مندرجات کا رخ کریں

سعد الدین تفتازانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
سعد الدین تفتازانی
(عربی میں: مسعود بن عمر بن عبد الله التفتازاني)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
پیدائش 1322ء / 722ھ
تفتازان   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 1390ء / 792ھ
سمرقند [2]  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن سمرقند   ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش سرخس   ویکی ڈیٹا پر (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت تیموری سلطنت [2]  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لقب العلامۃ الثانی
مذہب اسلام
فقہی مسلک شافعی
مکتب فکر اہل سنت
عملی زندگی
استاذ عضد الدین ایجی [2]،  قطب الدین رازی [2]  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ادیب ،  فلسفی ،  متکلم ،  فقیہ ،  ریاضی دان   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی [3]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل علم کلام [2]،  شاعری ،  قواعدِ زبان ،  ہندسہ ،  منطق   ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں شرح عقائد نسفیہ(کتاب)   ویکی ڈیٹا پر (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سعد الدین مسعود بن عمر بن عبد اللہ التفتازانی (فارسی: سعدالدین مسعود بن عمر بن عبد اللہ هروی خراسانی تفتازانی) چودھویں صدی کے ایک معروف مسلم عالم، متکلم، فقیہ، منطقی اور ادیب تھے۔ ان کا تعلق فارسی علمی روایت سے تھا اور وہ نحو، بلاغت، منطق، اصولِ فقہ اور علمِ کلام کے نمایاں مصنفین میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی تصانیف کئی صدیوں تک مدارسِ اسلامیہ میں نصابی حیثیت رکھتی رہیں۔

ابتدائی زندگی اور تعلیم

[ترمیم]

سعد الدین تفتازانی کی پیدائش 1322ء مطابق صدر 722ھ میں تفتازان، خراسانِ کبریٰ (موجودہ ایران) میں ہوئی، جو اس وقت ریاستِ سربداران کا حصہ تھا۔ [4] [5] [6] انھوں نے ہرات، غجدوان، فریومد، گلستان، خوارزم، سمرقند اور سرخس کے علمی مراکز میں تعلیم حاصل کی۔ ان کے سب سے نمایاں استاد عضد الدین ایجی اور قطب الدین رازی تھے، جن سے انھوں نے علمِ کلام، منطق، اصولِ فقہ اور بلاغت میں استفادہ کیا۔ [7] [8]

ان کی زیادہ تر زندگی سرخس میں گذری۔ وہ امیر تیمور کے عہد میں علمی سرگرمیوں میں مصروف رہے اور تیموری دربار سے بھی وابستہ رہے۔ ان کا انتقال 1390ء میں سمرقند میں ہوا اور تدفین سرخس میں عمل میں آئی۔[9] [10] [11]

علمی مقام

[ترمیم]

سعد الدین تفتازانی چودھویں صدی کے اُن علما میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے مشرقِ اسلامی میں علمِ کلام، منطق، بلاغت اور اصولِ فقہ کو منہج اور ترتیب فراہم کی۔ ان کی تصانیف صدیوں تک عثمانی مدارس میں نصاب کا حصہ رہیں اور بعد کے علما نے ان پر متعدد شروح اور حواشی تحریر کیے۔[12] [10] مورخ ابن خلدون نے ان کی تحریروں کو علمِ کلام، اصولِ فقہ اور بلاغت میں گہری بصیرت کا مظہر قرار دیا ہے۔[13]

فقہی و فکری رجحان

[ترمیم]

فقہی اعتبار سے سعد الدین تفتازانی کو زیادہ تر شافعی فقیہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے اور ان کی تصنیف مفتاح الفقہ کو فقہِ شافعی سے متعلق قرار دیا جاتا ہے۔[14] اس کے ساتھ ساتھ وہ فقہِ حنفی میں بھی مہارت رکھتے تھے اور بعض مصادر میں ان کی نسبت فقہِ حنفی کی طرف بھی کی گئی ہے۔ [15] اعتقادی طور پر وہ اشعری مکتبِ فکر سے وابستہ تھے اور اشعری علمِ کلام کے آخری بڑے نمائندہ علما میں شمار ہوتے ہیں۔ بعض محققین کے مطابق انھوں نے اشعری اور ماتریدی کلامی روایت کے درمیان فکری تطبیق پیدا کی۔[16]

تصانیف

[ترمیم]

سعد الدین تفتازانی نے مختلف اسلامی علوم میں کثیر تعداد میں کتب اور رسائل تصنیف کیے، جن میں نحو، بلاغت، منطق، فقہ، اصولِ فقہ اور علمِ کلام شامل ہیں۔[17] [18] [16] [19]

نحو

[ترمیم]
  • شرح تصریف العزی (738ھ)
  • ارشاد الہادی
  • النعم السوابق فی شرح الکلم النوابغ

بلاغت

[ترمیم]
  • المطول شرح تلخیص المفتاح
  • المختصر (مختصر المعانی)
  • شرح مفتاح العلوم

منطق

[ترمیم]
  • شرح الرسالۃ الشمسیہ
  • تہذیب المنطق و الکلام

فقہ

[ترمیم]
  • التلویح الی کشف حقائق التنقیح
  • حاشیہ علی مختصر المنتہی
  • مفتاح الفقہ
  • اختصار شرح تلخیص الجامع الکبیر
  • الفتاوی الحنفیہ
  • شرح الفرائض السراجیہ

علمِ کلام

[ترمیم]
  • شرح العقائد النسفیہ
  • المقاصد
  • شرح المقاصد
  • حاشیہ علی الکشاف (نامکمل)
  • الاربعین
  • شرح اربعین نوویہ

وفات

[ترمیم]

سعد الدین تفتازانی کا انتقال 22 محرم 792ھ (مطابق 17 جنوری 1390ء) کو سمرقند میں ہوا۔ بعد ازاں انھیں سرخس میں دفن کیا گیا۔ [20] [21]

مراجع

[ترمیم]
  1. مصنف: خیر الدین زرکلی — عنوان : الأعلام — ناشر: دار العلم للملایین —  : اشاعت 15 — جلد: 7 — صفحہ: 219 — مکمل کام یہاں دستیاب ہے: https://archive.org/details/ZIR2002ARAR
  2. ^ ا ب پ ت عنوان : Новая философская энциклопедия
  3. مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — عنوان : اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم — بی این ایف - آئی ڈی: https://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb15822662b — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  4. محمد عثمان معروفی (مئی 1986)۔ حالات المصنفین و تذکرۃ الفنون (پہلا ایڈیشن)۔ محمد عثمان معروفی
  5. محمد حنیف گنگوہی (1969)۔ ظفر المحصلین باحوال المصنفین مع اضافاتِ جدیدہ۔ دیوبند: حنیف بک ڈپو۔ ص 339
  6. معروفی 2003, p. 86
  7. اختر راہی (1978)۔ تذکرۂ مصنفینِ درسِ نظامی (دوسرا ایڈیشن)۔ اردو بازار، لاہور: مکتبہ رحمانیہ
  8. راہی 1978, p. 102
  9. "Teftâzânî"
  10. ^ ا ب گنگوہی 1969, p. 342
  11. راہی 1978, p. 103
  12. Halil Inalcik, The Ottoman Empire, 2000
  13. Ibn Khaldun, Muqaddimah, Princeton University Press
  14. Encyclopaedia of Islam, Brill
  15. گنگوہی 1969, p. 344
  16. ^ ا ب معروفی 2003, p. 88
  17. گنگوہی 1969, p. 340
  18. گنگوہی 1969, p. 345
  19. راہی 1978, p. 103-107
  20. گنگوہی 1969, p. 343
  21. معروفی 2003, p. 89