پير مہر علی شاہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
پیر سید مہر علی شاہ
Peer Syed Meher Ali Shah
Pir Meher Ali.jpg
مذہب اسلام، چشتی صوفی
ذاتی تفصیل
پیدائش 14 اپریل 1859 (1859-04-14)گولڑہ شریف
انتقال 11 مئی 1937 (عمر 78)گولڑہ شریف
مزید معلومات
شہر گولڑہ شریف
خطاب پير
پیشرو حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی
جانشین پیر سید غلام محی الدین
Basmala.svg
مضامین بسلسلہ
بریلوی تحریک
DargahAlahazrat.jpg
مزار احمد رضا خان
کلیدی شخصیات

رضا علی خان
فضل حق خیر آبادی
نقی علی خان
سید کفایت علی کافی
احمد رضا خان
پير مہر علی شاہ
سید جماعت علی شاہ
سید جماعت علی شاہ لاثانی

کلیدی شخصیات (دود جدید)

مولانا عبدالحامد قادری بدایونی
پیر محمد کرم شاہ الازہری
محمد مصلح الدین صدیقی
قمر الزمان اعظمى
امین میاں قادری
سید شجاعت علی قادری
شاہ احمد نورانی
محمد سردار احمد قادری
محمد عبدالحکیم شرف قادری
قاری غلام رسول
عبدالقیوم ہزاروی
کوکب نورانی اوکاڑوی
محمد الیاس قادری
محمد اختر رضا خان قادری

تعلیمی ادارے

جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور،جامعہ نعیمیہ لاہور
جامعہ الکرم، جامعہ امجدیہ رضویہ
مانچسٹر سنٹرل مسجد
جامعۃ الرضا، جامعہ رضویہ منظر اسلام
الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور، بھارت، الجامعۃ الاسلامیہ

کتابیں

کنزالایمان، فتاوی رضویہ
بہار شریعت، حسام الحرمین

تنظیمیں و تحریکیں

دعوت اسلامی، ورلڈ اسلامک مشن
آل انڈیا سنی کانفرنس، تحریک ختم نبوت
سنی تحریک، تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان
سنی اتحاد کونسل
انجمن طلباء اسلام
جمیعت علمائے پاکستان

مزارِ پرانوار حضرت پیر سید مہر علی شاہ

پیر سید مہر علی شاہ مشہور و معروف روحانی مرکز گولڑہ شریف کے سجادہ نشین تھے۔

پیدائش[ترمیم]

پير سید مہر علی شاہ گولڑہ شریف (جو راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان میں واقع ہے)میں 14 اپریل 1859ء بمطابق 1 رمضان 1275ھ کو پیدا ہوئے۔[1]

نسب[ترمیم]

سید مہر علی شاہ کے و ا لد کا نا م سید نذر دین شا ہ ابن سید غلا م شا ہ ابن سید رو شن دین شا ہ ہے جبکہ آپ کی وا لدہ محتر مہ کا نا ممعصو مہ مو صو فہ بنت پیر سید بہا در شا ہ ہے ۔ آپ کا سلسلہ نسب 25وا سطو ں سے سید نا شیخ عبدا لقا در جیلا نی المعر و ف غو ث الاعظمسے اور 36 وا سطو ں سےسیدنا اما م حسن سے جا ملتا ہے۔

تعلیم و تربیت[ترمیم]

پیر مہر علی شا ہ سے صرف چار سال کی عمر میں پڑھنا شروع کر دیا اور نا ظر ہ قر آن مجید پڑھنے کیلئے آپ کو خا نقا ہ کی در س گا ہ میں اور اردو ، فا رسی وغیر ہ کی تعلیم کے لئے مدر سہ میں دا خل کر دیا گیا، قو ت حا فظہ کا یہ عالم تھا کہ قرآن مجید کا سبق رو زا نہ آپ حفظ کر کے سُنا دیا کر تے تھے ۔ جب قرآن حکیم نا ظر ہ ختم کیا ،تو اس وقت آپ کو پو را قرآ ن کر یم حفظ بھی ہوچکا تھا۔

عر بی ، فا رسی اور صر ف ونحو کی تعلیم مو لا نا محی الدین سے حاصل کی ، آپنے ”کافیہ “ تک اپنے اُستا ذ سے تعلیم حا صل کی اور اس کے بعد مزید تعلیم کے لئے حسن ابدا ل کے نو اح میں مو ضع ” بھوئی “ کے مو لا نا محمد شفیع قریشی کے درس گا ہ میں دا خل ہو ئے اور دو ، اڑھا ئی سال میں رسا ئل ِمنطق میں سے قطبی تک اور نحو اور اصول کے در میا نی اسبا ق تک تعلیم حا صل کی ۔ مزید تعلیم کے لئے آپ نے مو ضع ’انگہ ‘ (علا قہ سو ن ضلع شا ہ پو ر ) کا سفر اختیا ر کیا اور وہا ں پر مو لا نا حا فظ سلطا ن محمو د سے تکمیل کی۔

بیعت و خلافت[ترمیم]

انگہ“ میں قیا م کے دو را ن مو لا نا حا فظ سلطا ن محمو دکے ساتھ ”سیا ل شریف‘ ضلع سر گو دھا ، خو اجہ شمس الدین سیا لو ی چشتی کی زیا ر ت کے لئے جا یا کر تے اور خو ا جہ سیا لو ی آپ پر خصو صی شفقت و محبت فر ما تے تھے۔ چنا نچہ اسی شفقت و محبت کی وجہ سے پیر سید مہر علی شاہ سلسلہ چشتیہ نظا میہ سلیما نیہ میں شمس الدین سیا لو ی سلیما نی کے دست پر بیعت ہو ئے اور خلافت سے نواز ا۔[2]

سیرت و خصائص[ترمیم]

وہ ایک عظیم رہنما، ولی اللہ، حنفی عالم اور قادیانی مرزائی فرقے کے سخت مخالف مانے جاتے ہیں۔انہوں نے کئی کتابیں خاص طور غیر راسخ العقیدہ اور مرزائی فرقے کے رد میں "سیفِ چشتیائی" لکھی۔[3]

تصانیف[ترمیم]

  • تحقيق الحق فی كلمۃ الحق
  • شمس الہدایہ
  • سيف چشتيائى
  • اعلاء كلمۃ الله وما اهل بہ لغير الله
  • الفتوحات الصمديہ
  • تصفية ما بين سنی والشيعہ
  • فتاوی مہریہ
  • ملفوظات مہر علی شاه

وصال[ترمیم]

منگل کے دن 29 صفرالمظفر1356ھ بمطابق 11مئی1937ءکو آپ کاوصال ہوا۔آپ کا مزار شریف گولڑہ شریف،اسلام آباد میں مرکزِ انوار وتجلیات ہے۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. پیدائش
  2. مِہرِ مُنِیر سَوانِح حیات سیّد پیر مہر علی شاہ ،علامہ فیض احمد فیض،
  3. سیرت و خصائص
  4. وصال