ابو طالب مکی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابو طالب مکی
(عربی میں: أبو طالب المكي ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
مقام پیدائش ایران  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 998  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بغداد  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg دولت عباسیہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ متصوف،  محدث،  فقیہ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل تصوف،  علم حدیث،  فقہ  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں قوت القلوب  ویکی ڈیٹا پر (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

ان کا نام محمد بن علی بن عطیہ ابو طالب مکی ہے جو تصوف کی پہلی کتاب قوت القلوب کے مصنف ہیں۔ مشائخ طریقت فرماتے ہیں کہ دنیائے اسلام میں رموز طریقت پر اس پائے کی کوئی کتاب نہیں ہے جو اسرار الٰہی کو بیان کرتی ہو۔ شیخ عارف ابوالحسین محمد بن ابی عبد اللہ احمد بن سالم البصری رحمۃ اللہ علیہ کے مرید ہوئے، شیخ ابوالحسین اپنے والد ابوعبداللہ بن احمد بن سالم کے مرید تھے اور وہ اپنے والد عبد اللہ تستری رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے یہ مکہ کے رہنے والے نہ تھے بلکہ اہل جبل سے تھے پھر مکہ میں مستقل رہائش رکھی اور اسی سے مکی منسوب ہیں۔ یہ اپنے دور میں زہد تقوی میں بلند مقام پر فائز تھے،ہمہ وقت عبادت و ریاضت میں مشغول رہتے۔ بغداد کی جامع مسجد میں وعظ و نصیحت کی مجلس منعقد کرتے۔ ابو الحسن بن سالم بصری شیخ سالمیہ کے طریقے پر تھے۔ ان کی وفات 386ھ میں بغداد میں ہوئی اور مقبرہ مالکیہ مین مدفون ہوئے۔[1] مگر مخزن الاسرار میں سالِ وفات 387ھ لکھاہے۔

شیخ ابوطالب شہ مطلوب حق مرد طالب اہل دین شد وصل او 387ھ

پیر مکی مقتدا او متقی ہم عیاں شد مہربان طالب ولی 387ھ [2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. قوت القلوب،شیخ ابو طالب مکی،تعارف مصنف، شیخ غلام علی اینڈ سنز لاہور
  2. خزینۃ الاصفیاء،جلد 4 صفحہ 145 مکتبہ نبویہ لاہور