سید محمد علوی مالکی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
سید محمد علوی مالکی
(عربی میں: محمد علوي المالكي ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1948ء  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مکہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 28 اکتوبر 2004ء (55–56 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مکہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت سعودی عرب  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ الازہر  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ فقیہ،  عالم مذہب  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت جامعہ ام القری  ویکی ڈیٹا پر (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سید محمد علوی مالکی یا محمد بن علوی بن عباس الادریسی الحسنی الہاشمی (پیدائش: 1944ء— وفات: 28 اکتوبر 2004ء) مالکی فقہ کے سرکردہ مذہبی مسلمان علماء  میں سے ایک ہیں۔ ان کا لقب "محدث الحرمین" ہے۔آپ نے علم حدیث، فقہ مالکی اور اسلامی دنیا کے واقعات پر بہت سی کتابیں تالیف کیں۔ اسلامی دنیا میں آپ کے تلامذہ میں اہم نام علی الجفری اور عبد اللہ فدعق کے ہیں۔ آپ مفتی اعظم ہند علامہ مصطفیٰ رضا خاں بریلوی اور شیخ العرب والعجم مولانا ضیاء الدین مہاجر مدنی کے خلیفہ تھے۔ جامعہ مرکز الثقافہ السنیہ کیرالا کی سنگ بنیاد آپ ہی نے رکھی تھی۔

ولادت[ترمیم]

آپ  مکہ مکرمہ میں سال 1367 ھ (1945) میں پیدا ہوئے، ان کے والد علوی بن عباس مالکی، مسجدالحرام میں استاد تھے ۔

نسب[ترمیم]

محمد حسن بن علوی بن عباس بن عبد العزیز بن عباس الادریسی الحسنی مراکش کے ادریسی رئیسوں کے خاندان سے تھے۔ ان کے آبا و اجداد نے فاس سے مکہ کی طرف ہجرت کی اور وہیں رہائش اختیار کی۔ [1]

تعلیمی زندگی[ترمیم]

  • آپ نے رسمی تعلیم جامعہ الازہر قاہرہ مصر میں حاصل کی اور کلیہ اصول الدین ایم اے اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ، پھر مراکش کا سفر کیا اور وہاں کے بڑے علما سے اکتساب فیض کیا ۔

[2]

  • آپ 1390 ہجری بمطابق 1970 ء میں مکہ المکرمہ کے شریعہ کالج میں استاد مقرر ہوئے، پھر اپنے والد کی وفات کے بعد 1391 ہجری میں مسجد الحرام میں بطور استاد مقرر ہوئے، اس کے ساتھ ساتھ شاہ عبد العزیز یونیورسٹی میں تدریسی عملے کا رکن بھی تھے۔
  • مسجد الحرام ، باب السلام وغیرہ کے تدریسی شعبے میں آپ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
  • مسلم ورلڈ لیگ کے رکن مقرر ہوئے ۔ [3]
  • ان کے دینی پروگراموں اور ہفتہ وار لیکچرز کو الاذاعۃ السعودیۃ اور نداء الاسلام چینلوں پر نشر کیا گیا، اس کے علاوہ آپ نے اقرأ چینل اور دیگر خلیجی چینلوں کے کئی پروگرامز میں شرکت کی ، آپ کا آخری پروگرام "مفاہیم یجب ان تصحیح" مصری چینل المحور میں نشر ہوا جو بعد میں کتابی شکل میں بھی شائع ہوا ۔"
  • 1391ھ اور 1403ھ کے مابین رابطہ عالم اسلامی کی ثقافتی موسموں کے افتتاح کی ذمہ داری انھیں کے سپرد ہوئی ۔
  • 1392ھ میں الجزائر میں منعقد فکر اسلامی کانفرنس میں شرکت کی ۔
  • 1392ھ میں وزارت اوقاف مصر کی دعوت پر الاجتماع المصری السعودی کے اجتماعات میں شریک ہوئے ۔
  • 1393ھ میں نائجر میں مرکز اسلامی کے افتتاح کے موقع پر سعودی عرب کی رابطہ عالم اسلامی کی نمائندگی کی ۔
  • امام مالک کانفرنس کے بہت سے اجلاسوں کی صدارت کی، جو مراکش میں ہر سال منعقد ہوتی ہے۔
  • 1399 ہجری، 1400 ہجری اور 1401 ہجری میں مکہ المکرمہ میں بین الاقوامی مسابقہ قرآن کے جج منتخب ہوئے اور وہ اس کے پہلے صدر ہیں۔ [4]
  • انھوں نے مملکت سعودی عرب سے باہر مصر ، مراکش، الجزائر ، تونس، انڈونیشیا ، ملائیشیا ، سنگاپور ، پاکستان، نائجر ، کینیڈا اور برطانیہ میں بین الاقوامی سیمینارز اور اسلامی کانفرنسوں میں شرکت کی۔
  • آپ نے انڈونیشیا میں بہت سے اسلامی اسکولوں، اداروں اور یونیورسٹیوں کے قیام میں اپنا حصہ ڈالا اور ان اداروں اور اسکولوں کی تعداد سو سے زائد اسکولوں تک پہنچ گئی ، جیسا کہ آپ نے ملائیشیا میں اسلامی یونیورسٹی کی بنیاد رکھنے میں مدد کی اور یونیورسٹی کی لائبریری میں تفسیر ، فقہ اور حدیث کی ضخیم کتب کے ساتھ ساتھ اپنی تصانیف بھی تحفے میں پیش کی ۔

وفات[ترمیم]

آپ نے  مکہ مکرمہ میں  جمعہ 15 رمضان سنہ 1425ھ  کو فجر کے وقت وفات پائی۔ آپ کی نماز جنازہ مسجد حرام میں ادا کی گئی۔ اور مقبرۃ المعلاۃ میں دفن ہوئے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. العقود اللؤلؤية في بعض أنساب الأسر الحسنية الهاشمية بالمملكة العربية السعودية۔ القاهرة، مصر: مطابع سجل العرب۔ 1994۔ صفحہ: 333 
  2. "الشيخ محمد علوي المالكي - ترجمة"۔ 2016 
  3. الأسر القرشية أعيان مكة المحمية۔ جدة، السعودية: تهامة۔ 1983۔ صفحہ: 129 
  4. أهل الحجاز بعبقهم التاريخي۔ جدة، السعودية: مؤسسة المدينة للصحافة۔ 1415 هـ۔ صفحہ: 289 

مزید دیکھیے[ترمیم]