عبد الحامد بدایونی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عبد الحامد بدایونی
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 11 نومبر 1898  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات 20 جولا‎ئی 1970 (72 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ شاعر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

محمد عبد الحامد قادری بد ایونی مجاہد ملت ،مسلک اہل سنت و جماعت کے اعتبار سے بد ایوں ہندوستان میں مرکزی علما میں سے ہیں۔

نسب[ترمیم]

عبد الحامد قادری بدایونی بن حکیم عبد القیوم قادری بن حکیم مرید جیلانی بن محی الدین قادری عثمانی بن شاہ فضل رسول بدایونی مصنف سیف اللہ المسلول یہ عبد الماجد بدایونی کے بھائی ہیں[1]

ولادت[ترمیم]

تحریک پاکستان کے ممتاز راہنما شاہ محمد عبد الحامد قادری بد ایونی 1318ھ/1900ءء میں دہلی میں اپنے ننھیال کے ہاں پیدا ہوئے محمد ذو الفقار حق( 1318ھ) تاریخی نام تجویز ہوا [2]ابھی آپ کی عمر بیس دن ہی کی تھی کہ والد ماجد کا انتقال ہو گیا ۔

تعلیم و تربیت[ترمیم]

عبد الحامد بد ایونی اور ان کے بڑے بھائی عبد الماجد بد ایونی کی تعلیم و تربیت کا تمام تر انتظام ان کی والدہ ماجد ہ ( سیدی بہاؤ الدین دہلوی کی ہمشیرہ ) نے کیا۔ ابتدا اپنے آبائی مدرسہ، مدرسہ قادریہ میں تعلیم حاصل کی، آخری دو سال الٰہیات کی تکمیل اور فن قرأ ت کی تحصیل کے لیے مدرسئہ الٰہیہ، کانپور میں رہے۔ آپ کے اساتذہ میں آپ کے مرشد بر حق مولانا شاہ عبد المقتدر بد ایونی کے علاوہ مولانا محب احمد قادری، مولانا حافظ بخش بد ایونی، مولانا قدری بخش بد ایونی مولانا مفتی محمد ابراہیم، مولانا مشتاق احمد کانپوری، مولانا واحد حسین اور مولانا عبد السلام فلسفی کے نام ملتے ہیں ۔

تحریک پاکستان[ترمیم]

23مارچ 1940ء کو منٹو پارک، لاہور کے تاریخی اجلاس میں قرارداد پاکستان پیش کی گئی تو عبد الحامد بد ایونی مسلم لیگ کے ان زعماء میں شامل تھے جنہوں نے قرارداد کی تائید میں تقریر کی 30 اگست 1941 ؁ء کو لدھیانہ میں آپ کی صدارت میں پاکستان کانفرنس منعقد ہوئی، اس کا نفرنس میں آپ نے پاکستان کے حق میں بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا جو بعد میں نظامی پریس، بد ایوں سے چھپ کر ملک بھر میں تقسیم ہوا۔ 1945ء میں قائد اعظم اور میر عثمان علی خاں فرمانروائے دکن کے باہمی اختلافات نازک صورت اختیار کر گئے تو قائد ملت خان لیاقت علی خان نے مولاناعبدالحامد بد ایونی کو منتخب کیا تاکہ اختلافات ختم کر انے کے لیے دونوں راہنماؤں کی ملاقات کا راستہ ہموار کریں، والئی دکن، مولانا بد ایونی کی بڑی قدر د منزلت کرتے تھے اور انہیں دینی جلسوں میں تقریر کے لیے مد عو کیا کرتے تھے مولانا فرنر واء دکن سے ملاقات کی اور طویل گفتگو کے بعد انہیں قائد اعظم سے ملاقات کرنے پر آمادہ کیا قیام پاکستان کے بعد آپ آل انڈیا مسلم یگ کے اجلاس میں شرکت کے لیے کراچی آئے تو علما پاکستان کے اصرار پر مستقل طور پر یہیں قیام پزیر ہو گئے [3]

جمیعت العلمائے پاکستان[ترمیم]

جمعیت العلماء، پاکستان کے قیام اور استحکام کے لیے ابتدا ہی سے آپ نے اپنی کوششیں وقف کر رکھی تھیں، علامہ ابو الحسنات قادری کے وصال کے بعد جمعیت کے مرکزی صدر بنے اور اپنی شبانہ روز محنت سے جمعیت کو چار چاند لگا دیے، مولانا ان علما میں شامل تھے جنہوں نے 22 نکات پر مشتمل دستوری خاکہ مرتب کیا تھا، 1953ء میں جب تحریک ختم نبوت شروع ہوئی تو اس میں آپ نے کھل کر حصہ لیا اور انتہائی علالت کے با وجود فر وری 1953ء میں اسلامی مشارقی کونسل کے رکن نامزد ہوئے، اس ضمن میں انہوں نے کونسل کو اہم سفارشات پیش کیں، 1965ء میں پاک بھارت جنگ چھڑی تو آپ نے علما اہل سنت کی ایک جماعت کے ساتھ ملک بھر کا دورہ کیا اور تین لاکھ روپے کے کپڑے اور دیگر ضروری سازد سامان مہاجرین کشمیر میں تقسیم کیا ۔

تعلیمات اسلام[ترمیم]

عبد الحامد بد ایونی نے قدیم اور جدیدی علوم کے ساتھ ساتھ دنیا کی اہم زبانوں کی تعلیم کے لیے کئی لاکھ روپے صرف کر کے منگھو پیر روڈ، کراچی میں جامعہ تعلیمات اسلامیہ کے نام سے عظیم درس گاہ قائم کی، آپ کی اپیل پر صدر مملکت اور اسلامی مملاک کے سر براہوں نے دل کھول کر امداد کی، یہ ادارہ آج بھی علوم دینیہ کی خدمت میں مصروف ہے۔ آپ چین، روس، مصر، ترکی، تیونس، نائجیریا، کویت، عرا، ایران اور حجاز مقدس گئے مسئلہ کشمیر کی اہمیت کو واضح کیا۔ آپ نے بائیس مرتبہ حرمین شریفین کی حاضری کی سعادت حاصل کی [4]

تصنیفات[ترمیم]

آپ نے قابل قدر تصانیف کا ذخیرہ یادگار چھوڑ ا، چند تصانیف کے نام یہ ہیں:۔

  • فلسفہ عبادت اسلامی
  • تصحیح العقائد
  • نظام عمل
  • کتاب و سنت غیروں کی نظر میں
  • اسلام کا زراعتی نظام
  • اسلام کا معاشی نظام
  • مشرقی کا ماضی و حال
  • انتخابات کے ضروری پہلو
  • الجواب المشکور (عربی)
  • اسلامک پیرئرز ( انگریزی)
  • حرمت سود
  • مشیر الحجاج [3]

وفات[ترمیم]

15 جمادی الاولیٰ، 1390ھ /20 جولائی1970ء کو شاہ محمد عبد الحامد بد ایونی قادری کا جناح ہسپتال، کراچی میں انتقال ہوا۔[5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مجلہ علم و آگہی کراچی، پروفیسر محمد ایوب قادری ،مدرسہ شمس العلوم بد ایوں، خصوصی شمار 55۔ 1974ء، ص 94
  2. تذکرہ علمائے اہل سنت ص 159، محمد احمد قادری ،
  3. ^ ا ب مولانا عبد الحامد بد ایونی پر ایک نظر ،امام سیدامیر علی
  4. گلدستہ عقیدت، بشیر احمد غازی آبادی، ص 35
  5. https://www.ziaetaiba.com/ur/scholar/molana-shah-muhammad-abdul-hamid