شاہ احمد نورانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
امام
شاہ احمد نورانی
Ahmad Noorani Siddiqi (1985).jpg
1985ء میں شاہ احمد نورانی
صدر متحدہ مجلس عمل
عہدہ سنبھالا
09 اکتوبر 2002ء – 11 دسمبر 2003ء
پیشرو تخلیق قدفتر'
جانشین حسین احمد
ذاتی تفصیلات
پیدائش Ahmad Noorani Siddiqi
اردو: احمد نورانی صدیقی

1 اکتوبر 1926 (1926-10-01)
میرٹھ، برطانوی ہند کے صوبے اور علاقے
Present-day بدارت
وفات 11 دسمبر 2003 (عمر 77 سال)
اسلام آباد، پاکستان
مقام تدفین عبداللہ شاہ غازی
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
قومیت پاکستان
سیاسی جماعت جمیعت علمائے پاکستان
1970ء – 2002ء
رہائش اسلام آباد، پاکستان
مادر علمی Allahabad University
Darul-Uloom Arabia, Meerut
مذہب اسلام
Era 20ویں صدی
Region عالم اسلام
School of Tradition سنیت
Islamic philosophy
Modern philosophy
Main interests Islamic philosophy
جدیدیت
ویب سائٹ www.imamnoorani.net
Basmala.svg
مضامین بسلسلہ
بریلوی تحریک
DargahAlahazrat.jpg
مزار احمد رضا خان
کلیدی شخصیات

رضا علی خان
فضل حق خیر آبادی
نقی علی خان
سید کفایت علی کافی
احمد رضا خان
پير مہر علی شاہ
جماعت علی شاہ

کلیدی شخصیات (دود جدید)

مولانا عبدالحامد قادری بدایونی
پیر محمد کرم شاہ الازہری
محمد مصلح الدین صدیقی
قمر الزمان اعظمى
امین میاں قادری
سید شجاعت علی قادری
شاہ احمد نورانی
کوکب نورانی اوکاڑوی
محمد الیاس قادری
محمد اختر رضا خان قادری

تعلیمی ادارے

جامعہ نعیمیہ لاہور
جامعہ الکرم، جامعہ امجدیہ رضویہ
مانچسٹر سنٹرل مسجد
جامعۃ الرضا، جامعہ رضویہ منظر اسلام
الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور، بھارت، الجامعۃ الاسلامیہ

کتابیں

کنزالایمان، فتاوی رضویہ
بہار شریعت، حسام الحرمین

تنظیمیں و تحریکیں

دعوت اسلامی، ورلڈ اسلامک مشن
آل انڈیا سنی کانفرنس، تحریک ختم نبوت
سنی تحریک، تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان
سنی اتحاد کونسل
انجمن طلباء اسلام
جمیعت علمائے پاکستان

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی پاکستان کے اسلامی دینی اور سیاسی میدان میں ایک قد آور شخصیت تھے۔

پیدائش

وہ 1926ء کو میرٹھ میں مولانا عبدالعلیم صدیقی کے گھر پیدا ہوئے۔ جن کا شجرہ نسب حضرت ابوبکر صدیق سے اور شجرہ طریقت امام احمد رضا خان قادری سے جا ملتا ہے۔

تعلیم

انہوں نے آٹھ سال کی عمر میں مکمل قرآن مجید حفظ کر لیا تھا۔ نيشنل عربک کالج سے گريجويشن کرنے کے بعد الہ آباد يونيورسٹي سے فاضل عربی اور دارالعلوم عربيہ سے درس نظامی کی سند حاصل کی۔

پاکستان آمد

قیام پاکستان کے وقت آپ متحدہ برطانوی ہند میں ایک طالب علم اور تحریک پاکستان کے ایک سرگرم کارکن تھے۔ قیام پاکستان کے کچھ عرصہ بعد پاکستان چلے آئے۔

جمعیت علماء پاکستان

متحدہ مجلس عمل کے مرحوم سربراہ۔
1948ء میں علامہ احمد سعید کاظمی نے جمیعت علمائے پاکستان کے نام سے جماعت بنائی اور 1970ء میں مولانا نورانی نے جب پہلی بار الیکشن میں حصہ لیا تو جمیعت میں شامل ہوئے اس وقت جمیعت کے سربراہ خواجہ قمرالدین سیالوی تھےـ 1970ء میں جمعیت علمائے پاکستان کے ٹکٹ پر کراچی سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔
ذوالفقار علی بھٹو کے مد مقابل انہوں نے وزیر اعظم کے عہدے کے انتخاب میں حصہ لیا۔ 1972ء میں مولانا نورانی جمیعت علماء پاکستان کے سربراہ بنے اور تا دم مرگ وہ سربراہ رہےـ آپ دو مرتبہ رکن اسمبلی اور دو مرتبہ سینٹر منتخب ہوئے۔

قیادت

1972ء میں جمعیت علمائے پاکستان کی قیادت سنبھالی اور آخری دم تک اس کے سربراہ رہے۔

تحریک نظام مصطفیٰ

1977ء میں تحریک نظام مصطفیٰ کے پلیٹ فارم پر فعال ہونے کی وجہ سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔

ورلڈ اسلامک مشن

مولانا نے دنیا بھر میں اسلام کا آفاقی پیغام عام کرنے کے لئے 1972ء میں ورلڈ اسلامک مشن کی بنیاد رکھی۔ اور مختلف ممالک میں اس کے دفاتر بنا کر اسے فعال کیا۔ نرم مزاجی اور حلم کی وجہ سے وہ دوستوں اور دشمنوں میں یکساں مقبول تھے۔

تحریک ختم نبوت1974

صفحہ تحریک ختم نبوت1974
مولانا شاہ احمد نورانی نے 30 جون 1974ء میں قومی اسمبلی میں بل پیش کیا اور 7 ستمبر 1974ء سے قادیانیوں کے خلاف آئین میں ہونے والی (2) دوسری ترمیم کے اصل محرک تھے جس کو اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ قرارداد کے تحت قادیانیوں کو آئین پاکستان میں غیر مسلم قرارد دیا گیا۔ مولانا نے اس موقع پر قادیانیوں کے سربراہ ناصر مرزا کو مناظرے میں شکست فاش بھی دی تھی۔
عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے سلسلہ میں حضرت نورانی میاں کی خدمات آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ انہوں نے بے شمار قادیانی مبلغین سے مناظرے کئے اور انہیں ہمیشہ شکست فاش دی۔ آپ نے بیرون ممالک میں قادیانیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں کا مسلسل تعاقب کیا۔ انہوں نے آئین پاکستان میں مسلمان کی تعریف شامل کروائی۔ 30 جون 1974ء کو آپ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لئے قومی اسمبلی میں تاریخی قرارداد پیش کی۔ قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر کو اپنی جماعت کے عقائد کے بارے میں صفائی اور موقف پیش کرنے کا مکمل اور آزادانہ موقع دیا گیا۔ 13 دن تک اس پر جرح ہوئی۔ بعد ازاں ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو ان کے کفریہ عقائد کی بناء پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ مولانا نورانی اکثر فرمایا کرتے تھے کہ ’’قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد کی سعادت اللہ تعالیٰ نے مجھے بخشی اور مجھے یقین کامل ہے کہ بارگاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں میرا یہ عمل سب سے بڑا وسیلہ شفاعت و نجات ہوگا۔‘[1]

دعوت اسلامی

دعوت اسلامی تحریک کو قائم کرنے کا سہرا مولانا شاہ احمد نورانی، علامہ سید احمد سعید کاظمی اور دیگر بزرگوں کے سر ہے۔ انہوں نے 1981ء میں کراچی میں مولانا شاہ احمد نورانی کی رہائش گاہ پر ایک اجلاس میں اس کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ وہاں مفتی وقارالدین بھی موجود تھے جن کے ذمے یہ کام لگایا گیا۔ انہوں نے اپنے شاگرد مولانا محمد الیاس قادری کی قیادت میں دعوت اسلامی تشکیل دی۔

ملی یکجہتی کونسل

اتحاد بین المسلمین کے لیے انہوں نے 1995ء میں ملی یکجہتی کونسل بنائی۔ جس میں تمام مسالک کے علماء کو ایک پلیٹ فارم پر مجتمع کر کے کشیدگی کم کرنے میں معاون ثابت ہوئے۔

متحدہ مجلس عمل

مشرف کے دور حکومت میں 2002ء دینی جماعتوں کو متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم پر جمع کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ مذہبی جماعتوں کا اتحاد عمل میں آیا تو انھیں متفقہ طور پر سربراہ مقرر کیا گیا۔ جمہوریت کے لیے ان کی کوششوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ اپنی موت تک وہ ایم ایم اے(متحدہ مجلس عمل) کے سربراہ رہے۔

وفات

دل کا دورہ پڑنے سے اسلام آباد میں 16 شوال 1424ھ 11 دسمبر 2003ء کو ان کا انتقال ہوا۔

جنازہ

ان کی نماز جنازہ ان کے بیٹے انس نورانی نے پڑھائی۔

مزار

انہیں کراچی میں حضرت عبداللہ شاہ غازی کے مزار (کلفٹن) کے احاطے میں سپرد خاک کیا گیا۔

بیرونی روابط

حوالہ جات

سانچہ:اسلامی اوکیہ جوت