرغتمش میں تدریس پر مقرر کر دیا۔ ابن خلدون اپنے پہلے درس کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے امام مالک ، ان کی زندگی، ان کی نشو و نما اور ان کے مذہب کے پھیلاؤ پر گفتگو کی۔ وہ کہتے ہیں: “مجلس برخاست ہو گئی اور لوگوں کی نگاہوں میں میرے لیے عزت اور وقار ظاہر تھا اور دلوں میں میری اہلیتِ مناصب کا احساس پیدا ہوا اور خاص و عام سب نے اس بات کو تسلیم کیا۔”.[100]

اس کے بعد ابن خلدون نے خانقاہ بیبرس (4) کی مشیخت اور نظارت کے منصب پر کام کیا، جس سے ان کے وسائل میں وسعت آئی اور ان کا اثر و رسوخ بڑھ گیا۔ تاہم مصر میں یہ استقرار زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔ جلد ہی فتنے شروع ہو گئے، افواج حرکت میں آئیں اور سلطنتوں میں تبدیلیاں واقع ہونے لگیں۔[101] ابن خلدون نے ان فتنوں کا مشاہدہ کیا اور ان کے اسباب کی وضاحت کی، کیونکہ وہ خود ان واقعات کے عینی شاہد تھے۔ اسی دوران انھوں نے ریاستوں کے عروج و زوال پر گفتگو کی۔ یہ سیاسی حالات ان پر بھی اثرانداز ہوئے، چنانچہ انھیں ان کے منصب سے معزول کر دیا گیا، لیکن بعد میں جب ظاہر برقوق دوبارہ تخت پر واپس آئے تو انھیں دوبارہ اسی منصب پر بحال کر دیا گیا۔[102]

دمشق

[ترمیم]

ابن خلدون نے قضا کے منصب سے چودہ سال دوری گزاری، لیکن سلطان نے اسے دوبارہ منصب پر بحال کیا اور 788ھ / 1398ء کے وسط میں رمضان میں وہ دوبارہ قاضی بن گئے۔ [103]کچھ ہی عرصے بعد سلطان کا انتقال ہو گیا اور فتنہ و فساد شروع ہو گیا۔ حالات کچھ سنبھلے تو ابن خلدون نے بیت المقدس جانے کی اجازت طلب کی، جس کی اجازت مل گئی، وہ وہاں گئے اور واپس 802ھ میں آئے، مگر اگلے سال انھیں قضا کے منصب سے معزول کر دیا گیا۔ مصر میں قیام کے دوران انھیں تیمور لنگ کی خبریں ملیں، جس نے 803ھ / 1400ء میں شام پر حملہ کیا، حلب پر قبضہ کیا اور شدید تباہی پھیلائی اور پھر دمشق کی طرف بڑھنے لگا۔ اس خبر پر مصر میں سخت اضطراب پیدا ہوا، چنانچہ سلطان ناصر فرج نے اپنی فوجیں جمع کیں اور چاروں قاضیوں کو بھی ساتھ لے گیا۔[104][105] .[106] یہ لشکر 803ھ کے ربیع الثانی میں روانہ ہوا اور جمادی الاول میں وہاں پہنچا۔ ابن خلدون چند فقہا کے ساتھ مدرسہ عادلیہ میں ٹھہرے، جبکہ مصری فوج اور تیمور لنگ کی فوج کے درمیان ابتدائی جھڑپیں ہوئیں اور بعد میں صلح کی بات چیت شروع ہو گئی۔

سلطان کے لشکر میں اختلافات پیدا ہو گئے اور کچھ لوگ مصر واپس چلے گئے۔ جب سلطان کو معلوم ہوا کہ وہ اسے معزول کرنا چاہتے ہیں تو وہ خود بھی مصر واپس چلا گیا۔ اسی دوران ابن خلدون نے جرأت کرتے ہوئے تیمورلنگ سے ملاقات کا فیصلہ کیا اور بغیر لڑائی کے دمشق کے حوالے پر بات چیت کی۔ وہ خود اپنی ملاقات کا منظر یوں بیان کرتے ہیں کہ وہ تیمورلنگ کے خیمے میں داخل ہوئے، اس کے سامنے ادب سے جھک کر سلام کیا، اس نے ہاتھ بڑھایا تو انھوں نے بوسہ دیا، پھر وہ بیٹھ گئے اور گفتگو شروع ہوئی، جس کے لیے ایک مترجم بھی مقرر کیا گیا۔[107]

ابن خلدون نے دمشق کے معززین کو خونریزی روکنے اور شہر کے پرامن حوالے پر قائل کیا۔ وہ سب تیمور لنگ کے پاس گئے اور اس کے سامنے اطاعت پیش کی۔ تیمور لنگ کی درخواست پر ابن خلدون نے کچھ دن مغرب کے حالات پر ایک تفصیلی خط لکھا، جسے بعد میں اس نے پڑھ کر منگول زبان میں ترجمہ کرنے کا حکم دیا۔ ابتدا میں طے پایا تھا کہ دمشق بغیر جنگ کے حوالے کر دیا جائے گا، لیکن منگولوں نے قلعے کی مزاحمت پر اعتراض کیا اور اس کا محاصرہ کر لیا۔ آخرکار قلعہ بھی گر گیا اور شہر میں داخل ہو کر منگولوں نے شدید قتل و غارت اور تباہی کی، جیسا کہ حلب میں کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود ابن خلدون کا تیمور لنگ سے رابطہ قائم رہا اور اس نے اسے قرآن مجید کا ایک نسخہ تحفے میں دیا۔ جب تیمورلنگ کو معلوم ہوا کہ یہ قرآن ہے تو اس نے اسے احتراماً اپنے سر پر رکھ لیا۔[108]

ابن خلدون کا دعویٰ ہے کہ وہ اس معاملے میں اہم ثالث اور مذاکرات کار تھا، تاہم بعض مورخین اس سے اختلاف کرتے ہیں۔ مثلاً تقی الدین مقریزی اور ابن إياس کے مطابق مذاکرات میں اصل کردار تقي الدين ابن مفلح کا تھا، کیونکہ وہ ترکی زبان میں مہارت رکھتا تھا۔ [109] .[110]البتہ المقریزی یہ بھی بیان کرتا ہے کہ ابن خلدون اور تیمورلنگ کے درمیان تعلق قائم رہا اور اسے قاہرہ واپس جانے کی اجازت دی گئی۔ وہ رجب 803ھ میں دمشق سے روانہ ہوا، راستے میں ڈاکوؤں نے اس کا مال لوٹ لیا، لیکن وہ اسی سال خیریت سے قاہرہ پہنچ گیا۔[111] [112] .[113]

مصر واپسی

[ترمیم]

قاہرہ پہنچنے کے کچھ ہی عرصے بعد ابن خلدون کو دوبارہ قضا کے منصب پر بحال کر دیا گیا۔ اس وقت ان کی عمر 74 سال ہو چکی تھی، لیکن وہ اب بھی بلند مناصب کی خواہش رکھتے تھے۔ ایک مصری مورخ کے مطابق: “اللہ ان پر رحم کرے، وہ منصب کو بہت پسند کرتے تھے۔” منصبِ قضا سیاسی کشمکش کا میدان بنا ہوا تھا۔[114] ابن خلدون کے مخالفین نے یہ افواہیں پھیلائیں کہ وہ دمشق کے واقعات میں ناکام رہا ہے تاکہ اسے مکمل طور پر دور کیا جا سکے، لیکن وہ دوبارہ منصب پر بحال ہوئے اور تقریباً ایک سال تک اس پر فائز رہے۔ بعد میں سازشوں کے نتیجے میں انھیں رجب 804ھ میں معزول کر دیا گیا اور ان کی جگہ شمس الدين بساطی کو قاضی بنایا گیا، لیکن وہ صرف تین ماہ بعد معزول ہو گئے اور ابن خلدون دوبارہ بحال ہوئے۔[115]

اس کے بعد وہ مسلسل معزول اور بحال ہوتے رہے: 806ھ میں دوبارہ معزول پھر دوبارہ بساطی بحال 807ھ شعبان میں ابن خلدون کو پانچویں مرتبہ قاضی بنایا گیا، مگر تین ماہ بعد پھر ہٹا دیا گیا ۔ [116] ان کے بعد جمال الدين افقہسی اور پھر جمال الدين تنسی قاضی بنے 808ھ میں بساطی دوبارہ آئے، پھر دوبارہ معزول ہوئے آخرکار ابن خلدون چھٹی مرتبہ قاضی مقرر ہوئے اور چند ہفتے ہی اس منصب پر رہ سکے، پھر ان کا انتقال ہو گیا۔[117]

افکار

[ترمیم]

عمرانیات انسانی

[ترمیم]
ابن خلدون کے نزدیک سیاسی دائرے کی ایک تقریبی تصویر

ابن خلدون عام مؤرخین، خصوصاً مسلم مؤرخین سے اس اعتبار سے ممتاز تھے کہ انھوں نے تاریخ کو محض واقعات کی روایت نہیں سمجھا، بلکہ ایک ایسا علم قرار دیا جسے ایک واضح منہج کے مطابق پڑھنا اور سمجھنا چاہیے۔ ان کی یہی فکر آگے چل کر ایک سماجی فلسفے کی صورت اختیار کر گئی، جسے انھوں نے ’’عمرانِ بشری‘‘ کا نام دیا۔ ابن خلدون اس علم کو ’’ایک نیا، منفرد اور بے حد فائدہ مند علم‘‘ قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اس علم کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ تاریخی روایات میں حق اور باطل کے درمیان فرق واضح کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب انسانی معاشرے اور اس کے حالات کا گہرا مطالعہ کیا جائے تو ایسے اصول سامنے آتے ہیں جن کی مدد سے تاریخی خبروں کی سچائی یا غلطی کو پرکھا جا سکتا ہے۔[118] ابن خلدون کے مطابق انسانی معاشرہ خود تحقیق اور غور و فکر کا ایک موضوع ہے۔ اسی لیے انھوں نے معاشروں کی ابتدا، استحکام، قوت، کمزوری، عروج، زوال اور سقوط جیسے مراحل کا تجزیہ کیا تاکہ ہر معاشرے کی خصوصیات، اس کے عناصرِ تشکیل اور اس کے نظام کو سمجھا جا سکے۔[119] .[120]

ابن خلدون عمرانیاتِ انسانی کو موضوعی اعتبار سے یوں بیان کرتے ہیں کہ یہ علم انسانی اجتماع میں پیدا ہونے والے ان حالات کا مطالعہ کرتا ہے جو حکومت، معیشت، علوم اور صنعتوں سے متعلق ہوں اور انھیں عقلی و برہانی انداز میں واضح کرتا ہے تاکہ خاص و عام دونوں کے لیے حقائق آشکار ہوں اور وہم و شبہات دور ہو سکیں۔ پھر انھوں نے اس علم کو چھ ابواب میں تقسیم کیا:[121]

  • انسانی عمران، اس کی اقسام اور زمین میں اس کے پھیلاؤ کا بیان
  • بدوی عمران اور قبائل و وحشی اقوام کا ذکر
  • ریاستوں، خلافت، بادشاہت اور حکومتی مراتب کا بیان
  • شہری عمران، شہروں اور آبادیوں کا ذکر
  • صنعتوں، معیشت، کسبِ معاش اور اس کے طریقوں کا بیان
  • علوم، ان کے حصول اور تعلیم کا بیان۔

تاریخی منہج

[ترمیم]
“اس کے بعد، بے شک فنِ تاریخ اُن علوم میں سے ہے جسے مختلف قومیں اور نسلیں نقل کرتی آئی ہیں، لوگ اس کے حصول کے لیے سفر کرتے ہیں، عام لوگ اور غافل افراد بھی اس کی معرفت کی خواہش رکھتے ہیں، اور بادشاہ و امراء اس میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔[122] عالم اور جاہل دونوں اس کے سمجھنے میں برابر دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ بظاہر یہ صرف گزشتہ ایام، حکومتوں اور پہلی صدیوں کے حالات و واقعات کی خبریں معلوم ہوتے ہے۔ اس میں اقوال بڑھتے ہیں، مثالیں بیان کی جاتی ہیں، اور محفلیں ان واقعات سے مزین ہوتی ہیں۔ یہ ہمیں مخلوق کے حالات اور ان کے تغیرات سے آگاہ کرتا ہے، کہ کس طرح سلطنتوں کی حدود وسیع ہوئیں، لوگوں نے زمین کو آباد کیا، یہاں تک کہ کوچ اور زوال کا وقت آ پہنچا۔ لیکن اس کے باطن میں غور و فکر اور تحقیق پوشیدہ ہے۔”

تاریخ ابن خلدون، ج 1، ص 6

ابن خلدون نے ریاستوں کی تاریخ میں پیش آنے والے واقعات پر گہری نظر ڈالی اور غور و فکر کے ذریعے ایسے سماجی مظاہر کو پہچانا جو ہمیشہ رونما ہوتے رہتے ہیں اور کسی خاص زمانے تک محدود نہیں ہوتے۔ یہ مظاہر انسانی معاشرے کی زندگی کی نمائندگی کرتے ہیں اور ماضی کو مستقبل سے جوڑتے ہیں۔ ان کے نزدیک پرانے واقعات ان حالات سے مشابہ تھے جو انھوں نے اپنے زمانے میں دیکھے اور اسی بنیاد پر انھوں نے ان سماجی اصولوں کو دریافت کیا۔[123] .[124] تاریخ کے مطالعے میں ان کی تحقیق اس حد تک پہنچی کہ وہ تاریخ کے ایک منظم تصور کے قائل ہو گئے۔ اسی لیے انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ تاریخی واقعات اور سماجی نظاموں کی تحقیق کے لیے ایک واضح اور درست منہج ہونا ضروری ہے۔

ابن خلدون کے مطابق تاریخ کو درست طور پر سمجھنے کے لیے مؤرخین کو تین بڑی غلطیوں سے بچنا چاہیے:

  • پہلی غلطی تعصب (تحزب) ہے، یعنی تاریخ کو کسی مخصوص گروہ یا نظریے کے مطابق بیان کرنا، جس سے انصاف ختم ہو جاتا ہے اور بعض اوقات پوری سلطنت کو صرف منفی انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔[125] .[126] [127]
  • دوسری غلطی بغیر تحقیق کے روایات کو قبول کرنا ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ ہر روایت کو اچھی طرح پرکھا جائے، جیسا کہ محدثین نے حدیث کے علم میں راویوں کی تحقیق (جرح و تعدیل) کے ذریعے کیا۔ اسی طرح تاریخ میں بھی مختلف ذرائع اور روایات کا تقابل ضروری ہے۔
  • تیسری اور سب سے اہم غلطی عمرانی حالات سے ناواقفیت ہے۔ مؤرخ کو یہ سمجھنا چاہیے کہ معاشرے کی فطرت اور حالات کیا ہیں، ورنہ وہ ایسی باتوں کو بھی سچ مان لے گا جو عقلی اور سماجی طور پر ناممکن ہوں۔ اس لیے کوئی روایت اس وقت تک قابلِ قبول نہیں جب تک وہ اپنے زمانے، ماحول اور معاشرتی حالات سے مطابقت نہ رکھتی ہو۔.[128] .[129]

معاشیات

[ترمیم]

ابن خلدون نے اپنی مقدمہ میں کئی اقتصادی اور مالی نظریات پر گفتگو کی ہے۔ وہ معاشی معیارِ زندگی کو آبادی کی تعداد اور اس کی کثافت کے ساتھ جوڑ کر دیکھتے ہیں۔ انھوں نے ضروری اشیاء کی قیمتوں، اجرتوں اور مختلف پیشوں کا بھی مطالعہ کیا تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ قیمتیں کیوں بڑھتی یا کم ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق قیمتوں میں اتار چڑھاؤ طلب و رسد اور شہروں کے آباد رہنے اور ان کی ترقی کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے۔.[130]

مالیات

[ترمیم]

نقد (کرنسی)

[ترمیم]

ابن خلدون نے نقدی (کرنسی) کا تجزیہ اس انداز سے کیا جو اس کی حقیقی فطرت کے بہت قریب ہے۔ ان کے مطابق نقد دراصل انسانی محنت کا مظہر ہے اور قیمت کی بنیاد ہے۔ وہ سونا اور چاندی کو محض ایک پیمائش کا ذریعہ سمجھتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے سونا اور چاندی کو تمام مال کی قیمت کے طور پر پیدا کیا ہے اور یہ دنیا والوں کے لیے ذخیرہ اور دولت ہیں۔[131]

ان کے خیال میں نقد ابتدا میں صرف تبادلے کا ذریعہ تھا، بعد میں اس نے اشیاء کی قیمت متعین کرنے کا کردار اختیار کیا۔ اس سے پہلے معاشرہ بارٹر سسٹم (اشیاء کے بدلے اشیاء) پر چلتا تھا۔[132] ابن خلدون کے مطابق کسی ملک میں موجود نقدی کی مقدار معاشرے کی ضرورت سے زیادہ نہیں بڑھتی۔ نقدی صرف مقامی ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کو بھی آسان بناتی ہے۔[133] انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ سونا اور چاندی بنیادی طور پر ذخیرۂ دولت ہیں اور دیگر اشیاء عموماً انھی کے حصول کے لیے جمع کی جاتی ہیں۔ اصل قیمت نقد نہیں بلکہ انسانی محنت ہے: جو چیز انسان کماتا ہے، اگر وہ صنعت سے ہو تو اس کی اصل قیمت اس کی محنت ہے، کیونکہ وہاں اصل چیز صرف عمل ہے۔[134]

قیمتیں (Prices)

[ترمیم]

ابن خلدون نے قیمتوں کا تجزیہ سبب و نتیجہ کے اصول پر کیا۔ ان کے مطابق قیمتیں طلب اور رسد کے توازن سے بڑھتی یا گھٹتی ہیں۔ جب کسی چیز کی طلب بڑھ جائے تو قیمتیں بڑھ جاتی ہیں اور جب رسد زیادہ ہو جائے تو قیمتیں کم ہو جاتی ہیں۔ [135] ان کے مطابق شہروں کی ترقی اور آبادکاری قیمتوں پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے، کیونکہ آبادی بڑھنے سے طلب بڑھتی ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ تاجر کو چاہیے کہ وہ ایسی چیزیں تجارت کے لیے لائے جن کی طلب عام ہو، کیونکہ مخصوص اور محدود اشیاء کا بازار جلد ختم ہو جاتا ہے۔[136]

ابن خلدون نے اشیاء کو تین حصوں میں تقسیم کیا:[137] ضروریات (بنیادی ضرورت کی چیزیں) حاجات (درمیانی ضروریات) تعیشات (لگژری/آسائش کی چیزیں) ان کے مطابق: آبادی بڑھنے سے ضروری اشیاء سستی ہو جاتی ہیں کیونکہ ان کی فراہمی زیادہ ہو جاتی ہے جبکہ تعیشاتی اشیاء مہنگی ہو جاتی ہیں کیونکہ ان کی طلب بڑھ جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ عمران (تمدن) اور آبادی قیمتوں کے نظام پر بنیادی اثر ڈالتے ہیں۔ وہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ بعض اوقات غیر معمولی حالات جیسے اجارہ داری یا پیداوار کے اخراجات میں اضافہ بھی قیمتوں کو بڑھا دیتا ہے۔،[138] .[139]

مالیاتی معیشت

[ترمیم]

تنظیمِ مالیات

[ترمیم]

ابن خلدون کے مطابق ریاست کے مالی امور کا انتظام محض تاریخی بیان نہیں بلکہ ایک منظم معاشی مطالعہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ریاست کی مالی تنظیم حکومت کے بنیادی ارکان میں سے ایک ہے، بلکہ یہ اس کے تین اہم ستونوں میں سے ایک ہے۔[140] ان کے نزدیک مالیاتی نظام کے ذریعے ریاست اپنے کئی اہم مقاصد حاصل کرتی ہے، جیسے:[141] اپنے حقوق کا تحفظ فوج کی تعداد کا ریکارڈ رکھنا ہر فرد کی تنخواہ اور وظیفہ مقرر کرنا اس طرح ریاست مالی نظم و نسق کے ذریعے نگرانی اور کنٹرول کا کردار ادا کرتی ہے۔

ٹیکس

[ترمیم]

ابن خلدون نے "ٹیکس" کی اصطلاح کی بجائے اپنے دور کا لفظ "جبايہ" (محصولات/ریونیو) استعمال کیا۔ انھوں نے اس کے مختلف پہلوؤں، کمی بیشی کے اسباب اور اس کی اقسام پر تفصیل سے گفتگو کی۔[142] ان کے مطابق: ہر ریاست کے حالات کے مطابق ٹیکس مختلف ہوتے ہیں اسلامی ریاست میں صرف شرعی محصولات لیے جاتے ہیں، جیسے زکوٰۃ، خراج، جزیہ اور عشر غیر مذہبی ریاستوں میں ٹیکس معاشی سرگرمیوں اور سماجی نظام کے مطابق ہوتے ہیں وہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ ریاست کے آغاز میں ٹیکس کم ہوتے ہیں اور عوام کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں، کیونکہ وہ صرف ریاستی اخراجات پورے کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ لیکن جب ریاست کمزور ہونے لگتی ہے تو ٹیکس بڑھ جاتے ہیں اور عوام پر بوجھ بن جاتے ہیں۔[143] .[144]

ٹیکس وصولی

[ترمیم]

ابن خلدون نے ٹیکس وصولی کے اصول طاہر بن حسين سے اخذ کیے، جنھوں نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی تھی کہ ٹیکس کو انصاف، مساوات اور نرمی کے ساتھ وصول کیا جائے۔ [145]کسی امیر، قریبی یا خاص فرد کو رعایت نہ دی جائے اور نہ کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالا جائے۔ ابن خلدون کے مطابق یہی عدل پر مبنی نظام بہترین ٹیکس پالیسی ہے۔[146] .[147]

حکومتی اخراجات

[ترمیم]

ابن خلدون کے نزدیک حکومتی اخراجات معیشت اور عمرانی ترقی کا بنیادی محرک ہیں۔ ان کے مطابق ریاستی طلب معاشی سرگرمیوں کو بڑھاتی ہے اور زراعت، صنعت اور تجارت کو فروغ دیتی ہے۔[148] جب حکومت خرچ کرتی ہے تو: مارکیٹ میں طلب بڑھتی ہے پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے سرمایہ کاری کو فروغ ملتا ہے وہ اس پالیسی کی حمایت کرتے ہیں، خاص طور پر عباسی خلیفہ المامون کے دور کی اقتصادی حکمت عملی کے حوالے سے۔ تاہم وہ یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ اگر ریاست ٹیکس جمع کر کے اسے دوبارہ معیشت میں خرچ نہ کرے (یعنی ذخیرہ اندوزی کرے) تو: معاشی ترقی رک جاتی ہے بے روزگاری بڑھتی ہے عوام کی قوتِ خرید کم ہو جاتی ہے اسی لیے وہ متوازن مالی پالیسی پر زور دیتے ہیں۔[149]

دینی آراء

[ترمیم]

ابن خلدون نے دین کو ایک بنیادی سماجی حقیقت کے طور پر دیکھا۔ ان کے مطابق کوئی بھی معاشرہ کسی نہ کسی مذہب سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ [150]وہ دین کو “ماورائے طبیعت نفسی” یعنی انسانی روح اور باطنی کیفیت سے متعلق ایک حقیقت قرار دیتے ہیں۔ انھوں نے مذہبی اور فلسفیانہ افکار کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی اور یہ رائے رکھی کہ ان دونوں میں بنیادی تضاد نہیں ہونا چاہیے۔ اس سلسلے میں وہ اپنے استاد ابن رشد کے طریقۂ فکر سے متاثر تھے، جنھوں نے فلسفہ اور دین کے درمیان تطبیق کی کوشش کی تھی۔ [151]

دین اور روحانی تعلق ابن خلدون کے مطابق محسوس اور غیر محسوس عالم کے درمیان تعلق ہی دین کی بنیاد ہے۔ یہ تعلق انسان کے اس شعور سے پیدا ہوتا ہے کہ کائنات اللہ کے زیرِ انتظام ہے۔ اس عمل میں روح انسانی ایک واسطہ بنتی ہے جو اللہ اور انسان کے درمیان رابطہ قائم کرتی ہے۔ ان کے مطابق:[152] روح اپنی اصل میں باقی رہنے والی ہے ہر روح ایک جیسی نہیں ہوتی زیادہ تر انسان صرف مادی دنیا تک محدود رہتے ہیں جبکہ کچھ منتخب روحیں (انبیا) الٰہی اتصال کی اعلیٰ صلاحیت رکھتی ہیں انبیاء کی روحیں مادی دنیا سے بلند ہو کر وحی حاصل کرتی ہیں اور اسے انسانوں تک پہنچاتی ہیں۔[153]


جھوٹی نبوت اور تصورات ابن خلدون کے مطابق کچھ لوگ توجہ اور ذہنی یکسوئی کے ذریعے غیر محسوس چیزوں کا ادراک کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن یہ اکثر ناقص اور غلط ادراک ہوتا ہے۔ اسی سے بعض اوقات جھوٹے مذاہب یا غیر حقیقی تصورات پیدا ہوتے ہیں، جنھیں وہ مکمل سچ نہیں مانتے بلکہ جزوی حقیقت پر مبنی سمجھتے ہیں۔

تصوف اور روحانی تجربہ وہ صوفیہ کے اس نظریے سے کچھ حد تک متفق ہیں کہ اگر انسان اخلاص کے ساتھ دنیاوی خواہشات سے الگ ہو جائے تو وہ روحانی حقیقت کے قریب ہو سکتا ہے۔ لیکن وہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ: اگر کوئی شخص یہ عمل تکبر یا برتری کے لیے کرے تو وہ صحیح روحانی مقام تک نہیں پہنچ سکتا بلکہ گمراہی یا غلط ادراک کا شکار ہو سکتا ہے

وحی، نبوت اور معجزہ ابن خلدون کے مطابق روحانی ادراک کے مختلف درجات ہیں: انبیا اولیاء اور صوفیہ کاہن اور دوسرے ادعائی روحانی افراد ان کے مطابق انبیا کا روحانی تعلق سب سے کامل ہوتا ہے اور انھیں اللہ کی طرف سے وحی ملتی ہے جسے وہ انسانوں تک پہنچاتے ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ نبی اور رسول کے درمیان فرق معجزے کے ذریعے واضح ہوتا ہے۔ رسول کو اپنی سچائی ثابت کرنے کے لیے ایسا واضح معجزہ پیش کرنا ہوتا ہے جس کی کوئی مثال پیش نہ کر سکے۔[154] .[155]

شہری عمرانیات

[ترمیم]

ابن خلدون نے شہروں اور رہائشی بستیوں اور ان کی تنظیم کے طریقوں پر خصوصی توجہ دی۔ ان کے مطابق ایک شہر کی درست تعمیر کے لیے نو بنیادی نکات ہیں:

جگہ اور مقام کسی بستی کی بقا اور اس کا تسلسل اس بات پر منحصر ہے کہ وہ اپنے رہائشیوں کو کیا کچھ فراہم کرتی ہے۔ “موضع” اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں عمارتیں قائم ہوں، جبکہ “موقع” شہر کا اپنے اردگرد کے ماحول اور قریبی یا دور کے علاقوں سے تعلق ہے۔ شہر میں زندگی کے بنیادی وسائل ہونا ضروری ہیں، جیسے:[156] [157] پانی خوراک کے محفوظ ذرائع مویشی پالنے کی گنجائش صاف ہوا تاکہ بیماریوں سے بچا جا سکے ابن خلدون ابتدائی اسلامی شہروں کی مثال دیتے ہیں، جیسے کوفہ اور قیرواں، جہاں فاتحین نے صرف پانی اور چراگاہوں کو اہمیت دی لیکن شہری آبادی کی مکمل ضروریات کا خیال نہیں رکھا۔[158] شہر کی جغرافیائی اور اسٹریٹجک حیثیت بھی بہت اہم ہے۔ اندرونی شہروں کو مضبوط قلعہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ ساحلی شہروں کے لیے خاص دفاعی منصوبہ بندی ضروری ہے تاکہ دشمن کی بحری فوج داخل نہ ہو سکے۔[159] [160]

عملی و فنکشنل تعمیر ابن خلدون کے مطابق شہر کی اصل اہمیت اس کی کارکردگی ہے، یعنی وہ اپنے باشندوں کو: رہائش کی سہولت انسانی حملوں سے تحفظ قدرتی آفات (طوفان وغیرہ) سے حفاظت بیماریوں اور وباؤں سے بچاؤ فراہم کرے۔ اگر شہر یہ سہولیات فراہم نہ کرے تو وہ رہنے کے قابل نہیں رہتا۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہر بستی کو ایک خاص کام کے لیے موزوں ہونا چاہیے۔ بعض بستیاں مخصوص صلاحیت رکھتی ہیں، جیسے تجارت، دفاع یا دیگر شعبے۔ اگر کسی شہر پر اس کی فطرت کے خلاف کوئی کام مسلط کیا جائے تو وہ زوال کا شکار ہو سکتا ہے۔ وہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ جب ریاست کمزور ہوتی ہے تو اس کا دار الحکومت بھی تباہی کی طرف جاتا ہے اور بعض اوقات مکمل طور پر ویران ہو جاتا ہے۔[161] [162] حکمران بھی بعض اوقات سیاسی وجوہات کی بنا پر شہر کے وظائف تبدیل کر دیتے ہیں، جس سے شہر کی معیشت اور ترقی متاثر ہو کر تباہی کی طرف جا سکتی ہے۔ ابن خلدون کے مطابق کچھ شہر تجارت، کچھ دفاع، کچھ شکار اور کچھ سیاحت کے لیے خاص حیثیت رکھتے ہیں۔[163]

دینی پہلو ابن خلدون شہر کی دینی حیثیت کو بھی اہم سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق مذہبی شہر:[164] دیگر معاشی اور سماجی سرگرمیوں کو بھی فروغ دیتے ہیں روحانی مرکز بنتے ہیں لوگوں کے دلوں کو سکون دیتے ہیں سماجی زندگی میں تازگی اور صفائی پیدا کرتے ہیں اس طرح مذہبی ادارے شہر کی روحانی اور تمدنی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ریاست کے استحکام کا ذریعہ بنتے ہیں۔[165]

شہروں کے درجے ابن خلدون نے آبادیوں اور بستیوں کے مراکز اور وہاں آبادی کی تقسیم کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق کچھ علاقے ایسے ہوتے ہیں جہاں آبادی بکھری ہوئی ہوتی ہے، یہ دور دراز بستیاں کہلاتی ہیں، جبکہ کچھ علاقے منظم اور مرکزی شہر ہوتے ہیں جو پورے علاقے کو خدمات فراہم کرتے ہیں اور زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ دور دراز بستیاں بڑی حد تک مرکزی شہروں پر انحصار کرتی ہیں۔ یہ فاصلہ نقل و حمل اور جغرافیائی ساخت پر بھی اثر ڈالتا ہے۔ دار الحکومت سب سے زیادہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ: وہ حکومت کا مرکز ہوتا ہے انتظامی نظام وہیں ہوتا ہے تمام اہم ادارے وہاں جمع ہوتے ہیں جیسے جیسے حکومت زیادہ مرکزی ہوتی ہے، دار الحکومت کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے اور دور دراز علاقے نسبتاً کمزور ہو جاتے ہیں۔ اس سے دیہی علاقوں میں شہری تہذیب کم ہو جاتی ہے اور بعض جگہ بدوی زندگی بڑھنے لگتی ہے۔[166] .[167]

شہر کی ساخت اور شکل ابن خلدون شہر کی شکل اور اس کے کام کے درمیان گہرے تعلق کو سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق: جب آبادی کم ہو جاتی ہے تو شہر کا نظام کمزور ہو جاتا ہے ہجرت کم ہو جاتی ہے اور شہر ویران ہونے لگتا ہے عمارتیں تباہ ہو کر دوبارہ کم معیار پر بنائی جاتی ہیں شہری ترقی آہستہ آہستہ ختم ہو جاتی ہے اس طرح شہر کی تاریخی اور تہذیبی اہمیت کم ہو جاتی ہے۔[168]

شہر کی شکل اور اس کے کام کا تعلق ابن خلدون کے مطابق شہر کی ہر ذمہ داری اس کی شکل کو متاثر کرتی ہے:[169] دفاعی ضرورتیں دیواروں اور قلعوں کی شکل میں ظاہر ہوتی ہیں تجارتی یا انتظامی شہر مختلف طرز کی عمارتیں رکھتے ہیں یعنی ہر شہر کی ظاہری شکل اس کے کام کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ شکل ریاست کی طاقت، معیشت اور تنظیم کی سطح کو بھی ظاہر کرتی ہے۔[170] [171]

سہولیات، خدمات اور ماحول ابن خلدون کے شہری منصوبہ بندی کے نظریے میں سب سے اہم چیز شہریوں کی راحت اور سہولیات ہیں، جو ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اہم نکات:،[172] [173] شہریوں کو پریشانی اور خطرات سے دور رکھا جائے پانی سب سے اہم قدرتی وسیلہ ہے زراعت، چراگاہیں اور خوراک کی فراہمی ضروری ہے شہر میں مویشیوں اور معیشت کے وسائل موجود ہونے چاہئیں شہر کو جنگ، حملوں اور قدرتی آفات سے محفوظ ہونا چاہیے۔ صاف ہوا بھی صحت کے لیے ضروری ہے، کیونکہ یہ بیماریوں سے بچاؤ میں مدد دیتی ہے۔ ابن خلدون کے مطابق شہر کی حفاظت میں ماحول کی صفائی اور ہوا کی پاکیزگی بھی بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔[174]

نجی اور سرکاری شعبہ ابن خلدون کے مطابق انسانی بستیوں کے استحکام کے لیے ریاست اور عوام کے درمیان تعاون بہت ضروری ہے۔ ان کے نزدیک ریاستی منصوبہ بندی اور عوامی محنت کا باہمی تعلق ہی شہر کی ترقی کی بنیاد ہے۔ وہ شہری تعمیرات کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں: سرکاری عمارتیں (جیسے قلعے، فیکٹریاں، عمومی ادارے) نجی عمارتیں (گھر اور ذاتی رہائش) ان کے مطابق شہر بسانے اور اس کی تنظیم میں ریاست کا کردار بنیادی ہوتا ہے۔[175] [176]

منصوبہ بندی اور اس کے اصول ابن خلدون منصوبہ بندی کو انسانی اور سماجی پہلو سے دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق منصوبہ بندی مختلف سطحوں پر ہوتی ہے: قومی سطح (پورے ملک کے لیے) علاقائی سطح (صوبوں یا علاقوں کے لیے) مقامی سطح (شہروں اور بستیوں کے لیے) وہ کہتے ہیں کہ دور دراز علاقوں کی ترقی اکثر نظر انداز ہو جاتی ہے، اس لیے علاقائی منصوبہ بندی ضروری ہے تاکہ ترقی میں توازن رہے۔ انھوں نے یہ بھی بیان کیا کہ:،[177] قریبی منصوبہ بندی روزمرہ مسائل حل کرتی ہے طویل مدتی منصوبہ بندی نسلوں کی مشترکہ کوشش سے بڑے منصوبے مکمل کرتی ہے وہ واضح کرتے ہیں کہ بڑے ڈھانچے ایک ہی ریاست مکمل نہیں کر سکتی بلکہ کئی نسلوں کی مشترکہ کوشش سے بنتے ہیں۔[178] .[179] .[180]

شہر ایک زندہ وجود ہے ابن خلدون کے مطابق شہر صرف عمارتوں کا نام نہیں بلکہ ایک زندہ نظام ہے۔ اس میں: اندرونی عوامل (آبادی، معیشت، ادارے) بیرونی عوامل (ریاست، علاقہ، ماحول) سب مل کر اس کی ترقی یا زوال کا سبب بنتے ہیں۔ ایک شہر میں ہونے والی معمولی تبدیلی بھی پورے علاقے پر اثر ڈال سکتی ہے۔ اگر ریاست کمزور ہو جائے تو اس کا دار الحکومت بھی زوال کا شکار ہو جاتا ہے۔

شہر اور علاقہ (ریجن) کا تعلق ابن خلدون شہر اور اس کے علاقے کے درمیان مضبوط تعلق کو بہت اہم سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق: شہر کی ترقی پورے علاقے کی ترقی کا باعث بنتی ہے وسیع علاقے والے شہر زیادہ وسائل رکھتے ہیں محدود علاقے والے شہر کمزور ہوتے ہیں علاقہ شہر کو: خوراک وسائل اور اقتصادی مدد فراہم کرتا ہے، جبکہ شہر اس علاقے کی ترقی کا مرکز ہوتا ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ بعض شہر ریاست کے ختم ہونے کے بعد بھی باقی رہتے ہیں، کیونکہ ان کے اردگرد دیہات اور آبادیاں ان کو سہارا دیتی رہتی ہیں، جیسے فاس، بجایہ اور بعض مشرقی شہر۔[181] [182]

معاصرین کی آراء

[ترمیم]

ابن خلدون نے مصر میں تئیس سال گزارے، یہ عرصہ نسبتاً پرسکون تھا اور وہ مغرب کے سیاسی ہنگاموں سے دور رہا۔ قاہرہ کی لائبریریوں اور علما کے قریب ہونے سے اسے اپنی مغربی تصانیف کی نظرِ ثانی کا موقع ملا، تاہم وہ مصر میں اپنا مستقل علمی مدرسہ قائم نہ کر سکا۔ اس کی ایک وجہ مصر میں پہلے ہی علمی مراکز کی کثرت تھی اور دوسری وجہ اس کا خود اہلِ مصر کے بارے میں یہ سابقہ تاثر تھا کہ وہ “زیادہ خوش مزاج، غفلت پسند اور انجامِ کار سے بے پروا” ہیں۔[183] ،[184] قاہرہ کے علمی ماحول اور سخت مسابقت کی وجہ سے ابن خلدون کے افکار کو ابتدا میں زیادہ قبولیت نہ ملی اور علمی حلقوں میں اس کی آراء کو آسانی سے تسلیم نہیں کیا گیا۔ تاہم اس کے باوجود کئی بڑے اہلِ علم اس سے متاثر ہوئے، جن میں ابن حجر عسقلانی بھی شامل ہیں۔ انھوں نے اپنی کتاب رفع الاصرار فيی قضاء مصر میں لکھا کہ وہ ابن خلدون سے ملے تھے اور اسے فصیح اللسان، مملکتوں کے معاملات سے آگاہ، تنقیدی بصیرت رکھنے والا اور شعر و ادب سے واقف شخص قرار دیا اگرچہ وہ اس میدان میں مکمل مہارت کا حامل نہیں تھا۔ [185][186] .[187]

فاطمیوں کے دور میں قاہرہ کا نقشہ، جس کے وسط میں “بین القصرین” کا محلہ دکھایا گیا ہے، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ابن خلدون اسی علاقے میں رہتے تھے۔

ابن حجر عسقلانی کا نقد اور بعد کے علما کی آراء ابن حجر عسقلانی ابن خلدون کی مکمل تعریف نہیں کرتے۔ وہ ان پر یہ اعتراض بھی کرتے ہیں کہ انھیں مشرقی دنیا کے حالات اور تاریخ کا کافی علم نہیں تھا۔ اسی طرح وہ تقی الدین مقریزی کی اس رائے سے بھی اختلاف کرتے ہیں کہ مقدمہ ابن خلدون کو بہت زیادہ علمی مقام حاصل ہے۔ عسقلانی کے نزدیک یہ کتاب زیادہ سے زیادہ عمدہ فصاحت اور خوبصورت اسلوب کی حامل ہے، مگر علمی گہرائی میں منفرد نہیں۔ وہ مزید یہ بھی تنقید کرتے ہیں کہ ابن خلدون اچھے قاضی نہیں تھے، لوگوں سے دور رہتے تھے اور اپنی زندگی کے آخری حصے میں موسیقی سننے اور بعض ذاتی معاملات میں مشغول رہے۔ یہ سخت رائے ایک بڑے علمی حلقے کی نمائندگی کرتی تھی، جس میں جمال بشیشی، الکرکَکی اور بدر الدین عینی جیسے نام شامل تھے۔ بعد میں شمس الدین سخاوی نے بھی اپنے استاد ابن حجر عسقلانی کی باتوں کو مزید سخت انداز میں دہرایا اور ابن خلدون پر تنقید کو مزید بڑھایا۔[188]

ابن خلدون کے حامی علما دوسری طرف مصر کے کئی علما اور مفکرین نے ابن خلدون کے افکار کی بھرپور تائید کی۔ ان میں سب سے نمایاں تقی الدين مقریزی ہیں، جو ان کے نظریات سے بہت متاثر تھے اور انھیں “شیخنا العالم العلامہ الاستاذ قاضی القضاۃ” کہہ کر یاد کرتے تھے۔[189] المقریزی نے اپنی کتابوں السلوک لمعرفہ دول الملوک اور دُرر العقود الفريدة میں ابن خلدون کی سوانح اور افکار کا تفصیل سے ذکر کیا اور ان کی مقدمہ کی بہت تعریف کی۔ وہ لکھتے ہیں کہ اس جیسی کتاب بہت کم لکھی گئی ہے، یہ علوم کا خلاصہ اور عقلِ سلیم کا نچوڑ ہے، جو حوادث اور کائنات کی حقیقت کو واضح کرتی ہے۔[190] [191]

ابن خلدون کے اثرات بعد کے مؤرخین پر تقی الدین مقریزی کی کتاب اغاثہ الامہ بكشف الغمہ میں ابن خلدون کے اثرات واضح طور پر نظر آتے ہیں، خصوصاً مصر کی تاریخ، دولتوں کے زوال اور عمرانی تبدیلیوں کے تجزیے میں۔ اسی طرح شمس الدین سخاوی کی کتاب الإعلان بالتوبيخ میں بھی ابن خلدون کے نظریات کی جھلک موجود ہے۔ مزید یہ کہ ابن تغری بردی نے بھی مقریزی کی طرح ابن خلدون کے افکار کی تائید کی اور ان کی عدالتی دیانت اور انتظامی صلاحیت کی تعریف کی۔[192] .[193]

وفات

[ترمیم]

ابن خلدون کے آخری ایام قاہرہ میں گذرے، تاہم اس کے رہنے کی جگہ کے بارے میں یقینی معلومات موجود نہیں ہیں۔ جمال بشبيشی کے مطابق انھوں نے ابن خلدون کو قاہرہ کے علاقے الصالحیہ کے قریب دیکھا تھا جب وہ اپنے گھر جا رہے تھے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا مسکن بین القصرین یا اس کے قریبی علاقوں میں تھا۔ یہ علاقہ ان کی مالکی قضاء کی ذمہ داری کے لیے بھی موزوں تھا کیونکہ مالکی فقہا کا ایوان بھی اسی کے قریب واقع تھا۔ دمشق سے واپسی کے بعد بعض روایات کے مطابق وہ نسبتاً کھلے اور پر سکون ماحول میں رہنے لگے، ممکن ہے کہ یہ رہائش دریائے نیل کے کنارے ہو، جیسے جزیرہ روضہ یا فسطاط کے مقابلہ کا علاقہ۔ ابن خلدون کا انتقال قاہرہ میں تقریباً 25 سال قیام کے بعد ہوا۔ ان کی عمر 76 سال کے قریب تھی اور وفات 26 رمضان 808ھ / 1406ء میں ہوئی۔[194]

ان کی تدفین کے بارے میں شمس الدین سخاوی بیان کرتے ہیں کہ انھیں قاہرہ کے باہر باب النصر کے قریب صوفیا کے قبرستان میں دفن کیا گیا۔ جبکہ تقی الدین مقریزی کے مطابق یہ قبرستان مختلف صوفی خانقاہوں کے مزارات کے درمیان واقع تھا، جو چوتھی/آٹھویں صدی ہجری میں امیروں اور صوفیوں کے لیے بنایا گیا تھا۔ ابن خلدون کو یہاں اس لیے دفن کیا گیا کیونکہ وہ خانقاہ بیبرس سے بھی وابستہ رہے تھے۔.[195]

میراث

[ترمیم]
ابن خلدون کا کانسی (برونز) سے بنا ہوا مجسمہ، جو عرب-امریکن نیشنل میوزیم کے مجموعے کا حصہ ہے۔.

اگرچہ ابن خلدون نے تاریخ کی تعبیر و تشریح میں ایک نہایت اہم اور گہری علمی سوچ پیش کی، لیکن چونکہ وہ اسلامی تہذیب کے سنہری دور کے آخری زمانے میں ظاہر ہوئے، اس لیے ان کا علمی ورثہ طویل عرصے تک نظر انداز رہا۔ [196]مشرق میں تقریباً انھیں بھلا دیا گیا اور مغرب بھی ان سے بے خبر رہا، [197]یہاں تک کہ 1697ء میں پہلی بار ان کے بعض افکار کا ترجمہ فرانسیسی مستشرق بارتلمی دربلو کی انسائیکلوپیڈیا Bibliothèque Orientale میں شائع ہوا۔ تاہم یہ ترجمہ کمزور اور غلطیوں سے بھرپور تھا، جس کے باعث ابن خلدون کے افکار دوبارہ ایک مدت تک گمنامی میں چلے گئے۔ [198] بعد ازاں 1806ء میں فرانسیسی مستشرق سیلوستر دوساسی نے اپنی کتاب Chrestomathie arabe میں مقدمہ ابن خلدون کے کچھ حصے اور ان کا تعارف شامل کیا۔ پھر 1816ء میں انھوں نے Biographie universelle میں مقدمہ کا زیادہ مفصل ترجمہ شائع کیا۔ اسی سال آسٹریا کے مستشرق فون ہامر نے جرمن زبان میں ایک مقالہ لکھا جس میں اس نے اسلام کی پہلی تین صدیوں کے بعد اس کے زوال پر بحث کی اور اس میں ابن خلدون کے نظریات خصوصاً ریاستوں کے عروج و زوال کو بیان کرتے ہوئے انھیں “عربوں کا مونٹیسکیو” قرار دیا۔[199]

انیسویں صدی میں عرب اور مغرب دونوں میں ابن خلدون کے افکار میں دلچسپی بڑھتی رہی۔ مختلف محققین ان کے مقدمے کے حصے شائع کرتے رہے، یہاں تک کہ 1858ء میں کارٹیمیر نے مکمل مقدمہ عربی متن کے ساتھ شائع کیا۔ اس کے چند سال بعد ڈی ساسی نے اس کا مکمل فرانسیسی ترجمہ بھی شائع کیا۔،[200] اس کے بعد ابن خلدون کے نظریات کی اہمیت مغربی فکر میں واضح ہونے لگی۔ مغربی مفکرین نے یہ تسلیم کیا کہ ان کے نظریات میں ایسے علمی اور سماجی اصول موجود تھے جنھیں یورپ نے بہت بعد میں دریافت کیا۔ پہلے یہ خیال عام تھا کہ تاریخ، سماجیات اور سیاسی معیشت کی بنیاد صرف مغربی مفکرین جیسے اگوست کومتے اور ایڈم اسمتھ نے رکھی، لیکن بعد میں واضح ہوا کہ ابن خلدون نے ان علوم کے بنیادی تصورات ان سے صدیوں پہلے پیش کر دیے تھے۔[201]

فلسفۂ تاریخ

[ترمیم]
المسعودی: اُن مسلم علما میں سے ایک جن سے ابن خلدون متاثر ہوئے

ابن خلدون کو بطور مؤرخ سمجھنے والوں میں آسٹریائی مستشرق الفریڈ فون کریمر خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ انھوں نے اپنی مشہور تصنیف “ابن خلدون اور اسلامی ریاستوں کی تہذیب کی تاریخ” تحریر کی اور اسے 1879ء میں ویانا کی اکیڈمی آف سائنسز میں پیش کیا۔[202] کریمر کے نزدیک ابن خلدون اسلامی اقوام کی تہذیبی تاریخ کے مؤرخ تھے، کیونکہ انھوں نے پہلی مرتبہ اسلامی معاشروں کے سیاسی نظام، حکومت کی اقسام، انتظامی ڈھانچوں، اقتصادی نظام، ٹیکسوں، پیشوں، صنعتوں، ثقافت اور فنون کو باقاعدہ تحقیق و مطالعہ کا موضوع بنایا۔ ابن خلدون کے نزدیک یہ تمام مباحث دراصل ایک بڑے موضوع، یعنی “عمرانِ بشری” کا حصہ تھے، جس کے ذریعے وہ انسانی معاشرے کی تشکیل، ترقی اور زوال کو سمجھنے کی کوشش کرتے تھے۔ .[203]

الفریڈ فون کریمر اُن اہم مستشرقین میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے ابن خلدون کو بطور مؤرخ خاص توجہ دی۔ انھوں نے اپنی مشہور تصنیف «ابن خلدون وتاريخہ لحضارة الدول الاسلاميہ» 1879ء میں ویانا کی اکیڈمی آف سائنسز میں پیش کی۔ کریمر کے نزدیک ابن خلدون اسلامی اقوام کی تہذیب کے مؤرخ تھے، کیونکہ انھوں نے پہلی بار سیاسی نظام، حکومت کی اقسام، اقتصادی ڈھانچے، ٹیکس، پیشوں، صنعتوں، ثقافت اور فنون کا منظم مطالعہ کیا۔ ان کے مطابق یہ تمام مباحث دراصل ’’عمرانِ انسانی‘‘ کے وسیع تصور کا حصہ تھے۔[204] تاہم کریمر کی رائے کو مکمل اتفاقِ رائے حاصل نہ ہو سکا۔ ناثانيل شميت نے اپنی کتاب «ابن خلدون، مؤرخ، عالم اجتماع وفيلسوف» میں لکھا کہ اگر ابن خلدون کو مؤرخ کہا جائے تو پہلے یہ طے کرنا ضروری ہے کہ آیا وہ تاریخ کی اصل حقیقت بیان کرنا چاہتے تھے یا تاریخی اصولوں کے صحیح استعمال کی وضاحت۔ شمیٹ کے مطابق اگرچہ مقدمہ نئی تاریخی فکر کی بنیاد بن سکتا تھا، لیکن اس کی زبان اور اس دور کے حالات نے اس کے اثر کو محدود رکھا۔ اسی طرح ہالینڈ کے فلسفی دي بوير نے اپنی کتاب «تاريخ الفلسفہ فی الإسلام» میں ابن خلدون کو محض مؤرخ نہیں بلکہ فلسفی قرار دیا۔ انھوں نے ابن خلدون کو ابن سينا ، ابو حامد غزالی، ابن رشد اور ابن طفيل کے ساتھ اسلامی فکری روایت میں شامل کیا۔ ان کے نزدیک ابن خلدون پر ارسطو اور افلاطون کے افکار، خصوصاً جمہوریہ افلاطون اور فیثاغورثی نظریات کا بھی اثر تھا، جبکہ وہ اپنے پیش رو مؤرخین، خاص طور پر مسعودی، سے بھی متاثر تھے۔[205] [206]

دی بویر کے مطابق ابن خلدون نے تاریخ کی بنیاد پر ایک ایسا فلسفیانہ نظام قائم کرنے کی کوشش کی جس میں معاشرہ اور اس کی تہذیب بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک تاریخ یہ واضح کرتی ہے کہ لوگ اپنی قوت کیسے حاصل کرتے ہیں، آپس میں کیوں لڑتے ہیں اور تہذیبیں کس طرح سادگی سے ترقی کی طرف بڑھتی ہیں، پھر عیش و آرام کے باعث زوال کا شکار ہو جاتی ہیں۔ دی بویر نے آخر میں لکھا:

’’ابن خلدون کو امید تھی کہ بعد میں آنے والے لوگ ان کی تحقیق کو آگے بڑھائیں گے، مگر یہ کام اسلامی دنیا میں نہ ہو سکا؛ چنانچہ وہ جیسے اپنے اسلاف کے بغیر تھے، ویسے ہی اپنے اخلاف کے بغیر رہے۔‘‘[207]

سماجی فلسفہ

[ترمیم]

لودویگ گمپلوویچ کے نزدیک ابن خلدون ایک ماہرِ سماجیات تھے اور وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انھوں نے بہت سے غیر ملکی فلسفیوں سے پہلے ہی کئی اہم نظریات پیش کر دیے تھے۔[208] مثال کے طور پر انھوں نے ریاستوں کے عروج و زوال کے تین ادوار کا ذکر انیسویں صدی کے آخر میں اٹو لورنس سے بھی پہلے کیا۔ اسی طرح انھوں نے ابن خلدون کو اگوست کومتے اور جیامباتیستا ویکو سے بھی مقدم قرار دیا۔ لودویگ گمپلوویچ کے مطابق ابن خلدون نے یوں لکھا: “ایک متقی مسلمان نے سماجی مظاہر کا متوازن عقل سے مطالعہ کیا اور گہری بصیرت والے نتائج اخذ کیے اور یہی آج کے دور میں سماجیات کہلاتا ہے۔” وہ مزید کہتے ہیں کہ ابن خلدون کے نظریات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ انھوں نے چارلس ڈاروین سے پانچ صدیاں پہلے “ماحول کے ساتھ مطابقت” کے اصول کو سمجھ لیا تھا۔ اسی طرح انسان اور حیوان کے سماجی قوانین کی اطاعت میں مشابہت کے تصور سے وہ مادّی وحدت کے تصور تک پہنچ گئے تھے، جو بعد میں ارنسٹ ہیکل کے ہاں بیان ہوا۔[209]

ابن خلدون کی سیاسی و حکومتی آراء کو قرونِ وسطیٰ کے یورپی حکمرانوں کے عملی اقدامات سے ہم آہنگ سمجھا جاتا ہے اور بعض محققین کے مطابق وہ نکولو مکیاویلی سے بھی پہلے ریاستی سیاست کے اصول واضح کر چکے تھے۔ اس کے علاوہ انھوں نے روحانی اور دنیوی اقتدار کی بنیادوں کو بھی اس انداز میں بیان کیا جو بعد میں سیاسی اور کلیسائی قانون کے ماہرین کے ہاں رائج ہوا۔ ایک اور محقق نے لودویگ گمپلوویچ کی رائے سے اتفاق کیا، جبکہ روسی مصنف Lev Levin نے بھی ابن خلدون کو ایک مکمل سماجی فلسفی قرار دیا۔

ابن خلدون کے افکار کا مطالعہ دو بڑے پہلوؤں میں کرتا ہے: معیشت اور سماج ۔ وہ ابن خلدون کو ایک ’’اقتصادی و سماجی فلسفی‘‘ قرار دیتا ہے۔ وہ ابن خلدون کے نظریے کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے: سماجی زندگی کے عمومی قوانین سماجی ارتقا کے قوانین مونیے کے مطابق ابن خلدون کے سماجی فلسفے پر ایک واضح نوعیت کا تشاؤم غالب نظر آتا ہے۔ وہ لکھتا ہے: “ابن خلدون کا سماجی فلسفہ بظاہر شدید تشاؤم سے بھرا ہوا ہے۔ معاشرہ کائناتی عمل میں ایک لمحہ ہے جو پیدا بھی ہوتا ہے اور فنا بھی ہوتا ہے، ہر چیز کی طرح۔ زندگی بہاؤ کی مانند ہے، ہر تبدیلی اپنے مخالف کو جنم دیتی ہے اور ہر عروج کے بعد زوال آتا ہے… لیکن ابن خلدون کا تشاؤم ایک غیر متحرک اور بے عمل تشاؤم ہے؛ وہ فیصلہ نہیں کرتا بلکہ مشاہدہ کرتا ہے اور اسی میں اس کی سائنسی ذہنیت ظاہر ہوتی ہے۔ اسی لیے اسے وضعي سماجی علوم کی تاریخ میں جگہ ملنی چاہیے۔”[210] .[211]

يمين

زیادہ تر ناقدین نے ابن خلدون کے سماجی نظریے میں تشاؤم کو نمایاں کیا ہے۔ مثال کے طور پر الفریڈ فون کریمر نے اسے ابو العلاء المعری کے تشاؤم سے تشبیہ دی اور کہا کہ یہ کیفیت اس دور کے اسلامی معاشرے کے زوال کا نتیجہ تھی جس میں ابن خلدون نے لکھا۔ جبکہ لودویگ گمپلوویچ کے مطابق یہ احساسات ابن خلدون کے ذاتی تجربات اور سیاسی حالات کا نتیجہ تھے، کیونکہ انھیں اپنی زندگی میں بہت سی تلخیاں اور ناکامیاں دیکھنی پڑیں۔ تاہم ان کے مطابق ابن خلدون کی عملی زندگی نسبتاً متوازن اور بعض اوقات خوش مزاج بھی تھی۔

فون فيسندنک اپنی کتاب “ابن خلدون: چودہویں صدی کا عرب مؤرخِ تہذیب” میں ابن خلدون کے نظریات کا تجزیہ کرتے ہیں، خصوصاً ریاستوں کے عروج و زوال کے حوالے سے۔ وہ انھیں اسلامی فکر کا آخری بڑا آزاد مفکر اور نکولو مکیاویلی اور جیامباتیستا ویکو جیسے مفکرین کی روایت کا حقیقی امام قرار دیتے ہیں۔[212] ،[213] وہ ابن خلدون کے نظریات کو جدید یورپی ریاستوں پر بھی منطبق کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ:“جرمن قاری کو یہ خیال ہو سکتا ہے کہ یہ تشاؤم کسی غیر ملکی مفکر کی ایجاد نہیں، کیونکہ جرمن سلطنت بھی مختصر عرصے میں ابھری اور تیزی سے زوال کا شکار ہوئی… ابن خلدون کی نظریاتی وضاحتیں سلطنتوں کے زوال کو سمجھنے کا ایک حقیقی ذریعہ فراہم کرتی ہیں۔” ان کے مطابق ابن خلدون ایک ایسے مفکر ہیں جو مشرق میں تنہا نظر آتے ہیں، جن کے بعد ان کے معیار کا کوئی مستقل سلسلہ قائم نہیں ہوا، لیکن ان کے خیالات یورپ کے انیسویں صدی کے فکری مباحث سے حیرت انگیز طور پر ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں۔[214]

معاشیات

[ترمیم]

ابن خلدون کے معاشی افکار بھی درست اور اہم سمجھے جاتے ہیں، کیونکہ ان کے سماجی نظریات معاشروں کی تاریخ اور ان کے معاشی حالات کے ساتھ گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ استفانو كلوزيو ابن خلدون کو معاشی زاویے سے دیکھتے ہوئے کہتے ہیں: “ابن خلدون اپنی نسل، اپنے ملک اور اپنی تہذیب کے لحاظ سے تاریخ میں ان عظیم شخصیات میں شمار کیا جا سکتا ہے جو بلند ترین مقام رکھتے ہیں۔”[215] وہ مزید کہتے ہیں کہ ابن خلدون تاریخ کے فلسفے کو سب سے پہلے موضوعِ تحقیق بنانے والوں میں شامل تھے اور انھوں نے سماجی جبر (جسے وہ نسلوں کے اختلاف سے جوڑتے ہیں) کو بھی واضح کیا، خاص طور پر بدوی اور شہری زندگی کے فرق کے ذریعے۔ ان کے مطابق:[216][217]

کلوزیو ابن خلدون کو ایک سماجی و معاشی مفکر سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انھوں نے کارل مارکس ، كونسيدران اور باكونين سے بھی پہلے سماجی انصاف اور سیاسی معیشت کے اصولوں کو سمجھ لیا تھا۔ ابن خلدون نے ریاست کے معاشی کردار کا تجزیہ کیا، ملکیت کی اقسام اور حکومتی نظاموں کا مطالعہ کیا اور محنت کو آزاد اور اجرتی اقسام میں تقسیم کیا۔ انھوں نے طلب و رسد کے قوانین کو بھی سمجھا اور اس طرح وہ جدید سیاسی معیشت کے بانیوں میں شمار کیے جا سکتے ہیں۔ کلوزیو کے مطابق: “اگر ابن خلدون کے سماجی نظریات انھیں فلسفۂ تاریخ کے عظیم ترین مفکرین میں شامل کرتے ہیں، تو محنت، ملکیت اور اجرت کے بارے میں ان کی سمجھ انھیں جدید معاشیات کے بانیوں کے صف میں کھڑا کرتی ہے۔”[218]

مؤلفات

[ترمیم]
سیریل نمبر سرورق کی تصویر کتاب کا نام ملاحظات حوالہ
1 لُباب المُحصل فی أصول الدين ابن خلدون کی پہلی کتاب ایک مختصر اور تہذیبی نوعیت کی تصنیف تھی، جسے انھوں نے 752 ہجری میں مکمل کیا۔ یہ کتاب دراصل “محصل أفکار المتقدمین والمتأخرین من العلماء والحکماء والمتکلمین” کا خلاصہ اور تہذیب ہے۔ [219]
2
مركز
شفاء السائل وتہذيب المسائل - [220]
3 تاریخ ابن خلدون یہ ایک ضخیم تصنیف ہے جو سات جلدوں اور ایک آٹھویں جلد (فہارس کے لیے) پر مشتمل ہے، جس کا نام “کتاب العبر، ودیوان المبتدأ والخبر فی ایام العرب والعجم والبربر، ومن عاصرہم من ذوی السلطان الأکبر” ہے۔ اس کی پہلی جلد میں “مقدمہ” شامل ہے، جسے بعد میں ایک مستقل کتاب کی حیثیت بھی دے دی گئی۔ باقی جلدوں میں ابن خلدون کے تاریخی مباحث اور معاشرتی و تہذیبی تجزیات کا بڑا حصہ موجود ہے۔. [221]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. http://apnaorg.com/books/english/ibn-e-khuldun/ibn-e-khuldun.pdf
  2. عنوان : Gemeinsame Normdatei — ربط: https://d-nb.info/gnd/118639773 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 دسمبر 2014 — اجازت نامہ: CC0
  3. عنوان : Library of the World's Best Literature — مکمل کام یہاں دستیاب ہے: https://www.bartleby.com/lit-hub/library
  4. مکمل کام یہاں دستیاب ہے: https://www.bartleby.com/lit-hub/library
  5. کونر آئی ڈی: https://plus-legacy.cobiss.net/cobiss/si/sl/conor/170212451
  6. https://web.archive.org/web/20240204065939/https://books.google.com/books?id=RkokEAAAQBAJ&pg=PA156 — سے آرکائیو اصل فی 4 فروری 2024
  7. عبد الله عبد الرشيد عبد الله عبد الجليل (1420هـ)۔ "ابن خلدون وآراؤه الاعتقادية: عرض ونقد"۔ جامعة أم القرى۔ إشراف: إبراهيم محمد إبراهيم: 433–434
  8. احمد بابا تمبكتی (2000)، نيل الابتهاج بتطريز الديباج (بزبان عربی) (2 ایڈیشن)، طرابلس: Q136815263، ص 250، OCLC:949638086، QID: Q136815231
  9. محمد الحضر حسين 2012، ص. 10
  10. تاريخ ابن خلدون: كتاب العبر وديوان المبتدأ والخبر في أيام العرب والعجم والبربر. (بزبان عربی)۔ 1900۔ OCLC:4770414977۔ 2022-03-05 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
  11. جلال حشيشي۔ "جلال حشيشي: العلوم الإنسانية أم العلوم الخدمية؟"۔ ساسة بوست۔ 9 مايو 2021 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2022-07-15 {{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (معاونت)
  12. ^ ا ب محمد عبد الله عنان 1933، ص. 12
  13. ساطع الحصري 2021، ص. 55
  14. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 13
  15. تاريخ ابن خلدون، ج. 7، ص505-506
  16. محمد عبد الله عنان، ص. 16
  17. تاريخ ابن خلدون، ج. 7، ص. 511-516
  18. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 17
  19. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 18
  20. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 18
  21. "«الموت الأسود» في أوروبا.. كيف انتهى «الطاعون الدبلي»؟"۔ صحيفة الخليج (بزبان عربی)۔ 19 أبريل 2022 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2022-04-19 {{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (معاونت)
  22. "حدث في رمضان.. مولد عبد الرحمن بن خلدون"۔ العين الإخبارية (بزبان عربی)۔ 2017-05-28۔ 20 أبريل 2022 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2022-04-20 {{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (معاونت)
  23. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 20-22
  24. تاريخ ابن خلدون، ج. 6، ص. 530
  25. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 23
  26. ^ ا ب محمد عبد الله عنان 1933، ص. 24
  27. ^ ا ب محمد الخضر الحسين 2012، ص. 12
  28. ^ ا ب محمد عبد الله عنان 1933، ص. 25
  29. ^ ا ب تاريخ ابن خلدون، ج. 7، ص. 539
  30. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 26
  31. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 27
  32. "..ابن خلدون: الاستبداد المكبوت.."۔ الأنباء۔ 2018-03-20 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2022-04-25
  33. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 28
  34. محمد بن تاويت الطنجي، ص. 110
  35. تاريخ ابن خلدون، ج. 7، ص. 404
  36. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 29
  37. ^ ا ب تاريخ ابن خلدون، ج. 7، ص. 541
  38. ^ ا ب محمد عبد الله عنان 1933، ص. 30
  39. تاريخ ابن خلدون، ج. 7، ص. 544
  40. محمّد بن تاويت الطنجي، ص. 120
  41. عزيز جو۔ "مقدمة خلدون ابن الحضرمي خلدون بن محمد بن عبد الرحمن"۔ 30 أبريل 2022 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا {{حوالہ رسالہ}}: الاستشهاد بدورية محكمة يطلب |دورية محكمة= (معاونت) وتحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (معاونت)
  42. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 31
  43. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 32
  44. ^ ا ب محمّد بن تاويت الطنجي، ص. 121
  45. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 33
  46. تاريخ ابن خلدون، ج. 7، ص. 546
  47. ^ ا ب محمد الخضر حسين 2012، ص. 13
  48. محمّد بن تاويت الطنجي، ص. 124
  49. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 35
  50. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 40
  51. تاريخ ابن خلدون، ج. 7، ص. 549
  52. محمّد بن تاويت الطنجي، ص. 126
  53. محمد الخضر حسين 2012، ص. 15
  54. ^ ا ب پ محمّد بن تاويت الطنجي، ص. 128
  55. ^ ا ب محمد عبد الله عنان 1933، ص. 41
  56. تاريخ ابن خلدون، ج. 7، ص. 551
  57. محمّد بن تاويت الطنجي، ص. 127
  58. ^ ا ب محمد عبد الله عنان 1933، ص. 44
  59. محمّد بن تاويت الطنجي، ص. 143
  60. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 45
  61. ^ ا ب محمد عبد الله عنان 1933، ص. 46
  62. محمّد بن تاويت الطنجي، ص. 146
  63. محمّد بن تاويت الطنجي، ص. 147
  64. ^ ا ب محمد عبد الله عنان 1933، ص. 47
  65. تاريخ ابن خلدون، ج. 7، ص. 579
  66. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 48
  67. محمّد بن تاويت الطنجي، ص. 176
  68. محمّد بن تاويت الطنجي، ص. 178
  69. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 49
  70. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 50
  71. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 51
  72. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 52
  73. محمّد بن تاويت الطنجي، ص. 264
  74. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 54
  75. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 55
  76. ^ ا ب محمد عبد الله عنان 1933، ص. 56
  77. محمّد بن تاويت الطنجي، ص. 266
  78. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 57
  79. محمّد بن تاويت الطنجي، ص. 267
  80. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 58
  81. محمّد بن تاويت الطنجي، ص. 269
  82. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 60
  83. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 61
  84. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 64
  85. تاريخ ابن خلدون، ج. 7، ص. 548
  86. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 65
  87. تاريخ ابن خلدون، ج. 7، ص. 649
  88. "مجلة الرسالة/العدد 5/في الأدب العربي - ويكي مصدر"۔ ar.wikisource.org (بزبان عربی)۔ 13 مايو 2022 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2022-05-13 {{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (معاونت)
  89. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 67
  90. محمّد بن تاويت الطنجي، ص. 315
  91. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 68
  92. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 69
  93. تاريخ ابن خلدون، ج. 7، ص. 553
  94. ^ ا ب تاريخ ابن خلدون، ج. 7، ص. 556
  95. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 70
  96. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 71
  97. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 73
  98. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 74
  99. تاريخ ابن خلدون، ج. 7، ص. 557
  100. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 75
  101. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 76
  102. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 77
  103. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 79
  104. تاريخ ابن خلدون، ج. 7، ص. 717-718
  105. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 80
  106. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 81
  107. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 82
  108. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 83
  109. تاريخ ابن خلدون، ج. 7، ص. 730
  110. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 84
  111. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 85
  112. تاريخ ابن خلدون، ج. 7، ص. 739
  113. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 86
  114. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 87
  115. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 88
  116. تاريخ ابن خلدون، ج. 7، ص. 742
  117. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 89
  118. عزوز عبد الناصر، فكرون السعيد (2012)۔ "حقيقة علم العمران البشري عند ابن خلدون" (PDF)۔ مجلة العلوم الاجتماعية والإنسانية۔ الجزائر: جامعة المسيلة: 211–2012۔ 18 سبتمبر 2022 کو اصل (PDF) سے آرکائیو کیا گیا {{حوالہ رسالہ}}: تحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (معاونت)
  119. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 107
  120. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 108
  121. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 109
  122. تاريخ ابن خلدون، ج. 1، ص. 6
  123. طه حسين 1925، ص. 30
  124. طه حسين 1925، ص. 32
  125. طه حسين 1925، ص. 37
  126. طه حسين 1925، ص. 38
  127. تاريخ ابن خلدون، ج. 1، ص. 47
  128. طه حسين 1925، ص. 39
  129. تاريخ ابن خلدون، ج. 1، ص. 228
  130. سعاد قاسم هاشم 1999، ص. 231
  131. تاريخ ابن خلدون، ج. 1، ص. 178
  132. سعاد قاسم هاشم 1999، ص. 232
  133. سعاد قاسم هاشم 1999، ص. 233
  134. سعاد قاسم هاشم 1999، ص. 234
  135. تاريخ ابن خلدون، ج. 1، ص. 154
  136. تاريخ ابن خلدون، ج. 1، ص. 196-197
  137. سعاد قاسم هاشم 1999، ص. 235
  138. سعاد قاسم هاشم 1999، ص. 236
  139. سعاد قاسم هاشم 1999، ص. 237
  140. تاريخ ابن خلدون، ج. 1، ص. 304
  141. سعاد قاسم هاشم 1999، ص. 238
  142. تاريخ ابن خلدون، ج. 1، ص. 302
  143. تاريخ ابن خلدون، ج. 1، ص. 344
  144. سعاد قاسم هاشم 1999، ص. 239
  145. سعاد قاسم هاشم 1999، ص. 240
  146. تاريخ ابن خلدون، ج. 1، ص. 384
  147. سعاد قاسم هاشم 1999، ص. 241
  148. سعاد قاسم هاشم 1999، ص. 242
  149. سعاد قاسم هاشم 1999، ص. 244
  150. طه حسين 1925، ص. 76
  151. ابن رشد۔ محمد عمارة (مدیر)۔ فصل المقال فيما بين الحكمة والشريعة من الاتصال (الثالثة ایڈیشن)۔ مصر: دار المعارف
  152. طه حسين 1925، ص. 77
  153. طه حسين 1925، ص. 78
  154. طه حسين 1925، ص. 79
  155. طه حسين 1925، ص. 80
  156. خالص الأشعب 1979، ص. 324
  157. تاريخ ابن خلدون، ج. 1، ص. 433
  158. تاريخ ابن خلدون، ج. 1، ص. 435
  159. تاريخ ابن خلدون، ج. 1، ص. 434
  160. خالص الأشعب 1979، ص. 325
  161. خالص الأشعب 1979، ص. 327
  162. خالص الأشعب 1979، ص. 228
  163. تاريخ ابن خلدون، ج. 1، ص. 469
  164. خالص الأشعب 1979، ص. 329
  165. خالص الأشعب 1979، ص. 330
  166. خالص الأشعب 1979، ص. 333
  167. تاريخ ابن خلدون، ج. 1، ص. 462
  168. خالص الأشعب 1979، ص. 336
  169. تاريخ ابن خلدون، ج. 1، ص. 511
  170. خالص الأشعب 1979، ص. 337
  171. خالص الأشعب 1979، ص. 338
  172. خالص الأشعب 1979، ص. 340
  173. خالص الأشعب 1979، ص. 341
  174. خالص الأشعب 1979، ص. 433
  175. خالص الأشعب 1979، ص. 342
  176. تاريخ ابن خلدون، ج. 1، ص. 427
  177. خالص الأشعب 1979، ص. 344
  178. خالص الأشعب 1979، ص. 345
  179. تاريخ ابن خلدون، ج. 1، ص. 431
  180. خالص الأشعب 1979، ص. 346
  181. خالص الأشعب 1979، ص. 349
  182. خالص الأشعب 1979، ص. 350
  183. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 90
  184. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 91
  185. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 92
  186. تاريخ ابن خلدون، ج. 1، ص. 109
  187. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 93
  188. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 94
  189. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 98
  190. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 96
  191. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 97
  192. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 99
  193. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 100
  194. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 102
  195. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 103
  196. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 145
  197. Barthélemy d' Herbelot de (1776). Bibliotheque Orientale, Ou Dictionnaire Universel: Contenant Généralement Tout ce qui regarde la connoissance des Peuples de l'Orient. Leurs Histoires Et Traditions Veritables Ou Fabuleuses: Leurs Religions, Sectes Et Politique ... (بزبان فرانسیسی). Dufour & Roux. Archived from the original on 3 يونيو 2022. {{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (help)
  198. Antoine-Isaac (1758-1838) Auteur du texte (1806). Chrestomathie arabe, ou Extraits de divers écrivains arabes tant en prose qu'en vers à l'usage des élèves de l'École spéciale des langues orientales vivantes.... Tome 1 / par A.-I. Silvestre de Sacy... (بزبان فرانسیسی). Archived from the original on 3 يونيو 2022. {{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (help)اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: عددی نام: مصنفین کی فہرست (link)
  199. "عماد الدين الجبوري | ابن خلدون ونظرية المستقبل"۔ اندبندنت عربية (بزبان عربی)۔ 2020-06-11۔ 10 مايو 2022 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2022-06-03 {{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (معاونت)
  200. "ايتين مارك كاترمير .. رجل التنوير"۔ www.albayan.ae (بزبان عربی)۔ 18 سبتمبر 2022 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2022-06-03 {{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (معاونت)
  201. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 146
  202. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 147
  203. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 148
  204. Nathaniel (1978). Ibn Khaldun, Historian, Sociologist, and Philosopher (بزبان انگریزی). Universal Books. Archived from the original on 4 يونيو 2022. {{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (help)
  205. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 148-149
  206. T. J. De (1901). Geschichte der Philosophie im Islam (بزبان جرمن). Stuttgart. OCLC:466077305. Archived from the original on 4 يونيو 2022. {{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (help)اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: مقام بدون ناشر (link)
  207. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 149-150
  208. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 151
  209. مجلة الفيصل: العدد 29 (بزبان عربی)۔ مركز الملك فيصل للبحوث والدراسات الإسلامية۔ 1979-10-01۔ 5 يونيو 2022 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا {{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (معاونت)
  210. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 152
  211. Николай Александрович Головин (2019-03-28). "Историко-социологические заметки к публикации «Предисловия» П.А. Сорокина к сочинению Ф. Тённиса «Общность и общество»". Социологический журнал (بزبان روسی). 25 (1): 137–149. DOI:10.19181/socjour.2018.25.1.6283. ISSN:1684-1581. Archived from the original on 5 يونيو 2022. {{حوالہ رسالہ}}: تحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (help)
  212. René Maunier (1913)۔ "LES IDÉES ÉCONOMIQUES D'UN PHILOSOPHE ARABE AU XIV e SIÈCLE IBN KHALDOUN"۔ Revue d'histoire économique et sociale۔ ج 6 شمارہ 4: 409–419۔ ISSN:0035-239X۔ 17 يوليو 2022 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا {{حوالہ رسالہ}}: تحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (معاونت)
  213. René Maunier (190)۔ Les idées sociologiques d'un philosophe arabe۔ باريس: Librairie Félix Alcan۔ ص 31-43۔ 17 يوليو 2022 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا {{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (معاونت)
  214. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 154-155
  215. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 155
  216. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 156
  217. تاريخ ابن خلدون، ج. 1، ص. 149
  218. محمد عبد الله عنان 1933، ص. 157
  219. "كتاب لباب المحصل في أصول الدين - ابن خلدون" (بزبان عربی)۔ 2020-02-19۔ 16 يناير 2021 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2022-06-09 {{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (معاونت)
  220. ابن (1959)۔ شفاء السائل لتهذيب المسائل (بزبان عربی)۔ المطبعة الكاثوليكية،۔ 9 يونيو 2022 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا {{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (معاونت)
  221. "تاريخ ابن خلدون - المكتبة الوقفية للكتب المصورة PDF"۔ waqfeya.net۔ 2022-03-16 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2022-06-09

بیرونی روابط

[ترمیم]