پير مہر علی شاہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
پير مہر علی شاہ
Pir Meher Ali.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 14 اپریل 1859  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
گولڑہ شریف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات مئی 1937 (77–78 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ عالم دین  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام
مزارِ پرانوار حضرت پیر سید مہر علی شاہ

پیر سید مہر علی شاہ مشہور و معروف روحانی مرکز گولڑہ شریف کے سجادہ نشین تھے۔

پیدائش[ترمیم]

پير سید مہر علی شاہ گولڑہ شریف (جو راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان میں واقع ہے)میں 14 اپریل 1859ء بمطابق 1 رمضان 1275ھ کو پیدا ہوئے۔[1]

نسب[ترمیم]

سید مہر علی شاہ کے و ا لد کا نا م سید نذر دین شا ہ ابن سید غلا م شا ہ ابن سید رو شن دین شا ہ ہے جبکہ آپ کی وا لدہ محتر مہ کا نا ممعصو مہ مو صو فہ بنت پیر سید بہا در شا ہ ہے ۔ آپ کا سلسلہ نسب 25وا سطو ں سے سید نا شیخ عبدا لقا در جیلا نی المعر و ف غو ث الاعظمسے اور 36 وا سطو ں سےسیدنا اما م حسن سے جا ملتا ہے۔

تعلیم و تربیت[ترمیم]

پیر مہر علی شا ہ سے صرف چار سال کی عمر میں پڑھنا شروع کر دیا اور نا ظر ہ قر آن مجید پڑھنے کے لیے آپ کو خا نقا ہ کی در س گا ہ میں اور اردو ، فا رسی وغیر ہ کی تعلیم کے لیے مدر سہ میں دا خل کر دیا گیا، قو ت حا فظہ کا یہ عالم تھا کہ قرآن مجید کا سبق رو زا نہ آپ حفظ کر کے سُنا دیا کر تے تھے ۔ جب قرآن حکیم نا ظر ہ ختم کیا ،تو اس وقت آپ کو پو را قرآ ن کر یم حفظ بھی ہوچکا تھا۔

عر بی ، فا رسی اور صر ف ونحو کی تعلیم مو لا نا محی الدین سے حاصل کی ، آپنے ”کافیہ “ تک اپنے اُستا ذ سے تعلیم حا صل کی اور اس کے بعد مزید تعلیم کے لیے حسن ابدا ل کے نو اح میں مو ضع ” بھوئی “ کے مو لا نا محمد شفیع قریشی کے درس گا ہ میں دا خل ہو ئے اور دو ، اڑھا ئی سال میں رسا ئل ِمنطق میں سے قطبی تک اور نحو اور اصول کے در میا نی اسبا ق تک تعلیم حا صل کی ۔ مزید تعلیم کے لیے آپ نے مو ضع ’انگہ ‘ (علا قہ سو ن ضلع شا ہ پو ر ) کا سفر اختیا ر کیا اور وہا ں پر مو لا نا حا فظ سلطا ن محمو د سے تکمیل کی۔

بیعت و خلافت[ترمیم]

انگہ“ میں قیا م کے دو را ن مو لا نا حا فظ سلطا ن محمو دکے ساتھ ”سیا ل شریف‘ ضلع سر گو دھا ، خو اجہ شمس الدین سیا لو ی چشتی کی زیا ر ت کے لیے جا یا کر تے اور خو ا جہ سیا لو ی آپ پر خصو صی شفقت و محبت فر ما تے تھے۔ چنا نچہ اسی شفقت و محبت کی وجہ سے پیر سید مہر علی شاہ سلسلہ چشتیہ نظا میہ سلیما نیہ میں شمس الدین سیا لو ی سلیما نی کے دست پر بیعت ہو ئے اور خلافت سے نواز ا۔[2]

سیرت و خصائص[ترمیم]

وہ ایک عظیم رہنما، ولی اللہ، حنفی عالم اور قادیانی مرزائی فرقے کے سخت مخالف مانے جاتے ہیں۔انہوں نے کئی کتابیں خاص طور غیر راسخ العقیدہ اور مرزائی فرقے کے رد میں "سیفِ چشتیائی" لکھی۔[3]

تصانیف[ترمیم]

  • تحقيق الحق فی كلمۃ الحق
  • شمس الہدایہ
  • سيف چشتيائى
  • اعلا كلمۃ اللہ وما اهل بہ لغير اللہ
  • الفتوحات الصمديہ
  • تصفية ما بين سنی والشيعہ
  • فتاوی مہریہ
  • ملفوظات مہر علی شاہ

وصال[ترمیم]

منگل کے دن 29 صفرالمظفر1356ھ بمطابق 11 مئی1937ءکو آپ کاوصال ہوا۔آپ کا مزار شریف گولڑہ شریف،اسلام آباد میں مرکزِ انوار وتجلیات ہے۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. پیدائش
  2. مِہرِ مُنِیر سَوانِح حیات سیّد پیر مہر علی شاہ ،علامہ فیض احمد فیض،
  3. سیرت و خصائص
  4. وصال