شاہ احمد نورانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
شاہ احمد نورانی
Ahmad Noorani Siddiqi (1985).jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1926  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
میرٹھ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 2003 (76–77 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
اسلام آباد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
جماعت جمیعت علمائے اسلام  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ الٰہ آباد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم در (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ فلسفی،سیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی پاکستان کے اسلامی دینی اور سیاسی میدان میں ایک قد آور شخصیت تھے۔

پیدائش

وہ 1926ء کو میرٹھ میں مولانا عبدالعلیم صدیقی کے گھر پیدا ہوئے۔ جن کا شجرہ نسب حضرت ابوبکر صدیق سے اور شجرہ طریقت امام احمد رضا خان قادری سے جا ملتا ہے۔

تعلیم

انہوں نے آٹھ سال کی عمر میں مکمل قرآن مجید حفظ کر لیا تھا۔ نيشنل عربک کالج سے گريجويشن کرنے کے بعد الہ آباد يونيورسٹي سے فاضل عربی اور دارالعلوم عربيہ سے درس نظامی کی سند حاصل کی۔

پاکستان آمد

قیام پاکستان کے وقت آپ متحدہ برطانوی ہند میں ایک طالب علم اور تحریک پاکستان کے ایک سرگرم کارکن تھے۔ قیام پاکستان کے کچھ عرصہ بعد پاکستان چلے آئے۔

جمعیت علماء پاکستان

متحدہ مجلس عمل کے مرحوم سربراہ۔
1948ء میں علامہ احمد سعید کاظمی نے جمیعت علمائے پاکستان کے نام سے جماعت بنائی اور 1970ء میں مولانا نورانی نے جب پہلی بار الیکشن میں حصہ لیا تو جمیعت میں شامل ہوئے اس وقت جمیعت کے سربراہ خواجہ قمرالدین سیالوی تھےـ 1970ء میں جمعیت علمائے پاکستان کے ٹکٹ پر کراچی سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔
ذوالفقار علی بھٹو کے مد مقابل انہوں نے وزیر اعظم کے عہدے کے انتخاب میں حصہ لیا۔ 1972ء میں مولانا نورانی جمیعت علماء پاکستان کے سربراہ بنے اور تا دم مرگ وہ سربراہ رہےـ آپ دو مرتبہ رکن اسمبلی اور دو مرتبہ سینٹر منتخب ہوئے۔

قیادت

1972ء میں جمعیت علمائے پاکستان کی قیادت سنبھالی اور آخری دم تک اس کے سربراہ رہے۔

تحریک نظام مصطفیٰ

1977ء میں تحریک نظام مصطفیٰ کے پلیٹ فارم پر فعال ہونے کی وجہ سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔

ورلڈ اسلامک مشن

مولانا نے دنیا بھر میں اسلام کا آفاقی پیغام عام کرنے کے لیے 1972ء میں ورلڈ اسلامک مشن کی بنیاد رکھی۔ اور مختلف ممالک میں اس کے دفاتر بنا کر اسے فعال کیا۔ نرم مزاجی اور حلم کی وجہ سے وہ دوستوں اور دشمنوں میں یکساں مقبول تھے۔

تحریک ختم نبوت1974

صفحہ تحریک ختم نبوت1974
مولانا شاہ احمد نورانی نے 30 جون 1974ء میں قومی اسمبلی میں بل پیش کیا اور 7 ستمبر 1974ء سے قادیانیوں کے خلاف آئین میں ہونے والی (2) دوسری ترمیم کے اصل محرک تھے جس کو اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ قرارداد کے تحت قادیانیوں کو آئین پاکستان میں غیر مسلم قرارد دیا گیا۔ مولانا نے اس موقع پر قادیانیوں کے سربراہ ناصر مرزا کو مناظرے میں شکست فاش بھی دی تھی۔
عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے سلسلہ میں حضرت نورانی میاں کی خدمات آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ انہوں نے بے شمار قادیانی مبلغین سے مناظرے کئے اور انہیں ہمیشہ شکست فاش دی۔ آپ نے بیرون ممالک میں قادیانیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں کا مسلسل تعاقب کیا۔ انہوں نے آئین پاکستان میں مسلمان کی تعریف شامل کروائی۔ 30 جون 1974ء کو آپ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لیے قومی اسمبلی میں تاریخی قرارداد پیش کی۔ قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر کو اپنی جماعت کے عقائد کے بارے میں صفائی اور موقف پیش کرنے کا مکمل اور آزادانہ موقع دیا گیا۔ 13 دن تک اس پر جرح ہوئی۔ بعد ازاں ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو ان کے کفریہ عقائد کی بناء پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ مولانا نورانی اکثر فرمایا کرتے تھے کہ ’’قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد کی سعادت اللہ تعالیٰ نے مجھے بخشی اور مجھے یقین کامل ہے کہ بارگاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں میرا یہ عمل سب سے بڑا وسیلہ شفاعت و نجات ہوگا۔‘[1]

ملی یکجہتی کونسل

اتحاد بین المسلمین کے لیے انہوں نے 1995ء میں ملی یکجہتی کونسل بنائی۔ جس میں تمام مسالک کے علماء کو ایک پلیٹ فارم پر مجتمع کر کے کشیدگی کم کرنے میں معاون ثابت ہوئے۔

متحدہ مجلس عمل

مشرف کے دور حکومت میں 2002ء دینی جماعتوں کو متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم پر جمع کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ مذہبی جماعتوں کا اتحاد عمل میں آیا تو انھیں متفقہ طور پر سربراہ مقرر کیا گیا۔ جمہوریت کے لیے ان کی کوششوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ اپنی موت تک وہ ایم ایم اے(متحدہ مجلس عمل) کے سربراہ رہے۔

وفات

دل کا دورہ پڑنے سے اسلام آباد میں 16 شوال 1424ھ 11 دسمبر 2003ء کو ان کا انتقال ہوا۔

جنازہ

ان کی نماز جنازہ ان کے بیٹے انس نورانی نے پڑھائی۔

مزار

انہیں کراچی میں حضرت عبداللہ شاہ غازی کے مزار (کلفٹن) کے احاطے میں سپرد خاک کیا گیا۔

بیرونی روابط

حوالہ جات